settings icon
share icon
سوال

اگر ازدواجی زندگی اتنی مشکل ہے، تو آخر مَیں اس کے بارے میں کیوں سوچوں ؟

جواب


" بیاہ کرنا سب میں عزّت کی بات سمجھی جائے "(عبرانیوں 13باب 4آیت)۔ ایک بائبلی شادی، جوایک مرد اور ایک عورت پر مشتمل محبت کا حامل زندگی بھر کا عہد ہے ،قابل ِ عزت اور الٰہی دستور ہے۔ جذباتی اُتار چڑھاؤ آتے اور جاتے رہتے ہیں اور دنیا کے اپنے تعصبات ہیں لیکن شادی کے حوالے سے خدا کا منصوبہ اب بھی معاشرے کی تعمیر کی بنیادی اکائی ہے۔

بدقسمتی سے، کچھ لوگ بطورِ دستور شادی پر سے اپنا اعتماد کھو رہے ہیں۔ حتیٰ کہ کچھ ایسے لوگ جو خود کو مسیحی کہتے ہیں شادی کو " ایک بے فائدہ عمل " قرار دیتے ہیں جس کے نتیجے میں پچھتاوا ہونا طے ہے۔ کچھ لوگ اِس مایوس کن نظریے کے حامل ہیں کہ زندگی بھر کا عہد کرنا بے وقوفی ہے کیونکہ دوسرا شخص تبدیل ہو سکتا ہے - ہم نہیں جانتے کہ ہمارا شریک حیات اگلے بیس یا حتی ٰ کہ پانچ سالوں بعد کیسا ہو گا۔ وہ مکمل طور پر مختلف شخص ہو سکتا/ سکتی ہے - کیا ہم اپنی جوانی میں کیے گئے کسی عہد پر قائم رہیں گے؟

اگر شادی کا مقصد محض کسی مرد یا کسی عورت کی ذاتی خواہشات کی تسکین ہوتا تو مقدس شادی کی وضاحت صرف اور صرف اس صورت "احمقانہ" عمل کے طور پر درست ٹھہر سکتی تھی ۔ لیکن ایک بائبلی شادی خود غرضی پر مبنی عہد نہیں ہے۔ شادی کا عہد زندگی بھر محبت وصول کرنے کا عہد نہیں ہے۔ بلکہ یہ محبت نچھاورکرنے کا عہد ہے۔ شادی زندگی بھر محبت دینے کا عہد ہے۔ یہ دوسرے شخص کے فائدے کے لیے جینے، اپنے پیارے کے ساتھ ساتھ رہنے اور اُس کی تقویت کرنے کا عزم ہے۔ یہ دینے ، دینے ، دینے اوریہاں تک کہ اپنی جان تک دے دینے کا عہد ہے (افسیوں 5باب 25 آیت)۔

اِس سے بھی زیادہ بنیادی بات یہ ہے کہ شادی انسان کی ایجاد نہیں ۔ بلکہ یہ خدا کی ایجاد ہے ۔ جب خُدا نے بنی نوع انسان مرد اور عورت کو بنایا، اُنہیں باغ ِ عدن میں رکھا اور اُن کو شادی کے عہد میں باندھا تو اُس کے ذہن میں ایک خاص مقصد تھا۔ شادی کا سب سے اہم مقصد ایسے اور انسان پیدا کرنا تھا جو خدا کا نام لیں گے اوراُس کی شبیہ کو منعکس کریں گے (پیدایش 1باب 26-28آیات؛ 2باب 22-24آیات)۔ انسانی افزائش ِ نسل متحد جوڑے آدم اور حوّا کے لیے خدا کا پہلا بیان کردہ حکم تھا۔ شادی یعنی خُدا کا پہلا اور سب سے بنیادی دستورخاندانی اکائی کی بنیاد بننے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔

مزید برآں، خُدا کی مکمل صور ت و شبیہ کو صحیح اور پورے طور پر منعکس کرنے کے لیے بنی نوع انسان کو دو جنسوں " نر و ناری " کی صورت میں پیداکیا گیا تھا (پیدایش 1باب 27آیت )۔ بنی نوع انسان میں خدا کے کردار کی مکمل عکاسی دونوں جنسوں - مرد اور عورت کا تقاضا کرتی ہے۔ شادی ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے وسیلہ سے دونوں جنسوں کا سب سے قریبی تعلق قائم ہوتا ہے۔ جب مرد اور عورت شادی میں متحد ہوتے ہیں تو وہ مل کر مسیح اور کلیسیا کی تصویر کو پیش کرتے ہیں (افسیوں 5باب 22-32آیات)۔ شادی رومانوی شادمانی یا رفاقت یا جنسی ملاپ سے کہیں بڑھ کر ہے۔

جب خدا ایمانداروں کی رہنمائی کرتا ہے تو وہ ایک دوسرے کے ساتھ ازدواجی رفاقت میں حقیقی شادمانی پاتے ہیں ۔ ہاں ، ماہِ عروسی ختم ہو جائے گا۔ ہاں، دونوں میاں بیوی اس لحاظ سے کچھ مختلف ثابت ہوں گے جیسے وہ شادی کے تعلق سے کی جانے والی ملاقاتوں کے دوران ایک دوسرے کے سامنے ظاہر ہوئے تھے ۔ جی ہاں، دونوں میاں بیوی جلد یا بدیر ایک دوسرے کی کسی نہ کسی بات سے مایوس ہو جائیں گے۔ ہاں، لوگ زندگی بھر تبد یل ہوتے رہتے ہیں اور یہ تبدیلی ہمیشہ بہتر ثابت نہیں ہوتی ۔ مگر جب خدا نے شادی کی ایجاد کی تو اُس کے ذہن میں اچھا -پیدایش کی کتاب کے مطابق "بہت اچھا" تصور تھا ۔ یہاں تک کہ خدا اپنے لوگوں کے ساتھ اپنےتعلق کے لیے شادی کو بطور استعارہ استعمال کرتا ہے (ہوسیع 2باب 19-20 آیات)۔

شادی ہر شریک ِ حیات کی کمزوریوں کو عیاں کر دیتی ہے۔ آزمایشیں اور مشکل حالات رونما ہوں گے۔ وعدوں کی مضبوطی کا امتحان ہو گا۔ لیکن ہم ایمان سے جیتے ہیں (2 کرنتھیوں 5باب 7آیت )۔ شادی بنی نوع انسان کے لیے خدا کا دستور ہے۔ اگر خدا نے اسے ایجاد کیا ہے، اگر اُس نے اِسے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے قائم کیا ہے اور اگر وہ اس میں شامل ہے تو یہ اچھا ہے۔ ہمیں شادی کے تصور کو صرف اس لیے ترک نہیں کرنا چاہیے کہ کچھ لوگ اس سے وہ مقاصد حاصل نہیں کر پائے جو انہوں نے سوچا تھا کہ وہ اس میں پائیں گے ۔ کیونکہ دنیا میں لینے والے نہیں بلکہ دینے والے تکمیل پاتے ہیں (اعمال 20باب 35آیت )۔ وہ لوگ جو خُدا کے فضل کے وسیلے مسیح کی خود ایثارانہ محبت کے نمونے کی تقلید کرتے ہیں وہ شادی کے عہد کو اچھا پائیں گے۔ اس کے لیے کچھ قیمت چکا نی ہو گی - درحقیقت، ا س کے لیے بھاری قیمت چُکانی ہو گی! لیکن خود کو دے دینے کی بدولت ہی ہم مسیح میں زندگی کا اعلیٰ مفہوم پاتے ہیں۔

مندرجہ بالا بیانات میں سے کسی کا بھی یہ مطلب نہیں کہ ہر ایماندار کے لیے شادی کرنا ضروری ہے ۔ خدا جانتا ہے کہ کچھ لوگوں کے لیے شادی نہ کرنا بہتر ہے اور کچھ حالات شادی کو غیر ضروری بنا دیتے ہیں۔ دیکھیں 1کرنتھیوں 7باب۔ کوئی اکیلا شخص دیگر اور طریقوں سے خود ایثارانہ محبت کااظہار کرتا ہے مگر پھر بھی خدا کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ شادی سب کے لیے نہیں ہے لیکن شادی بذاتِ خود ایک الٰہی دستور ہے جس کا احترام کیا جانا چاہیے۔

شادی کو بد حال نہیں ہونا چاہیے اور اگر ہم سمجھتے ہیں کہ خدا شادی کو کیسا دیکھنا چاہتا ہے اور اُس کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں تو یہ ایسی نہیں ہوگی ۔ ایک خدا پرست، بائبلی شادی دو لوگوں کو زندگی بھر یسوع مسیح کے نام پر ایک دوسرے اور اپنے گھرانے کو با برکت بنانے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ ہمارے خُداوند نے قانایِ گلیل میں اپنے دوست کی شادی میں خوشی سے مدد کرتے ہوئے اُسے با برکت بنایا (یوحنا 2باب 1-5آیات) اور وہ آج بھی ازدواجی اتحاد کو بابرکت بناتا ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

اگر ازدواجی زندگی اتنی مشکل ہے، تو آخر مَیں اس کے بارے میں کیوں سوچوں ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries