یرمیاہ کی کتاب


مصنف: یرمیاہ کی کتاب کے پہلے باب کی پہلی آیت بیان کرتی ہے کہ اِس کتاب کا مصنف یرمیاہ ہے۔

سنِ تحریر: یرمیا ہ کی کتاب630قبل از مسیح سے 580 قبل از مسیح کے درمیان لکھی گئی تھی۔

تحریر کا مقصد: یرمیاہ کی کتاب یہوداہ کے بارے میں حتمی پیشن گوئیوں یعنی اُس آنے والی تباہی کی اطلاعات کو قلمبند کرتی ہے جو بنی یہوداہ کے توبہ نہ کرنے کی صورت میں نازل ہونے کو تھی۔ یرمیاہ قوم سے خُدا کی طرف رجوع لانے کامطالبہ کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یرمیاہ یہوداہ کی بت پرستی اور بدکاری کے باعث اُس کی تباہی کی ناگزیریت کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔

کلیدی آیات: یرمیاہ 1باب 5آیت: " اِس سے پیشتر کہ مَیں نے تجھے بطن میں خلق کیا ۔ مَیں تجھے جانتا تھا اور تیری وِلادت سے پہلے مَیں نے تجھے مخصوص کیا اور قوموں کے لئے تجھے نبی ٹھہرایا۔"

یرمیاہ 17باب 9آیت: " دِل سب چیزوں سے زِیادہ حیلہ باز اور لاعلاج ہے ۔ اُس کو کَون دریافت کر سکتا ہے؟"

یرمیاہ 29باب 10-11آیات: " کیونکہ خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ جب بابل میں ستّر برس گذر چکیں گے تو مَیں تم کو یاد فرماؤں گا اور تم کو اِس مکان میں واپس لانے سے اپنے نیک قول کو پُورا کروں گا۔ کیونکہ مَیں تمہارے حق میں اپنے خیالات کو جانتا ہُوں خُداوند فرماتا ہے یعنی سلامتی کے خیالات ۔ بُرائی کے نہیں تاکہ مَیں تم کو نیک انجام کی اُمّید بخشوں۔"

یرمیاہ 52باب 12-13آیات: " اور شاہِ بابل نبوکدر ضر کے عہد کے اُنیسویں برس کے پانچویں مہینے کے دسویں دِن جلَوداروں کا سردار نبوز رادان جو شاہِ بابل کے حضور میں کھڑا رہتا تھا یروشلیم میں آیا۔ اُس نے خُداوند کا گھر اور بادشاہ کا قصر اور یروشلیم کے سب گھر یعنی ہر ایک بڑا گھر آگ سے جلا دِیا۔"

مختصر خلاصہ: یرمیاہ کی کتاب بنیادی طور پر کثیربُت پرستی کی وجہ سے یہوداہ پرخُدا کے غضب کے نزول کا پیغام ہے (یرمیاہ 7باب 30-34آیات؛ 16باب 10-13آیات؛ 22باب 9آیت؛ 32باب 29آیت؛ 44باب 2-3آیات)۔ آخری راستباز بادشاہ یوسیاہ کی موت کے بعد بنی یہوداہ نےخدا اور اُس کے احکامات کو لگ بھگ مکمل طور پر ترک کر دیا تھا ۔ یرمیاہ یہوداہ کا موازنہ ایک فاحشہ سے کرتا ہے ( 2باب 20آیت؛ 3باب 1-3آیات)۔ خدا نے وعدہ کیا تھا کہ وہ بُت پرستی کی سخت عدالت کرے گا ( احبار 26باب 31-33آیات؛ استثنا 28باب 49-68آیات) اور یرمیاہ یہوداہ کو متنبہ کر رہا تھا کہ خدا کا غضب آنے کو ہے۔ خدا نے بے شمار موقعوں پر یہوداہ کو تباہی سے بچایا تھا لیکن اب اُس کی رحمت بھرا دَور اپنے اختتام پر تھا۔ یرمیاہ نبوکد نضر کے یہوداہ پر فتح یاب ہونے اور اسے اپنا غلام بنانے کے واقعات کو قلمبند کرتا ہے ( یرمیاہ 24باب 1آیت)۔اور مزید سرکشی کے بعد خدا یہوداہ اور یروشلیم کی تباہی اور بربادی کےلیے نبوکد نضر اور بابل کی فوجوں کو واپس لاتا ہے (52باب )۔ حتیٰ کہ اس سخت عدالت میں بھی خدا یہوداہ کی وعدے کی سرزمین میں دوبارہ بحالی کا عہد کرتا ہے (یرمیاہ 29باب 10آیت)۔

پیشن گوئیاں: یرمیاہ 23باب 5-6آیات آنے والے مسیحا یسوع مسیح کی پیشن گوئی کرتی ہیں ۔ یرمیاہ نبی اُسے داؤد کے گھرانے سے پھوٹنے والی ایک شا خ ( 5آیت؛ متی 1باب ) اور ایسے بادشاہ کے طور پر بیان کرتا ہے جو حکمت اور راستبازی سے حکمرانی کرے گا ( 5آیت؛ مکاشفہ 11باب 15 آیت)۔ یہ بادشاہ یسوع مسیح ہے جسے بنی اسرائیل قوم بالآخر اپنے سچے مسیحا کے طور پرتسلیم کرے گی کیونکہ وہ اپنے چُنے ہوئے لوگوں کو نجات بخشے گا (6آیت؛ رومیوں 11باب 26آیت)۔

عملی اطلاق: یرمیاہ نبی کو اپنی قوم کو ایک مشکل ترین پیغام سنانا تھا۔ یرمیاہ بنی یہوداہ کیساتھ پیار کرتا تھا مگر وہ خدا کیساتھ اپنی قوم سے بھی زیادہ پیار کرتا تھا ۔ یرمیاہ کےلیےاپنے لوگوں کو عدالت کا مستقل پیغام سنانا جس قدر تکلیف دہ اور مشکل تھا اُسی قدر یرمیاہ خدا کے اُس حکم پر عمل کرنے میں فرمانبردار تھا اور جو کچھ خُدا نے اُسے کرنے اور کہنے کو کہا تھا وہ اُس سب کو کہنے اور کرنے کے لیے تیار تھا۔ یرمیاہ یہوداہ کےلیے خدا کے رحم کی اُمید اور دُعا کرتا ہے مگر وہ یہ بھی ایمان رکھتا ہے کہ خدا نیک ، پاک اور راستباز ہے جو بدی اور گناہ کو برداشت نہیں کرتا۔ ہمیں بھی ہر طرح کی مشکلات کے باوجود خُدا کی فرمانبرداری کرنی اور خدا پر بھروسہ کرنا چاہیے ، اور یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اُس کی لامحدود حکمت اور کامل منصوبے اُس کے بچّوں کےلیے ہمیشہ بھلائی پیدا کریں گے (رومیوں 8باب 28آیت) ۔کیونکہ خدا کی مرضی ہماری خواہشات سے زیادہ اہم ہے۔

English



بائبل کا خلاصہ/جائزہ

پُرانے عہد نامے کا جائزہ

اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں



یرمیاہ کی کتاب

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں