settings icon
share icon
سوال

کیا عورتوں کو کلیسیا کے مجمع میں خاموش رہنا چاہیے؟

جواب


1کرنتھیوں 14باب 33-35آیات بیان کرتی ہیں " کیونکہ خُدا اَبتری کا نہیں بلکہ اَمن کا بانی ہے ۔ جیسا مُقدّسوں کی سب کلیسیاؤں میں ہے۔ عورتیں کلیسیا کے مجمع میں خاموش رہیں کیونکہ اُنہیں بولنے کا حکم نہیں بلکہ تابع رہیں جیسا تَوریت میں بھی لکھا ہے۔ اور اگر کچھ سیکھنا چاہیں تو گھر میں اپنے اپنے شوہر سے پوچھیں کیونکہ عورت کا کلیسیا کے مجمع میں بولنا شرم کی بات ہے۔" 1تیمتھیس 2باب 11-12آیات میں ہمیں اسی طرح کی نصیحت کی گئی ہے : " عورت کو چپ چاپ کمال تابع داری سے سیکھنا چاہیے۔ اور مَیں اِجازت نہیں دیتا کہ عورت سکھائے یا مَرد پر حکم چلائے بلکہ چپ چاپ رہے۔"

پہلی نظر میں تو یہ حوالہ جات ایک جامع حکم جاری کرتے معلوم ہوتے ہیں کہ خواتین کو کلیسیا کے مجمع میں کسی بھی وجہ سے بولنے کی اجازت نہیں ہے ۔ ان دونوں معاملات میں سیاق و سباق کی گہری جانچ پڑتال کرنا ضروری ہے ۔

تیمتھیس 2باب 11-14آیات جن کا جزوی حصہ اُوپر بیان کیا گیا ہےاُس کا مکمل حوالہ یہ ہے:" عورت کو چپ چاپ کمال تابع داری سے سیکھنا چاہیے۔ اور مَیں اِجازت نہیں دیتا کہ عورت سکھائے یا مرد پر حکم چلائے بلکہ چُپ چاپ رہے۔ کیونکہ پہلے آدم بنایا گیا ۔ اُس کے بعد حوّا۔ اور آدم نے فریب نہیں کھایا بلکہ عورت فریب کھا کر گناہ میں پڑ گئی۔" غور کریں کہ پولس رسول تعلیم کے موضوعات اور فرض کردہ اختیار کے بارے میں بات کررہا ہے ۔ ایک عورت کو اس لحاظ سے " خاموش رہنا" ہے کہ وہ کلیسیا میں مردوں کو تعلیم نہ دے اور وہ سیکھنے کے ذریعہ سے اعلیٰ اختیار کے ماتحت رہنے کا اظہار کرے۔ دوسرے الفاظ میں خواتین کے لئے ہر طرح کی عبادات میں ہر وقت خاموش رہنے کا یہ قطعی حکم نہیں ہے۔

1کرنتھیوں 14 باب کے اس حوالے میں سیاق و سباق سے متعلق کچھ قابلِ غور باتیں بھی پائی جاتی ہیں ۔ اسی خط میں اس سے پہلے پولس رسول اُس صورت ِ حال کا ذکر کرتا ہے جس میں ایسا لگتا ہے کہ خواتین کو عام لوگوں میں دُعا اور نبوت کرنے کی اجازت دی گئی ہے : " اور جو عورت بے سر ڈھکے دُعا یا نبوت کرتی ہے وہ اپنے سر کو بے حرمت کرتی ہے کیونکہ وہ سرمنڈی کے برابر ہے "(1کرنتھیوں 11باب 5آیت)۔

مفسرین 1کرنتھیوں 11باب ( خواتین دُعا اور نبوت کرتی ہیں ) کو1کرنتھیوں 14باب ( خواتین خاموش ہیں ) کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے مختلف طریقے تجویز کرتے ہیں:

• 11باب ایمانداروں کے ایک چھوٹے سے گروہ کےلیے اُصول پیش کرتا ہے جبکہ 14باب تمام جماعت کےلیے اصول پیش کرتا ہے ۔

• 11باب لباس ( سر ڈھانکنے ) پر تابعداری کی علامت کے طور پر توجہ مرکوز کرتا ہے مگر اس حصے میں کسی عورت کے دُعا یا نبوت کرنے کی خوبی کا ذکر نہیں پایا جاتا –نبوت کرنے کے موضوع کے بارے میں اس کے بعد 14باب میں بات کی جاتی ہے ۔

• 11باب تسلیم کرتا ہے کہ کرنتھیس کی کلیسیا میں خواتین نے دُعا اور نبوت کی تھی مگر پولس رسول خواتین کے نبوت کرنے کے عمل کی حوصلہ شکنی کو 14باب کے لیے محفوظ رکھتا ہے ۔

مذکورہ بالا ہر تشریح کا نتیجہ ایک ہی ہے:1کرنتھیوں 14باب سکھا تا ہے کہ کلیسیائی جماعت میں خواتین کو خاموش رہنا چاہیے ۔

1کرنتھیوں 14باب پر غور و خوص کرنے سے ہم دیکھتے ہیں کہ مجموعی مقصد منظم کلیسیائی مجالس ہیں ۔ کرنتھس کلیسیا کے مجمع میں عدم استحکام کی وجہ سے مشہور تھا ( 33آیت)۔ ایسا لگتا ہے کہ کلیسیائی عبادت میں ہر شخص جب چاہے اور جیسے چاہے شامل ہو جاتا تھا ۔ غیر زبانیں بولنے والے بیک وقت بول رہے ہوتے اور کسی شخص کو اس بات کی تشریح کرنے کی کوئی فکر نہیں ہوتی تھی کہ کیا کہا جا رہا ہے ۔ وہ جو خیال کرتے تھے کہ اُن کے پاس خُدا کی طرف سے دیا گیا الہام ہے وہ غالباً بے ترتیبی سے چیخ رہے ہوتےیہاں تک کہ جوکچھ کہا جاتا وہ غالباً سنا نہیں جا سکتا تھا اور بظاہر کوئی بھی شخص اس بات کا اندازہ نہیں کر رہا تھا کہ نبوت کو پیش کیا جا رہا تھا ۔ کرنتھس کی کلیسیا میں ہونے والے مجمع میں افراتفری اُنکی واضح خصوصیت تھی اور کسی بھی شخص کی اصلاح یا ہدایت نہیں کی جارہی تھی (5، 12 اور 19آیات دیکھیں )۔ ان باتوں کی درستگی کےلیے پولس نے متعدد گروہوں کو بعض مواقع پر اور مخصوص حالات میں " خاموش رہنے " کی ہدایت کی تھی ۔

• 27-28آیات، وہ لوگ جو غیر زبانیں بولتے ہیں اُس وقت تک " خاموش رہیں " جب تک کوئی اور بول رہا ہے، اور اگر اُن کی غیر زبان کا ترجمہ کرنے والا کوئی شخص نہیں ہے تو بھی وہ خاموش ہی رہیں۔

• 29-32آیات، اگر کوئی اور کلام کر رہا ہے تو نبوت کی نعمت رکھنے والا شخص بھی خاموش رہے۔

• 34-35آیات مناسب تابعداری کے اظہار کےلیے خواتین کو " خاموش رہنا"چاہیے۔

جیسا کہ مفسر البرٹ بارنس بیان کرتا ہے کلیسیائی عبادت میں خواتین کے خاموش رہنے کا حکم " مثبت ، واضح اور عالمگیر ہے اس میں کوئی ابہام نہیں ہے " (Notes on the Bible)۔ 14باب میں جن دو مخصوص امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے وہ غیر زبانیں بولنا اور نبوت کرنا ہے اور یہ دو چیزیں بھی کلیسیا کے مجمع میں خواتین کے خاموش رہنے کی پابندی میں شامل ہونی چاہئیں ۔غیر زبانیں بولنے اور نبوت کرنے جیسے دونوں معاملات کیساتھ تعلیم دینا منسلک ہے اور تعلیم دینے کا عمل خاص رُوحانی اختیار کا تقاضا کرتا ہے۔ بائبل مقدس مستقل طور پر سکھاتی ہے کہ کلیسیا میں رُوحانی اختیار خدا کی تخلیق کی ترتیب کی بنیاد پر (1تیمتھیس 2باب 13آیت)مردوں کے لیے مخصوص ہے؛ لہذا خواتین کو کلیسیا کے عام مجمع میں غیر زبانیں بولنے اور نبوت کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ اگر وہ ایسا کریں تو اِس سے یہ مُراد ہوگا کہ اُنہوں نے مردوں پر رُوحانی اختیار کا رتبہ حاصل کر لیا ہے۔

1کرنتھیوں 11باب ، 1کرنتھیوں 14باب اور 1تیمتھیس 2باب سبھی ایک عالمگیر اصول کے طور پر گھر اور کلیسیا میں مرد کی رُوحانی سربراہی کا درس دیتےہیں ۔ پاسبان اور کلیسیائی بزرگ مرد ہوتے ہیں اور باقی کلیسیا کے ساتھ خواتین بھی اسی اختیار کے ماتحت ہیں ۔ خواتین کو کلیسیا کے لیے خدا کی طرف سے وضع کردہ ترتیب کو برقرار رکھنے کے لیے محتاط رہنا اور ثقافتی لحاظ سے مناسب طریقوں ( کرنتھس میں سر ڈھانکنے ) سے اس اختیار کےلیے اپنی تابعداری کا اظہار کرنا چاہیے ۔ کلیسیا میں ایک عورت بہت سے کردار ادا کر سکتی ہیں اور بائبل اُسے پرستش یا دُعا کرنے یا دیگر خدمات میں حصہ لینے سے منع نہیں کرتی ۔ لیکن خدا کے کلام کو پوری جماعت کے سامنے پیش کرنا اُس کے کردار میں شامل نہیں ہے ۔ یہ کام مردوں کے لیے مخصوص ہے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا عورتوں کو کلیسیا کے مجمع میں خاموش رہنا چاہیے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries