یسعیاہ کی کتاب


مصنف: یسعیاہ کی کتاب کے پہلے باب کی پہلی آیت بیان کرتی ہے کہ اِس کتاب کا مصنف یسعیاہ نبی ہے۔

سنِ تحریر: یسعیاہ کی کتاب 739قبل از مسیح سے 681 قبل از مسیح کے درمیانی عرصہ میں لکھی گئی تھی۔

تحریر کا مقصد: یسعیاہ نبی کو یہوداہ کی بادشاہی کےلیے پیشن گوئی کرنے کےلیے بُلایا گیا تھا ۔ یہوداہ کی بادشاہی کسی حد تک رُوحانی بیداری لیکن اِس کے ساتھ ساتھ بغاوت اور سرکشی کے دُور میں سے گزررہی تھی ۔ یہوداہ کو اُسور اور مصر کی طرف سے تباہ ہونے کا خطرہ تھا مگر خدا کے رحم کے باعث وہ اس سے بچ گیا۔ یسعیاہ نےاس کتاب میں گناہ سے توبہ کرنےکیساتھ ساتھ مستقبل میں خدا کی نجات کی پُر اُمید توقع کا پیغام دیا ہے ۔

کلیدی آیات: یسعیاہ 6باب 8آیت: " اُس وقت مَیں نے خُداوند کی آواز سُنی جس نے فرمایامَیں کس کو بھیجوں اور ہماری طرف سے کون جائے گا؟ تب مَیں نے عرض کی مَیں حاضر ہوں مجھے بھیج۔"

یسعیاہ 7باب 14آیت: " لیکن خُداوند آپ تم کو ایک نشان بخشے گا ۔ دیکھو ایک کنواری حاملہ ہو گی اور بیٹا پیدا ہو گا اور وہ اُس کانام عمانوایل رکھے گی۔"

یسعیاہ 9باب 6آیت: "اِس لئے ہمارے لئے ایک لڑکا تولُّد ہوا اور ہم کوایک بیٹا بخشا گیا اور سلطنت اُس کے کندھے پر ہو گی اوراُس کا نام عجیب مشیر خُدایِ قادِر ابدیت کا باپ سلامتی کا شاہزادہ ہو گا۔"

یسعیاہ 14باب 12-13آیات: " اَے صبح کے روشن ستارے تو کیونکر آسمان پر سے گر پڑا! اَے قَوموں کو پست کرنے والے تُو کیونکر زمین پرپٹکا گیا! تُو تو اپنے دِل میں کہتا تھا مَیں آسمان پر چڑھ جاؤں گا۔ مَیں اپنے تخت کو خُدا کے ستاروں سے بھی اُونچا کروں گااور مَیں شمالی اطراف میں جماعت کے پہاڑ پر بیٹھوں گا۔"

یسعیاہ 53باب 5-6آیات: " حالانکہ وہ ہماری خطاؤں کے سبب سے گھایل کِیا گیا اور ہماری بدکرداری کے باعث کچلا گیا ۔ ہماری ہی سلامتی کے لئے اُس پر سیاست ہُوئی تاکہ اُس کے مار کھانے سے ہم شفا پائیں۔ ہم سب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئے ۔ ہم میں سے ہر ایک اپنی راہ کو پھرا پر خُداوند نے ہم سب کی بدکرداری اُس پر لادی۔"

یسعیاہ 65باب 25آیت: " بھیڑِیا اور برّہ اِکٹھے چریں گے اور شیرِ بَبر بَیل کی مانِند بُھوسا کھائے گا اور سانپ کی خوراک خاک ہو گی ۔ وہ میرے تمام کوہِ مُقدّس پر نہ ضرر پہنچائیں گے نہ ہلاک کریں گے خُداوند فرماتا ہے۔"

مختصر خلاصہ: یسعیاہ کی کتاب خدا کے غضب اور نجات کو بیان اور پیش کرتی ہے ۔ خدا "قُدوس قُدوس قُدوس رب الافواج ہے " اس لیے وہ گناہ کو بے سزا نہیں چھوڑ سکتا ( یسعیاہ 1باب 2آیت؛ 2باب 11- 20آیات؛ 5باب 30آیت؛ 34باب 1-2آیات؛ 42باب 25آیت)۔یسعیاہ خدا کے آنے والے غضب کو "بھسم کرنے والی آگ" کے طور پر پیش کرتا ہے ۔

اس کے ساتھ ساتھ یسعیاہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ خدا رحم ، فضل اور شفقت کا خدا ہے (5باب 25آیت؛ 11باب 16آیت؛ 14باب 1-2آیات؛ 32باب 2آیت ؛ 40باب 3آیت؛ 41باب 14- 16آیات)۔ اسرائیلی قوم ( دونوں یہوداہ اور اسرائیل) خدا کے احکامات کے حوالےسے اندھی اور بہری ہو چکی ہے (یسعیاہ 6باب 9- 10آیات؛ 42باب 7آیت)۔ اس کتاب میں یہوداہ کا موازنہ ایک ایسے تاکستان سے کیا گیا ہے جسے رو ندا جانا چاہیے اور جو روندا جائےگا ( یسعیاہ 5باب 1-7آیت)۔ صرف اور صرف اپنے رحم اور اسرائیل سے اپنے وعدوں کے باعث خدا اسرائیل یا یہوداہ کو مکمل طور پر تباہ نہیں ہونے دیتا ۔ وہ بحالی ، معافی اور شفا بخشے گا ( 43باب 2آیت؛ 43باب 16- 19آیات؛ 52باب 10-12آیات)۔

پرانے عہد نامے کی کسی بھی اور کتاب کی نسبت یسعیاہ کی کتاب اُس نجات کے موضوع پر سب سے زیادہ توجہ مرکوز کرتی ہے جوموعودہ مسیحا کے وسیلہ سے آئے گی ۔ ایک دن آئے گا جب مسیحا انصاف اور صداقت سے حکمرانی کرے گا ( یسعیاہ 11باب 6- 9آیات)۔مسیحا کے وسیلہ سے بنی اسرائیل باقی تمام قوموں کےلیے نور ثابت ہوگی(یسعیاہ 42باب 6آیت؛ 55باب 4-5آیات)۔ یسعیاہ کی تمام کتاب جس منزل کی جانب اشارہ کرتی ہے وہ مسیحا کی زمینی بادشاہی ہے (یسعیاہ65-66ابواب ) ۔ یہ مسیحا کا دُورِ حکومت ہی ہو گا جب خدا کی راستبازی پوری دنیا پر عیاں ہوگی ۔

اس تمام صورت ِ حال کے برعکس یسعیاہ کی کتاب مسیحا کو ایک ایسے شخص کے طور پربھی پیش کرتی ہے جو دُکھ اور تکلیف برداشت کرے گا ۔ یسعیاہ کی کتاب کا 53باب گناہ کی خاطر مسیحا کے دُکھوں کو بڑے واضح طور پر پیش کرتا ہے ۔ اُسی کے مار کھانے سے ہمیں شفا حاصل ہوتی ہے ۔ اُس کی تکلیف کے وسیلہ سے ہماری خطائیں اُٹھائی جاتی ہیں ۔ یہ ظاہری تضاد مسیح یسوع کی ذات میں حل ہوتا ہے ۔ اپنی پہلی آمد میں یسوع یسعیاہ53باب میں درج دُکھ اُٹھانے والا خادم تھا۔ اپنی دوسری آمد میں یسوع ایک فاتح ، بادشاہ اور امن کا شہزاد بن کے آئے گا ( یسعیاہ 9باب 6آیت)۔

پیشن گوئیاں: جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ یسعیاہ53باب کے اندر آنے والے مسیحا اور اُس کے اُن دُکھوں کے بارے میں بیان کیا گیا ہے جو وہ ہمارے گناہوں کی قیمت ادا کرنے کےلیے برداشت کرے گا ۔ اپنی خودمختار ی میں خدا نے اِس باب کی ہر نبوت کے ساتھ ساتھ مسیحا سے متعلق پرانے عہد نامے کی تمام نبوتوں کو پورا کرنے کےلیے مصلوبیت کے ہر جُز کو ترتیب دیا ہے ۔ یسعیاہ 53باب کا اندازِ بیان تکلیف دہ اور نبوتی ہے جو انجیل کی مکمل تصویر کشی کرتا ہے ۔ ہماری خطاؤں کی خاطر یسوع کو خدا کی طرف سے پست اور ردّ کیا گیا( 3آیت؛ لوقا 13باب 34آیت؛ یوحنا1 باب 10-11آیات)؛اُسے کچلا ( 4 آیت؛ متی 27باب 46آیت) اور چھیدا گیا ( 5آیت؛ یوحنا 19باب 34آیت؛ 1 پطرس 2باب 24 آیت)۔ اپنے صلیبی دُکھ کے ذریعے مسیح نے اُس سزا کو برداشت کیا جس کے ہم مستحق تھے اور اس طرح وہ ہمارے لیے حتمی اور کامل قربانی بن گیا (5آیت؛ عبرانیوں 10باب 10آیت) اگرچہ وہ بے خطا تھا مگر خدا نے ہماری خطاؤں کو اُس پر ڈال دیا لہذ ا اُس میں ہم خدا کی راستبازی بن گئے ( 2 کرنتھیوں 5باب 21آیت)۔

عملی اطلاق: یسعیاہ کی کتاب ہمارے نجات دہندہ کو ناقابلِ تردید تفصیل کے ساتھ پیش کرتی ہے ۔ وہ فردوس تک جانے والا واحد راستہ ، خدا کے فضل کے حصول کا واحد ذریعہ ، واحد راہ ، واحد حق اور واحد زندگی ہے (یوحنا 14باب 6آیت؛ اعمال 4باب 12آیت)۔ اُس قیمت کو جانتے ہوئے جو مسیح نے ہمارے لیے ادا کی ہے ہم " اتنی بڑی نجات" کو نظر انداز یا مسترد کیسے کر سکتے ہیں ؟ ( عبرانیوں 2باب 3آیت)۔ مسیح کے پاس آنے اور اُس نجات کو قبول کرنے کےلیے جو وہ ہمیں بخشتا ہے ہماری زمینی زندگی بہت کم اور مختصر ہیں ۔ موت کے بعد کوئی دوسرا موقع نہیں ملے گا کیونکہ جہنم کا عذاب ابدی ہے ۔

کیا آپ ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جو مسیح میں ایماندار ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر حقیقت میں دوغلے اور ریاکار ہیں ؟ اِس بات کا مختصر خلاصہ یہاں پر ملتا ہے جس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یسعیاہ نبی اسرائیل قوم کو کس نظر سے دیکھتا تھا ۔ بنی اسرائیل کی راستبازی محض ظاہر ی اور اوپری تھی ۔اس کتاب میں یسعیاہ نبی بنی اسرائیل سے ظاہر ی طور پر نہیں بلکہ اپنے پورے دل سے خدا کی فرمانبرداری کرنے کا تقاضا کرتا ہے ۔ یسعیاہ کی خواہش تھی کہ وہ لوگ جو اُس کی باتیں سنیں اور پڑھیں وہ اپنے گناہوں کی سنگینی کو سمجھیں، اُن سے باز آئیں اور معافی اور شفا کےلیےخدا کی طرف رجو ع لائیں۔

English



بائبل کا خلاصہ/جائزہ

پُرانے عہد نامے کا جائزہ

اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں



یسعیاہ کی کتاب

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں