مسیحی دنیاوی نظریہ کیا ہے؟



سوال: مسیحی دنیاوی نظریہ کیا ہے؟

جواب:
ایک "دنیاوی نظریہ" خاص نقطء نظر سے دنیا کے ایک وسیع تصور کاحوالہ دیتاہے۔ تو پھر "میسحی دنیاوی نظریہ" ایک مسیحی نقطہ نظر سے دنیا کا ایک وسیع تصور ہے۔ایک شخص کا دنیاوی نظریہ اس کی ایک "بڑی تصویر" ہے، دنیا کی بابت اس کے تمام اعتقادوں کا ایک مطابقت (اتحاد)، حقیقت کو سمجھنے کا اپنا طریقہ۔کسی کا دنیاوی نظریہ روزانہ کے فیصلے بنانے کے لئے بنیاد ہے۔اس لئے یہ از حد ضروری ہے۔

ایک میزپر رکھی سیب کوکئی ایک لوگوں کے ذریعہ دیکھا جا سکتاہے۔ ایک نباتیات دان سیب کو دیکھتا اور اس کا قسم وار کرتاہے۔ایک مصور اس سیب کو غیر ذی روح اشیا بطور دیکھتا اور اس کی تصویر بناتاہے۔ ایک پھل سبزی بیچنے والا اس سیب کو ایک مال بطور دیکھتا اور اس کی فہرست تیار کرتاہے۔ ایک بچہ اس سیب کو کھانا بطور دیکھتااور اس کو لے کر کھاجاتاہے۔ ہم کسی صورت حال کو کس طرح دیکھتے یہ منحصر کرتاہے کہ ہم دنیا کو کس طرح وسیع طریقہ سے دیکھتے ہیں۔ہر ایک دنیاوی نظر کے لئے چاہے وہ مسیحی ہویا غیر مسیحی کم از کم تین سوالات کے ساتھ برتاؤکرتاہے:

1) ہم کہاں سے آئے؟ (اور ہم یہاں پرکیوں ہیں؟)۔

2) دنیا میں کیا برائی پائی جاتی ہے؟

3) ہم اس کو کیسے بیٹھا سکتے ہیں؟

آج کاایک سابق دنیاوی نظریہ فطرت پرستی ہے جواسطرح سے ان تین سوالوں کاجواب دیتی ہے: 1) ہم بغیر کسی حقیقی مقصد کےساتھ قدرت کے بے سوچی سمجھی کام کے پھل ہیں۔ 2) ہم قدرت کی اتنی عزت نہیں کرتے جنتی کہ کرنی چاہغے۔ 2) ہم ماحول کا مطالعہ اور تحفظ کے ذریعہ دنیاکوبچا سکتےہیں۔ایک قدرتی طور سے دنیا وی نظریہ کئی ایک فلسفے پیدا کر سکتاہے۔ جیسے کہ مذہبی اعتباری، موجودگی کااحساس، بےکہے دوسروں کی خود بخود خدمت کرنااور خیال پرستی وغیرہ۔

دوسرا یہ کہ ایک مسیحی دنیاوی نظریہ دوسری طرف ان سوالوں کا جواب بائبل کے مطابق اس طرح دیتاہےکہ : 1) ہم خداکے مخلوق ہیں، دنیا پر حکومت کرنے اور خدا کے ساتھ رفاقت رکھنے کے لئے مخصوص کئے گئے ہیں۔ (پیدائش 28-27 :1؛ 2:15)۔ 2) ہم نے خدا کے خلاف گناہ کیاہے اور ساری دنیالعنت کے ما تحت ہے (پیدائش 3 باب)۔ 3) خدا نے خود اپنے بیٹے کی قربانی کے ذریعہ ہمارا چھٹکارا دیاہے (پیدائش 3:15؛ لوقا 19:10)۔ اور ایک دن وہ اپنی تخلیق کواس کے سابق مکمل حالت میں بحال کرے گا (یسعیاہ 25-17 :65)۔ایک مسیحی دنیاوی نظریہ ہم کو ایک مذہبی حقیقت پر اعتقاد کرنے کی طرف معجزوں کی طرف، انسانی عظمت کی طرف اور چھٹکارے کے ممکن کی طرف رہنمائی کرتاہے۔

یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ایک دنیاوی نظریہ وسیع ہے۔ یہ زندگی کے ہر ایک علاقہ میں اثر کرتاہے۔ پیسہ سے لے کر نیکی تک، سیاست سے لے کر ہنر اور فن کاری تک – حقیقی مسیحیت ان خیالات کے مجموعہ سے بھی زیادہ ہے کہ کلیسیا میں انکا استعمال ہو۔ میسحیت کو جس طرح بائبل میں سکھایا گیا ہے وہ خود ہی اپنے آپ میں ایک دنیاوی نظریہ ہے۔ بائبل نے کبھی بھی "خدا پرست زندگی" اور "دنیاوی زندگی" کے بیچ فرق نہیں کیا ہے۔ مگر اس کے انجام سے ضرور واقف کرایا ہے۔ مسیحی زندگی ہی ایک ایسی زندگی ہے جس کے لئے یسوع مسیح نے خود ہی اعلان کیاہے کہ وہ "راہ" ہے، وہ "حق" ہے اور وہ "زندگی" ہے (یوحنا 14:6)۔ اس کے مطابق زندگی جینے سے ہمارا دنیاوی نظریہ بدل جائے گا۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



مسیحی دنیاوی نظریہ کیا ہے؟