یوایل کی کتاب


مصنف: یوایل کی کتاب بیان کرتی ہے کہ اِس کا مصنف یوایل نبی خود تھا (یوایل 1 باب 1 آیت)۔

سنِ تحریر: یوایل کی کتاب غالباً 835 قبل از مسیح سے 800 قبل از مسیح کے درمیانی عرصہ میں قلمبند کی گئی تھی ۔

تحریر کا مقصد: اِس کتاب میں بیان کیا گیا ہے کہ یہوداہ ٹڈیوں کے بڑے بڑے غولوں کی وجہ سے اُجڑ کر تباہ و برباد ہو جائےگا۔ ٹڈیوں کے غولوں کا یہ حملہ ہر ایک چیز – گیہوں کے کھیت، تاکستان، تمام باغات اور سب درختوں – کو تباہ کر دیتے ہیں۔ یوایل نبی ٹڈیوں کے اِن غولوں کو علامتی زبان میں دشمن کی فوجوں کی پیش قدمی کے طور پر بیان کرتا ہے اور اُن کے حملے کو اپنی قوم کے گناہوں کی وجہ سے خُدا کی عدالت کے طور پر بیان کرتا ہے۔ اِس کتاب کے اندر دو اہم ترین واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ ایک واقعہ تو ٹڈیوں کے غولوں کا حملہ تھا اور دوسری چیز رُوح القدس کا نزول ہے۔ رُوح القدس کے نزول کے پہلے واقعے کا ذکر اعمال 2 باب میں پطرس رسول کے پیغام کے اندر پایا جاتا ہے جو عیدِ پینتکست کے روز ہوا تھا۔

کلیدی آیات: یوایل 1 باب 4 آیت: "کہ جو کچھ ٹڈیوں کے ایک غول سے بچا اُسے دوسرا غول نِگل گیا اور جو کچھ دوسرے سے بچا اُسے تیسرا غول چٹ کر گیا اور جو کچھ تیسرے سے بچا اُسے چوتھا غول کھا گیا۔"

یوایل 2 باب 25 آیت: "اور اُن برسوں کا حاصل جو میری تمہارےخلاف بھیجی ہوئی فوج ملخ نگِل گئی اور کھا کر چٹ کر گئی تم کو واپس دُونگا۔"

یوایل 2 اب 28 آیت: "اور اُس کے بعد مَیں ہر بشر پر اپنی رُوح نازل کرونگا اور تمہارے بیٹے بیٹیاں نبوت کریں گے۔ تمہارے بوڑھے خواب اور جوان رویا دیکھیں گے۔"

مختصر خلاصہ: ٹڈیوں کی بہت بڑی آفت کے بعد ایک بہت ہی سخت قسم کی خُشک سالی پورے ملک میں آتی ہے۔ یوایل یہوداہ کو انتباہ کرنے کے لیے اِن واقعات کو استعمال کرتا ہے اگر لوگ فوری اور مکمل طور پر توبہ نہیں کرتے تو دشمن کی فوجیں اِن فطری عناصر کی مانند ہی سرزمین کی ہر ایک چیز کو تباہ و برباد کر دیں گی۔ یوایل اپنے ملک کی سرزمین کے سبھی لوگوں اور کاہنوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ روزہ رکھیں اور اپنے آپ کو حلیم کرتے ہوئے خُدا سے معافی کے طلبگار ہوں۔ اگر وہ اُس کی طرف سے اِس انتباہ کا مثبت طور پر جواب دیتے ہیں تو پھر تمام چیزوں کی تجدید ہوگی اور قوم کو بہت ساری رُوحانی برکات بھی ملیں گی۔ لیکن خُداوند کا دِن جلد آ رہا ہے۔ اور اُس وقت جب سب قومیں اُس کی عدالت کا سامنا کریں گی تو بہت ہی خوفناک ٹڈیاں اِس قدر زیادہ تعداد میں آئیں گی کہ وہ مچھروں کی مانند محسوس ہونگی۔

یوایل کی کتاب میں سب سے نمایاں عنوان خُداوند کا دن ہے ، یہ دن خُدا کے غضب اور قہر کا دن ہوگا۔ یہ وہ دن ہوگا جس میں خُدا اپنی ذات کے خاص اوصاف یعنی اپنے قہر، قدر اور پاکیزگی کو واضح طور پر دکھائے گا،او ر خُدا کے دشمنوں کے لیے یہ ایک بہت ہی خوفناک دن ہوگا۔ پہلے باب کے اندر خُداوند کے دن کا تجربہ ٹڈیوں کے غولوں کے حملوں کی بدولت کیا جاتا ہے۔2 باب 1-17 آیات میں یوایل نبی ٹڈیوں اور قحط سالی کے استعارے کو استعمال کرتے ہوئے ایک بار پھر توبہ کے لیے بلاتا ہے۔ 2 باب 18آیت تا 3 باب 21 آیت میں خُداوند کے دن کو اخیر زمانے کے تناظر میں بیان کیا گیا ہےاو ر نبوتی انداز سے بتایا گیا ہے کہ توبہ کی بدولت جسمانی بحالی(2 باب 21-27آیات)، رُوحانی بحالی (2 باب 28-32آیات)، اور قومی بحالی (3 باب 1-21آیات) آئے گی۔

پیشن گوئیاں: پرانا عہد نامہ جب بھی گناہ کی وجہ سے کسی کی شخصی عدالت یا پھر قومی عدالت کا ذکر کرتا ہے تو یہ بات خُداوند یسوع مسیح کی آمد کے بارے میں ایک پیشن گوئی ہوتی ہے۔ پرانے عہد نامے کے نبیوں نے مسلسل طور پر اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے توبہ کرنے کی تعلیم دی، اور جب بھی اُن لوگوں نے توبہ کی تو اُن کی توبہ شریعت کو ماننے اور شریعت کے مطابق اعمال کرنے تک ہی محدود تھی۔ ہیکل میں اُن کی طرف سے لائی جانے والی قربانیاں اُس قربانی کا محض سایہ ہی تھیں جو سب انسانوں کے لیے ایک ہی بار صلیب پر دی جانے والی تھی (عبرانیوں 10 باب 10آیت)۔ یوایل ہمیں بتاتا ہے کہ خُدا کی حتمی عدالت جو خُداوند کے دن یعنی اُس کے روزِ عظیم میں آئے گی وہ بہت ہی "عظیم اور خوفناک " ہوگی۔ "کون اُسکی برداشت کر سکتا ہے؟" (یوایل 2 باب 11 آیت)۔ اِس بات کا جواب ہے کہ ہم خود اپنی ذاتی قوت میں ایسے کسی دن یا واقعے کی برداشت نہیں کر سکتے۔ لیکن اگر ہم نے اپنے گناہوں کے کفارے کے لیے اپنا ایمان یسوع مسیح پر رکھا ہے تو ایسی صورت میں ہمیں خُداوند کے رُوزِ عظیم سے کسی طور پر خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

عملی اطلاق: توبہ کے بغیر خُدا کی عدالت بہت ہی سخت، جامع اور یقینی ہوگی۔ ہمیں کسی طور پر بھی اپنے مال و دولت پر انحصار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اِس کے برعکس اپنے خُداوند یسوع پر انحصار کرنا چاہیے۔ مختلف اوقات میں خُدا فطرت، دُکھ یا پھر دیگر کئی ایک ایسے واقعات و سانحات کو اِستعمال کر سکتا ہے تاکہ ہم اُس کے اور نزدیک ہو جائیں۔ لیکن اپنے رحم اور فضل کی بدولت یسوع مسیح کی ذات میں خُدا ہمیں ہماری نجات کا واضح منصوبہ مہیا کرتا ہے۔ خُداوند یسوع مسیح ہماری خاطر مصلوب ہوا اور اُس نے ہمارے گناہوں کو اپنی کامل راستبازی سے بدل دیا (2 کرنتھیوں 5 باب 21 آیت)۔ ہمارے پاس ضائع کرنے کے لیے بالکل بھی وقت موجود نہیں ہے۔ خُدا کی عدالت رات کو آنے والے چور کی مانند اچانک اور بہت تیزی کے ساتھ آجائے گی (1 تھسلنیکیوں 5 باب 2 آیت)، اور ہمیں اُس کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے۔ آج نجات کا دن ہے (2 کرنتھیوں 6 باب 2 آیت)۔ "جب تک خُداوند مل سکتا ہے اُس کے طالب ہو ۔ جب تک وہ نزدِیک ہے اُسے پکارو۔شرِیر اپنی راہ کو ترک کرے اور بدکردار اپنے خیالوں کو اور وہ خُداوند کی طرف پھرے اور وہ اُس پر رحم کرے گا اور ہمارے خُدا کی طرف کیونکہ وہ کثرت سے معاف کرے گا"(یسعیاہ 55 باب 6-7آیات)۔ خُدا کی طرف سے مہیا کی جانے والی نجات کو پا کر ہی ہم خُداوند کے روزِ عظیم میں اُس کے قہر سے بچ سکتے ہیں۔

English



بائبل کا خلاصہ/جائزہ

پُرانے عہد نامے کا جائزہ

اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں



یوایل کی کتاب

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں