settings icon
share icon
سوال

دُعا کیوں کرنی چاہیے؟ اگر خُدا پہلے ہی سے جانتا ہے کہ ہم اُس سے کیا مانگنے جا رہے ہیں تو پھر دُعا مانگنے کا مقصد کیا ہے؟ کیا دُعا کسی چیز کو تبدیل کر سکتی ہے؟

جواب


دُعا کرنا مسیحیوں کےلیے سانس لینے کے عمل کی طرح خیال کیا جاتا ہے کیونکہ سانس روکنے کی نسبت سانس لینا زیادہ آسان ہے ۔ ہم بہت سی وجوہات کی بناء پر دُعا کرتے ہیں ۔ پہلی بات یہ کہ دُعا کرنا خداوند کی خدمت ( لوقا 2باب 36-38آیات)اورفرمانبرداری کرنے کی ایک شکل ہے۔ ہم اِس لیے بھی دُعا کرتے ہیں کیونکہ خدا نے ہمیں دُعا کرنے کا حکم دیا ہے ( فلپیوں 4باب 6-7آیات)۔ یسوع مسیح اور ابتدائی کلیسیا کا دُعا کرنا ہمارے لیے ایک بہترین نمونہ ہے (مرقس 1باب 35آیت؛ اعمال 1باب 14آیت؛ 2باب 42آیت؛ 3باب 1آیت؛ 4باب 23-31آیات؛ 6باب 4آیت؛ 13باب 1- 3آیات)۔ یہ دیکھیں کہ اگر خُداوند یسوع مسیح سوچتا تھا کہ دُعا کرنا کارآمد ہے تو ہمیں بھی دُعا کرنی چاہیے ۔

دُعا کرنے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ خدا چاہتا ہے کہ مختلف حالات میں ہمارا دُعا کرنااُس کی طرف سےہماری مشکلات کے حل کا ذریعہ بن جائے ۔ ہم اہم ترین فیصلوں کی تیاری میں (لوقا 6باب 12-13آیات)؛ ابلیسی رکاوٹوں پر غالب آنے کےلیے (متی 17باب 14-21آیات)؛ روحانی خدمت کےلیے خادمین کے اکٹھے ہونے (لوقا 10باب 2آیت)؛ آزمائش پر فتح پانےکی خاطر قوت کے حصول کےلیے ( متی 26باب 41آیت) اوردوسرے ایمان داروں کو رُوحانی طور پر مضبوط کرنے کی خاطر وسائل کے حصول کےلیے دُعا کرتے ہیں (افسیوں 6باب 18-19آیات)۔

ہم خاص التجاؤں کے ساتھ خداوند کے حضورمیں آتے ہیں اور ہمارے لیے خدا کا وعدہ ہےکہ چاہے ہمیں وہ سب نہ بھی ملے جو ہم خُدا سے مانگ رہے ہیں پھر بھی ہماری دُعائیں رائیگاں نہیں جائیں گی( متی 6باب 6آیت؛ رومیوں 8باب 26-27آیات)۔ اُس نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ اگر ہم اُس کی مرضی کے مطابق مانگتے ہیں تو وہ ہمیں ضرور عطا کرے گا (1یوحنا 5باب 14-15آیات)۔ کبھی کبھار خدا اپنی حکمت اور ہمارے فائدے کے پیش ِ نظر ہماری دُعا کے جواب میں دیر بھی کرتا ہے ۔ ایسی صورت میں ہمیں دُعا کرنے میں اور زیادہ جانفشانی اور مستقل مزاجی کا اظہار کرنا چاہیے ( متی 7باب 7آیت؛ لوقا 18باب 1-8آیات)۔ دُعا کو ہمیں ایک ایسے ذریعے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے جس کے وسیلہ سے ہم زمین پر اپنے مرضی پوری کرنے لیے خدا کو مجبور کریں بلکہ دُعا ایک ایسا ذریعہ ہونا چاہیے جس کے وسیلہ سے زمین پر خدا کی مرضی پوری ہو۔ کیونکہ خدا وندکی حکمت ہماری عقل مندی سے کہیں بڑھ کر ہے ۔

بالخصوص ایسے حالات میں جب ہم خداوند کی مرضی کو نہیں جانتے دُعا اُس کی مرضی کو جاننے کا ایک بہترین ذریعہ ہے ۔ اگر اُس سُورفینیکی عورت نے جس کی بیٹی بدرُوح کے قبضہ میں تھی مسیح یسوع سے درخواست نہیں کی ہوتی تو اُسکی بیٹی کو شفا نہ ملتی(مرقس 7باب 26- 30آیات)۔اگر اُس اندھے آدمی نے جو یریحو کے راہ میں بھیک مانگ رہا تھا یسوع کو نہ پکارا ہوتا تو وہ اندھا ہی رہا جاتا( لوقا 18باب 35-43آیات)۔ خُداوند کے کلام میں لکھا ہے کہ "تمہیں اِس لیے نہیں ملتا کہ مانگتے نہیں۔" ( یعقوب 4باب 2آیت)۔ ایک لحاظ سے دُعا کرنا بھی لوگوں کے ساتھ انجیل کی خوشخبری بانٹنے کی مانند ہے ۔ جب تک ہم انجیل کی خوشخبری بانٹتے نہیں تو اُس وقت تک ہم یہ بھی نہیں جان سکتے کہ اس کے پیغام پر کون ردِ عمل ظاہر کرے گا ،دُعا کرنے سے پہلے ہم اُس کے نتائج کو کبھی نہیں دیکھ سکتے ۔

دُعا میں کمی ایمان اور خدا کے کلام پر اعتماد کی کمی کا ثبوت ہے ۔ہم خداوند پر اِس ایمان کے اظہار کےلیے دُعا کرتے ہیں کہ جیسا اُس نے اپنے کلام میں وعدہ کیا ہےوہ ویسا ہی کرے گا کیونکہ وہ ہمیں ہمارے خیال اور درخواست سے بہت بڑھ کر دینے کی قدرت رکھتا ہے۔ ( افسیوں 3باب 20آیت)۔ دُعا دوسروں کی زندگیوں میں خدا کے کام کو دیکھنے کا ہمارا بنیاد ی ذریعے ہے ۔ کیونکہ اپنے آپ میں ہم بہت کمزور ہیں اور دُعا کرنا خدا کی قوت " میں جُڑنے " کا طریقہ ہے اس لیے یہ ہمارے لیے ابلیس اور اُس کی فوجوں کو شکست دینے کا ذریعہ ہے ۔ اِس لیے ضروری ہے کہ خدا اکثر ہمیں اپنے تخت کے سامنے جھکا پائے کیونکہ آسمان پر ہماراا یسا سردار کاہن موجود ہے جو ہماری تمام کمزوریوں میں ہمارے ساتھ ہے(عبرانیوں 4باب 15- 16آیات)۔ ہمارے پاس اُس کا وعدہ ہے کہ ایک راستبازکی دُعا کے اثر سے بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ ( یعقوب 5باب 16-18آیات)۔ جب ہم بڑے ایمان کے ساتھ دُعا کےلیے اُس کے حضور آتے ہیں تو خدا ہماری زندگیوں میں اپنے نام کو جلال بخشےگا ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

دُعا کیوں کرنی چاہیے؟ اگر خُدا پہلے ہی سے جانتا ہے کہ ہم اُس سے کیا مانگنے جا رہے ہیں تو پھر دُعا مانگنے کا مقصد کیا ہے؟ کیا دُعا کسی چیز کو تبدیل کر سکتی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries