غزل الغزلات


مصنف: غزل الغزلات کی کتاب کے پہلے باب کی پہلی آیت کے مطابق اس کتاب کو سلیمان نے قلمبند کیا تھا ۔ یہ سلیمان کی طرف سے لکھے گئے 1005 گیتوں میں سے ایک گیت ہے (1سلاطین 4باب 32آیت)۔یہ عنوان " غزل الُغزلات " اِس گیت کے بہت اعلیٰ ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے اور نام سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ اُن سب گیتوں میں سے بہترین گیت ہے۔

سنِ تحریر: سلیمان نے اس کتاب کو غالبا ً اپنے دورِ حکومت کے ابتدائی حصے میں لکھا تھا۔ اس کتاب کا سن ِتصنیف قریباً 965 قبل از مسیح ہے۔

تحریر کا مقصد: غزل الُغزلات ایک ترنم کے ساتھ گائی جانے والی نظم ہے جو کہ ایک شوہر اور بیوی کے مابین محبت کی خوبیوں کو سراہنے کےلیے لکھی گئی ۔ یہ نظم شادی کو خدا کے خاص منصوبے کے طور پر پیش کرتی ہے ۔ ایک مرد اور عورت نکاح کے بندھن میں بندھنے کے بعد رُوحانی ، جذبانی اور جسمانی طور پر باہم محبت کرنے کےلیے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں ۔

اس کتاب میں دو انتہاؤں ترکِ دنیا / جوگ(تمام خوشیوں سے انکار) اور نظریہ لذتیت ( صرف خوشی کی تلاش ) کے درمیان مقابلے اور جنگ کو پیش کیا گیا ہے۔ غزل الُغزلات کی کتاب میں شادی ، چاہت،عزم اور خوشی کا نمونہ پیش کیا گیا ہے ۔

کلیدی آیات: غزل الُغزلات 2باب 7آیت؛ 3باب 5آیت؛ 8باب 4آیت: " کہ تم میرے پیارے کو نہ جگاؤ ، نہ اُٹھاؤ جب تک کہ وہ اُٹھنا نہ چاہے۔"

غزل الُغزلات 5باب 1آیت: "اَے دوستو! کھاؤ پیو۔ پیو! ہاں اَے عزِیزو! خُوب جی بھر کے پیو۔"

غزل الُغزلات8باب 6-7آیات: "نگین کی مانند مجھے اپنے دِل میں لگا رکھ اور تعوِیذ کی مانند اپنے بازو پر کیونکہ عشق موت کی مانند زبردست ہے اور غیرت پاتال سی بے مُروّت ہے۔ اُس کے شعلے آگ کے شعلے ہیں اور خُداوند کے شعلہ کی مانند۔ سیلاب عشق کو بجھا نہیں سکتا۔ باڑھ اُس کو ڈبا نہیں سکتی۔ اگر آدمی مُحبّت کے بدلے اپنا سب کچھ دے ڈالے تو وہ سراسر حقارت کے لائق ٹھہرے گا۔"

مختصر خلاصہ: یہ نظم ایک شوہر ( بادشاہ ) اور اُس کے بیوی (شُولمِیت) کے مابین مکالمے کی صورت میں ہے ۔ ہم اس کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں : اظہارِ محبت ( 1باب 1 آیت تا 3باب 5آیت)؛ شادی (3باب 6آیت تا 5باب 1آیت)؛ اور شادی میں پختگی ( 5باب 2آیت تا 8باب 14آیت)۔

گیت کا آغاز شادی سے پہلے ہوتا ہے کیونکہ ہونے والی بیوی اپنے منگیتر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے اور اُس کی طرف سے بھرپور محبت پانے کی خواہشمند ہے۔ تاہم وہ یہ نصیحت کرتی ہے کہ محبت کو وقت کے ساتھ ساتھ خود بخود پروان چڑھنے دیا جانا چاہیے۔ شولمیت اپنی ظاہری شکل و صورت کے حوالے سے کسی حد تک تحفظات کا شکار ہے اور اِسکے اِس احساسِ کمتری پر قابو پانے میں مدد کرنے کے لیے بادشاہ اُس کی خوبصورتی کی خوب تعریف کرتا ہے۔ شولمیت ایک خواب دیکھتی ہے جس میں وہ سلیمان بادشاہ کو کھودیتی ہے اور اُسے پھر پورے شہر میں تلاش کرتی ہے ۔ شہر میں پہریداروں کی مدد سے وہ اپنے محبوب کو ڈھونڈ لیتی ہے اور اُسے پکڑ کر ایک محفوظ جگہ لے جاتی ہے ۔ نیند سے جاگنے پر وہ ایک بار پھر حکمِ امتناعی دہراتی ہے کہ اُس کے پیارے کو جگایا نہ جائے ۔

شادی کی رات شوہر ایک بار پھر اپنی بیوی کی خوبصورتی کی تعریف کرتا ہے اور بیوی انتہائی علامتی زبان میں اپنے شریک حیات کو اُس باہمی محبت میں شامل ہونے کی دعوت دیتی ہے جو وہ اُسے کو پیش کر رہی ہوتی ہے ۔ وہ باہمی طور پر اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں اور خُدا اُن کے اُس بندھن کو برکت دیتا ہے۔

جیسے جیسے شادی پروان چڑھتی ہے شوہر اور بیوی کو مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جسے ایک اور خواب میں علامتی انداز میں پیش کیا جاتا ہے ۔ دُوسرے خواب میں شولمیت اپنے شوہر کو نظرانداز کرتی ہے تو وہ وہاں سے چلا جاتا ہے۔ غلطی کے احساس پر قابو پاتے ہوئے وہ اُسے شہر میں تلاش کرتی ہے مگر اس بار پہریدار مدد کرنے کی بجائے اُسے مارتے ہیں – یہ بات دراصل اُس کے ذہنی اور شعوری دُکھ اور درد کی علامت ہوتی ہے ۔ آخر میں جب دونوں محبت کرنے والوں کے درمیان صلح اور ملاپ ہو جاتا ہے تو سب کچھ صحیح ہو جاتا ہے ۔

جب گیت ختم ہوتا ہے تو شوہر اور بیوی اپنی باہمی محبت میں پُر اعتماد اور مطمئن ہو جاتے ہیں ۔ وہ حقیقی محبت کی دائمی فطرت کے بارے میں گاتے اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کی شدید آرزو کرتے ہیں ۔

پیشن گوئیاں: بائبل کے کچھ مفسرین غزل الُغزلات میں مسیح اور کلیسیا کے درمیانی رشتے کی علامتی نمائندگی دیکھتے ہیں ۔ مسیح کو بادشاہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے جبکہ کلیسیا کو شولمیت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔ اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس کتاب کو اصل میں ازدواجی زندگی کی تصویر کشی کے طور پر ہی سمجھا جانا چاہیے مگر اس کتاب میں کچھ ایسے عناصر بھی ہیں جو کلیسیا کے اپنے بادشاہ مسیح یسوع کے ساتھ تعلقات کی پیشین گوئی کرتے ہیں ۔ غزل الُغزلات 2باب 4آیت ہر اُس ایماندار کے تجربے کو بیان کرتی ہے جس کو مسیح نے ڈھونڈا اور اپنے خون سے خریدا ہے ۔ ہم بہت بڑے پیمانے پر رُوحانی لحاظ سے دولتمند ہونے کی حالت میں ہیں اور خُدا کے فضل نے ہمیں ڈھانپا ہوا ہے ۔ 2باب 16آیت بیان کرتی ہے " میرا محبوب میرا ہے اور مَیں اُس کی ہوں۔ وہ سوسنوں کے درمیان چراتا ہے۔" یہاں پر نہ صرف مسیح میں ایماندار کی سلامتی (یوحنا 10باب 28- 29آیات) بلکہ اُس اچھے چرواہے کی تصویر بھی پیش کی گئی ہے جو اپنی بھیڑوں " ایمانداروں " کو جانتا اور اُن کےلیے اپنی جان دیتا ہے ( یوحنا 10باب 11آیت)۔ اور مسیح کے فضل اور قربانی کی بدولت اب ہم گناہ سے داغدار نہیں رہے کیونکہ اُس کے خون کے وسیلہ سے ہمارے " داغ" مٹا دئیے گئے ہیں (غزل الغزلات 4باب 7آیت ؛ افسیوں 5باب 27آیت)۔

عملی اطلاق: ہماری موجودہ دنیا شادی کے بارے میں الجھن کا شکار ہے ۔ طلاق کا بڑھتا ہوا رجحان اور شادی جیسے بندھن کی نئے سرے اور نئے انداز سے تعریف کرنے کی کوششیں غزل الغزلات میں بیان کردہ شادی اور محبت کےتصورات کے بالکل برعکس ہیں۔ بائبل مُقدس کا ایک شاعر بیان کرتا ہے کہ ہمیں شادی جیسے بندھن کا عزت و احترام کرنا اور اس سے لطف اندوز ہونا چاہیے ۔ یہ کتاب ہماری شادی کے رشتے کو مضبوط بنانے کے لئے کچھ عملی ہدایات بھی فراہم کرتی ہے۔

أ. اپنے شریک حیات پر مناسب توجہ دیں ۔ اپنے شریک حیات کو صحیح معنوں میں جاننے کے لئے اُسے مناسب وقت دیں۔

ب. تنقید کی بجائے حوصلہ افزائی اور تعریف کرنا ایک کامیاب رشتے کے لیے ناگزیر ہیں۔

ج. ایک دوسرے سے لطف اندوز ہوں ۔ کہیں سیر پر جانے کا منصوبے بنائیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ تخلیقی یہاں تک کہ مزاحیہ بھی بنیں۔خدا کی طرف سےبخشے گئے ازدواجی محبت کے تحفے سے خوش ہوں ۔

د. اپنے شریک حیات کو حقیقی وابستگی کا یقین دلانے کے لئے جوکچھ بھی ضروری ہو وہ کریں۔ اپنے وعدوں کی تجدید کریں۔ مشکلات میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ رہیں اور طلاق کو کبھی بھی مسائل کے حل کے طور پر نہ دیکھیں ۔ خدا چاہتا ہے کہ آپ دونوں ایک گہری پر امن ، محفوظ محبت میں زندگی بسر کریں۔

English



بائبل کا خلاصہ/جائزہ

پُرانے عہد نامے کا جائزہ

اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں



غزل الغزلات

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں