settings icon
share icon
سوال

خُدا پرست عورت/خُدا کی بندی ہونے سے کیا مُراد ہے ؟

جواب


سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ خدا کی بندی اصل میں خدا کی بیٹی ہے۔ خُدا کا فرزندہ بننا یسوع مسیح کے ساتھ نجات بخش تعلق کی بدولت ممکن ہوتا ہے (یوحنا 1باب 12آیت ؛ 3باب 16-18، 36آیات)۔ جب نجات کے لیے ہم یسوع پر ایمان لاتے ہیں تو ہم نئے مخلوق بن جاتے ہیں (2 کرنتھیوں 5باب 17آیت)۔ خُدا ہمیں اپنا رُوح القدس بخشتا ہے جو ہم میں کام کرتا اور ہمیں مزید مسیح کی مانند بننے کے لیے تبدیل کرتا ہے (یوحنا 14 باب 15-17آیات؛ 1 یوحنا 4باب 13آیت ؛ 2 کرنتھیوں 3باب 18آیت)۔ نہایت سادہ الفاظ میں خدا کی بندی سے مراد ایک ایسی عورت ہے جس نے یسوع مسیح کے وسیلہ سے نجات پائی ہے اور جو اپنی زندگی میں رُوح القدس کے کام کے تابع رہتی ہے۔ عملی طور پر یہ کیسا دکھائی دیتا ہے؟

خدا کی بندی خُدا کے کلام کو پڑھنے، اُس کے ساتھ دُعا کے وسیلے رابطہ رکھنے ، دوسرے ایمانداروں کے ساتھ رفاقت رکھنے اور درست تعلیم پانے کے ذریعے مزید اُسے جاننے کی کوشش کرے گی۔ وہ جانتی ہے کہ " ہر ایک صحیفہ جو خُدا کے اِلہام سے ہے تعلیم اور اِلزام اور اِصلاح اور راست بازی میں تربِیّت کرنے کے لئے فائِدہ مند بھی ہے۔ تاکہ مردِ خُدا کامِل بنے اور ہر ایک نیک کام کے لئے بِالکُل تیّار ہو جائے "(2تیمتھیس 3باب 16-17 آیات)۔ لہٰذا وہ یہ جاننے کی کوشش کرتی ہے کہ خدا کا کلام کیا فرماتا ہے۔ وہ خود کو " خُدا کے سامنے مقبول اور اَیسے کام کرنے والے کی طرح پیش کرنے کی کوشش (کرتی ہے ) جس کو شرمندہ ہونا نہ پڑے اور جو حق کے کلام کو درُستی سے کام میں (لاتی ہو) "(2تیمتھیس 2باب 15آیت)۔ وہ یعقوب کی اس نصیحت پر بھی غور کرتی ہے کہ : " کلام پر عمل کرنے والے بنو نہ محض سُننے والے جو اپنے آپ کو دھوکا دیتے ہیں" (یعقوب 1 باب 22آیت)۔

کلام کی باتوں کو عمل میں لانے کا ایک پہلو ایک فعال دعائیہ زندگی بسر کرنا بھی ہے۔ پولس رسول ہمیں ہدایت کرتا ہے کہ " کسی بات کی فِکر نہ کرو بلکہ ہر ایک بات میں تمہاری درخواستیں دُعا اور منّت کے وسیلہ سے شکرگُذاری کے ساتھ خُدا کے سامنے پیش کی جائیں۔ تو خُدا کا اِطمِینان جو سمجھ سے بِالکُل باہر ہے تمہارے دِلوں اور خیالوں کو مسیح یِسُوع میں محفُوظ رکھّے گا"(فلپیوں 4باب 6-7 آیات)۔ اسی طرح 1تھسلنیکیوں 5باب 16-18آیات کا کہنا ہے کہ "ہر وقت خُوش رہو۔ بِلاناغہ دُعا کرو۔ ہر ایک بات میں شکرگُذاری کرو کیونکہ مسیح یِسُوع میں تمہاری بابت خُدا کی یہی مرضی ہے "۔ خدا کی بندی شکر گزار دل کے ساتھ خُدا کے حضور آتی اور اپنی فکر یں خُدا پر ڈال دیتی ہے (1پطرس 5باب 7آیت)۔ چونکہ وہ خُدا کی قدرت اور اُس کی محبت پر بھروسہ کرتی ہے اِس لیے وہ اپنی شکرگزاری اور اپنی پریشانیوں کو اُس کے تخت کے سامنے لاتی ہے (عبرانیوں 4باب 14-16آیات)۔

خدا کی بندی دوسروں سے کثرت سے محبت رکھنے کے خدا کے احکامات کی تعمیل کرتی ہے۔ اُس کے الفاظ توہین آمیز یا ادھر اُدھر کی باتوں یا بد خواہی سے بھرے ہوئے ہونے کی بجائے دوسروں کی حوصلہ افزائی اور ترغیب کا باعث ہوتے ہیں (افسیوں 4باب 29آیت ؛ 1 پطرس 2باب 1-3آیات)۔ وہ مہربان، ہمدرد اور معاف کرنے والی ہے (افسیوں 4باب 32آیت)۔ وہ دوسرے ایمانداروں کا بوجھ اٹھانے میں مدد کرتی ہے (گلتیوں 6باب 2آیت ؛ رومیوں 12باب 15آیت)۔ اُسے جب بھی موقع ملتا ہے وہ سب کے ساتھ خصوصاً اُن لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنے کی کوشش کرتی ہے جو خدا کے خاندان میں ہیں (گلتیوں 6باب 10آیت)۔ وہ مغرور نہیں بلکہ عاجزی کے جذبے کے ساتھ زندگی بسر کرتی ہے (رومیوں 12باب 10، 16آیت؛ فلپیوں 2باب 5-11آیات)۔ وہ بڑبڑاتی یا بلاوجہ تکرار یا اختلاف ِ رائے کا باعث نہیں بنتی ہے بلکہ دوسروں کے ساتھ میل ملاپ میں رہنے کی کوشش کرتی ہے (رومیوں 12باب 16، 18آیات؛ فلپیوں 2باب 14آیت)۔

خدا کی بندی پطرس کی اس تعلیم پر عمل کرتی ہے کہ "مسیح کو خُداوند جان کر اپنے دِلوں میں مُقدّس سمجھو اور جو کوئی تم سے تمہاری اُمّید کی وجہ دریافت کرے اُس کو جواب دینے کے لئے ہر وقت مستعِد رہو مگر حِلم اور خَوف کے ساتھ۔ اور نیّت بھی نیک رکھّو تاکہ جن باتوں میں تمہاری بدگوئی ہوتی ہے اُن ہی میں وہ لوگ شرمِندہ ہوں جو تمہارے مسیحی نیک چال چلن پر لَعن طعن کرتے ہیں "(1پطرس3باب 15-16آیات)۔ وہ کوشش کرتی ہے کہ "اُن جسمانی خواہشوں سے پرہیز کرے جو رُوح سے لڑائی رکھتی ہیں۔ اور غیر قَوموں میں اپنا چال چلن نیک رکھے تاکہ جِن باتوں میں وہ اُسے بدکار جان کر اُسکی بدگوئی کرتے ہیں اُسکے نیک کاموں کو دیکھ کر اُن ہی کے سبب سے مُلاحظہ کے دِن خُدا کی تمجِید کریں " (1 پطرس 2باب 11-12 آیات)۔

خدا کی بندی اُس کام کو مستعدی سے سرانجام دیتی جو خدا نے اُسے سونپا ہے (رومیوں 12باب 11آیت )۔ اگر وہ عمر رسیدہ ہےتو وہ جوان عورتوں کے لیے ایک نمونے کے طور پر زندگی بسر کرتی ہے (ططس 2باب 3-5آیت)۔ وہ دوسرے ایمانداروں کی حوصلہ افزائی کرنے اور اُن سے تحریک پانے کے لیے اُن کے ساتھ وقت گزارتی ہے (عبرانیوں 10باب 24-25آیات)۔ وہ تابعدار ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ " ایک دوسرے کے تابع " رہنے کے موقف کو اختیار کرتی ہے کیونکہ تمام مسیحیوں کو اس کے لیے کہا گیا ہے (افسیوں 5باب 21آیت )۔ وہ پطرس کے حکم پر عمل کرتی ہے کہ " خُداوند کی خاطِر اِنسان کے ہر ایک اِنتِظام کے تابع رہو۔ ۔۔۔۔۔ کیونکہ خُدا کی یہ مرضی ہے کہ تُم نیکی کر کے نادان آدمیوں کی جہالت کی باتوں کو بند کر دو۔ اور اپنے آپ کو آزاد جانو مگر اِس آزادی کو بدی کا پردہ نہ بناؤ بلکہ اپنے آپ کو خُدا کے بندے جانو۔ سب کی عِزت کرو۔ برادری سے مُحبّت رکھّو۔ خُدا سے ڈرو۔ بادشاہ کی عِزت کرو "(1پطرس 2 باب 13-17آیات)۔ وہ جانتی ہے کہ وہ مسیح میں نہایت اہمیت کی حامل ہے (گلتیوں 3باب 28 آیت) اور اپنی مرضی کو نظر انداز کر کے اُس کے نقشِ قدم پر چلنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ اگر وہ شادی شدہ ہےتو وہ اپنے شوہر کو خاندان کی قیادت کرنے دیتی ہے (افسیوں 5باب21-33آیات؛ 1پطرس 3باب 1-2آیات)۔ وہ اپنے والدین کی عزت کرتی ہے (افسیوں 6باب 1-3آیات) اور اگر اُس کے بچّے ہیں تو وہ اُن سے پیا ر کرتی ہے (ططس 2باب 3-5آیات؛ 1 تیمتھیس 5باب 14آیت)۔ وہ اپنے گھر کا انتظام الٰہی اصولوں کے مطابق اور نہایت عمدگی سے کرتی ہے (ططس 2باب 3-5آیات؛ امثال 14باب 1آیت ؛ 31باب)۔

خُدا کی بندی کی خوبصورتی اُس کی "باطِنی اور پوشیدہ اِنسانیّت حِلم اور مِزاج کی غُربت کی غَیرفانی آرایش سے آراستہ( ہے ) کیونکہ خُدا کے نزدِیک اِس کی بڑی قدر ہے "(1 پطرس 3 باب 3-4آیات)۔اور آخر میں خدا کی بندی ایک جاری کام ، خُدا کا شاہکار ہے جس نے اُس کے فضل سے ایمان کے وسیلہ سے نجات پائی ہے (افسیوں 2باب 8-10آیات)اورجو جب مسیح کو جاننے اور اُس کی فرمانبرداری کرنے کی کوشش کرتی ہےتو مزید اُسکی ہم شکل بنتی جاتی ہے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

خُدا پرست عورت/خُدا کی بندی ہونے سے کیا مُراد ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries