settings icon
share icon

حبقوق کی کتاب

مصنف: حبقوق 1 باب 1 آیت بیان کرتی ہے کہ حبقوق کی کتاب کا مُصنف خود حبقوق نبی ہی تھا۔

سنِ تحریر: حبقوق کی کتاب غالبا 610ً قبل از مسیح اور 605 قبل از مسیح کے درمیانی عرصے میں لکھی گئی تھی۔

تحریر کا مقصد: حبقوق نبی یہوداہ کے گناہوں کا اعلان کرتا ہے اور اِس کے ساتھ ہی وہ اِس بات سے رنجیدہ بھی ہوتا ہے کہ خُدا کے چُنے ہوئے لوگوں کی عدالت اُن سے بھی زیادہ بُرے/بدکار لوگوں کے وسیلے سے ہوگی۔ حبقوق خُدا کی حکمت، حاکمیت اور نجات پر مسلسل طور پر ایمان رکھنے کے حوالے سے سوالات کرتا ہے اور خُدا اُس کے سوالات کے جوابات دیتا ہے۔

کلیدی آیات: حبقوق 1 باب 2 آیت: "اَے خُداوند! مَیں کب تک نالہ کروں گا اور تُو نہ سنے گا؟مَیں تیرے حضور کب تک چِلاؤں گا ظلم! ظلم! اور تُونہ بچائے گا؟"

حبقوق 1باب 5 آیت: "قوموں پر نظر کرو اور دیکھو اور متعجب ہو کیونکہ مَیں تمہارے ایام میں ایک اَیسا کام کرنے کوہوں کہ اگر کوئی تم سے اُس کا بیان کرے تو تم ہرگز باور نہ کرو گے۔"

حبقوق 1 باب 12 آیت: "اَے خُداوند میرے خُدا! اَے میرے قُدوس! کیا تُو ازل سے نہیں ہے؟ ہم نہیں مریں گے ۔ اَے خُداوند تُو نے اُن کو عدالت کے لیے ٹھہرایا ہے اور اَے چٹان تُو نے اُن کو تادِیب کے لئے مُقرر کِیا ہے۔"

حبقوق 2باب 2-4 آیات: "تب خُداوند نے مجھے جواب دِیا اور فرمایا کہ رویا کو تختیوں پر اَیسی صفائی سے لکھ کہ لوگ دَوڑتے ہُوئے بھی پڑھ سکیں۔ کیونکہ یہ رویا ایک مُقررہ وقت کے لئے ہے ۔ یہ جلد وقوع میں آئے گی اور خطا نہ کرے گی ۔ اگرچہ اِس میں دیرہو تَو بھی اِس کا منتظر رہ کیونکہ یہ یقِیناً وقوع میں آئے گی ۔ تاخیر نہ کرے گی۔دیکھ متکبر آدمی کا دِل راست نہیں ہے لیکن صادِق اپنے اِیمان سے زِندہ رہے گا۔"

حبقوق 2 باب 20 آیت: "مگر خُداوند اپنی مُقدّس ہیکل میں ہے ۔ ساری زمین اُس کے حضور خاموش رہے۔"

حبقوق 3 باب 2آیت: "اَے خُداوند مَیں نے تیری شہرت سنی اور ڈر گیا۔ اَے خُداوند اِسی زمانہ میں اپنے کام کو بحال کر۔ اِسی زمانہ میں اُس کو ظاہر کر۔ قہر کے وقت رحم کو یاد فرما۔۔"

حبقوق 3 باب 19آیت: "خُداوند خُدا میری توانائی ہے۔ وہ میرے پاؤں ہرنی کے سے بنا دیتا ہے اور مجھے میری اُونچی جگہوں میں چلاتا ہے۔"

مختصر خلاصہ: حبقوق کی کتاب کا آغاز حبقوق نبی کے خُدا کے حضور اِس سوال اور فریاد کے ساتھ ہوتا ہے کہ خُدا کے چُنے ہوئے لوگ اسیری میں کیونکر دُکھ اُٹھاتے ہیں (حبقوق 1 باب 1-4 آیات)۔ خُدا حبقوق کو جواب دیتا اور کہتا ہے کہ اگر خُدا نے اُس کو یہ باتیں بتا دی یا کوئی اُس سب کا بیان اُس سے کرتا تو وہ ہرگز باور نہ کرتا یا ہرگز نہ مانتا۔"(حبقوق 1 باب 5-11 آیات)۔ اِس کے بعد حبقوق خُداسے کہتا ہے وہ اُسے مزید بتائے کہ جو کچھ ہورہا تھا اُس کی وجہ کیا تھی(حبقوق 1 باب 17 تا 2 باب 1 آیت)۔ خُدا اُسے جواب دیتا ہے اور اُسے اِس حوالے سے مزید معلومات فراہم کرتا ہے۔ پھر وہ فرماتا ہے کہ "ساری زمین اُس کے حضور خاموش رہے" (حبقوق 2 باب 2- 20 آیات)۔ اِس کے بعد حبقوق اِن سب مشکلات کے باوجود خُدا پر اپنے پختہ ایمان کے اظہار کے لیے اپنی دُعا کو لکھتا ہے (حبقوق 3 باب 1- 19آیت)۔

پیشن گوئیاں: پولس رسول ایمان کے ذریعے راستباز ٹھہرائے جانے کے عقیدے کی دہرائی کے لیے حبقوق 2 باب 4 آیت کا دو مختلف مقامات پر حوالہ پیش کرتا ہے (رومیوں 1 باب 17آیت؛ گلتیوں 3 باب11 آیت)۔ وہ ایمان جو کہ خُدا کی طرف سے خاص تحفہ ہے اور مسیح کے وسیلے سے ہمیں میسر ہے ایک طرف تو وہ ہمارا ایسا ایمان ہے جو ہمیں بچاتا ہے (افسیوں 2 باب 8- 9 آیات) اور دوسری طرف یہ ہمارا ایمان ہی ہے جو ہمیں ہماری ساری زندگی میں قائم بھی رکھتا ہے۔ ہم اپنے ایمان کے وسیلے سے ابدی زندگی حاصل کرتے ہیں اور اُسی ایمان کے وسیلے سے اپنی مسیحی زندگی بھی گزارتے ہیں۔ حبقوق کی اِس آیت کے آغاز میں متکبر آدمی کا ذکر ہےجس کا دل راست نہیں اور جس کے ارادے نیک نہیں۔ ایسے آدمی کے برعکس ہم لوگ ایمان کے وسیلے سے مکمل طور پر راستباز ٹھہرائے گئے ہیں کیونکہ یسوع مسیح نے ہمارے گناہ اپنے اوپر لے کر ہمیں کامل راستبازی عطا کی ہے (2 کرنتھیوں 5 باب 21آیت) اور ہمیں ایمان میں جینے کے قابل بنایا ہے۔

عملی اطلاق: حبقوق کی کتاب کے مطالعے کا عملی اطلاق یہ بھی ہے کہ خُدا جو کچھ بھی کر رہا ہے اُس کے بارے میں ہم اُس سے سوال پوچھ سکتے ہیں، لیکن اپنی اِس کاوش کے دوران ہمیں ہمیشہ اِس بات کو مدِ نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے رویے میں خُدا کے تقدس کا لحاظ اور خُدا کی ذات کے لیے حد درجہ احترام موجود رہے۔ بہت دفعہ ایسے وقت پر جب ہمیں کسی مصیبت میں ایک خاص مدت تک ڈال دیا جائے یا پھر ہم دیکھیں کہ ہمارا دشمن تو خوشحالی کی طرف جا رہا ہے جبکہ ہم اپنی زندگی کا ہر لمحہ بڑی مشکل کے ساتھ گزار رہے ہیں تو ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ اصل میں ہو کیا رہا ہے۔ حبقوق کی کتاب ہمارے لیے اِس بات کی بار بار تصدیق کرتی ہے کہ ہمارا خُدا حاکمِ کُل اور قادرِ مطلق ہے اور ہر ایک چیز پر اُس کو مکمل اختیار حاصل ہے۔ ہمیں ایسے وقت میں بالکل خاموش ہو کر یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا خُدا کام کر رہا ہے۔ ہمارا خُدا وہی سب کچھ ہے جو ہونے کا وہ دعویٰ کرتا ہے اور وہ اپنے وعدوں کو ہمیشہ ہی پورا کرتا ہے۔ وہ ناراست کو سخت سزا دے گا۔ جس وقت ہم یہ نہیں دیکھ پا رہے ہوتے تب بھی وہ کائنات کے تخت پر براجمان ہے۔ ہمیں اِس بات پر ہمیشہ ہی اپنی نظر کو مرکوز رکھنے کی ضرورت ہے: "خُداوند خُدا میری توانائی ہے۔ وہ میرے پاؤں ہرنی کے سے بنا دیتا ہے اور مجھے میری اُونچی جگہوں میں چلاتا ہے" (حبقوق 3 باب 19آیت)۔ ہمیں اونچی جگہوں پر چلانے سے مُراد یہ ہے کہ وہ ہمیں اپنے ساتھ خاص مقامات پر لے جاتا اور دُنیا سے علیحدہ کرتا ہے۔ بہت دفعہ اُس مقام پر لے کر جانے والا راستہ مشکلات اور تکالیف میں سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن اگر ہم خُدا میں قائم رہتے اور اُس پر اپنا ایمان رکھتے ہیں تو ہم اُس راستے پر سے گزر کر اُسی مقام پر پہنچتے ہیں جہاں پر وہ ہمیں لے کر جانا چاہتا ہے۔

English



بائبل کا خلاصہ/جائزہ

پُرانے عہد نامے کا جائزہ



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

حبقوق کی کتاب
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries