settings icon
share icon
سوال

مَیں موت کے خوف پر کیسے قابو پا سکتا ہوں؟

جواب


حتیٰ کہ نجات کے تعلق سے سب سے زیادہ محفوظ تصور کرنے والے اور پختہ ایمان رکھنے والے ایمانداروں کی زندگی میں بھی ایسے مواقع آسکتے ہیں جب وہ موت سے ڈرتے ہیں۔ ہماری سرشت کے اندر یہ خوف بہت گہرے طور پر بُنا گیا ہے کہ ہم موت سے بچنے کی کوشش کریں۔ موت خُدا کے اپنی تخلیق کے اصل منصوبے کا حصہ نہیں تھی۔ ہمیں کامل اور پاک حالت میں خُدا کی رفاقت میں اُس کی فردوس میں رہنے کے لیے تخلیق کیا گیا ہے۔ جس وقت گناہ اِس دُنیا کے اندر داخل ہوا تو اُس کے رَد عمل یا جواب کے طور پر موت کا متعارف کروایا جانا لازمی تھا۔ یہ خُدا کا فضل ہے کہ ہم مرتے ہیں۔ اگر ہم نہ مرتے تو ہمیں اِس گناہ آلود دُنیا کے اندر ساری ابدیت اِسی گناہ آلود حالت میں جینا پڑتا۔

یہ جاننا ضروری نہیں ہے کہ آپ اپنے دماغ کے اندر اپنی موت کے خیال پر اندرونی رَدعمال کا مقابلہ کیسے کریں۔ ہمارے جسموں کی کمزوری اور اِس زمین پر ہماری زندگیوں کا اچانک اختتام ہمیں اِس بات کی یاددہانی کرواتا ہے کہ اِس بہت بڑی اور خطرناک دُنیا کے اندر ہمارے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔ ہمارے پاس یہ بہت بڑی اُمید ضرور ہے کہ وہ جو ہم میں ہےوہ اُس سے بڑا ہے جو دُنیا کے اندر ہے (1یوحنا 4باب4آیت)۔ اور وہ ہمارے لیے آسمان پر جگہ تیار کرنے کے لیے گیا ہے تاکہ جہاں وہ ہے ہم بھی اُس کے ساتھ ہوں (یوحنا 14باب 2آیت)۔ لیکن ہمیں جس صورتحال کا سامنا ہے اُس کے حوالے سے درپیش فوری اور عملی خیالا ت پر غور کرنے سے ہمیں کسی قدر مدد ملے گی۔

تو ہم شروع کرتے ہیں کہ ، حقیقی خوف کیا ہے؟موت کے بہت سارے مختلف پہلو ہیں جو ہمارے اندر خوف پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ خوش بختی کی بات ہے کہ خُدا نے اُن میں سے ہر ایک کا جواب مہیا کیا ہوا ہے۔

نامعلوم کا خوف

مرتے وقت حقیقت میں کیا محسوس ہوتا ہے؟جب آپ کی زندگی اِس مادی جسم کو چھوڑتی ہے تو پھر آپ کیا دیکھ سکتے ہیں؟ یہ موت کیسے آئے گی؟کیا یہ کچھ ایسا ہے جس کے بارے میں مختلف لوگوں نے بیان کیا ہے – ایک بہت ہی تیز روشنی؟ آپ کے رشتے داروں کا گروہ؟

کوئی بھی شخص حتمی طور پر نہیں جانتا کہ مرتے وقت حقیقت میں کیسا محسوس ہوتا ہے، لیکن بائبل مُقدس بیان کرتی ہے کہ اصل میں ہوتا کیا ہے۔ 2 کرنتھیوں 5باب6-8آیات اور فلپیوں 1باب23آیت بیان کرتی ہے کہ جس وقت ہم اپنے اِس بدن سے رخصت ہوتے ہیں تو ہم خُدا کے ساتھ اپنے ابدی گھر میں پہنچ جاتے ہیں۔ یہ کیسا تسلی بخش اور ہمارے مسیحی یقین کو مضبوط کرنے والا خیال ہے۔ ہم اُس حالت میں اُس وقت تک رہیں گے جب تک یسوع دوبار آ کر ہمارے بدنوں کو زندہ نہیں کرتا (1 کرنتھیوں 15باب20-22آیات؛ 6باب14آیت)، اور اُس وقت ہمیں خُدا کی طرف سے جلالی بدن عطا کئے جائیں گے۔

اختیار کو کھونے کا خوف

جس وقت انسان جوانی میں قدم رکھتا ہے تو اُس وقت تک اُسے کافی حد تک اِس بات کا علم ہو چکا ہوتا ہے کہ اُس نے اپنے ارد گرد کی دُنیا کے ساتھ کس طرح سے چلنا یا کام کرنا ہے۔ اُس وقت تک انسان کو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ جس چیز کی اُسے ضرورت ہے اُس کو کیسے ڈھونڈنا اور حاصل کرنا ہے، کس طرح اُس جگہ پر جانا ہے جہاں اُس کا دِل چاہتا ہے، اور دوسرے لوگوں کے ساتھ کیسا راہ و رسم رکھنا ہے جس سے اُن کے دِلی ارادے کی تسکین ہوتی ہے۔

بہت سارے لوگ، یہاں تک کہ وہ جو خُدا پر بھروسہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ بھی اپنی ضرورت کی چیزوں کے نہ ملنے سے اتنے خوفزدہ ہیں کہ اُنہیں لگتا ہے کہ اپنےمطلب اور ضرورت کی چیزوں کے حصول کے لیے اُن کے پاس اپنے اردگرد کے لوگوں کو اپنے مالی فائدے کے لیے جوڑ توڑ کے ذریعے استعمال کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ ہم سب ایسے مَردوں اور عورتوں سے مل چکے ہیں جو اپنے اندرونی خوف کی وجہ سے دوسروں کا استحصال کرتے ہیں۔ وہ اِس بات پر بھروسہ نہیں رکھتے کہ خُدا اُن کی ضروریات مہیا کرے گا، لہذا وہ خود سب چیزوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اِس بات پر یقین نہیں کرتے کہ لوگ اُن کا خیال کریں گے، لہذا وہ جس چیز کو اپنی ضرورت سمجھتے ہیں دوسروں سے اُس کا تقاضا کرتے ہیں۔

ایسے لوگوں کو اِن سب باتوں سے کس قدر زیادہ اپنی موت پر اختیار نہ ہونے کا خوف ہونا چاہیے۔ جیسا کہ یسوع نے پطرس سے کہا تھا جب وہ یہ بیان کر رہا تھا کہ پطرس کیسی موت مرنے والا تھا، " مَیں تجھ سے سچ کہتا ہوں کہ جب تُو جوان تھا تو آپ ہی اپنی کمر باندھتا تھا اور جہاں چاہتا تھا پِھرتا تھا مگر جب تُو بُوڑھا ہو گا تو اپنے ہاتھ لمبے کرے گا اور دُوسرا شخص تیری کمر باندھے گا اور جہاں تُو نہ چاہے گا وہاں تجھے لے جائے گا " (یوحنا 21باب18آیت)۔ اِس سے پہلے کہ پطرس یہ انتباہ پاتا، اُس نے خوف کی وجہ سے یسوع کا انکار کیا تھا۔ اور اِس انتباہ کے فوراً بعد وہ جاننا چاہتا تھا کہ یوحنا کیسی موت مرنے والا تھا۔ لیکن یسوع کے آسما ن پر چلے جانے کے بعد پطرس نے رُوح القدس کا تحفہ پایا اور وہ مسیح میں ایک بالکل نیا انسان بن گیا – ایک ایسا انسان جس کا یسوع کے پیغام کے بارے میں جذبہ اُس کے اپنے اردگرد کے حالات پر قابو پانے کی ضرورت سے بہت زیادہ بڑا تھا (اعمال 5باب17-42آیت)۔ یہ صرف رُوح القدس ہی تھا جس نے اُسے وہ قوت بخشی جو اُس کے لیے زندگی کے تمام چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے ضروری تھی۔

پیچھے رہ جانے والوں کا خوف

موت کے بارے میں مسیحی تصور "جُدائی " کا ہے۔ حتمی موت خُدا سے جُدائی ہے۔ جسمانی موت کی وجہ سے ہم اِس زمین پر موجود اپنے پیاروں سے کچھ دیر کے لیے جُدا ہو جاتے ہیں۔ اگر تو وہ سار ے مسیحی ہیں تو پھر تو ہماری اُن کے ساتھ جُدائی اُس ابدیت کے مقابلے میں جو ہم آسمان پر اکٹھے گزاریں گے ایک پل بھر کی یا آنکھ جھپکنے جیسی معلوم ہوگی۔ لیکن اگر وہ مسیحی نہیں ہیں تو پھر ایسا نہیں ہوگا۔ پس ہمارے لیے خُدا کی طرف سے یہ حکم ہے کہ اب جب ہم اُن کے ساتھ اِس زمین پر موجود ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم اُن کے ساتھ اِس موضوع پر بات کریں کہ وہ اپنی ابدیت کہاں پر گزاریں گے۔ بہرحال حتمی طور پر اِس بات کا فیصلہ کرنا اُنہی کے اختیار میں ہے۔ جس طرح خُدا اُنہیں انتخاب کرنے کی توفیق دیتا ہے، ہمیں بھی انتخاب کرنا چاہیے۔

موت کے عمل کا خوف

ہم میں سے شاید ہی کوئی ہو جو یہ جانتا ہو کہ وہ کیسے مرے گا۔ جلدی جلدی، بغیر کسی درد کے، سوتے ہوئے، ایک لمبی علالت کے بعد– موت کے عمل کا رازاور موت کے لیے کوئی خاص تیاری کرنے کی ناقابلیت ہمارے لیے خوفناک ہو سکتی ہے۔ اگر ہم جانتے بھی ہیں، اگر ہمارے جسم میں کسی ایسے مرض کی تشخیص ہو چکی ہے جو ہماری موت کا سبب بنے کا تو بھی یہ خوفناک ہے۔

لیکن موت کا عمل بس ایک پل بھر کا ہے۔ ایک ایسا لمحہ جس کا تجربہ ہر مرنے والا کر چکا ہے اور اِس زمین پر موجود ہر ایک ذی رُوح کرے گا۔ اور جب وہ لمحہ گزر جاتا ہے تو پھر ہم فلپیوں 3باب20-21آیات میں مرقوم دعویٰ کر سکتے ہیں: " مگر ہمارا وطن آسمان پر ہے اور ہم ایک مُنّجی یعنی خُداوند یِسُو ع مسیح کے وہاں سے آنے کے اِنتظار میں ہیں۔وہ اپنی اُس قُوت کی تاثیر کے مُوافق جس سے سب چیزیں اپنے تابع کر سکتا ہے ہماری پَست حالی کے بدن کی شکل بدل کر اپنے جلال کے بدن کی صُورت پر بنائے گا "

بہت دفعہ جب ہمارے پاس معلومات ہوتی ہیں اور ہم کسی چیز میں عملی طور پر حصہ لیتے ہیں تو یہ چیز ہمارے خوف کو کم کرنے کا سبب بنتی ہے۔ آپ بھی اپنے آپ کو اور اپنے اردگرد دوسرے لوگوں کو تیار کرنے کے لیے مختلف اقدامات اُٹھا سکتے ہیں۔

موت کے خوف پر غلبہ پانے کے – عملی اقدامات

بہت سارے لوگ یہ مانتے ہیں کہ اُنہیں نہیں مرنا چاہیے کیونکہ دُنیا میں ایسی اتنی چیزیں ہیں جن کے لیے اُن کا جینا ضروری ہے۔ اور اکثر اِس سے اُن کی مُراد وہ بہت ساری ذمہ داریاں اور کام کاج ہوتا ہے ، اور اگر وہ چلے گئے تو پھر کوئی بھی اُن ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور اُن کے ادھورے کام کو پورا کرنے کے لیے نہیں ہوگا۔ لیکن جب آپ کی موت کا وقت آگیا تو وہ ساری ذمہ داریاں اور آپ پر انحصار کرنے والے لوگوں کا موجود ہونا آپ کو مرنے سے نہیں بچائے گا۔ اُن سب کی دیکھ بھال کے لیے جو کچھ کرنا ضروری ہے اُسے کرنے کی بدولت آپ کا خوف کم ہو سکتا ہے۔

اگر آپ کا کوئی خاص کاروبار ، یا بچّے یا آپ پر انحصار کرنے والے دیگر لوگ ہیں تو اُن کی دیکھ بھال پر دھیان دیں۔ ابھی سے اِس بات کا تعین کریں کہ آپ کی غیر موجودگی میں کون آپ کے کردار کو نبھائے گا اور اُس شخص کے ساتھ ابھی سے ملکر اُس منصوبے پر کام کریں۔ اپنی وصیت پر کام کریں یا کسی فلاحی ادارے کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں۔ اِس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے سارے کاغذات اچھے طریقے سے مرتب ہوئے ہیں اور کسی ایسی جگہ پر ہیں جہاں اُنہیں آسانی کے ساتھ ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ اپنے ٹوٹے ہوئے تعلقات کو بحال کرلیں اِس سے پہلے کہ آپ ایسا کبھی بھی نہ کر سکیں۔ لیکن مرنے کی تیاری کرتے ہوئے ہی نہ جئیں۔ اہم ذمہ دارانہ اقدام کرنے اور مرنے کے خوف کے غلبے میں رہنے میں بہت زیادہ نمایاں فرق ہے۔

موت کے خوف پر غلبہ پانے کے – جسمانی اقدامات

اگر آپ کے اندر اِس بات کی شدید خواہش ہے کہ آپ کے ساتھ کیا ہونا چاہیے تو اُس کا اظہار ابھی سے کر دیں بجائے اِس کے کہ آپ اُس کا اظہار کرنے کے قابل ہی نہ رہیں۔ یہ بات بالکل ممکن ہے کہ کسی بیماری یا حادثاتی طور پر زخمی ہونے کے باعث شاید آپ اپنی ذات اور حالات پر اپنے اختیار کو کھو دیں اور اپنی خواہشات کو دوسروں کے سامنے پیش کرنے کے قابل نہ رہیں۔ اپنی زندگی کی ایک وصیت تیار کریں۔ جو لوگ آپ کے قریب ترین ہیں اُنہیں بتائیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں – یا کم از کم اُنہیں یہ بتائیں کہ وہ باتیں آپ نے کہاں پر لکھی ہوئی ہیں۔ کسی ایسے شخص کا انتخاب کریں جو اُس وقت آپ کی ذات کے حوالے سے فیصلے کرے جب آپ خود اِس قابل نہیں ہونگے۔

موت کے خوف پر غلبہ پانے کے – رُوحانی اقدامات

یہ سارے وہ اقدامات ہیں جو دُنیاوی لحاظ سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور اپنے اختیار کو قائم رکھنے کے لیے کئے جا سکتے ہیں، لیکن یہ سارے اصل مسئلے کا حل نہیں ہیں۔ موت کے بارے میں سب سے زیادہ اہم چیز جسے یاد رکھنے کی ضرورت ہے وہ زندگی کے بارے میں سچائی ہے۔ آپ اپنے خاندان سے پیار کرتے ہیں اور اُس کی پروا کرتے ہیں، لیکن خُدا آپ کیساتھ اُس سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ آپ اِس زمین پر اپنی میراث کے بارے میں پریشان ہوں لیکن خُدا ہر ایک چیز کو اپنی بادشاہت کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ اِس دُنیا کے اندر کی جانے والا ہر طرح کی کاغذی کاروائی کسی انسان کے دِل کے سکون کا سبب نہیں بن سکتی ۔ اُس کا سبب صرف ایک ہی چیز ہے: مسیح میں قائم رہنا۔

اِس دُنیا کے اندر ، اِن تمام لوگوں کے درمیان یہ زندگی گزارتے ہوئے اِس بات کو ذہن میں رکھنا اکثر مشکل ہوتا ہے کہ یہ ایک عارضی حالت ہے اور اور یہ بہترین حالت بھی نہیں ہے۔ 1 یوحنا 2باب15-17آیات " نہ دُنیا سے مُحبّت رکھّو نہ اُن چیزوں سے جو دُنیا میں ہیں ۔ جو کوئی دُنیا سے مُحبّت رکھتا ہے اُس میں باپ کی مُحبّت نہیں۔کیونکہ جو کچھ دُنیا میں ہے یعنی جسم کی خواہش اور آنکھوں کی خواہش اور زِندگی کی شیخی وہ باپ کی طرف سے نہیں بلکہ دُنیاکی طرف سے ہے۔دُنیا اور اُس کی خواہش دونوں مٹتی جاتی ہیں لیکن جو خُدا کی مرضی پر چلتا ہے وہ ابد تک قائم رہے گا۔" ہم یہ صرف مسیح میں قائم رہنے کے وسیلے سے ہی یاد رکھ سکتے ہیں(1 یوحنا 2باب24آیت)۔ اُس کے کلام کی سچائی میں قائم رہنے اور جو کچھ یسوع ہمارے اور ہمارے اردگرد کی دُنیا کے بارے میں کہتا ہے اُس پر ایمان رکھنے کے وسیلے سے ہی ہم اپنے اردگرد کی دُنیا اور آئندہ جہاں کے بارے میں مناسب نظریات رکھ سکتے ہیں۔

جب ہم خُدا کی بادشاہی کے تصور کو ذہن میں رکھیں گے تو اُسی وقت 1 یوحنا 3باب1-2آیت کی تکمیل ہوگی جس میں بیان کیا گیا ہے کہ :" دیکھو باپ نے ہم سے کیسی مُحبّت کی ہے کہ ہم خُدا کے فرزند کہلائے اور ہم ہیں بھی ۔ دُنیا ہمیں اِس لئے نہیں جانتی کہ اُس نے اُسے بھی نہیں جانا۔عزِیزو! ہم اِس وقت خُدا کے فرزند ہیں اور ابھی تک یہ ظاہر نہیں ہوا کہ ہم کیا کچھ ہوں گے ۔ اِ تنا جانتے ہیں کہ جب وہ ظاہر ہو گا تو ہم بھی اُس کی مانند ہوں گے کیونکہ اُس کو وَیسا ہی دیکھیں گے جیسا وہ ہے۔" ایسی صورت میں ہماری زندگیوں سے یہ گواہی ملے گی کہ ہمارا تعلق اِس دُنیا کے ساتھ نہیں ہے اور دوسرے لوگ بھی اِس بات کو دیکھ پائیں گے۔ ہم خُدا کے فرزند ہونے کے ناطے اپنی آسمانی میراث کے بارے میں اِس قدر سوچیں گے کہ ہم بڑے شوق کیساتھ اُس دن کا انتظار کریں گے جب ہم یسوع مسیح کے ساتھ جا ملیں گےا ور اُسے ویسا ہی دیکھیں گے جیسا کہ وہ ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مَیں موت کے خوف پر کیسے قابو پا سکتا ہوں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries