settings icon
share icon
سوال

بائبل کے مطابق ایک حقیقی عبادتی تقریب کے عناصر کیا ہیں؟

جواب


فطری طور پر انسان ایک عبادت گزر مخلو ق ہیں ۔ زبور نویس اس بات کا اظہار اِن الفاظ میں کرتا ہے " جیسے ہرنی پانی کے نالوں کو ترستی ہے ویسے ہی اَے خُدا! میری رُوح تیرے لئے ترستی ہے" ( 42زبور 1آیت)۔ پہلی صدی قبل از مسیح میں سیسرو (Cicero) نے مشاہدہ کیا تھا کہ شکل و صورت سے قطع ِ نظر مذہب انسان کی عالمگیر خوبی ہے ۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ لو گ کسی نہ کسی چیز یا شخص کی پرستش کرنے جا رہے ہیں ہمیں پوچھنا چاہیے کہ عبادت سے کیا مراد ہے ؟ ہم کسی ہستی کی کس طرح سے پرستش کریں گے ؟ وہ کون سے باتیں ہیں جو بائبل کے مطابق حقیقی عبادت کو تشکیل دیتی ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ آیا ہم " سچے پرستار " ( یوحنا 4باب 23آیت) بنیں گے یا جھوٹے؟

یسوع نے فرمایا ہے کہ سچے پرستار رُوح اور سچائی سے پرستش کرتے ہیں ( یوحنا 4باب 23آیت)۔ پولس رسول وضاحت کرتا ہے کہ ہم خدا کے رُوح کی ہدایت سے عبادت کرتے ہیں ( افسیوں 3باب 3آیت) جس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقی پرستش وہ لوگ کرتے ہیں جو یسوع مسیح پر ایمان کے وسیلہ سے نجات پا چکے ہیں اور جن کے دِلوں میں رُوح القدس بسا ہوا ہے ۔ رُوح سے معمور پرستش کرنا محض رسم و رواج کی پیروی کی بجائے مناسب دلی رویے رکھنے کی نشاندہی بھی کرتا ہے ۔ حقیقی پرستش کرنے سے مراد اُن باتوں کے مطابق خدا کی عبادت کرنا ہے جن کو اُس نے اپنے بارے میں بائبل میں عیاں کیا ہے ۔ ہماری پرستش کو بائبل کےمطابق ہونے کےلیے اِسے مسیح کے بارے میں ہمارے عقید ے کی حدود میں رہنا چاہیے ( 2یوحنا 1باب 9آیت؛ استثنا 4باب 12آیت؛ 12باب 32آیت بھی دیکھیں ؛ مکاشفہ 22باب18-19آیات)حقیقی عبادت بائبل میں دی گئی ہدایات پر انحصار کرتی ہے اور اسے کسی طرح کی اعترافات کی کتاب، ترتیب کے اصولوں یا انسانی ہدایات یا رہنمائی پر مبنی کتب کے ساتھ یا اُن کے بغیر بھی پیش کیا جا سکتا ہے ۔

پہلی صدی کی کلیسیا اپنی عبادتی خدمات میں متعدد دین دارانہ اعمال میں مشغول تھی جس سے ہم یہ طے کر سکتے ہیں کہ بائبل کے مطابق حقیقی عبادت کن باتوں پر مشتمل ہے : عشائے ربانی کی رسم عمل میں لائی جاتی تھی ( اعمال 20باب 7آیت)، دُعائیں اور التجائیں کی جاتی تھیں ( 1کرنتھیوں 14باب 15-16آیات)، خدا کی حمد و ستائش میں گیت اور زبور گائے جاتے تھے ( افسیوں 5باب 19آیت)، چندہ جمع کیا جاتا تھا ( 1کرنتھیوں 16باب 2آیت)،صحائف کو پڑھا جاتا تھا ( کلسیوں 4باب 16آیت) اور خدا کے کلام کی منادی کی جاتی تھی ( اعمال 20باب 7آیت)۔

پاک شراکت یسوع مسیح کی موت کی یاد میں منائی جاتی ہے جب تک کہ اُس کی دوسری آمد نہیں ہوتی ۔ ( 1کرنتھیوں 11باب 25-26آیات)۔ دُعا براہِ راست خدا سے کی جانی چاہیے ( نحمیاہ 4باب 9 آیت؛ متی 6باب 9آیت) نہ کسی مردہ شخص سے جیسا کہ کیتھولک کلیسیا میں کی جاتی ہے۔ ہمیں عبادت میں روزری یا بدھ مت کے " دعائیہ پہیے" جیسی مختلف چیز وں کا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہماری دعائیں خدا کی مرضی کے مطابق ہونی چاہئے (1یوحنا 5باب 14آیت)۔

عبادت کے دوران ہمیں حمد و ستائش کرنی چاہیے ۔ پولس رسول ہمیں حکم دیتا ہے کہ " آپس میں مزامیر اور گیت اور رُوحانی غزلیں گایا کرو اور دِل سے خُداوند کے لئے گاتے بجاتے رہا کرو۔ اور سب باتوں میں ہمارے خُداوند یسو ع مسیح کے نام سے ہمیشہ خُدا باپ کا شکر کرتے رہو" ( افسیوں 5باب 19-20آیات)۔ خداوند کی حمد و ستائش میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر گانا سچائی کا اظہار کرتا ہے ( کلسیوں 3باب 16آیت)۔

ہدیہ پیش کرنا بائبل کے مطابق حقیقی عبادت کا ایک حصہ ہے جیسا کہ پولس رسول نے کرنتھس کی کلیسیا کو نصیحت کی تھی :"اب اُس چندے کی بابت جو مُقدّسوں کے لئے کیا جاتا ہے جیسا مَیں نے گلتیہ کی کلیسیاؤں کو حکم دِیا وَیسا ہی تم بھی کرو۔ ہفتہ کے پہلے دِن تم میں سے ہر شخص اپنی آمدنی کے موافق کچھ اپنے پاس رکھ چھوڑا کرے تاکہ میرے آنے پر چندے نہ کرنے پڑیں "( 1کرنتھیوں 16باب 1-2آیات)۔ خداوند کے کلام کی منادی کےلیے باقاعدگی سے ہدیہ دینا ہماری ایک اہم ذمہ داری ہے ۔ ہدیہ دینے کے موقعے کو ایک بہت اعلیٰ برکت کے طور پر خیال کرنا چاہیے نہ کہ ایسے بوجھ کے طور پر جس کی وجہ سے ہم بُڑ بُرائیں (2 کرنتھیوں 9باب7آیت)۔ مزید برآں ، کلیسیا کے کاموں میں مالی طور پر حصہ ڈالنے کے حوالے سے ہمارے پاس کوئی لگا بندھا اصول نہیں ہے ، ہم اپنی آزاد مرضی سے اپنی خوشی سے جو چاہیں دے سکتے ہیں۔ کلیسیا کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی طرح کا کوئی کاروبار چلائے،کسی ایسی سرگرمی کا انعقاد کرے جس میں وہ لوگوں سے ٹکٹ وغیرہ کے پیسے لے یا ایسے موسیقی کے پروگرام منعقد کروائے جس میں لوگ ٹکٹ دے کر شامل ہوتے ہیں۔ مسیح کی کلیسیا کسی بھی طور پر کوئی کاروباری اڈا نہیں ہونا چاہیے (دیکھئے متی 21باب 12-13آیات)

اور آخر میں منادی کرنا اور تعلیم دینا حقیقی پرستش کے سب سے بڑے عناصر ہیں۔ ہماری تعلیم صرف اور صرف کلام ہونا چاہیے، کیونکہ یہ ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس کے وسیلے سے ایمانداروں کی زندگی اور دینداری میں تربیت کی جا سکتی ہے (2 تیمتھیس 3باب16-17آیات)۔ خُدا پرست منادی کرنے والے یا اُستاد صرف اور صرف خُدا کے کلام میں سے سکھائیں گےاور پھر وہ رُوح القدس پر مکمل انحصار کریں گے کہ رُوح القدس خود سننے والوں کے دِل و دماغ میں کام کرے۔ جیسے کہ پولس رسول تیمتھیس کو یاد دلاتا ہے کہ " تُو کلام کی منادی کر۔ وقت اور بے وقت مستعد رہ۔ ہر طرح کےتحمل اور تعلیم کے ساتھ سمجھا دے اور ملامت اور نصیحت کر "(2 تیمتھیس 4باب2آیت)۔ وہ کلیسیا جس میں خُدا کے کلام کو سب سے مرکزی حیثیت نہیں دی جاتی وہ اصل میں بائبلی پرستش نہیں کرتی۔

جب ہم کلامِ مُقدس میں بیان کردہ پرستش کے نمونے کو اپناتے ہیں تو آئیے ہم پورے جذبے اور جوش و خروش کے ساتھ خُدا کی پرستش کریں۔ ہمیں اپنے اردگرد کی دُنیا کو قطعی طور پر یہ تاثر نہیں دینا چاہیے کہ خُدا کی پرستش ہمارے لیے اکتاہٹ کا سبب ہے یا یہ ایک ایسی مذہبی رسم ہے جس میں کسی طرح کی کوئی زندگی نہیں پائی جاتی۔ ہمیں گناہ سے نجات دی گئی ہے۔ اِس لیے آئیے ہم اُس کے ایسے بچّوں کے طور پر اُس کی حمدو ستائش کریں جو اُس کی لامحدود برکات کے لیے اُس کے شکر گزار ہیں۔ " پس ہم وہ بادشاہی پاکر جو ملنے کی نہیں اُس فضل کو ہاتھ سے نہ دیں جس کے سبب سے پسندیدہ طَور پر خُدا کی عبادت خُدا ترسی اور خوف کے ساتھ کریں" (عبرانیوں 12 باب 28-29آیات)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل کے مطابق ایک حقیقی عبادتی تقریب کے عناصر کیا ہیں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries