settings icon
share icon
سوال

خُدا ہماری آزمائش کیوں کرتا ہے ؟

جواب


جب ہم یہ کہتے ہیں کہ خدا ہماری آزمائش کیوں کرتا ہے یا پھر ہماری زندگیوں میں آزمائش کے آنے کی اجازت کیوں دیتا ہے تو اُس صورت میں ہم یہ اقرار کر رہے ہوتے ہیں کہ آزمائش خُدا کی طرف سے آتی ہے۔ خُدا اپنے بچّوں کو آزماتا ہے، اور اِس کے ذریعے سے وہ ایک بہت قابلِ قدر کام کرتا ہے۔داؤد خُدا سے فریاد کرتا ہے کہ وہ اُسے جانچے اور آزمائے اور اُس کے دِل و دماغ کو پرکھے؛ وہ چاہتا ہے کہ خُدا اُس کے دِل کو پہچانے اور اُس کے خیالوں کو جان لے (26زبور 2آیت؛ 139زبور 23آیت)۔ جب اضحاق کو قربان کرنے کے حکم کے ساتھ ابرہام کی آزمائش ہوئی تھی تو ابرہام نے اُس کی پیروی کی تھی (عبرانیوں 11باب17-19آیات) اور یوں اُس نے ساری دُنیا پر اِس بات کو ظاہر کیا کہ وہ تمام ایمانداروں کا باپ ہے (رومیوں 4باب 16آیت)۔

نئے اور پرانے دونوں عہد ناموں کے اندر لفظ "آزمائش" کا مطلب "کسی خاص کسوٹی پر پرکھے جانے کے بعد ثابت ہونا ہے۔" اِس لیے جب خُدا اپنے بچّوں کی آزمائش کرتا ہے تو اُس کا مقصد اِس بات کو ثابت کرنا ہوتا ہے کہ اُن کا ایمان حقیقی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ خُدا اِس سب کو اپنے جاننے کے لیے ثابت کرتا ہے، وہ تو ہر ایک چیز کو پہلے ہی سے جانتا ہے، بلکہ وہ ہم پر ہی اِس بات کو ثابت کرتا ہے کہ ہمارا ایمان حقیقی ہے ، ہم اُس کے حقیقی فرزند ہیں اور یہ بھی کہ کسی بھی طرح کی کوئی آزمائش ہمارے ایمان پر غالب نہیں آئے گی۔

بیج بونے والی کی تمثیل کے اندر خُداوند یسوع بتاتا ہے کہ وہ بیج جو جھاڑیوں میں گرا ایسے لوگ ہیں جو کلام کو خوشی سے قبول تو کرتے ہیں لیکن جب اُن پر کسی بھی طرح کی آزمائش آتی ہے تو وہ اُس سے مغلوب ہو جاتے ہیں، اور یوں وہ کبھی بھی ایمان میں آگے نہیں بڑھتے۔ یعقوب بیان کرتا ہے کہ ایمان کی آزمائش صبر پیدا کرتی ہے اور صبر کو اگر اپنا کام پورا کرنے دیا جائے تو ہم پورے اور کامل ہو جاتے ہیں(یعقوب 1باب3-4آیات)۔ یعقوب اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے بیان کرتا ہے کہ آزمائش ایک برکت ہے کیونکہ جب وہ آزمائش ختم ہوتی ہے تو ہم "آزمائش کی برداشت" کرنے کی وجہ سے مقبول ٹھہرتے اور زندگی کا تاج حاصل کرتے ہیں جس کا خُدا نے اپنے محبت کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے (یعقوب 1باب 12آیت)۔ آزمائش ہمارے آسمانی با پ کی طرف سے آتی ہے ، اور سب چیزیں مل کر خُدا سے محبت کرنے والوں کے لیے بھلائی پیدا کرتی ہیں (رومیوں 8باب28آیت)۔

وہ ساری آزمائشیں اور امتحانات جن کا ہمیں اکثر سامنا ہوتا ہے بہت سارے مختلف طریقوں سے آتے ہیں۔ جب ہم مسیحیت میں آتے ہیں تو ہم سے یہ تقاضا کیا جاتا ہے کہ ہم اپنے اُس دائرے میں سے باہر آئیں جہاں پر ہم پرسکون محسوس کرتے ہیں اور اُس سے آگے ایسا مقام ہوتا ہے جو ہمارے لیے نیا اور نا معلوم ہوتا ہے۔ آزمائش میں صبر رُوحانی پختگی اور کاملیت کا باعث بنتا ہے۔ اِس لیے یعقوب نے لکھا تھا کہ " اَے میرے بھائیو! جب تم طرح طرح کی آزمایشوں میں پڑو " (یعقوب 1باب2آیت)۔ ایمان کے لحاظ سے سامنے آنے والی آزمائشیں کئی چھوٹے چھوٹے طریقوں سے آ سکتی ہیں ، وہ چھوٹی چھوٹی جھنجھلاہٹیں ہو سکتی ہیں ، سخت مصیبتیں ہو سکتی ہیں اور شیطان کے سخت حملے بھی ہو سکتے ہیں۔ آزمائش کا ذریعہ جو کچھ بھی کیوں نہ ہو، یہ ہمیشہ ہمارے فائدے کےلیے ہوتی ہیں ، اور جن آزمائشوں کی خُدا ہماری زندگی میں اجازت دیتا ہےہمیں اُن میں سے خوش اسلوبی کے ساتھ گزرنا چاہیے۔

ایوب کی زندگی کا بیان ہمارے سامنے اِس بات کی ایک بہت ہی کامل مثال ہے کہ کیسے خُدا ابلیس کو اجازت دیتا ہے کہ وہ اُس کے ایک مُقدس بندے کو آزمائے۔ یعقوب نے اُس ساری مصیبت کا صبر کے ساتھ سامنا کیا اور "اِن سب باتوں میں ایُّوب نے نہ تو گُناہ کِیا اور نہ خُدا پر بیجا کام کا عیب لگایا۔ " (ایوب 1باب22آیت)۔ بہرحال ایوب کی آزمائش کے بیان سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جب شیطان ہماری زندگی میں آزمائش لاتا ہے تو خُدا اپنی حاکمیت سے اُس آزمائش کی حدود کا تعین کرتا ہے۔ جس قدر خُدا نے اجازت دی ہو اُس سے بڑھکر کوئی بھی بد رُوح یا ابلیس خود ہمیں آزما نہیں سکتا ۔ ہماری ہر طرح کی آزمائشیں خُدا کے کامل منصوبے کی تکمیل اور ہمارے رُوحانی فائدے کے لیے ہوتی ہیں۔

آزمائش میں پڑنے کے مثبت نتائج کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں۔ زبور نویس ہماری آزمائش کو چاندی کے تپائے جانے کیساتھ تشبیہ دیتا ہے (66 زبور 10آیت)۔ پطرس ہمارے ایمان کے بارے میں بات کرتے ہوئے اُسے "سونے سے بھی بہت ہی بیش قیمت "چیز قرار دیتا ہے، اور اِسی لیے ہم "اب چند روز کے لئے ضرورت کی وجہ سے طرح طرح کی آزمایشوں کے سبب سے غم زدہ ہو " (1 پطرس 1باب 6-7آیات)۔ جب خُدا ہمارے ایمان کی آزمائش کرتا ہے تو خُدا ہماری سچے شاگرد بننے میں مدد کرتا ہے جو حقیقت میں ایمان پر چلتے ہیں نہ کہ آنکھوں دیکھے پر (2 کرنتھیوں 5باب7آیت)۔

جب ہمیں زندگی کے طوفانوں کا سامنا ہوتا ہے، تو ہمیں ایک ایسے درخت کی مانند ہونا چاہیے جس کی جڑیں زمیں میں بہت گہرائی میں پیوست ہوتی ہیں اور اُسے ہمیشہ کھڑا رہنے میں مدد دیتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی جڑوں کو خُدا کے کلام میں گہرے سے گہرا پیوست کریں اور اُس کے وعدوں کے ساتھ جڑے رہیں تاکہ ہم اپنی زندگی میں آنے والے ہر ایک طوفان کا مقابلہ کر سکیں۔

ہمارے لیے سب سے زیادہ تسلی کی بات یہ ہے خُدا کبھی بھی ہماری زندگی میں ایسی کوئی آزمائش نہیں آنے دے گا جس کی ہم برداشت نہ کر سکیں۔ اُس کا فضل ہمیشہ ہی ہمارے لیے کافی ہے اوراُسکی قدرت ہماری کمزوری میں پوری ہوتی ہے (2 کرنتھیوں 12باب9آیت)۔ اِسی لیے پولس نے کہا ہے کہ "مَیں بڑی خُوشی سے اپنی کمزوری پر فخر کروں گا تاکہ مسیح کی قدرت مجھ پر چھائی رہے۔ "

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

خُدا ہماری آزمائش کیوں کرتا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries