2 تواریخ کی کتاب


مصنف: 2 تواریخ کی کتاب اپنے مصنف کا ذکر نہیں کرتی ۔ روایت ہے کہ 1 اور 2 تواریخ کی کتب کو عزرا نے قلمبند کیا تھا ۔

سنِ تحریر: 2 تواریخ کی کتاب غالباً 450 سے 435 قبل از مسیح کے درمیانی عرصے میں لکھی گئی تھی ۔

تحریر کا مقصد: تواریخ کی 1 اور 2 کتاب زیادہ تر اُسی طرح کی معلومات پر مشتمل ہیں جیسی معلومات سموئیل کی 1اور 2کتا ب اورسلاطین کی 1اور 2 کتاب میں پائی جاتی ہے ۔ تواریخ کی1اور 2کتاب اُس دور کے کہانتی پہلوؤں پر زیادہ توجہ دیتی ہیں ۔ 2 تواریخ کی کتاب بنیادی طور پر بنی اسرائیل کی مذہبی تاریخ کا ایک جائزہ ہے ۔

کلیدی آیات: 2 تواریخ 2باب 1آیت: "اور سلیما ن نے اِرادہ کیا کہ ایک گھر خُداوند کے نام کے لئے اور ایک گھر اپنی سلطنت کے لئے بنائے"۔

2 تواریخ 29باب 1-3آیات: "حزقیاہ پچیس برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس نے اُنتیس برس یروشلیم میں سلطنت کی اُس کی ماں کا نام ابیا ہ تھا جو زکر یاہ کی بیٹی تھی۔ اُس نے وُہی کام جو خُداوند کی نظر میں درُست ہے ٹھیک اُسی کے مُطابق جو اُس کے باپ داؤد نے کیا تھا کیا۔ اُس نے اپنی سلطنت کے پہلے برس کے پہلے مہینے میں خُداوند کے گھر کے دروازوں کو کھولا اور اُن کی مرمّت کی۔"

2 تواریخ 36باب 14آیت: "اِس کے سوا کاہنوں کے سب سرداروں اور لوگوں نے اَور قوموں کے سب نفرتی کاموں کے مُطابق بڑی بدکاریاں کیں اور اُنہوں نے خُداوند کے گھر کو جسے اُس نے یروشلیم میں مُقدّس ٹھہرایا تھا ناپاک کیا۔"

2تواریخ 36باب 23آیت: " شاہِ فار س خور س یُوں فرماتا ہے کہ خُداوند آسمان کے خُدا نے زمین کی سب مملکتیں مجھے بخشی ہیں اور اُس نے مجھ کو تاکید کی ہے کہ مَیں یروشلیم میں جو یہُودا ہ میں ہے اُس کے لئے ایک مسکن بناؤں پس تمہارے درمیان جو کوئی اُس کی ساری قوم میں سے ہو خُداوند اُس کا خُدا اُس کے ساتھ ہو اور وہ روانہ ہو جائے۔"

مختصر خلاصہ: 2 تواریخ کی کتاب یہوداہ کی جنوبی مملکت کی تاریخ کو قلمبند کرتی ہے جو کہ سلیمان کے دُور ِ حکومت سے لے کر بابلی جلاوطنی کے اختتام تک کا دور ہے ۔ یہوداہ کا زوال مایوس کن ہے مگر اس تاریخ میں اُن روحانی اصلاح کاروں پر غورکیا گیا ہے جو لوگوں کو خدا کی طرف واپس لانے کےلیے پورے جوش و جذبے سے کوشش کر رہے تھے ۔ گوکہ بُرے بادشاہوں یا اچھے بادشاہوں کی ناکامیوں کے بارے میں بھی کچھ ذکر پایا جاتا ہے مگر صرف اچھائی پر زور دیا گیا ہے ۔ چونکہ 2 تواریخ کی کتاب کہانتی پہلوؤں پر بات کرتی ہے لہذا جھوٹے معبودوں کی پرستش اور یروشلیم میں موجود ہیکل کو تسلیم کرنے سے انکار کے باعث اسرائیل کی شمالی ریاست کا ذکر شاذو نادر ہی کیا گیا ہے ۔ 2 تواریخ کی کتاب کا اختتام یروشلیم اور ہیکل کی آخری بربادی کے ساتھ ہوتا ہے ۔

پیشین گوئیاں: پرانے عہد نامے میں بادشاہوں اور ہیکل کے بارے میں تمام حوالہ جات میں ہم بادشاہوں کے بادشاہ –یسوع مسیح – اور رُوح القدس کا مَقدس یعنی اُس کے لوگوں کا عکس دیکھتے ہیں۔یہاں تک کہ اسرائیل کے بہترین بادشاہوں میں بھی تمام انسانی عیب پائے جاتے تھے اور اُن کی قیادت میں بھی بہت زیادہ نقائص موجود تھے۔ لیکن جب بادشاہوں کا بادشاہ ہزار سالہ بادشاہی کےلیے زمین پر آئے گا تو وہ داؤد کے تخت کے حقیقی وارث کے طور پر تخت نشین ہوگا اور ساری زمین پر اپنا اقتدار قائم کرے گا۔ صرف اُسی وقت ہمارے پاس ایک کامل بادشاہ ہوگا جو صداقت اور راستبازی سے بادشاہی کرےگا۔ اسرائیل کے بہترین بادشاہ اُس صداقت اور راستبازی کے بارے میں محض خواب ہی دیکھ سکتےتھے ۔

اسی طرح سلیمان کی طرف سے تعمیر کردہ ہیکل ہمیشہ کے لیے قائم رہنے والی نہیں تھی ۔ کیونکہ آئندہ نسلیں جو بُت پرستی کی طرف مائل ہو گئی تھیں اُن کی طرف سے بگاڑ اور خرابی کے باعث محض 150 سالوں کے بعد ہی اسے مرمت کی ضرورت پڑھ گئی تھی( 2سلاطین 12باب )۔ لیکن رُوح القدس کا مَقدس/ہیکل – یعنی وہ لوگوں جو مسیح سے تعلق رکھتے ہیں ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔ ہم جو یسوع میں پیوست ہیں ایک ایسی ہیکل یا خُدا کا ایسا مَقدس ہیں جو ہاتھ سے نہیں بلکہ خدا کی مرضی سے بنایا گیا ہے ( یوحنا 1باب 12-13آیات)۔ رُوح القدس جو ہم میں بسا ہوا ہے ہم سے کبھی جُدا نہ ہوگا اور ایک دن حفاظت سے ہمیں خدا کے حضور پہنچائے گا (افسیوں 1باب 13آیت؛ 4باب 30آیت)۔ کسی بھی زمینی ہیکل کے ساتھ ایسا وعدہ نہیں کیا گیا۔

عملی اطلاق: تواریخ کی کتاب کے قاری کو یہ دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ماضی کی ہر نسل کا جائزہ لے اور معلوم کرے کہ ہر نسل کو اُن کی فرمانبرداری کے باعث برکت یا بدکاری کے باعث سزا کیوں دی گئی تھی ۔ لیکن ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی اجتماعی اور انفرادی دونوں طرح کی حالتوں کا موازنہ اِن نسلوں کی خطرناک حالت کے ساتھ بھی کریں ۔ اگر ہم یا ہماری قوم یا ہماری کلیسیا مشکلات کا سامنا کر رہی ہے تو ہمارے لیےیہ فائدہ مند ہوگا کہ ہم اپنے عقائد کا اور اُن عقائد پر عمل کرنے کا موازنہ بنی اسرائیل کے اُن تجربات کے ساتھ کریں جو اُنہوں نے مختلف بادشاہوں کے دُورِ حکومت میں کئے تھے۔ خدا گناہ سے نفرت کرتا ہے اور اِسے برداشت نہیں کرے گا ۔ اگر تواریخ کی کتاب ہمیں کچھ اہم سکھاتی ہے تو وہ یہ بات ہے کہ جو لوگ عاجزی کے ساتھ توبہ اور دُعا کرتے ہیں خدا اُن کو معاف اور بحال کرنا چاہتا ہے (1یوحنا 1باب 9آیت)۔

اگر آپ خدا سے کچھ مانگنا چاہیں تو آپ اُس سے کیا مانگیں گے ؟بے شمار دولت ؟اپنے اور اپنے پیاروں کےلیے کامل صحت؟زندگی اور موت پر اختیار؟ ان باتوں کے بارے میں سوچنا قدرے حیرت انگیز بات ہے ،ایسا ہی ہے نا؟ مگر زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ خدا نے سلیمان کو ایسی ہی پیش کش کی تھی اور اُس نے اِن چیزوں میں سے کسی کا بھی انتخاب نہیں کیا تھا ۔ بلکہ سلیمان نے اپنے کام کی تکمیل اور بخوبی انجام دہی کےلیے خدا سے حکمت اور علم مانگا تھا جو خدا نے اُسے بخشاتھا ۔ ہمارے لئے یہ سبق ہے کہ خدا نےہم سب کو ارشادِ اعظم کی تکمیل کا کام سونپا ہے پس ہم خدا سےعاجزی کے ساتھ دُعا اور درخواست کر سکتے ہیں کہ وہ ہمیں قوت دے تاکہ ہم اپنی زندگیوں میں اُس کی مرضی کو پورا کرنے کے قابل ہو سکیں ۔ اس کےلیے ہمیں خدا کی اُس حکمت کی ضرورت ہے جو " اوپر سے آتی " ہے (یعقوب 3باب 17آیت) تاکہ ہم اُس کی مرضی کو جان سکیں نیز کام اور کردار میں مسیح کی مانند بننے کی ترغیب کےلیے ہمیں اُس کی ذات کی سمجھ اور علم کی بھی ضرورت ہے (یعقوب 3باب 13آیت)۔

English



بائبل کا خلاصہ/جائزہ

پُرانے عہد نامے کا جائزہ

اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں



2 تواریخ کی کتاب

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں