settings icon
share icon
سوال

مجھے اپنے کام کی جگہ پراپنے ایمان کے بارے میں کیوں بات چیت کرنی چاہیے ؟

جواب


مسیح یسوع کے پیروکار ہونے کے ناطےاِس بات کی بہت ساری وجوہات ہیں کہ کیوں ہمیں ہر ایک حال کے اندر اپنے ایمان کے بارے میں دوسروں سے بات چیت کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ بہرحال اپنے کام کرنے کی جگہ پر ایسا کرنے کے تعلق سے ہمیں ایک اور چیز کو بھی مدِ نظر رکھنا چاہیے۔ بطورِ ملازمین ہم نے اپنے آجر/مالک کے ساتھ اِ س بات کا عہد کیا ہے کہ اپنے کام کے وقت ہم اپنی پوری خدمات سے اُسے مستفید کریں گے۔ ایک اچھا مسیحی گواہ بننے کے لیے سب سے پہلے ہمیں اپنے اِس عہد پر پورا اُترنا ہوگا۔ انجیل کی بشارت کی کوششوں کو اُن فرائض کی عملداری میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے جن کو پورا کرنے کے لیے ہم نے عہد کیا تھا (1 تھسلنیکیوں 5باب12-14 آیات)۔ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو ہمارے اعمال ہمارے کلام سے متصادم ہونگے اور مسیح کے گواہ کے طور پر ہماری ساکھ ختم ہو جائے گی۔ لہذا سب سے پہلے تو ہمیں اپنے آجروں کے پاس بہترین ملازمین بننے کے لیے کوشاں ہونا چاہیے (کلسیوں 3باب23 آیت)۔ ہمارا یہ عمل ہمارے کلام اور بات چیت کو اُس وقت زیادہ با اختیار بنائے گا جب ہم دوسروں کے ساتھ اپنے ایمان کو بانٹیں گے۔

اپنے ایمان کو دوسروں کے ساتھ بانٹنے کی بہت ساری وجوہات کے اندر سے تین زیادہ نمایاں ہیں:

1) ہمارا خُداوند اور نجات دہندہ یسوع مسیح ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اِس زمین پر اپنے شاگردوں کے ساتھ اپنے آخری لمحات کے دوران یسوع اُنہیں کچھ بھی کہہ سکتا تھا۔ لیکن جو بات بتانے کا اُس نے انتخاب کیا وہ یہ تھی کہ وہ اُسکی برکت اور قوت کے ساتھ جائیں اور لوگوں میں انجیل کی منادی کریں تاکہ دوسرے بھی یسوع کے ساتھ بابرکت تعلق اور اُسکی نجات بخش قدرت کا تجربہ کر سکیں(متی 28باب18-20 آیات)۔

2) فرض اِس کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر ہمیں خُداوندیسوع مسیح کے وسیلے نجات ملی ہے تو پھر اُس صورت میں ہمیں کچھ ایسا دیا گیا ہے جس کے ہم اصل میں مالک یا حقدار نہیں ہیں۔ خُدا کے فضل کے بغیر ہم ساری ابدیت کے لیے ہلاکت میں چلے جاتے۔ قوی امکان یہی ہے کہ ہم میں سے زیادہ تر ایمان اور پھر اِس کے وسیلے نجات کی طرف اِسی لیے آئے کیونکہ کسی نے کسی وقت پر ہمارے ساتھ انجیل کا پیغام بانٹا تھا۔ پھر ہم دوسروں کے لیے ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟یسوع نے کہا ہے کہ جیسے ہم نے مفت پایا ہے، ہم دوسروں کو بھی مفت دیں (متی 10باب8 آیت)۔ خُدا نے ہمیں کھوئے ہوئے لوگوں کے لیے گویا پیامبر بننے کی ذمہ داری سونپی ہے (اعمال 1باب8 آیت؛ 1 تھسلنیکیوں 2باب4 آیت)۔

3) شکر گزاری اِس کی ترغیب دیتی ہے۔ دلی شکر گزاری کا رویہ اُن بہت ساری چیزوں میں سے ایک ہے جو یسوع مسیح پر سچا ایمان رکھنے والے شخص کی نشاندہی کرتا ہے۔ ہم ایمانداری سے اپنے دِلوں کے بگاڑ کا جائزہ لیتے ہیں ، اور جس قدر زیادہ ہمیں اِس بات کا احساس ہوتا ہے کہ ہماری معافی کس قدر بڑی تھی، اور یہ ہمیں مفت میں عطا کی گئی ہے تو ہم اُتنا ہی زیادہ خُدا کے شکر گزار ہوتے ہیں ۔ یہ شکر گزاری اِس بات کا اظہار ہے کہ جو کچھ خُدا نے ہمارے لیے کیا –وہ سب جو ہم کسی بھی قیمت پر اپنے لیے نہیں کر سکتے تھے – اُس کے لیے اُسی کی ستائش اور اُسکی شکر گزاری کی جائے۔ خُدا کی شکر گزاری کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ خُدا کے نام کو اُس سب کے لیے جلال دیا جائے جو اُس نے ہمارے لیے کیا ہے اور دوسروں کو بھی خُدا کی محبت اور اُس کے رحم کے بارے میں بتایا جائے۔

ہم اپنے کام کی جگہ پر اپنے ایمان کو کیسے بانٹتے ہیں؟ سب سے پہلے ایک "خاموش گواہی" ہوتی ہے –یہ وہ گواہی ہے جو الفاظ کے بغیر بھی بہت زیادہ بلند آواز کے ساتھ بولتی ہے۔ یہ گواہی دینے میں ایک وفا دار اور قابلِ اعتبار ملازم ہونا شامل ہے، نہ کہ ایسا ملازم جو اپنے آجروں اور اپنے ساتھیوں کو بُرا بھلا کہتا ہو۔ کوئی بھی شخص کسی کامل آجر/مالک یا کامل ساتھی ملازموں کے ساتھ کام نہیں کرتا، لیکن اگر ہم کلسیوں 3باب23 آیت" جو کام کرو جی سے کرو ۔ یہ جان کر کہ خُداوند کے لئے کرتے ہو نہ کہ آدمیوں کے لئے۔ " جیسے رویے کے ساتھ کام کریں تو ہم خُدا کے لیے کام کر کے اُس کے نام کو جلال دیں گے جو کہ ہمارا واحد حقیقی مالک ہے۔ جب ہم خُداوند کے لیے کام کریں گے تو ملازمت کے دوران تناؤ سے نمٹنے اور دوسروں کے ساتھ شفقت اور صبر کے ساتھ برتاؤ کرنے کی ہماری صلاحیت ہمیں ہمارے دوسرے ساتھیوں کے درمیان نمایاں کرے گی۔ جب دوسرے ہمارے رویوں پر توجہ دیں گے تو وہ ہمیشہ اِس بات پر تبصرہ کریں گے اور ہمیں یہ بتانے کا موقع دیں گے کہ ہم حقیقت میں کس کی خدمت کر رہے ہیں اور اُس نے ہماری زندگیوں پر کیا اثر ڈالا ہے۔ دوسرے الفاظ میں بعض اوقات ہمیں چہل قدمی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ہمیں بات کرنے کا موقع مل سکے۔

جب ایمان کی گواہی دینے کے لیے دروازہ کھلتا ہے تو " جو کوئی ہم سے ہماری اُمّید کی وجہ دریافت کرے اُس کو جواب دینے کے لئےہمیں ہر وقت مُستعِد رہنا چاہیے مگر حِلم اور خَوف کے ساتھ" (1 پطرس 3باب 15 آیت)۔ اِس کا مطلب ہے کہ اُن کھلے دروازوں کے ذریعے سے مسیح پر ایمان کی گواہی دینے کے لیے تندہی کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کریں۔ اگر ہم "مسیح کے کلام کو اپنے دِلو ں میں کثرت سےبسنے" دیں(کلسیوں 3باب16 آیت) تو اُس صور ت میں ہم ہر وقت مستعد رہیں گے۔ آخر میں خُدا سے دُعا کریں کہ وہ آپ کے لیے مسیح کو دوسروں کے ساتھ بانٹنے کے مواقع فراہم کرے – اُن لوگوں کے ساتھ خُدا کی طرف سے متعین ملاقاتیں کروائے جن کے دِل خُدا نے سچائی کو قبول کرنے کے لیے پہلے ہی تیار کر رکھے ہیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مجھے اپنے کام کی جگہ پراپنے ایمان کے بارے میں کیوں بات چیت کرنی چاہیے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries