settings icon
share icon
سوال

صیُّون کیا ہے؟ کوہِ صیُّون کیا ہے؟ بائبل کے مطابق صیُّون کے کیا معنی ہیں؟

جواب


87 زبور 2-3 آیات فرماتی ہیں، "خُداوند صِیُّون کے پھاٹکوں کو یعقُوب کے سب مسکنوں سے زیادہ عزیز رکھتا ہے۔ اَے خُدا کے شہر! تیری بڑی بڑی خُوبیاں بیان کی جاتی ہیں (سِلاہ)"۔ اِس آیت کے مطابق صیُّون خُدا کے شہر کے مترادف ہے اور یہ وہ مقام ہے جسے خُدا عزیز رکھتا ہے۔ صیُّون یروشلیم ہے اور کوہِ صیّون وہ مقام ہے جہاں پر داؤد بادشاہ نے ایک چھوٹا قلعہ (گڑھی /کوٹلہ ) تعمیر کروایا تھا۔ یہ مقام شہر کے جنوب مشرق میں واقع ہے ۔

لفظ صیّون ہمیں بائبل مُقدس میں 150سے زائد مرتبہ ملتا ہے۔ اِس کے بنیادی معنی حصار قائم کرنے، قلعہ بندی کرنے یا کسی یادگار کو قائم کرنے کے ہیں۔ بائبل میں صیُّون کو داؤؔدکے شہر کے طور پر بھی بیان کیا گیا ہے اور خُدا کے شہر کے طور پر بھی بیان کیا گیا ہے۔جب ہم بائبل کے مطالعے میں آگے بڑھتے ہیں تو لفظ صیُّون کے معنی کا احاطہ وسیع ہو جاتا ہے اور یہ لفظ مادی شہر کی بجائے رُوحانی معنی دینے لگتا ہے۔

بائبل میں لفظ "صِیُّون" کا سب سے پہلا ذکر 2 سموئیل5 باب 7 آیت میں ہے: "تو بھی داؤدنے صیُّون کا قلعہ لے لِیا۔ وہی داؤؔد کا شہر ہے"۔ صِیُّون اصل میں یروشلیم شہر میں موجود قدیم یبوسی قلعے کا نام تھا۔جب داؤؔد نے اُس قلعے کو فتح کر لیا یروشلیم اسرائیل کی ملکیت بن گیا۔ وہاں پر شاہی محل تعمیر کیا گیا اور صیُّون /یروشلیم اسرائیل کی ساری مملکت میں شاہی تخت کے مقام کا درجہ رکھنے لگا۔

جب سلیمان نے یروشلیم میں ہیکل تعمیر کی تو صِیُّون کے معنی میں مزید وُسعت آ گئی اور اِس میں ہیکل اور اِس کے آس پاس کے علاقے بھی شامل ہو گئے (2زبور 6 آیت؛48 زبور 2 آیت؛11 زبور 12آیت اور132 زبور 13 آیت)۔ یہی وہ معنی ہے جو یرمیاہ 31باب 6آیت میں پایا جاتا ہے " کیونکہ ایک دِن آئے گا کہ افرائیم کی پہاڑِیوں پر نگہبان پکاریں گے کہ اُٹھو ہم صیُّون پر خُداوند اپنے خُدا کے حضُور چلیں۔" پرانے عہد نامے میں لفظ صیُّون کا استعمال یروشلیم شہر (یسعیاہ 40باب 9آیت)، یہوداہ کی سر زمین (یرمیاہ 31 باب 12آیت) اور مجموعی طور پر اسرائیلی لوگوں کے لئے استعمال ہونے لگا (زکریاہ 9باب 13 آیت)۔

لفظ "صِیُّون" کا سب سے اہم استعمال الہیاتی مفہوم میں ہوتا ہے۔پرانے عہد نامے میں صِیُّون تشبیہاً خُدا کے لوگوں کے طور پر اسرائیل کے لئے استعمال کیا جاتا ہے (یسعیاہ 60باب 14 آیت)۔ نئے عہد نامے میں لفظ صِیُّون خُدا کی رُوحانی بادشاہت کی طرف اشارہ کرتا ہے عبرانیوں کا مُصنف بیان کرتا ہے کہ "ہم کوہِ سینا کے پاس نہیں آئے بلکہ صیُّون کے پہاڑ اور زندہ خُدا کے شہر یعنی آسمانی یروشلیم کے پاس" آئے ہیں(عبرانیوں 12 باب 22 آیت)۔پطرس رسول یسعیاہ 28باب 16 آیت کا حوالہ دیتا ہے اور مسیح کو صِیُّون کے کونے کےسِرے کے پتھر کے طور پر پیش کرتا ہے: "چُنانچہ کتابِ مُقدس میں آیا ہے کہ دیکھو۔ مَیں صِیُّون میں کونے کے سرے کا چُنا ہوا اور قیمتی پتھر رکھتا ہوں جو اُس پر ایمان لائے گا ہرگز شرمندہ نہ ہو گا"(1 پطرس2 باب 6 آیت)۔

جغرافیائی لحاظ سے اگر صیُّون کے بارے میں بات کی جائے تو یہ مقام اِس وقت بہت سارے تنازعات کا مرکز ہے۔ بائبل مُقدس بڑے واضح طور پر یہ بیان کرتی ہے کہ ایک دن آئے گا جب صیُّون مکمل طو رپر خُداوند یسوع مسیح کی ملکیت ہوگا اور صیُّون – یعنی اِس میں رہنے والے لوگوں کو بحال کر دیا جائے گا۔ "جاگ جاگ اَے صیُّون اپنی شوکت سے مُلبّس ہو! اَے یروشلیِم مُقدّس شہر اپنا خُوش نُما لِباس پہن لے! کیونکہ آگے کو کوئی نامختُون یا ناپاک تجھ میں کبھی داخل نہ ہو گا۔" (یسعیاہ 52باب1 آیت)۔"اور تیرے غارت گروں کے بیٹے تیرے سامنے جھکتے ہوئے آئیں گے اور تیری تحقیر کرنے والے سب تیرے قدموں پر گریں گے اور وہ تیرا نام خُداوند کا شہر اِسرائیل کے قُدُّوس کا صیُّون رکھیں گے" (یسعیاہ 60باب14آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

صیُّون کیا ہے؟ کوہِ صیُّون کیا ہے؟ بائبل کے مطابق صیُّون کے کیا معنی ہیں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries