settings icon
share icon
سوال

معافی کے تعلق سے جان بوجھ کر کئے گئے گناہ اور نادانستہ طور پر کئے گئے گناہ میں کیا فرق ہے ؟

جواب


اگرچہ خُدا لاعلمی کی وجہ سے گناہ کرنے والوں اور دیدہ و دانستہ طور پر گناہ کرنے والوں میں فرق کرتا ہے (گنتی 15باب27-31 آیات)، لیکن معافی حاصل کرنے کے لیے ہمیشہ ہی توبہ کی ضرورت ہوتی ہے (مرقس 1باب15 آیت؛ اعمال 2باب38 آیت؛ اعمال 26باب18 آیت)۔ توبہ حقیقی طو رپر کسی شخص کے خُدا کے بارے میں رویے میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ مسیح پر نجات بخش ایمان لانا ہے (اعمال 3باب19 آیت؛ 20باب21 آیت؛ 26باب20 آیت)۔ اِس کے بغیر معافی نہیں مل سکتی۔ خُداوند یسوع نے کہا ہے کہ " مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ نہیں بلکہ اگر تُم تَوبہ نہ کرو گے تو سب اِسی طرح ہلاک ہو گے " (لوقا 13باب3 آیت؛ بالموازنہ 17باب3-4 آیات؛ 2 پطرس 3باب9 آیت)۔

جان بوجھ کر گناہ کرنا ، تکبر، بے جا فخراور گستاخ بن کر خُدا کے حکم کی خلاف ورزی کرنا ہے (19 زبور 13 آیت؛ عبرانیوں 10باب26 آیت)۔ جان بوجھ کر کیا گیا گناہ جلد یا بدیر خُدا کی طرف سے عدالت کا سبب بنتا ہے، لیکن نا دانستہ طور پر کئے گئے گناہ معاف کئے جا سکتے ہیں: "اِس لئے مَیں یہ کہتا ہُوں اور خُداوند میں جتائے دیتا ہُوں کہ جس طرح غَیر قَومیں اپنے بیہودہ خیالات کے مُوافِق چلتی ہیں تم آیندہ کو اُس طرح نہ چلنا۔کیونکہ اُن کی عقل تارِیک ہو گئی ہے اور وہ اُس نادانی کے سبب سے جو اُن میں ہے اور اپنے دِلوں کی سختی کے باعِث خُدا کی زِندگی سے خارِج ہیں۔اُنہوں نے سُن ہو کر شہوت پرستی کو اِختیار کِیا تاکہ ہر طرح کے گندے کام حِرص سے کریں " (افسیوں 4باب17-19 آیات؛ مزید دیکھئے اعمال 3باب17-19 آیات؛ اعمال 17باب 30-31 آیات)۔ ہر کسی کے لیے معافی دستیاب ہے لیکن ہم یہ بات خُدا کے خود مختار فضل پر چھوڑتے ہیں کہ وہ گناہ کرنے والے شخص کو اپنی لامحدود معافی کے حصول کے لیے صحیح معنوں میں توبہ کرنے پر آمادہ کرے(افسیوں 2باب4 آیت)۔

وہ جو نادانی /لاعلمی میں خُداوند یسوع مسیح اور اُس کی انجیل کو رَد کرتے ہیں اُنہیں اپنے گناہوں کی معافی حاصل کرنے کے لیے توبہ کر کے اُسے قبول کرنے کی ضرورت ہے۔ خُداوند یسوع نےاِس بات کو بالکل وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے کہ " راہ اور حق اور زِندگی مَیں ہُوں ۔ کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا " (یوحنا 14باب6 آیت)۔ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی شخص لا علمی کی وجہ سے اپنا راستہ کھو دیتا ہے یا پھر دانستہ طور پربغاوت کرتے ہوئے غلط راستے پر چلا جاتا ہے -اُس نے دونوں صورتوں میں اصل راہ کو کھو دیا ہے۔

تاہم لوگ اتنے لا علم نہیں ہیں جتنے لا علم ہونے کا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔ کوئی بھی خُدا کی ذات سے بالکل بھی نا واقف نہیں ہو سکتا، اور کسی بھی شخص کے پاس نافرمانی کی زندگی گزارنے کا کوئی بہانہ نہیں ہے۔ پولس رسول نے کہا ہے کہ " کیونکہ خُدا کا غضب اُن آدمیوں کی تمام بے دِینی اور ناراستی پر آسمان سے ظاہر ہوتا ہے جو حق کو ناراستی سے دبائے رکھتے ہیں۔کیونکہ جو کُچھ خُدا کی نِسبت معلُوم ہو سکتا ہے وہ اُن کے باطن میں ظاہِر ہے ۔ اِس لئے کہ خُدا نے اُس کو اُن پر ظاہِر کر دِیا۔کیونکہ اُس کی اَن دیکھی صفتیں یعنی اُس کی ازلی قُدرت اور الُوہِیت دُنیا کی پَیدایش کے وقت سے بنائی ہُوئی چیزوں کے ذرِیعہ سے معلُوم ہو کر صاف نظر آتی ہیں ۔ یہاں تک کہ اُن کو کُچھ عُذر باقی نہیں" (رومیوں 1باب18-20 آیات)۔

اگرچہ ہم بعض اوقات لاعلمی کی وجہ سے نا دانستہ طور پر گناہ کر سکتے ہیں لیکن ہم ہمیشہ ہی معافی پانے کا یقین کر سکتے ہیں۔ پولس رسول اِس سچائی کی ایک بہترین مثال ہے: "ا گرچہ مَیں پہلے کُفر بکنے والا اور ستانے والا اور بے عِزت کرنے والا تھا تَو بھی مجھ پر رَحم ہُؤا اِس واسطے کہ مَیں نے بے اِیمانی کی حالت میں نادانی سے یہ کام کئے تھے " (1 تیمتھیس 1باب 13 آیت)۔ پھر بھی جو لوگ جان بوجھ کر عادتاً گناہ کرتے ہیں اُن کے لیے پطرس واضح کرتا ہے کہ " اور جب وہ خُداوند اور مُنّجی یسُو ع مسیح کی پہچان کے وسیلہ سے دُنیا کی آلُودگی سے چُھوٹ کر پِھر اُن میں پھنسے اور اُن سے مغلُوب ہُوئے تو اُن کا پچھلا حال پہلے سے بھی بدتر ہُوا۔کیونکہ راست بازی کی راہ کا نہ جاننا اُن کے لئے اِس سے بہتر ہوتا کہ اُسے جان کر اُس پاک حکم سے پِھر جاتے جو اُنہیں سَونپا گیا تھا" (2 پطرس 2باب20-21 آیات)۔

یوحنا معافی کے معاملے پر ہمارے سامنے وضاحت پیش کرتا ہے:" اگر ہم کہیں کہ ہم بے گُناہ ہیں تو اپنے آپ کو فریب دیتے ہیں اور ہم میں سچّائی نہیں۔اگر اپنے گُناہوں کا اِقرار کریں تو وہ ہمارے گُناہوں کے مُعاف کرنے اور ہمیں ساری ناراستی سے پاک کرنے میں سچّا اور عادِل ہے " (1 یوحنا 1باب8-9 آیات)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

معافی کے تعلق سے جان بوجھ کر کئے گئے گناہ اور نادانستہ طور پر کئے گئے گناہ میں کیا فرق ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries