2 سموئیل کی کتاب


مصنف: 2سموئیل کی کتاب اپنے مصنف کا ذکر نہیں کرتی ۔ یہ سموئیل نبی تو نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ سموئیل کی پہلی کتاب میں وفات پا گیا تھا ۔ ممکنہ مصنفین میں ناتن نبی اورجدؔ غیب بین شامل ہیں (دیکھیں 1تواریخ 29باب 29آیت)۔

سنِ تحریر: درحقیقت سموئیل کی 1 اور 2 کتاب پہلے ایک کتاب کی صورت میں تھیں ۔ سپتواجنتا کے مترجمین نے ان کو الگ الگ کردیا تھا اور اُس وقت سے ہم اِس علیحدگی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں ۔ 1سموئیل کی کتاب کے واقعات قریباً 100سال کے عرصہ پر مشتمل ہیں جوکہ 1100 تا 1000 قبل از مسیح تک کا دور تھا"۔2سموئیل کی کتاب کے واقعات اگلے 40 سالوں کے عرصہ پر مشتمل ہے۔ پس اِس کتاب کی سنِ تحریر960 قبل از مسیح کے بعد کی ہوگی ۔

تحریر کا مقصد: 2 سموئیل کی کتاب داؤد بادشاہ کے دورِ حکومت کابیان ہے۔ یہ کتاب داؤد کے ساتھ کئے گئے عہد کو اُس کے تاریخی پسِ منظر میں دیکھتی اور پیش کرتی ہے۔

کلیدی آیات: 2سموئیل 7باب 16آیت: "اور تیرا گھر اور تیری سلطنت سدا بنی رہے گی ۔ تیرا تخت ہمیشہ کے لئے قائم کیا جائے گا۔"

2سموئیل 19باب 4آیت: "اور بادشاہ نے اپنا مُنہ ڈھانک لیا اور بادشاہ بُلند آواز سے چِلاّنے لگا کہ ہائے میرے بیٹے ابی سلو م! ہائے ابی سلو م میرے بیٹے! میرے بیٹے!"

2سموئیل 22باب 2-4آیات: "وہ کہنے لگا: خُداوند میری چٹان اور میرا قلعہ اور میرا چھڑانے والا ہے۔ خُدا میری چٹان ہے ۔ مَیں اُسی پر بھروسا رکھوں گا۔ وُہی میری سِپر اور میری نجات کا سینگ ہے ۔ میرا اُونچا بُرج اور میری پناہ ہے۔ میرے نجات دینے والے! تُو ہی مجھے ظلم سے بچاتا ہے۔ مَیں خُداوند کو جو ستایش کے لائق ہے پکاروں گا ۔ یوں مَیں اپنے دشمنوں سے بچایا جاؤں گا۔"

مختصر خلاصہ: 2 سموئیل کی کتاب کو دو اہم حصوں "داؤد کی فتوحات (1تا 10 ابواب) اور داؤد کی مصیبتوں(11تا 22 ابواب) "میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ کتاب کا آخری حصہ (21- 24 ابواب ) ایک ضمیمہ ہے جو تاریخی تسلسل نہیں رکھتا۔ اس میں داؤد کے دُورِ حکومت کی مزید تفصیلات شامل ہیں۔

اس کتاب کا آغاز اُس واقعے سے ہوتاہےجب داؤد کو ساؤل اور اُس کے بیٹوں کی موت کی خبر موصول ہوتی ہے ۔ وہ ساؤل بادشاہ اور اُس کے بیٹوں کی موت پر ماتم کا اعلان کرتا ہے ۔ اس کے فورا ًبعد داؤد کو یہوداہ کا جبکہ ساؤل کے بیٹے اِشبوست کو جوپیچھے بچ گیا تھااسرائیل کا بادشاہ مقرر کیا جاتا ہے(2 باب)۔ اس کے بعد خانہ جنگی شروع ہوجاتی ہے جس میں اِشبوست قتل ہو جاتا ہے اور اسرائیلی داؤد سے کہتے ہیں کہ وہ اُن پر بھی حکومت کرے( 4تا 5 ابواب)۔

داؤد ملک کے دارالحکومت کو حبرون سے یروشلیم میں منتقل کر تا ہے اور بعد میں عہد کے صندوق کو بھی یروشلیم میں لے آتا ہے ( 5تا 6ابواب)۔ خدا داؤد کے یروشلیم میں ہیکل تعمیر کرنے کے منصوبے کو روک دیتا ہے اور اُس سے اِن باتوں کا وعدہ کرتا ہے (الف) کہ داؤد کا بیٹا ہو گا جو اُس کے بعد حکومت کرے گا ؛ (ب) داؤد کا بیٹا ہیکل کو تعمیر کرے گا ؛ (ج)داؤد کی نسل تخت پر ہمیشہ قائم رہے گی ؛ اور خدا اپنی رحمت کو داؤد کے گھرانے سے کبھی جُدا نہیں کرے گا ( 2سموئیل 7باب 4-16آیات)۔

داؤد اِرد گرِد کی بہت سی دشمن قوموں پر فتحیاب ہونے میں اسرائیل کی رہنمائی کرتا ہے ۔ داؤد یونتن کے لنگڑ ے بیٹے مفیبوست کو اپنے دسترخوان پر جگہ دینے کے وسیلہ سے یونتن کے گھرانے پر مہربانی کرتا ہے ( 8تا 10ابواب)۔

پھر داؤدبادشاہ خُدا کے حضور خطا کرتا ہے۔ وہ بت سبع نامی ایک خوبصورت حتّی عورت کے لیے شہوت انگیز احساسات پالتا ہے ، اُس کے ساتھ ناجائز تعلقات استوار کرنے جیسے گناہ کا مرتکب ہوتا اور پھر اس کے شوہر کو قتل کروا دیتا ہے(11باب )۔ ناتن نبی جب داؤد کا گناہ اُس پرظاہر کرتا ہے توداؤد اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہے اور خدا اُسے معاف کردیتا ہے۔ تاہم خدا داؤد کو بتایا ہے کہ مصیبت اس کے اپنے ہی گھر انے سے پیدا ہوگی۔

مصیبت اس وقت رونما ہوتی ہے جب داؤد کا پہلوٹھا بیٹا ا منُون اپنی سوتیلی بہن تمر کے ساتھ زنا بالجبر کرتا ہے۔ بدلے میں تمر کا بھائی ابی سلوم امنون کو قتل کر دیتا ہے ۔ تب ابی سلوم اپنے باپ کے قہر کا سامنا کرنے کی بجائے یروشلیم سے فرار ہو جاتا ہے ۔ اس کے بعد ابی سلوم داؤد کے خلاف بغاوت کی قیادت کر تا ہے اور اس بغاوت میں داؤد کے چند سابق ساتھی بھی ساتھ شامل ہو جاتے ہیں (15تا 16 ابواب )۔ داؤد کو مجبوراًیروشلیم سے نکلنا پڑتا ہے اور ابی سلوم کچھ وقت کے لئے خود کو بادشاہ بنا لیتا ہے ۔ تاہم زبردستی تخت نشین ہونے والے ابی سلوم کا تختہ الٹ دیا جاتا ہے اور "داؤد کی خواہش کے برعکس " اُسے قتل کر دیا جاتا ہے۔ داؤد اپنے بیٹے ابی سلوم کی موت پر ماتم کرتا ہے ۔

داؤد کا باقی کا دُورِ حکومت مصیبت اور بے چینی کا شکار رہتا ہے ۔ اسرائیلی لوگوں یہوداہ سے الگ ہونے کی دھمکی دیتے ہیں تو دُاؤد کو ایک اور بغاوت کو کچلنا پڑتا ہے ( 20باب)۔

کتاب کے ضمیمہ میں ملک میں تین سالہ کال (21باب ) ، داؤد کےگیت (22باب ) ، داؤد کے بہادر جوانوں کے کارناموں کابیان (23باب ) اور داؤد کی مردم شماری اور اس کے بعد آنے والی وبا سے متعلق معلومات شامل ہے (24باب )۔

پیشن گوئیاں: خداوند یسوع مسیح کے بارے میں2سموئیل کی کتاب کے بنیاد ی طور پر دوحصوں میں پیشن گوئی ملتی ہے ۔ پہلی بار داؤد کے ساتھ کئے جانے والے عہد میں جو 2سموئیل 7باب 16 میں بیان کیا گیا ہے : "اور تیرا گھر اور تیری سلطنت سدا بنی رہے گی ۔ تیرا تخت ہمیشہ کے لئے قائم کیا جائے گا " اور جسے لوقا 1باب 31-33آیات میں اُس فرشتے کے الفاظ میں دہرایا جاتا ہے جومریم پر ظاہر ہو کر یسوع کی پیدایش کا اعلان کرتا ہے "اور دیکھ تُو حاملہ ہو گی اور تیرے بیٹا ہو گا اُس کانام یسو ع رکھنا وہ بزُرگ ہو گا اور خُدا تعالیٰ کا بیٹا کہلائے گا اور خُداوند خُدا اُس کے باپ داؤُد کا تخت اُسے دے گا اور وہ یعقو ب کے گھرانے پر ابد تک بادشاہی کرے گا اور اُس کی بادشاہی کا آخر نہ ہو گا" ۔خُداوند یسوع مسیح داؤد کے ساتھ کئے گئے وعدے کی تکمیل ہے ؛ وہ داؤد کی نسل میں سے خدا کا بیٹا ہے جو ہمیشہ کےلیے حکمران رہے گا ۔

دوسری پیشین گوئی داؤد کے گیت میں ملتی ہے جو اُس نے اپنی زندگی کے آخری حصہ گایا تھا ( 2 سموئیل 22باب 2-51آیات)۔ وہ اپنی چٹان، قلعے، اور چھڑانے والے ، اپنی پناہ اور نجات دہندے کے بارے میں گاتا ہے ۔ یسوع مسیح ہماری چٹان ( 1کرنتھیوں 10باب 4آیت؛ 1پطرس 2باب 7-9آیات)، اسرائیل کا چھڑانے والا (رومیوں 11باب 25-27آیات)، ہمارے لیے "جو پناہ لینے کو اِس لیے دَوڑے ہیں کہ اُس اُمّید کو جو سامنے رکھی ہوئی ہے قبضہ میں لائیں" قلعہ (عبرانیوں 6باب 18آیت) اور ہمارا منجی ہے (لوقا 2باب 11آیت؛ 2تیمتھیس 1باب 10آیت)۔

عملی اطلاق: کوئی بھی شخص آزمائش میں مبتلا ہو کر گناہ میں گر سکتا ہے ۔ حتی کہ داؤد جیسا شخص بھی جو سچے دل سے خدا کی پیروی کرنا چاہتا تھااور جسے خدا نے برکات سے مالا مال کیا تھا آزمایش سے بچ نہیں پایا تھا ۔ داؤد کا بت سبع کے ساتھ گناہ ہم سب کےلیے نصیحت ہونی چاہیے کہ ہم اپنے دلوں ، آنکھوں اور ذہنوں کی حفاظت کریں ۔ اپنی رُوحانی پختگی پر ہمارا غرور اور اپنی طاقت سے آزمایشوں کا مقابلہ کرنے کی ہماری صلاحیت پر بھروسہ رُوحانی زوال کا پہلازینہ ہے (1کرنتھیوں 10باب 12آیت)۔

جب ہم سچے دل سے توبہ کرتے ہیں تو خدا انتہائی گھناؤنے گناہوں کو بھی معاف کرنےکی حد تک مہربان ہوتا ہے ۔ تاہم گناہ کے باعث لگنے والے رُوحانی زخم کے مندمل ہو جانے سےاُس کا داغ ہمیشہ اور مکمل طور پر مٹ نہیں سکتا۔ گناہ کے کچھ فطری نتائج ہوتے ہیں لہذا اگرچہ داؤد کا گناہ معاف کر دیا گیا تھا لیکن داؤد نے جو بویا تھاوہ اُسے کاٹنا پڑا ۔ نہ صرف داؤد سے اُس کا بیٹا(چھوٹا بچّہ ) جو کسی اور شخص کی بیوی سے ناجائز تعلقات کے نتیجے میں پیدا ہوا تھا چھین لیا گیا ( 2سموئیل 12 باب 14-24آیات) بلکہ داؤد کو اپنے آسمانی باپ کے ساتھ محبت بھرے رشتےکے ٹوٹنے کی تکلیف کا سامنا بھی کرنا پڑا (32 اور 51زبور)۔ بعد میں معافی کا طلب گار ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ہم پہلے ہی گناہ سے اجتناب کریں !

English



بائبل کا خلاصہ/جائزہ

پُرانے عہد نامے کا جائزہ

اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں



2 سموئیل کی کتاب

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں