مَیں اپنی زندگی کے لیے خُدا کی مرضی کو کیسے جان سکتا ہوں؟خُدا کی مرضی جاننے کے حوالے سے بائبل کیا کہتی ہے؟


سوال: مَیں اپنی زندگی کے لیے خُدا کی مرضی کو کیسے جان سکتا ہوں؟خُدا کی مرضی جاننے کے حوالے سے بائبل کیا کہتی ہے؟

جواب:
خُدا کی مرضی جاننا بہت ضروری ہے۔ خُداوند یسوع نے کہا ہے کہ اُس کے حقیقی رشتے دار وہ ہیں جو خُدا کی مرضی پر چلتے ہیں: "کیونکہ جو کوئی خُدا کی مرضی پر چلے وُہی میرا بھائی اور میری بہن اور ماں ہے" (مرقس 3باب35آیت) ۔ دو بیٹوں کی تمثیل میں یسوع سردار کاہن اور بزرگوں کی سرزنش اِس لیےکرتا ہے کہ وہ خُدا کی مرضی کو پورا کرنے میں ناکام ہوئے ہیں؛ بالخصوص وہ "نہ تو پچھتائے اور نہ اُس کا یقین کیا" (متی (21باب32آیت)۔ خُدا کی مرضی کو جاننے کا بنیادی ترین مقام تو یہ ہے کہ ہم اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور خُداوند یسوع مسیح پر ایمان لائیں۔ اگر ہم نے پہلا اور بنیادی ترین قدم ہی نہیں اُٹھایا ، تو پھر ہم نے خُدا کی مرضی کو قبول نہیں کیا۔

جب ہم مسیح کو ایمان کے ساتھ قبول کر لیتے ہیں تو ہم خُدا کے فرزند بن جاتے ہیں (یوحنا 1باب12آیت)، اور پھر وہ ہمیں اپنی مرضی پر چلانا چاہتا ہے (143زبور 10آیت)۔ خُدا ہم سے اپنی مرضی کو چھپاتا نہیں بلکہ وہ اُسے ہم پر ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اُس نے اپنے کلام میں بہت سارے طریقوں سے اپنی مرضی ہم پر ظاہر کرنے کے لیے بہت ساری ہدایات دی ہیں۔ ہمیں "ہر ایک بات میں خُدا کی شکر گزاری کرنے کی ضرورت ہے" کیونکہ ہماری بابت یہی خُد اکی مرضی ہے "(1تھسلنیکیوں 5باب18 آیت)۔ خُدا کی مرضی یہ ہے کہ ہم نیکی کریں (1 پطرس 2بب15آیت)۔ اور "چُنانچہ خُدا کی مرضی یہ ہے کہ تُم پاک بنو یعنی حرام کاری سے بچے رہو" (1 تھسلنیکیوں 4باب3آیت)۔

خُدا کی مرضی قابلِ دریافت ہے اور اُسے ثابت کیا جا سکتا ہے۔رومیوں 12باب 2 آیت بیان کرتی ہے کہ "اور اِس جہان کے ہمشکل نہ بنو بلکہ عقل نئی ہو جانے سے اپنی صُورت بدلتے جاؤ تاکہ خُدا کی نیک اور پسندیدہ اور کامِل مرضی تجربہ سے معلوم کرتے رہو۔" اِس حوالے میں ہمیں ایک بہت اہم تسلسل دیکھنے کو ملتا ہے: خُدا کا فرزند اپنے آپ کو دُنیا کا ہمشکل بنانے سے انکار کرتا ہے اور اِس بات کی اجازت دیتا ہے کہ خُدا کا رُوح اُسے اپنی مرضی سے تبدیل کرے۔ جب اُس کا ذہن خُدا کے متعلق باتوں اور چیزوں کے مطابق تبدیل ہو جاتا ہے "پھر" وہ خُدا کی کامل مرضی کو جان سکتا ہے۔

جب ہم خُدا کی مرضی کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں اِس بات کی یقین دہانی ضرور کر لینی چاہیے کہ جو کچھ ہم سوچ یا چاہ رہے ہیں کیا بائبل اُس سے منع تو نہیں کرتی۔ مثال کے طور پر بائبل چوری سے منع کرتی ہے؛ اب جبکہ خُدا نے اِس حوالے سے بڑے واضح طور پر اپنے کلام میں بیان کر دیا ہے تو پھر ہم جانتے ہیں کہ یہ اُس کی مرضی "نہیں" ہے کہ ہم چوری کریں ، بینک لوٹیں – ہمیں ایسے کسی کام میں مدد کے لیے خُدا سےدُعا کرنے کی بھی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مزید ہمیں یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ جو کچھ ہم کرنے کا سوچ رہے ہیں اُس سے خُدا کے نام کو جلال ملنا چاہیے اور ہماری اپنی اور ہمارے ساتھ دیگر لوگوں کی رُوحانی ترقی ہونی چاہیے۔

کئی دفعہ خُدا کی مرضی کو جاننا مشکل ہوتا ہے کیونکہ بہت دفعہ اِس کے لیے کافی صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ فطری سی بات ہے کہ ہم اکثر یہ چاہتے ہیں کہ ہم ایک ہی بار خُدا کی ساری مرضی یا ہر ایک چیز کے بارے میں اُسکی مرضی کو جان لیں لیکن حقیقت میں ایسا ممکن نہیں ہے۔ وہ اکثر ایک وقت میں ایک چیز کے بارے میں ہم پر اپنی مرضی کو ظاہر کرتا ہے یعنی ایک وقت میں ایک قدم – ہر دفعہ ہم ایک قدم آگے بڑھتے ہیں – اور یہ چیز ہمیں خُدا پر زیادہ بھروسہ کرنے میں مدد کرتی ہے۔ یہاں پر اہم چیز یہ ہے کہ جب ہم خُدا سے مزید آگے کے لیے ہدایت کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں تو ہم اُس سارے عرصے میں وہ نیک کام کرنے میں مصروف ہوتے ہیں جو اُس کی مرضی ہے (یعقوب 4باب 17 آیت)۔

بہت دفعہ ہم چاہتے ہیں کہ خُدا ہمیں مخصوص چیزوں یا کاموں کے حوالے سے بالکل واضح طور پر سب کچھ بتا دے – جیسے کہ کہاں پر کام کریں، کہاں پر رہیں، کس سے شادی کریں، کونسی کار خریدیں وغیرہ وغیرہ۔ خُدا ہمیں انتخاب کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اور اگر ہم اپنےآپ کو اُس کے تابع رکھتے ہیں تو وہ ہم پر مختلف طریقوں سے ہمارے غلط انتخابات کو بھی ظاہر کر دیتا ہے (دیکھئے اعمال 16باب 6-7آیات)۔

جس قدر زیادہ ہم کسی شخص کو جانتے ہوں اُسی قدر زیاہ ہم اُس شخص کی خواہشات اور مرضی کو جان سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی بچّے کی گیند اچھلتی ہوئی گلی کے دوسری طرف دور چلی جاتی ہے ، تو وہ خود اُس کے پیچھے بھاگ کر نہیں جاتا کیونکہ وہ یہ بات جانتا ہے کہ "میرے ابو /پاپا کو میرا ایسا کرنا پسند نہیں آئے گا۔"اُس کو ہر ایک صورتحال میں اپنے باپ کی مرضی کو پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ وہ بہت ساری باتوں میں یہ جانتا ہوتا ہے کہ اُس کا باپ کیا کہے گا کیونکہ وہ اپنے باپ کو بخوبی جانتا ہے۔ خُدا کے ساتھ ہمارے اِس تعلق کے حوالے سے بھی یہی بات بالکل سچی ثابت ہوتی ہے۔ جب ہم خُدا کے ساتھ چلتے ہیں، اُس کے کلام کی تابعد اری میں زندگی گزارتے ہیں اور اُس کے رُوح پر بھروسہ کرتے ہیں، تو ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں مسیح کی عقل عطا کر دی گئی ہے (1 کرنتھیوں 2باب16آیت)۔ ہم اُسے جانتے ہیں اور یہ بات ہمیں اُس کی پاک مرضی کو جاننے میں مدد کرتی ہے۔ ایسے میں ہمیں خُدا کی طرف سے اُسکی رہنمائی بالکل تیار اور میسر ملتی ہے "کامِل کی صداقت اُس کی راہنمائی کرے گی لیکن شرِیر اپنی ہی شرارت سے گر پڑے گا" (امثال 11باب5آیت)۔

اگر ہم خُدا کی نزدیک میں اُس کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں اور اپنی زندگیوں کے لیے اُس کی پاک مرضی چاہتے ہیں، خُدا اپنی مرضی کو ہمارے دل میں رکھ دے گا۔ یہاں پر اہم جانے والی بات یہ ہے کہ ہمارے اندر خُدا کی مرضی کو پورا کرنے کی خواہش ہونی چاہیے، نہ کہ اپنی مرضی کو۔ "خُداوند میں مسرور رہ اور وہ تیرے دِل کی مُرادیں پُوری کرے گا"(37زبور 4آیت)۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
مَیں اپنی زندگی کے لیے خُدا کی مرضی کو کیسے جان سکتا ہوں؟خُدا کی مرضی جاننے کے حوالے سے بائبل کیا کہتی ہے؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں