settings icon
share icon
سوال

حکمت کے کلام اور علمیت کے کلام کی رُوحانی نعمتیں کیا ہیں؟

جواب


بائبل مقدس میں رُوحانی نعمتوں کی تین فہرستیں پائی جاتی ہیں (رومیوں12باب 6-8آیات؛ 1کرنتھیوں 12باب 4-11آیات؛ اور 1کرنتھیوں 12باب 28آیت) لیکن اُن میں سے صرف ایک فہرست اُن نعمتوں کا ذکر کرتی ہے جو حکمت کے کلام اور علمیت کے کلام کے طور پر جانی جاتی ہیں(1کرنتھیوں 12باب 8آیت) ۔ اس بارے میں بہت زیادہ الجھن ہے کہ اصل میں یہ دونوں نعمتیں کیا ہیں۔اِن کو سمجھنے کا بہتر ین طریقہ شاید اِس چیز کو بیان کرنا ہے کہ یہ نعمتیں اصل میں کیا نہیں ہیں۔

کچھ کرشماتی/پینٹیکاسٹل لوگ علمیت کے کلام اور حکمت کے کلام کی رُوحانی نعمتوں کوکچھ اِس طرح دیکھتے ہیں کہ رُوح القد س کسی ایک ایماندار کے وسیلے سے دوسرے ایماندار کو کسی خاص فیصلے یا صورتحال کے حوالے سے الہام/نئی معلومات فراہم کرتا ہے۔ جو لوگ اِن نعمتوں کا اس طرح استعمال کرتے ہیں وہ اس کے زیرِ اثر اکثر کچھ ایسا کہیں گے کہ "میرے پاس تمہارے لیے خداوند کی طرف سے کلام ہے"۔ ایسا کرتے ہوئےوہ خدا کی طرف سے بولنے کا دعویٰ کرتے اور یہ مطالبہ کر رہے ہوتے ہیں کہ اُن کی باتوں پر سختی سے عمل کیا جائے۔

علمیت کے کلام اور حکمت کے کلام کی نعمتوں کی ایسی سمجھ خطرناک حد تک کلامِ مقدس کے کافی ہونے کے عقیدے سے انکار کرنے کے قریب ترپہنچ جاتی ہے۔ اگر خُدا اپنی مرضی اور حکمت کو لوگوں پر مکاشفہِ خاص کے ذریعے ظاہر کرنا جاری رکھتا ہے تو کیا اُس کا کلام ایک ایماندار کے "کامل " بننے اور " ہر ایک نیک کام کےلیے بالکل تیار " ہو جانے (2تیمتھیس 3باب 17آیت) کےلیے واقعی کافی ہو سکتا ہے ؟ اگر ہمارے لیے دوسرے لوگوں سے خدا کے مکاشفہ ِ خاص کو وصول کرنا ضروری ہے تو کیا خدا نے واقعی ہمیں وہ سب کچھ بخش دیا ہے جس کی ہمیں زندگی اور دین داری کے لیے ضرورت ہے؟ (2پطرس 1باب 3آیت)۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ خدا کبھی بھی کسی دوسرے شخص کو ہم سے ہمکلام ہونے کے لئے استعمال نہیں کرتا لیکن اگر ہمیں اپنی زندگی بسر کرنے کے لئے اکثر دوسرے لوگوں کے وسیلہ سے خدا کی طرف سے براہ راست پیغامات وصول کرنے کی ضرورت ہے تو کیا خدا کا کلام واقعی کافی ہے جیسا کہ یہ خود اعلان کرتا ہے؟

لہٰذا اگر حکمت کا کلام اور علمیت کا کلام نبوتی / مکاشفاتی نعمتیں نہیں ہیں تو پھر یہ کیا ہیں؟ ہم ایک بات پختہ طور پر جانتے ہیں: یہ نعمتیں رُوح القدس کی طرف سے مسیح کے بدن کی تعمیر (ترقی) یعنی سب کو "فائدہ پہنچانے "(1کرنتھیوں 12باب 7آیت)کے لیے دی گئی ہیں ۔ وہ تباہی جو علمیت کے کلام اور حکمت کے کلام کو مکاشفاتی نعمتوں کے طور پر استعمال کرنے والی کلیسیا ؤں میں ظاہر ہوتی ہے وہ واضح طور پر سب کی بھلائی کے لیے نہیں ہے۔ مبہم، غیر واضح اور بعض اوقات متضاد الفاظ "خُداوند کی طرف سے" نہیں ہوتے کیونکہ وہ ابتری یا خرابی کا خُدا نہیں ہے (1کرنتھیوں 14 باب 33آیت)۔ اور نہ ہی وہ مسیحیوں کو اُن کی اصلاح کے لیے باہم متحدہ کرتے ہیں؛ اس کے برعکس وہ بدن میں تفرقہ بازی اور جھگڑے کا باعث بنتے ہیں۔ اکثر علمیت کے کلام اور/یا حکمت کے کلام کی نعمتوں کو دوسرے لوگوں پر اختیار اور اثر و رسوخ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ دوسرے لوگ اُس شخص پر انحصارکریں جو اِن نعمتوں کے حامل ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اِن دونوں نعمتوں کا ایسا غلط استعمال واضح طور پر خدا کی طرف سے نہیں ہے۔

ان باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم علمیت کے کلام اور حکمت کے کلام کی رُوحانی نعمتوں کی کچھ یوں تعریف کرتے ہیں:

حکمت کا کلام - اس نعمت کو حکمت کے "کلام " کے طور پر بیان کیا گیا ہے یہ حقیقت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ وعظ کرنے کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ یہ نعمت کسی ایسے شخص کی وضاحت کرتی ہے جو بائبل کی سچائی کو اس طورسے سمجھ سکتا اور بیان کر سکتا ہے کہ اس کا پوری سمجھداری کے ساتھ زندگی کے حالات پر اطلاق کیا جا سکے۔

علمیت کا کلام - بھی وعظ کرنے کی ایک نعمت ہے جس میں سچائی کو ایسی بصیرت کے ساتھ سمجھنا شامل ہے جو صرف اور صرف خدا کے الہام سے آتی ہے۔ علمیت کے کلام کی نعمت کے حامل لوگ خدا کی گہری باتوں اور اُس کے کلام کے بھیدوں کو سمجھتے ہیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

حکمت کے کلام اور علمیت کے کلام کی رُوحانی نعمتیں کیا ہیں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries