خروج کی کتاب


مُصنف: خروج کی کتاب کا مُصنف موسیٰ ہے (خروج 17باب 14آیت؛ 24باب 4-7آیات؛ 34باب 27آیت)۔

سنِ تحریر: خروج کی کتاب 1440 ق م سے 1400 قبل از مسیح کے درمیان لکھی گئی تھی۔

تحریر کا مقصد: لفظ "خروج" کا مطلب روانگی/کوچ کرنا ہے۔ خدا کے وقتِ مقررہ کےمطابق مصر سے بنی اسرائیل کی روانگی ابرہام کی نسل پر ظلم و ستم کے دور کے خاتمے کی نشاندہی کرتی ہے(پیدایش 15باب 13آیت) اور ابرہام سے کئے گئے اُس عہد کی تکمیل کےآغاز کی علامت ہے جس کے مطابق ابرہام کی نسل نہ صرف وعدے کی سرزمین میں بسے گی بلکہ وہ وہاں بڑھے گی اور ایک عظیم قوم بھی بنے گی (پیدایش 12باب 1-3 اور 7 آیات)۔ اس کتاب کا مقصدکچھ اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے مصر میں تیزی سے بڑھنے سے لے کر وعدے کی سرزمین میں ایک مذہبی قوم کی حیثیت سے آباد ہونے کے عمل کی کہانی ہے ۔

کلیدی آیات: خروج 1باب 8آیت: " تب مصر میں ایک نیا بادشاہ ہُوا جو یُوسف کو نہیں جانتا تھا"۔

خروج 2باب 24-25آیات: " اور خُدا نے اُ ن کاکراہنا سنا اور خُدا نے اپنے عہد کو جو ابرہام اور اِضحا ق اور یعقوب کے ساتھ تھا یاد کیا۔ اور خُدا نے بنی اِسرائیل پر نظر کی اور اُن کے حال کو معلوم کیا "۔

خروج 12باب 27آیت: " تو تم یہ کہنا کہ یہ خُداوند کی فَسح کی قربانی ہے جو مصر میں مصریوں کو مارتے وقت بنی اِسرائیل کے گھروں کو چھوڑ گیا اوریوں ہمارے گھروں کو بچا لیا ۔ تب لوگوں نے سر جھکا کر سجدہ کیا"۔

خروج 20باب 2-3آیات: "خداوند تیرا خدا جو تجھے مُلکِ مصر سے اور غلامی کے گھر سے نکال لایا مَیں ہُوں۔ میرے حضور تُو غیر معبودوں کو نہ ماننا"۔

مختصر خلاصہ: خروج کی کتاب کا آغاز پیدایش کی کتاب کے اختتام پر ہوتا ہے جب خدا اپنے چنیدہ لوگوں یعنی یہودیوں پر نظر کرتا ہے ۔یہ کتاب بنی اسرائیل کے مہمانوں کی حیثیت سے مصر میں یوسف کے پاس جو وہاں پر اعلیٰ عہدے پر فائز تھا جانے سے لیکر اُس وقت تک کے واقعات کو بیان کر تی جب اُنہیں بالآخر مصر کی ظالمانہ غلامی سے رہائی دی گئی تھی جس غلامی میں اُنہیں ایک ایسے بادشاہ کی طرف سے رکھا گیا تھا " جو یُوسف کو نہیں جانتا تھا" (خروج 1باب 8آیت)۔

1تا 14 ابواب فرعون کے دور میں بنی اسرائیل پر ہونے والے ظلم و ستم ، اُن کے نجات دہندہ کی حیثیت سے موسیٰ کے ظہور،مصری حکام کی نافرمانی کے نتیجے میں خدا کی طرف سے نازل کی جانے والی مصیبتوں اور بنی اسرائیل کے مصر سے خروج کے واقعات کو بیان کرتے ہیں ۔ خدا کا قوی اور طاقتور ہاتھ بڑی بڑی مصیبتوں کے نزول — بنی اسرائیل کی رہائی ، بحر قلز م کی تقسیم اور مصری فوج کی تباہی کی صورت میں دکھائی دیتا ہے۔ مصر پر نازل کی جانے والی آفتوں کا اختتام مصریوں کے پہلوٹھوں کی موت اور پہلی عید فسح کے مقرر کیے جانے پر ہوتا ہے ۔

خروج کی کتاب کا درمیانی حصہ بیابان میں اسرائیلیوں کے بھٹکنے اور خدا وند کی طرف سے معجزانہ طور پر اپنے لوگوں کی ضروریات کی فراہمی کے متعلق بیان کرتا ہے۔ لیکن آسمان سے اُنہیں خوراک مہیا کرنے ، کڑوے پانی کو میٹھا بنادینے ، چٹان سے پانی فراہم کرنے ، مخالف لوگوں پر فتح یابی بخشنے ، پتھر کی لوحوں پر اپنے ہاتھ سے شریعت لکھ کر دینے اور آگ کے ستون اور بادل کی صورت میں بنی اسرائیل کے ساتھ ساتھ رہنے کے باوجود لوگ مستقل طور پر خدا کے خلاف سرکشی اور بغاوت کرتے رہے۔

کتاب کا آخری اور تیسرا حصہ عہد کے صندوق کی تعمیر اور مختلف طرح کی قربانیوں ، قربان گاہوں ، ساز و سامان ، رسومات اور عبادت کی اقسام کے ساتھ خیمہ اجتماع کے منصوبے کو بیان کرتا ہے ۔

پیشن گوئیاں: بنی اسرائیلیوں کے لیے مقررکردہ قربانیاں اصل میں حتمی قربانی یعنی خدا کےفسح کے برّے ، یسوع مسیح کی تصویر پیش کرتی تھیں۔ مصر میں آخری مصیبت کی رات کو ایک بے عیب برّے کو قربان کیا گیا اور اُس کے خون کو لوگوں کے گھروں کی چوکتوں پر لگایا گیا جس کے وسیلہ سے وہ موت کے فرشتے سے محفوظ رہے ۔یہ یسوع کے بارے میں پیشن گوئی تھی جو خدا کا بے داغ اور بے عیب برّہ ہے (1پطرس 1باب 19آیت) اور جس کا خون ہمیں ہمیشہ کی زندگی کی ضمانت دیتا ہے ۔ خروج کی کتاب میں چٹان سے پانی کی فراہمی کی کہانی بھی مسیح کی علامتی پیشن گوئیوں میں سے ایک ہے جو خروج 17باب 6آیت میں بیان کی گئی ہے ۔ لوگوں کو زندگی بخشنے والے پانی کی فراہمی کےلیے جس طرح موسیٰ نے اُس چٹان پر مارا تھا ایسے ہی خدانے نجات کی چٹان کو مارا اور ہمارے گناہوں کی خاطر قربان کیا تھا پھر اِسی چٹان سےابدی حیات کا چشمہ بہہ نکلا تھا ( یوحنا 4باب 10آیت)۔ بیابان میں من کی فراہمی مسیح یعنی زندگی کی روٹی (یوحنا 6باب 48آیت)کی کامل تصویر ہے جو خدا نے ہمیں زندگی دینے کےلیے بخشی ہے ۔

عملی اطلاق: موسوی شریعت بنی نوع انسان پر یہ واضح کرنے کےلیے دی گئی تھی کہ وہ اس کی مکمل پیروی کرنے سے سے قاصر ہیں۔ ہم شریعت کی پیروی کے وسیلہ سے خدا کو خوش نہیں کر سکتے ۔ لہذا پولس ہمیں نصیحت کرتا ہے کہ "تو بھی یہ جان کر کہ آدمی شرِیعت کے اَعمال سے نہیں بلکہ صرف یسو ع مسیح پر اِیمان لانے سے راست باز ٹھہرتا ہے خود بھی مسیح یسو ع پر اِیمان لائے تاکہ ہم مسیح پر اِیمان لانے سے راست باز ٹھہریں نہ کہ شرِیعت کے اَعمال سے ۔ کیونکہ شرِیعت کے اَعمال سے کوئی بشر راست باز نہ ٹھہرے گا " ( گلتیوں 2باب 16آیت)۔

مصر کی غلامی سے رہائی سے لے کر بیابان میں من اور بٹیروں کی فراہمی تک بنی اسرائیل کےلیے خدا کی دستگیری اُس کے لوگوں پر اُس کی بڑی مہربانی کی واضح علامتیں ہیں۔ خدا نے ہماری تمام ضروریات کو پورا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ " خُدا سچّا ہے جس نے تمہیں اپنے بیٹے ہمارے خُداوند یسو ع مسیح کی شراکت کے لئے بُلایا ہے( 1کرنتھیوں 1باب 9آیت)

ہمیں خداوند پر بھروسہ کرنا چاہیے کیونکہ وہ ہمیں ہر خطرے سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ لیکن خدا گناہ کو ہمیشہ کے لئے بے سزا نہیں چھوڑ سکتا۔ اس کے نتیجے میں ہم اس کے اجر اور انصاف پر بھروسہ کرسکتے ہیں۔ جب خدا ہمیں کسی بُری صورتحال سے نکالتا ہے تو ہمیں اُس میں واپس جانے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ جب خدا ہم سے کسی بات کا مطالبہ کرتا ہے تو وہ ہم سے فرمانبرداری کی توقع بھی کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ فضل اور رحم بھی عطا کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے ہم اپنے طور پر اُس کی کامل فرمانبرداری نہیں کر پائیں گے ۔

English



بائبل کا خلاصہ/جائزہ

پُرانے عہد نامے کا جائزہ

اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں



خروج کی کتاب

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں