نحمیاہ کی کتاب


مصنف: نحمیاہ کی کتاب خصوصی طور پراپنے مصنف کا نام بیان نہیں کرتی ۔ مگردونوں یہودی اور مسیحی روایات عزرا کو اس کتاب کے مصنف کے طور پر تسلیم کرتی ہیں ۔ یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ عزرا اور نحمیاہ کی کتابیں اصل میں ایک ہی کتاب تھی جسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

سنِ تحریر: نحمیاہ کی کتاب غالباً 445 قبل از مسیح سے420 قبل از مسیح کے درمیانی عرصہ میں قلمبند کی گئی تھی ۔

تحریر کا مقصد: نحمیاہ کی کتاب بائبل کی تاریخی کتابوں میں سے ایک ہے جو کہ بنی اسرائیل کی بابلی اسیری سے واپسی اور یروشلیم میں ہیکل کی تعمیر ِ نو کی کہانی کے بیان کو جاری رکھے ہوئے ہے ۔

کلیدی آیات: نحمیاہ 1باب 3آیت: " اُنہوں نے مجھ سے کہا کہ وہ باقی لوگ جو اسیری سے چھوٹ کر اُس صوبہ میں رہتے ہیں نہایت مصیبت اورذِلّت میں پڑے ہیں اور یروشلیم کی فصیل ٹُوٹی ہُوئی اور اُس کے پھاٹک آگ سے جلے ہُوئے ہیں۔"

نحمیاہ 1باب 11آیت: " اَے خُداوند! مَیں تیری مِنّت کرتا ہُوں کہ اپنے بندہ کی دُعا پر اور اپنے بندوں کی دُعا پر جو تیرے نام سے ڈرنا پسند کرتے ہیں کان لگا اور آج مَیں تیری مِنّت کرتاہُوں اپنے بندہ کو کامیاب کر اور اِس شخص کے سامنے اُس پر فضل کر (مَیں تو بادشاہ کا ساقی تھا)۔"

نحمیاہ 6باب 15-16آیات: " غرض باون دِن میں الُول مہینے کی پچیسویں تاریخ کو شہر پناہ بن چکی۔ جب ہمارے سب دُشمنوں نے یہ سنا تو ہمارے آس پاس کی سب قومیں ڈرنے لگیں اور اپنی ہی نظر میں خُود ذلیل ہو گئیں کیونکہ اُنہوں نے جان لِیا کہ یہ کام ہمارے خُدا کی طرف سے ہوا"۔

مختصر خلاصہ: جب نحمیاہ نے یہ خبر سُنی کہ یروشلیم میں ہیکل کی تعمیر ِ نو ہو رہی ہے تو اُس وقت وہ ایک عبرانی کی حیثیت سے ملکِ فارس میں تھا ۔ وہ یہ جان کر بہت فکر مند ہو ا کہ شہر کی حفاظت کےلیے فصیل نہیں ہے ۔ اُس نے خدا سے دُعا کی کہ وہ شہر کے بچاؤ کےلیے اُسے استعمال کرے ۔ خدا نے اُس کی دُعا کے جواب میں فار س کے بادشاہ ارتخششتا کے دل کو نرم کردیا جس نے نہ صرف نحمیاہ کو برکت بخشی بلکہ اس منصوبے کےلیے امداد بھی فراہم کی ۔ نحمیاہ کو یروشلیم واپس جانے کےلیے بادشاہ کی طرف سے اجازت مل گئی اور وہ اُس علاقے کا حاکم بھی مقرر کر دیا گیا ۔

مخالفت اور الزام تراشی کے باوجود دیوار بنائی گئی اور دشمن خاموش ہو گئے ۔ لوگ نحمیاہ سے بہت متاثر ہو ئے اور شدید مخالفت کے باوجود اُنہوں نے بہت سی دہ یکی ، امداداور افرادی قوت کے ذریعے سے حیران کن طور پر فصیل کو 52دنوں میں مکمل کر دیا ۔ تاہم یہ اتحاد بہت مختصر وقت کےلیے رہتا ہے کیونکہ جب نحمیاہ کچھ وقت کےلیے یروشلیم سے واپس جاتا ہے تو یروشلیم میں پھر پھوٹ پڑ جاتی ہے ۔ جب نحمیاہ پھر واپس آتا ہے تو وہ فصیل کو مضبوط مگر لوگوں کو کمزور پاتا ہے ۔ لہذا وہ سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو اخلاقی تعلیم دینا شروع کرتا ہے ۔ "سو مَیں نے اُن سے جھگڑ کر اُن کو لعنت کی اور اُن میں سے بعض کو مارا اور اُن کے بال نوچ ڈالے " (13باب 25آیت)۔ وہ لوگوں کی دُعا اور اس بات میں حوصلہ افزائی کے ذریعے حقیقی عبادت کے عمل کو از سر نو بحال کرتا ہے کہ وہ خدا کے کلام کو پڑھنے اوراُس سے جڑے رہنےکے وسیلہ سے اپنے ایمان کو مضبوط رکھیں ۔

پیشن گوئیاں: نحمیاہ ایک دُعا گو شخص تھا ۔ وہ اپنے لوگوں کےلیے بڑے جذبے سے دُعا کرتا تھا ( 1باب)۔ خدا کے لوگوں کےلیے اُس کی پُر جوش شفاعث ہمارے عظیم "درمیانی" یسوع مسیح کی پیشن گوئی ہے جس نے یوحنا 17باب میں درج اپنی دُعا میں اپنے لوگوں کےلیے دردمندی کیساتھ دُعا کی تھی ۔ نحمیاہ اور یسوع دونوں خدا کےلوگوں کےلیے گہری محبت رکھتے تھے جس کا اظہار اُنہوں نے خدا کے حضوردُعا اور لوگوں کی خداکیساتھ صلح کروانے کی صور ت میں کیا تھا ۔

عملی اطلاق: نحمیاہ نے بنی اسرائیل کے دِلوں میں مُقدس صحائف کی عزت اور محبت کو پروان چڑھانے میں اُنکی مدد اور رہنمائی کی ۔ خدا سے محبت کی خاطر اور خدا کی تعظیم اور جلال کو دیکھنے کی خواہش کے باعث نحمیاہ نے بنی اسرائیل کی اُس ایمان اور فرمانبرداری میں ترقی کرنے کےلیے قیادت کی جو خدا بڑے عرصے سے اُن سے چاہتا تھا ۔ اسی طرح مسیحیوں کو بھی چاہیے کہ وہ کلام ِ مقدس کی سچائیوں سے محبت کریں اور اُن کے لیے اپنے دِلوں میں احترام رکھیں۔ اُن سچائیوں کو یاد رکھیں، اُن پر دن اور رات غورو خوص کریں اوراپنی ہر رُوحانی کمی کو پورا کرنے کے لیے اُن کی طرف رجوع لائیں ۔ 2تیمتھیس 3باب 16آیت ہمیں بتاتی ہے کہ " ہر ایک صحیفہ جو خُدا کے اِلہام سے ہے تعلیم اور اِلزام اور اِصلاح اور راست بازی میں تربیّت کرنے کے لیے فائدہ مند بھی ہے"۔ اگر ہم بنی اسرائیل کی طرح رُوحانی بحالی کا تجربہ حاصل کرنا چاہتےہیں ( نحمیاہ 8باب 1-8آیات ) تو اس کا آغاز ہمیں خدا کے کلام سے کرنا ہوگا ۔

ہم میں سے ہر ایک کو اُن لوگوں کے ساتھ جو رُوحانی یا جسمانی دُکھ کی حالت میں ہیں حقیقی ہمدردی رکھنی چاہیے ۔کسی کے لیے ہمدردی محسوس کرنا مگر مدد کےلیے کچھ نہ کرنا بائبل کے مطابق بالکل بے فائدہ رویہ ہے ۔ بعض اوقات دوسروں کی مناسب خدمت کرنے کے لیے ہمیں اپنے آرام کو چھوڑنا پڑتا ہے ۔کسی بھی مقصد کےلیے سچے دل سے وقت اور پیسہ خرچ کرنے سے پہلے ہمیں اُس مُقصد پر مکمل یقین رکھنا ہوگا ۔کیونکہ جب ہم اپنی زندگیوں کو خُدا کی خدمت کے لیے استعمال ہونے دیتے اورخود کو خُدا کی مرضی کے تابع کرتے ہیں تو اُس وقت غیر ایمانداروں کو بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ خدا کا کام ہے ۔

English



بائبل کا خلاصہ/جائزہ

پُرانے عہد نامے کا جائزہ

اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں



نحمیاہ کی کتاب

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں