زکریاہ کی کتاب


مصنف: زکریاہ 1 باب 1آیت میں اِس کتاب کے مصنف کے طور پر زکریاہ نبی کی نشاندہی کی گئی ہے۔

سنِ تحریر: زکریاہ کی کتاب غالبا ً 520 قبل از مسیح اور 470 قبل از مسیح کے درمیانی عرصے میں بنیادی طور پر دو حصوں میں تحریر کی گئی تھی۔

تحریر کا مقصد: زکریاہ اِس بات پر زور دیتا ہے کہ خُدا نے اپنے نبیوں کو اپنے لوگوں کو تعلیم دینے، خبردار کرنے اور سیدھے راستے پر اُن کی رہنمائی کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ لیکن یہ افسوس کی بات ہے کہ اُس کے لوگوں نے اُسکے نبیوں کی بات سننے سے انکار کر دیا۔ اِس لیے اُن کا گناہ خُدا کی عدالت کا باعث بنا۔ یہ کتاب اِس بات کے بارے میں بھی ثبوت پیش کرتی ہے کہ کچھ لوگوں کی طرف سے نبوت میں رَد و بدل کر کے اُسے بھی بگاڑا جا سکتا ہے۔ تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ اِس دور میں یہودیوں کے درمیان نبوت کو اتنی مقبولیت حاصل نہ رہی تھی، اور اِسکے بعد عہد ناموں کا وہ درمیانی دور شروع ہو گیا تھا جس میں کسی بھی نبی کو نہیں بھیجا گیا اور لوگ کہیں سے کسی نبی کی بات یا نبوت نہیں سن سکتے تھے۔

کلیدی آیات: زکریاہ 1باب3آیت: "کہ تم میں سے کس نے اِس ہیکل کی پہلی رونق کو دیکھا؟ اور اب کیسی دِکھائی دیتی ہے؟ کیا یہ تمہاری نظر میں ناچیز نہیں ہے؟"

زکریاہ 7 باب 13 آیت: "اور رب الافواج نے فرمایا تھا جس طرح مَیں نے پکارکر کہا اور وہ شنوا نہ ہُوئے اُسی طرح وہ پکاریں گے اور مَیں نہیں سنوں گا۔"

زکریاہ 8 باب 9آیت: "رب الافواج یوں فرماتا ہے کہ اَے لوگو اپنے ہاتھوں کو مضبوط کرو ۔ تم جو اِس وقت یہ کلام سُنتے ہو جورب الافواج کے گھر یعنی ہیکل کی تعمیر کے لئے بنیاد ڈالتے وقت نبیوں کی معرفت نازِل ہوا۔"

زکریاہ 13باب 9آیت: "اور مَیں اِس تہائی کو آگ میں ڈال کر چاندی کی طرح صاف کروں گا اور سونے کی طرح تاؤں گا ۔ وہ مجھ سے دُعا کریں گے اور مَیں اُن کی سنُوں گا۔ مَیں کہوں گا یہ میرے لوگ ہیں اور وہ کہیں گے خُداوند ہی ہمارا خُدا ہے۔"

مختصر خلاصہ: زکریاہ کی کتاب یہ تعلیم دیتی ہے کہ ہر کوئی انسان نجات حاصل کر سکتا ہے۔ اِس کتاب کا آخری باب اِس بات کی تصویر کشی کرتا ہے کہ ساری دُنیا سے لوگ خُدا کی پرستش کرنے کے لیے آتے ہیں اور خُدا بھی چاہتا ہے کہ سارے لوگ اُس کی پیروی کریں۔ یہ عقیدہِ عالمگیریت نہیں ہے، یعنی یہ ماننا کہ بالآخر دُنیا کے سارے کے سارے لوگ ہی نجات پا لیں گے کیونکہ خُدا سب کو بچانا چاہتا ہے۔ اِس کے برعکس یہ کتاب سکھاتی ہے خُدا یہ چاہتا ہے کہ اِس دُنیا کے سبھی لوگ اُس کی پرستش کریں اور وہ جو اُس کی پرستش کرتے ہیں وہ اُنہیں اُنکی قومیت اور علاقائیت پر کسی طرح کی کوئی توجہ دیئے بغیر قبول کرتا ہے۔ اور آخر میں زکریاہ تعلیم دیتا ہے کہ خُدا کی ساری دُنیا پر مکمل حاکمیت ہے اور اُسکی مخالفت میں کوئی بھی قوت کھڑی نہیں ہو سکتی۔ مستقبل کی اُس کی رویا اِس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ خُدا ہر اُس چیز کو دیکھنے کے قابل ہے جو مستقبل میں واقع ہوگی۔ دُنیا کے معاملات میں خُدا کی مداخلت اِس بات کی تصویر کشی کرتی ہے کہ بالآخر خُدا انسان کی تاریخ کے سبھی واقعات کو اُس طریقے سے اختتام کی طرف لائے گا جیسے وہ خود چاہتا ہے۔ زکریاہ خُدا کی پیروی کرنے یا پھر خُدا سے بغاوت کرنے کی انسانی آزادی کو ختم نہیں کرتا بلکہ وہ انسان کو اپنے انتخابات اور پھر اُس کے انجام کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ آخری باب میں ہم دیکھتے ہیں کہ فطرت کی سبھی قوتیں بھی خُدا کے اختیار کو مانتی اور اُس کے مطابق عمل کرتی ہیں۔

پیشن گوئیاں: زکریاہ کی کتاب کے اندر یسوع مسیح اور مسیحانہ دور کے بارے میں بہت ہی زیادہ پیشن گوئیاں پائی جاتی ہیں۔ اِن نبوتوں کا آغاز اِس بات سے ہوتا ہے کہ مسیحا آئے گا اور ہمارے درمیان رہے گا (زکریاہ 2باب 10-12آیات؛ متی 1باب23آیت)، یہاں پر شاخ اور چٹان کی علامات ملتی ہیں (زکریاہ 3 باب 8- 9آیات؛ 6باب 12-13آیات؛ یسعیاہ 11باب1آیت؛ لوقا 20باب 17-18آیات)۔ اُس کی آمدِ ثانی کے بارے میں پیشن گوئیاں ہیں جہاں پر وہ سب جنہوں نے اُسے چھیدا تھا اُس پر نظر کریں گے اور دُکھ اور شرمندگی سے اپنی چھاتی پیٹیں گے (زکریاہ 12باب 10آیت؛ یوحنا 19باب 33- 37آیات)۔ اِس کتاب کا مرکزی عنوان مسیح ہے۔ یسوع مسیح اسرائیل کا نجات دہندہ ہے،یسوع ہی وہ سوتا ہے جو اُن سب کے گناہوں کو دھو دے گا جو اُس کے پاس نجات کے لیے آتے ہیں (زکریاہ 13 باب 1آیت؛ 1 یوحنا 1 باب 7 آیت)۔

عملی اطلاق: خُداآج ہم سے پُر خلوص پرستش اور اخلاقی طور پر راستی سے چلنے کا تقاضا کرتا ہے۔ زکریاہ کی یہ مثال جس میں وہ قومی تعصب کو توڑتا اور ختم کرتا ہے ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم بھی اپنے معاشرے میں ہر ایک درجے پر لوگوں کے پاس پہنچیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم خُدا کی طرف سے نجات حاصل کرنے کی دعوت کو ہر نسل، قوم، اہلِ لغت اور معاشرے کے لوگوں تک لے کر جائیں۔ خوشخبری یہ ہے کہ نجات صرف اور صرف خُداوند یسوع مسیح کے بہائے گئے خون کے وسیلے سے میسر ہے جس نے ہماری جگہ پر اپنی جان دے کر ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا کیا ۔ لیکن اگر ہم مسیح کی اُس قربانی کو رَد کرتے ہیں تو پھر ہمارے لیے اِس جہان میں کوئی دوسری قربانی میسر نہیں ہے جس کے وسیلے سے ہم خُدا کے ساتھ صلح کر سکیں۔ آسمان کے نیچے کوئی اور نام نہیں بخشا گیا جس کے وسیلے سے ہم نجات پا سکیں (اعمال 4 باب 12 آیت)۔ ہمارے پاس ضائع کرنے کو کوئی بھی وقت نہیں ہے، آج ہی نجات کا دن ہے (2 کرنتھیوں 6 باب 2 آیت)۔

English



بائبل کا خلاصہ/جائزہ

پُرانے عہد نامے کا جائزہ

اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں



زکریاہ کی کتاب

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں