میں قیامت المسیح پر یقین کیوں کروں؟



سوال: میں قیامت المسیح پر یقین کیوں کروں؟

جواب:
"یہ ایک قائم کردہ حقیقت ہے کہ یسوع مسیح کو یہودیہ میں پہلی صدی عیسوی میں پُنِظیُس پِیلاطُس کے تحت یہودیوں کے ایماء پر صلیبی موت کی سزا سُنائی گئی۔ غیر مسیحی مورخین فلیویئس یوسیفس، کُرنیلیس ٹیسِیٹس، سموساتا کا لوسیان، مایمو نیدس کی شہادتیں اور یہاں تک کہ یہودی سینہڈرن بھی مسیح یسوع کی موت کے اِن اہم تاریخی پہلوؤں کے بارے میں بیان کردہ ابتدائی مسیحی عینی شاہد تفصیلات کی تصدیق کرتے ہیں ۔

قیامت المسیح کے بارے میں بہت سے ثبوت موجود ہیں جو معاملہ کو زبردست بنا رہے ہیں۔ مرحوم فلسفہ ِ قانوں کا ماہر نوجوان اور بین الاقوامی سیاستدان سر لیونل لکھو (اپنے غیر معمولی ۲۴۵ مسلسل دفاعی مقدمے کے سماعت کے واقعات کے لئے دا گنیز بُک آف ولڈ ریکارڈ میں نامزد) مسیحی جوش و خروش اور ایمان لانے کے بعد قیامت المسیح کی طاقت میں اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں "میں نے ۴۲ سال سے زیادہ عرصہ دفاعی مقدمات کے وکیل کی حثییت سے گزار دیاہے۔ اِس دوران میں دُنیا کے بیشتر حصوں میں گیا اور ابھی تک فعال عمل میں ہوں۔ میں جیوری آزمائشوں میں کئی کامیابیوں کو حاصل کرنے کے لئے خوش قسمت رہا ہوں۔ اور میں غیر منصفانہ طور پر یہ کہتا ہوں کہ یسوع مسیح کی قیامت کا ثبوت اتنا زبردست ہے کہ اِسے قبول کرنے کے لئے انسان مجبور ہو جاتا ہے اور شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔

اِسی ثبوت کے لئے دُنیوی سماج ( سیکولر کمیونٹی) کا ردِعمل،طریقیاتی طبعی اخلاق سے اُن کی مضبوط وابستگی کے مطابق پیشن گوئی کے طور پر بے حس ہو چکا ہے ۔ اِس اصطلاح سے ناواقف لوگوں کے لئے طریقیاتی طبعی اخلاق قدرتی وجوہات اور صرف قدرتی وجوہات کی بنا پر ہر چیز کی وضاحت کے لئے انسانی کوشش ہے۔ اگر ایک مبینہ تاریخی واقعہ قدرتی وضاحت (مثال کے طور پر ایک معجزانہ قیامت) کی مخالفت کرتا ہے، تو دُنیوی (سیکولر) عُلما باوجودثبوتوں کے عام طور پر زبردست تشکیک پرستی (سکیپٹک) کے ساتھ پیش آتے ہیں ۔ اِس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کیسے یہ زبردست اور موزوں ہو سکتا ہے۔

ہمارے خیال میں ،پختہ ثبوت کے باوجود ، اور ثبوت حاصل کرنے کے لئے غیر جانبدار (اور موزوں) تحقیق کے برعکس قدرتی وجوہات کے ساتھ ایسی غیر متزلزل عقیدت مفید نہیں ہے۔ ہم ڈاکٹر ویرنہر وون براؤن اور متعدد دوسرے مفسرین کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں جو اب بھی اِس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ثبوت پر ایک مقبول فلسفیانہ رُجحان ٹھونسنا خارجیت (اوبجیکٹِوِٹی) میں رکاوٹ کا باعث بنتا ہے۔ ڈاکٹر ویرنہروون براؤن کے الفاظ میں، "ایمان لانے کے لئے مجبور ہونے سے صرف ایک نتیجہ ۔۔۔خود سائنس کی خارجیت (اوبجیکٹِوِٹی) کو نقصان پہنچے گا"۔

یہ کہنے کے بعد آئیں قیامت المسیح کے بہت سے ثبوتوں کی جانچ پڑتال کریں۔

قیامت المسیح کے متعلق ثبوتوں کی پہلی لائن:
سب سے پہلے، ہمارے پاس قابلِ توثیق مخلص گواہوں کی شہادتیں موجود ہیں۔ ابتدائی مسیحی اپالوجِسٹ سینکڑوں چشم دید گواہوں کا حوالہ دیتے ہیں، جن میں سے کچھ نے اپنے مبینہ تجربات کو خود قلم بند کیا۔ اِن عینی شاہدین میں سے بُہتیروں نے اپنی گواہی سے دست بردار نہ ہونے کی وجہ سے اپنی مرضی اور استقلال سے طویل ایذا رسانیوں کو برداشت کیا۔ یہ حقیقت اُن کے خلُوص کی تصدیق کرتی ہے۔ مورخین کے ریکارڈ کے مطابق (اعمال کی کتاب۱:۴۔۱۷؛ تراجان دہم کے نام پلائینی کے خطوط، ۹۷ وغیرہ) زیادہ تر مسیحی اپنے ایمان سے منحرف ہو کر اپنی مصیبتوں سے آزادی حاصل کر سکتے تھے۔ اِس کی بجائے اُنہوں نے سب سے زیادہ مصیبتوں کو برداشت کیا اور مسیح کی موت اور قیامت کا اعلان کیا۔

اگرچہ شہادت غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے، لیکن یہ دلچسپ نہیں ہے۔ یہ عقیدہ کی توثیق اتنی نہیں کرتی جتنی کہ ایک ایماندار کو (ایک مناسب انداز میں اُس کے خلوص کا مظاہرہ کر کے) معتبر ٹھہراتی ہے ۔ جو چیز ابتدائی مسیحیوں کو قابلِ توجہ بناتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ جانتے تھے کہ جس بات کی وہ منادی کر رہے ہیں وہ سچ ہےیا نہیں۔ اُنہوں نے یسوع کی موت کے بعد اُسے زندہ اور اچھی طرح دیکھا یا نہیں ۔ یہ غیر معمولی بات ہے۔ اگر یہ سب جھوٹ ہے، تو اُن کے لکھے گئے واقعات آج تک زندہ جاوید کیوں ہیں؟وہ سب کچھ جانتے ہوئے ایسے بے سُود جھوٹ کے ساتھ کیوں چمٹے رہے؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک جھوٹ کے لئے وہ ایذارسانیاں، قید، دُکھ ، حتٰی کہ موت کو بھی قبول کرتے رہے؟

۱۱ستمبر۲۰۰۱ میں خود کُش حملہ آوروں (ہائی جیکرز) نے جس بات کا دعویٰ کیا (کیونکہ اِس کے لئے اُن کے مرنے کی خواہش سے ثابت ہوتا ہے) اُس پر بلا شُبہ ایمان بھی رکھتے تھے ۔ اگر یہ سچ ہے تو وہ جان نہیں سکتے تھے اور نہ ہی وہ جان پائے۔ اُنہوں نے روایات کا یقین کیا جو بہت سی نسلوں سے چلتی آ رہی تھیں۔ اِس کے برعکس، ابتدائی کلیسیاء کے شُہدا پہلی پُشت تھے۔ یسوع کو دیکھنے کا جو دعویٰ کر رہے تھے، یا تو اُنہوں نے واقعی دیکھا تھا یا نہیں دیکھا تھا۔

دعویدار عینی شاہدین میں سے سب سے زیادہ نامی گرامی صاحبین رسول تھے۔ وہ اجتماعی طور پر مسیح کے جی اُٹھنے کے بعد کے مبینہ ظہورات کے نتیجہ میں ایک نا قابلِ تردید تبدیلی سے گزرے۔ یسوع کی مصلوبیت کے فوراً بعد وہ اپنی زندگیوں کو بچانے کے لئے خوف کے مارے چھُپ گئے۔ جی اُٹھنے کے بعد وہ باہر آئے، اورپھر شدید ایذارسانیوں کے باوجود نہایت دلیری کے ساتھ یسوع کے جی اُٹھنے کی منادی کرنے لگے ۔ اُن کی اچانک اور ڈرامائی تبدیلی کی کیا وجہ تھی؟ یقیناً مالی فائدہ تو نہیں تھی ۔ رسولوں نے اپنی زندگیوں سمیت سب کچھ قیامت المسیح کی منادی کے لئے قربان کر دیا تھا۔

قیامت المسیح کے متعلق ثبوتوں کی دوسری لائن:
ثبوتوں کی دوسری لائن کا تعلق بہت سے نقادوں کی تبدیلی سے ہے۔ سب سے زیادہ قابلِ ذکر پولوس اور یعقوب ہیں۔ پولوس پہلے پہل ابتدائی کلیسیاء کا سخت مخالف اور ستانے والا تھا۔ مُردوں میں سے جی اُٹھے یسوع سے ملاقات کے بعد ، پولوس میں اچانک اور شدید تبدیلی آئی، اور وہ خوفناک ایذارسان سے کلیسیاء کا سب سے زیادہ ذرخیز، اور خود فراموش محافظ بن گیا۔ پولوس نےقیامت المسیح کے ساتھ مستقل وابسگتی رکھنے کی وجہ سے مفلسی، ایذارسانیاں، ماریں ، قیدیں ، سزائیں برداشت کیں۔

یعقوب اگرچہ پولوس کی طرح مسیحت کا دشمن نہیں تھا لیکن بہت بڑا نقاد تھا۔ یسوع کی قیامت کے بعد ایک ملاقات نے اِسے تبدیل کر دیا اور وہ ناقابلِ تقلید ایماندار اور یروشلیم کی کلیسیاء کا رہنما بن گیا۔ ابتدائی کلیسیاء کو لکھے گئے اُن کے خطوط میں سے ایک خط ہمارے پاس آج بھی ہے جسے علما کرام اُس کے خط کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ پولوس کی طرح یعقوب نے بھی اپنی مرضی اور خوشی سے دُکھ سہے اور اپنی گواہی کی خاطر جان بھی دے دی، یہ حقیقت ایمان کے لئے اُن کے خلوص کی تصدیق کرتی ہے (دیکھیں اعمال کی کتاب اور یوسیفس کی کتاب، اینٹی کوِیٹیز آف دا جُوز۲۰)۔

قیامت المسیح کے متعلق ثبوتوں کی تیسری اور چوتھی لائنز:
ثبوتوں کی تیسری اور چوتھی لائن کا تعلق دشمنوں کی خالی قبر پر اور یروشلیم میں جڑ پکڑنے والی حقیقت پر ایمان کی تصدیق سے ہے۔ یسوع کو اعلانیہ موت کی سزا دی گئی اور یروشلیم میں دفن کیا گیا۔ اگر اُس کی لاش قبر میں ہی ہوتی تو یروشلیم میں اُس کے جی اُٹھنے کے ایمان کو اتنی پذیرائی نہ ملتی، اگر اُس کی لاش قبر میں ہوتی تو سینہڈرن قبر کھود کر نکال سکتی تھی، اور عوام کو دِکھا سکتی تھی، اور اِس فریب کو بے نقاب کر سکتی تھی۔ اِس کے برعکس سینہڈرن نے لاش کی گُمشدگی (اور اِس وجہ سے ایک خالی قبر) کی وضاحت کرنے کی بظاہر ایک کوشش میں شاگردوں پر لاش چوری کرنے کا الزام لگایا۔ ہم خالی قبر کی حقیقت کی وضاحت کیسے کرتے ہیں؟ یہاں تین اہم وضاحتیں پیش کی جاتی ہیں۔

پہلی، شاگردوں نے لاش چوری کی۔ اگر یہ بات تھی تو شاگردوں کو پتہ ہونا چاہیے تھا کہ قیامت المسیح ایک فریب ہے۔ وہ اپنی مرضی اور خوشی سے اتنی اذیتیں نہ سہتے اور اپنی جانیں قربان نہ کرتے۔ (مُخلص عینی شاہدین کی گواہیوں کے متعلق ثبوتوں کی پہلی لائن دیکھیں) سب دعویدار عینی شاہدین کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ اُنہوں نے مسیح کو نہیں دیکھا اور وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ بہت سے سازش کُنندہ کے ساتھ یقیناً کوئی تو قبول کرتا، اگر اپنے دُکھوں کے خاتمہ کے لئے نہیں تو کم از کم اپنے دوستوں اور خاندان کی ایذارسانیوں کی کی وجہ سے تو قبول کر لیتا کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ مسیحیوں کی پہلی پُشت کے ساتھ، خاص طور پر سن ۶۴ (ایک آگ جو نیرو نے خود اپنے محل کی توسیع کے لئے کمرے بنانے کے لئے لگوائی، لیکن اپنے آپ کو بری کرنے کے لئے الزام روم کے مسیحیوں پر لگا دیا) کی روم کی آتش زدگی کے بعد ظالمانہ سلوک کیا گیا۔ جس کی وضاحت رومی مورخ کُرنیلیس ٹیسٹِس نے(آتش زدگی سے ایک پُشت بعد لکھی گئی ) اپنی کتاب "اینلز آف ایمپیریل روم" میں کی ۔

"نیرو نے جرائم کو تیز کر دیا اور ایک طبقہ کو بہت زیادہ اذیتیں دی، جسے عوام الناس مسیحی کہتے تھے، اور جن کی ناگوار حرکات کی وجہ سے اُن سے نفرت کی جاتی تھی۔ خرستُس (مسیح)کو تبریاس کی حکومت میں ہمارے سربراہوں میں سے ایک پُنطیُس پیلاطُس کے ہاتھوں نہایت سنگین سزا دی گئی۔ اور اِس طرح ایک نہایت مُضر توہم پرستی جسکی جانچ پڑتال کچھ وقت کے لئے کی گئی، نہ صرف یہودیہ میں ، بلکہ بُرائی کے ممبع روم میں بھی دوبارہ پھوٹ پڑی، جہاں دُنیا بھر کی ہر مکروہ اور شرمناک چیز مرکز کی تلاش کرتی اور مقبول ہو جاتی ہے۔ اور اِس وجہ سے سب سے پہلی گرفتاری اُن کی ہوئی جو جرم کی وکالت کرتے تھے، پھر اُن کی معلومات پر بہت بڑے ہجوم کو نہ صرف شہر جلانے ، بلکہ انسانی تعصب کے جرم میں مجرم قرار دیا گیا ۔ اُن کی اموات پر ہر قسم کی ٹھٹھا بازی کی گئی۔ جانوروں کے چمڑوں میں ڈھانپ کر اُن کو خونخوار کُتوں اور جانوروں کے آگے ڈالا گیا۔ اُنکو صلیبوں پر چڑھایا گیا، آگ کے شعلوں میں جلایا گیا، اور جب دن کی روشنی ختم ہو جاتی تو رات کے اندھیروں کو ختم کرنے کے لئے اُن کو مشعلوں کے طور پر جلایا گیا"۔ (اینلز ۴۵، صفحہ۴۴)۔

نیرو نے اپنے باغات کی محفلوں کو روشن کرنے کے لئے مسیحیوں کو زندہ جلایا۔ ایسی خوفناک تکالیف کے باعث کوئی تو لازمی سچ بول دیتا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ایسا کوئی ریکارڈ نہیں ہے کہ کسی ابتدائی مسیحی نے اپنی تکلیف کو کم کرنے کے لئے اپنے ایمان سے انکار کیا ہو۔ بلکہ اِس کے برعکس ہمارے پاس یسوع مسیح کے جی اُٹھنے کے بعد کے ظہورات کی وجہ سے سینکڑوں عینی شاہدین کے اپنی مرضی سے اذیت اُٹھانے اور مرنے کے ثبوت موجود ہیں ۔

اگر شاگردوں نے لاش نہیں چُرائی، تو ہم خالی قبر کی وضاحت کیسے کریں گے؟ بعض نے تجزیہ کیا کہ یسوع نے مرنے کا ڈرامہ کیا اور بعد میں قبر سے فرار ہو گیا۔ یہ بالکل بے ہودہ بات ہے۔ عینی شاہدین کی گواہیوں کے مطابق، یسوع کو بے رحمی کے ساتھ مارا گیا، اذیت دی گئی، زخمی گیا گیا، اور چھیدہ گیا تھا۔ اُس نے اندرونی نقصان ، بڑے پیمانے پر خون کی کمی، دم گھُٹنے کے مسلہ، دِل پر نیزہ لگنے کی تکلیف کا سامنا کیا۔ یقین کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے کہ یسوع (یا اِس حالت میں کوئی اور شخص)ایسی مصیبت سہنے کے بعد بھی بچ جائے اور اپنی موت کے لئے ڈرامہ کر ے، اور بغیر ادویات ، خوراک، پانی، کے تین دن اور رات قبر میں بیٹھا رہے ، اور پھر اتنے بڑے پتھر کو جس پر مہر گی گئی ہو اکیلا ہٹا لے، بغیر سراغ (پیچھے خون کے داغ کے دھبے) چھوڑے بھاگ جائے، سینکڑوں عینی شاہدین کو قائل کرے کہ وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے اور اب اچھی حالت میں ہے، اور پھر بغیر کوئی سراغ چھوڑے غائب ہو جائے۔ اِس طرح کا تصور یقیناً مضحکہ خیز ہے۔

قیامت المسیح کے متعلق ثبوتوں کی پانچویں لائن:
آخر میں، ثبوتوں کی پانچویں لائن کا تعلق عینی شاہدین کی شہادتوں کے انوکھے پن سے ہے۔ قیامت المسیح کے بارے میں سب بڑی تحریرات میں، عورتوں کو پہلی اور ابتدائی عینی شاہدین ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ قیامت المسیح عجیب ایجاد ہو گی، کیونکہ قدیم یہودی اور رومی دونوں ثقافتوں میں عورتوں کو کم احترام دیا جاتا تھا۔ اُن کی گواہی کو غیر یقینی اور قابلِ مسترد مانا جاتا تھا۔ اِس حقیقت کو دیکھتے ہوئے، یہ ممکن نہیں ہے کہ پہلی صدی کے یہودیہ میں کوئی فریب کا مُرتکب خواتین کو اپنا بنیادی گواہ بنائے گا۔ تمام مرد شاگرد جو یسوع کو دوبارہ دیکھنے کا دعویٰ کرتے تھے، اگر وہ سب جھوٹ بول رہے تھے اور قیامت المسیح اُن کے لئے ذاتی مفاد حاصل کرنے کا ایک طریقہ تھا تو اُنہوں نے سب سے زیادہ کمزور ، نا قابلِ اعتبار گواہوں کا انتخاب کیوں کیا۔

ڈاکٹر ولیم لین کریگ وضاحت کرتا ہے، "جب آپ پہلی صدی کے یہودی معاشرے کی کسی عورت کے کردار کو سمجھتے ہیں، تو کیا یہ واقعی غیر معمولی بات ہے کہ اِس خالی قبر کی کہانی عورتوں کو سب سے پہلے دریافت کُنندہ کے طور پر پیش کرے گی؟ پہلی صدی کے اسرائیل میں عورتیں سماجی سیڑھی کے سب سے نیچے والی زینہ پر تھیں۔ ربیوں کی بہت سی پُرانی کہاوتیں جو بیان کرتی تھیں، "شریعت کی باتیں عورتوں کو پہچانے کی بجائے جلا دیں، اور مبارک ہے وہ جس کی اولاد نرینہ ہیں، لیکن افسوس اُس پر جس کے ہاں بیٹیاں پیدا ہوں"۔ خواتین کی گواہی اِس قابل سمجھی جاتی تھی کہ اُنہیں یہودی شریعی عدالت میں قانونی گواہوں کی حثییت سے بھی خدمت کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ اِس روشنی میں، یہ بالکل قابلِ ذکر ہے کہ خالی قبر کے اہم گواہ خواتین ہیں۔۔۔ بعد کی کوئی بھی روایتی تحریر یقیناً خالی قبر کے پہلے دریافت کُنندہ مرد شاگردوں مثال کے طور پر پطرس یا یوحنا کو ہی پیش کرتی۔ یہ واقع کہ خالی قبر کی پہلی دریافت کُنندہ عورتیں ہی تھی معقول طور پر حقیقت سے بیان کیا گیا ہے۔ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ اناجیل کے مصنفین نے جو کچھ ہوا ، چاہے یہ بات مشکل میں ڈال رہی تھی تو بھی نہایت وفاداری سے قلم بند کیا ۔ یہ بات رویات کی روایتی حثییت کی بجائے تاریخی حثییت کو ثابت کرتی ہے"۔ (ڈاکٹر ولیم لین کریگ، بحوالہ لی سٹوبل ، دا کیس فار کرائسٹ، گرینڈ ریپڈ: زونڈروان، ۱۹۹۸، صفحہ۲۹۳)۔

خلاصہ:
ثبوتوں کی یہ لائنز: عینی شاہدین (اور رسولوں کے معاملہ میں، زبردست، ناقابلِ یقین تبدیلی) کی قابلِ تشریح وفاداری ، مخالفین کی تبدیلی اور اُن کی قابلِ تشریح وفاداری، نقادوں کی تبدیلی اور اُن کی شہادتیں، خالی قبر کی حقیقت،خالی قبر کے بارے میں دشمنوں کی تصدیق، یہ حقیقت کہ یہ سب کچھ یروشلیم میں ہوا جہاں قیامت المسیح کے ایمان کی ابتدا ہوئی اور ایمان نے فروغ پایا۔ عورتوں کی گواہی، تاریخ کے سیاق و سباق میں دی گئی گواہی کی اہمیت۔ یہ سب باتیں قیامت المسیح کی تاریخی حثییت کی مضبوطی سے تصدیق کرتی ہیں۔ ہم اپنے قارئین کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ اِن ثبوتوں پر غور کریں۔ یہ ثبوت آپ کو کیا تجویز دیتے ہیں؟ اِن پر غور کر کے ہم مستقل مزاجی کے ساتھ سر لیونل کے بیان کو تسلیم کرتے ہیں۔

"یسوع مسیح کی قیامت کے ثبوت اتنے زبردست ہیں کہ ایمان لانے کے لئے مجبور کر دیتے ہیں اور شک کی کوئی گُنجائش نہیں رہتی"۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



میں قیامت المسیح پر یقین کیوں کروں؟