شادی سے پہلے بے تکلف ہونے کا مناسب معیار کیا ہے؟



سوال: شادی سے پہلے بے تکلف ہونے کا مناسب معیار کیا ہے؟

جواب:
افسیوں 5:3 ہم سے کہتا ہے " اور جیسا کہ مقدسوں کو مناسب ہے کہ تم حرامکاری اور کسی طرح کی ناپاکی یا لالچ کا ذکر تک نہ ہو"۔ یہاں تک کہ کوئی بھی چیز جو جنسی بداخلاقی کا اشارہ کرتا ہے وہ ایک مسیحی کے لئے موزوں نہیں ہے۔ کلام پاک ایک اشارہ ہونے کے ناتے کونسی صفت منسوب کرتا ہے اس کی ایک فہرست پیش نہیں کرتا یا ہم سے یہ کہتا ہے کہ وہ کونسی جسمانی سرگرمیاں ہیں جو ایک جوڑے کے لئے منظور کئے گئے ہیں کہ شادی سے پہلے وہ ان میں لگ جائیں۔ کسی طرح صرف اس لئے کہ کلام پاک اس معاملہ کی طرف خاص طور سے مخاطب نہیں ہوتا تو اس کے یہ معنی نہیں ہے کہ خدا شادی سے پہلے جنس کو منظوری دیتا ہے۔ نچوڑکے طور پر باہمی جنسی تحریک تجویز کیا گیا ہے کہ ایک شخص جنس کے لئے تیار ہے تو پھر قانونی طور سے باہمی جنسی تحریک غیر شادی شدہ جوڑے کے لئے روک دینا چاہئے۔ جو بھی چیز جائز قرار دی جاسکتی ہے وہ باہمی جنسی تحریک کو شادی ہونے تک بچائے رکھنا چاہئے۔

ایک غیر شادی شدہ جوڑے کے لئے کوئی ایسا کام جو صحیح نظر آتا ہے مگر اس میں شبہ ہوتو اس کام کو روک دینا چاہئے ( رومیوں 14:23)۔ شادی شدہ جوڑوں کے لئے چاہئے کہ ان ساری قبل جنسی سرگرمیوں کو روک دیں جو کسی بھی طور بطور کیا کرتے تھے۔ ایک غیر شادی شدہ جوڑے کو چاہئے کہ کسی بھی سرگرمی کو روکے جو جنس کی آزمائش کی طرف لے جاتی اور بداخلاقی کا مظاہرہ کرتی ہے یا اس کو باہمی جنسی تحریک بطور قرار دینی چاہئے۔ کئی ایک پادری لوگ اور مسیحی صلاح کارایک غیر شادی شدہ جوڑے کو جو عنقریب شادی کرنے والے ہوتے ہیں انہیں بڑی سختی سے نصیحت دیتے ہیں کہ شادی سے پہلے ایک دوسرے کا ہاتھ نہ پکڑے، نہ گلے ملے اور نہ چوما لے اس سے زیادہ ایک شادی شدہ جوڑے کو کسی اور کو شریک نہ کرتے ہوئے اپنے دونوں کے بیچ میں اس بات کو بانٹنا چاہئے کہ جب شادی کا دن آتا ہے اس وقت جنسی رشتہ کا بے مثل طور سے اور زیادہ خاص طور سے لطف اٹھا سکتے ہیں۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



شادی سے پہلے بے تکلف ہونے کا مناسب معیار کیا ہے؟