خدا کے قہر کے بارے میں بائبلی تفہیم کیا ہے؟


سوال: خدا کے قہر کے بارے میں بائبلی تفہیم کیا ہے؟

جواب:
قہر کی تعریف" غلطی اور ناانصافی کے معلوم ہونے پر جذباتی ردّ عمل " کے طور پر کی جاتی ہےجس کو اکثر "غصے "، " طیش"، " بیزاری" یا "اشتعال " کے طور پر بیان کیا جاتا ہے ۔ بنی نو ع انسان اور خدا دونوں قہر کا اظہار کرتے ہیں ۔ لیکن خدا کے قہر اور انسان کے قہر میں بہت فرق ہے ۔ خدا کا قہر پاک اور ہمیشہ واجب ہوتا ہے جبکہ انسان کا قہر کبھی بھی پاک نہیں ہوتا تاہم کبھی کبھار واجب اور جائز ہوتا ہے ۔

پرانے عہد نامے میں خدا کا قہر انسانی گناہ اور نافرمانی پر الٰہی ردّ عمل ہے ۔ بُت پرستی کے موقع پر اکثر الٰہی قہر نازل ہوتا تھا ۔ 78زبور 56-66آیات بنی اسرائیل کی بُت پرستی کو بیان کرتی ہیں ۔ خدا کا قہر اُس کی نافرمانی کرنے والوں پر مستقل طور پر نازل ہوتا ہے ( استثنا 1باب 26-46آیات؛ یشوع 7باب 1آیت؛ 2زبور 1-6آیات)۔ پرانے عہدنامے کے نبیوں نے مستقبل میں آنے والے ایک ایسے دن کے بارے میں متعدد بار لکھا ہے جو "غضب ( قہر) کا دن " کہلاتا ہے (صفنیاہ 1باب 14-15آیات)۔ گناہ اور نافرمانی کے خلاف خدا کا قہریا غضب پوری طرح جائز اور واجب ہے کیونکہ جس طرح خدا پاک اور کامل ہے اُسی طرح بنی نو ع انسان کےلیے اُس کا منصوبہ بھی پاک اور کامل ہے ۔ الہی خوشنوی کے حصول کےلیے خدا نے توبہ کا راستہ مہیا کیا ہے جس سے گنہگار انسان اُس کے قہر سے بچ جاتاہے ۔ خدا کے کامل منصوبے کو مسترد کرنے کا مطلب اُس کی محبت، رحمت ، فضل اور حمایت کو مسترد کرنا اور اُس کے مُقدس قہر کو دعوت دینا ہے ۔

نیا عہد نامہ بھی خُدا کے غضب کے تصور کی حمایت کرتا ہے اور بیان کرتا ہے کہ وہ اپنے قہر میں گنہگار کی ضرور عدالت کرتا ہے ۔ایک دولت مند اور لعزر کی کہانی خدا کی عدالت اور توبہ نہ کرنے والے گنہگار وں کےلیے سنگین نتائج کے بارے میں بات کرتی ہے ( لوقا 16باب 19-31آیات)۔ یوحنا 3باب 36آیت فرماتی ہے " جو بیٹے پر اِیمان لاتا ہے ہمیشہ کی زِندگی اُس کی ہے لیکن جو بیٹے کی نہیں مانتا زِندگی کو نہ دیکھے گا بلکہ اُس پر خُدا کا غضب رہتا ہے"۔ جو بیٹے پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے گناہوں کی وجہ سے خدا کے قہر کا سامنا نہ کرے گا کیونکہ بیٹے نے ہماری خاطر صلیب پر جان دینے کے وسیلہ سے خدا کے قہر کو برداشت کیا ہے (رومیوں 5باب 6-11آیات)۔ جو بیٹے پر ایمان نہیں لاتے اور اُسے اپنے نجات دہندہ کے طور پر قبول نہیں کرتے آخری دن اُن کی عدالت کی جائے گی ( رومیوں 2باب 5-6آیات)۔

اس کے برعکس رومیوں 12باب 19آیت، افسیوں 4باب 26آیت اور کلسیوں 3باب 8- 10آیات میں انسانی قہر کے خلاف خبردار کیا گیا ہے ۔ چونکہ صرف خدا ہی انتقام لینے کے قابل ہے اِس لیے اُس کا انتقام کامل اور مُقدس ہے ۔ جبکہ انسانی قہر گناہ آلودہ اور انسان پر شیطانی اثرو رسوخ کا باعث بنتا ہے ۔ قہر و غضب مسیحیوں کی نئی فطرت جو خود مسیح کی فطرت ہے ( 2کرنتھیوں 5باب 17آیت)کے خلاف ہے ۔ قہر کے تسلط سے آزادی کے حصول کےلیے ایماندار کو رُوح القد س کی ضرورت ہے تاکہ وہ اُسے اُس کے قہر و غضب کے جذبات سے پاک اور صاف کرے ۔ رومیوں 8باب اُس زندگی میں گناہ پر فتح مندی کا مظاہرہ کرتا ہے جس میں رُوح القدس بسا ہوا ہے ۔ فلپیوں 4باب 4-7آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ رُوح القدس کے زیرِ اثر ذہن پُر سکون ہوتا ہے ۔

خدا کا قہر ہولناک اور خوفناک چیز ہے۔اور صرف اُنہی لوگوں کو یہ یقین دہانی کرائی جا سکتی ہے کہ خدا کا قہر اُن پر کبھی نازل نہیں ہو گا جو مسیح کے اُس خون سے ڈھانپے ہوئے ہیں جو ہمارے لئے صلیب پر بہایا گیا ہے " پس جب ہم اُس کے خُون کے باعث اب راست باز ٹھہرے تو اُس کے وسیلہ سے غضبِ الٰہی سے ضرور ہی بچیں گے(رومیوں5باب 9آیت)۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
خدا کے قہر کے بارے میں بائبلی تفہیم کیا ہے؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں