settings icon
share icon
سوال

مجھے یسوع کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے پر کیوں ایمان رکھنا چاہیے؟

جواب


یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ یسوع کو اعلیٰ سطح کی یہودی مذہبی مجلس سین ہیڈرن کی ایماء پر پنطس پیلاطُس کی حکومت کے حکم سے پہلی صدی عیسوی میں یہودیہ کے علاقے میں سرعام مصلوب کیا گیا تھا ۔غیر مسیحی مورخین جیسا کہ فلیوئیس جوسیفس ، کرنیلیس ٹیسی ٹس سموساتا کا لوسیان ، اور مایمو نیدس کی تاریخی شہادتیں اور یہاں تک کہ یہودیوں کی اعلیٰ سطح کی مذہبی مجلس بھی مسیح یسوع کی موت کے اِن اہم تاریخی پہلوؤں کے بارے میں بیان کردہ ابتدائی دور کے مسیحی عینی شاہد ین کے بیانات کی تصدیق کرتے ہیں۔

یسوع کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے حوالہ سے کئی شواہد پائے جاتے ہیں جو اِس معاملے کو انتہائی زبردست بنا دیتے ہیں ۔ ماہرِقانون دان اور بین الاقوامی سیاستدان مرحوم سر لیونل لاکھو(Sir Lionel Luckhoo)نے ( جو اپنے بے مثال 245 قتل کےدفاعی مقدموں کی سماعت اوراپنے موکلوں کی رہائی کے باعث گینز بُک آف ورلڈ ریکارڈ میں نامزد ہے) مسیح کے مردوں میں سے جی اُٹھانے کے معاملے کی تقویت میں اِ ن الفاظ کے ذریعے مسیحی جوش و جذبے اور اعتماد کا اظہار کیا ہے "مَیں 42سالوں سے زیادہ عرصے سے مقدمات کے دفاعی وکیل کی حیثیت سے کام کر رہاہوں اور اِس سلسلے میں مجھے دنیا کے مختلف حصوں میں بھی جانا پڑا ہے اور مَیں ابھی تک اپنی ملازمت پرفعال اور سر گرم عمل ہوں ۔ میری یہ خوش قسمتی ہے کہ مَیں مقدمات کی سماعت کے دوران دفاعی حیثیت سے بہت بڑی حد تک کامیاب رہا ہوں۔اور مَیں واضح طور پر کہتا ہوں کہ یسوع مسیح کے مردوں میں سے جی اُٹھنے کے شواہد ایسے زبردست ہیں کہ یہ اپنی حقانیت کے باعث انسان کو اُنہیں تسلیم کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ کیونکہ ان کی حقانیت میں شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں ہے۔

اِن شواہد کے خلاف غیر مذہبی لوگوں کا ردّعمل اِن کی اُصولیاتِ فطرت پرستی (methodological naturalism) سے گہری وابستگی کی بدولت سرد مہری اور بے حسی کی صورت میں ملتا ہے۔ اِس اصطلاح سے نا واقف لوگوں کو سمجھانے کے لیے بتایا جاتا ہے کہ اُصولیاتِ فطرت پرستی سے مراد ہر بات اور مظہر کو صرف اور صرف قدرتی/فطری وجوہات کی بنیاد پر بیان کرنے کی انسانی کوشش ہے ۔ اگر کوئی مبینہ تاریخی واقعہ(مثلاً معجزانہ طور پر مُردوں میں جی اُٹھنا) قدرتی وضاحت کے اُصولوں پر پورا نہیں اُترتا تو غیر مذہبی علماء عموماً ایسے واقعےکیساتھ بہت زیادہ شکوک و شبہات کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ وہ اِس بات کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ اِس کے بارے میں شواہد کیسے مددگار اور قابلِ یقین ہیں ۔

ہمارے خیال سےظاہری ثبوت کےبرعکس قدرتی وجوہات کے ساتھ ایسی غیر متزلزل وابستگی شواہد کی غیر جانبدارانہ اور درست تحقیق کےلیے مددگار نہیں ہوتی۔ ہم داکٹر ورنر وون براؤن(Dr. Wernher von Braun) اور دیگر مفسرین سے متفق ہیں جو اِ س بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایک ثبوت کے برعکس ایک مشہور فلسفیانہ رجحان کو ترجیح دینا خارجی سچائی(حقائق پر مبنی فیصلہ کرنے/مقصدیت) کی راہ میں رکاوٹ ہے ۔ یا پھر اگر ڈاکٹر ورنر براؤن کے الفاظ میں کہا جائے تو" صرف ایک نتیجے کو قبول کرنے پر مجبور ہونا ۔۔۔۔۔۔۔خود سائنس کی معروضیت/مقصدیت کی خلاف ورزی ہوگی"۔

اِن سب باتوں کے بعد چلیں اب کچھ ایسے شواہد کی جانچ پڑتال کریں جو مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کی حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں ۔

مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بارے میں شواہد کی پہلی کڑی

پہلے نمبر پر ہمارے پاس سچے عینی شاہدین کی قابلِ توثیق گواہی موجود ہے ۔ ابتدائی مسیحی حامیانِ دین (اپولوجسٹ)سینکڑوں عینی شاہدین کا تذکرہ کرتے ہیں جن میں سے کچھ اپنے مبینہ تجربات کی دستاویزات بھی پیش کرتے ہیں ۔ بہت سے عینی شاہدین نے اپنی گواہی سے انکار کرنے کی بجائےاپنے بیانات کی وجہ سے اپنی خوشی سے بڑی بہادری کے ساتھ شدید اذیت حتیٰ کہ موت کا بھی سامنا کیا تھا ۔ حقیقت تمام شک کو مسترد کرتے ہوئے اُن کی سچائی کی تصدیق کرتی ہے ۔ تاریخی دستاویزات( اعمال کی کتاب 4باب 1-17آیات؛ تراجان دہم کے نام پلائنی کے خطوط، 96وغیرہ) کے مطابق زیادہ تر مسیحی محض اپنے ایمان سےپھرنے کے ذریعے اپنی تکالیف ختم کر سکتے تھے ۔ اِس کے برعکس ایسا لگتا ہے کہ زیادہ تر لوگوں نے تکالیف کو برداشت کرنے کو ترجیح دی اور موت میں بھی مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کا اعلان کیا ۔

اگرچہ شہادت غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے مگر یہ لازمی طور پر قابلِ یقین نہیں ہو سکتی ۔ شہادت کسی عقیدے یا ایماندار کے سچے ہونے کی تصدیق نہیں ہے ۔ جو بات ابتدائی مسیحی شہداء کو قابلِ ذکر بناتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ جانتے تھے کہ اُن کے ایمان کا دعویٰ سچا ہے یا نہیں ۔ اُنہوں نے یسوع مسیح کو اُس کی موت کے بعد زندہ اور اچھی طرح سے دیکھا تھا یا نہیں۔ یہ حیرت انگیز بات ہے ۔ اگر یہ سب محض ا یک جھوٹ تھا تو اتنے زیادہ لوگ بُرے ترین حالات میں بھی اِس کی حمایت کیوں کر رہے تھے ۔ وہ سب جان بوجھ کر ایذا رسانی ، قید ، اذیت اور موت کے عالم میں اس طرح کے نقصان دہ جھوٹ سے کیوں چپٹے رہے تھے؟

اگرچہ 11ستمبر 2001(امریکہ)میں خودکش طیارہ اغوا کرنےوالے جس عقیدے کا قرار کرتے تھے بلاشبہ اُس پر ایمان بھی رکھتے تھے (کیونکہ اس بات کا ثبوت یہ تھا کہ وہ اُس عقیدے کےلیے جان دینے کو بھی تیار تھے) مگر وہ نہ تواِس کی تصدیق کر سکتے تھے اور نہ یہ جانتے تھے کہ آیا اُن کا عقیدہ سچا ہے ۔ وہ اُن روایات پر ایمان رکھے ہوئے تھے جو کئی نسلوں سے ہوتی ہوئی اُن تک پہنچی تھیں ۔ اِس کے برعکس مسیحی شہداء کا تعلق پہلی نسل سے تھا ۔ اُنہوں نے یا تو اُن سب باتوں کو دیکھا تھا جن کا وہ دعویٰ کر رہے تھے یا نہیں دیکھا تھا ۔

رسول دعویدار عینی شاہدین میں سے زیادہ نمایاں تھے۔ وہ مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعداُس کے مبینہ ظہور کے نتیجے میں اجتماعی طور پر ایک نا قابلِ یقین تبدیلی میں سے گزرے۔ مصلوبیت کے فوراً بعد وہ اپنی جانوں کو بچانے کے ڈر سے چھپتے پھررہے تھے ۔ اور مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد وہ گلیوں میں نکل آئے اور ایذار سانی کے باوجود بہادری سے مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کی منادی کرتے رہے ۔ رسولوں میں اچانک رونما ہونے والی اِس ڈرامائی تبدیلی کی کیا وجہ تھی؟یقیناً یہ معاشی مفاد تو نہیں تھا ۔ رسولوں نے جی اُٹھے یسوع کی منادی کی خاطر ہرچیزبشمول اپنی زندگیاں تک قربان کر دی تھیں۔

مسیح کے مردوں میں سے جی اُٹھنے کے شواہد کی دوسری کڑی

شواہد کی دوسری کڑی کا تعلق کچھ اہم تشکیک پرست افراد کے مسیحیت کو قبول کرنےکیساتھ ہے جن میں پولس اور یعقوب سب سے زیادہ نمایاں ہیں ۔ مسیحیت میں آنے سے پہلے پولس رسول ابتدائی کلیسیا کو سب سے زیادہ ستانے والا تھا ۔ لیکن اُس کے بیان کے مطابق جب اُس کا جی اُٹھے یسو ع سے سامنا ہوا تو اُس میں اچانک بہت بڑی تبدیلی آئی ۔ وہ شخص جو پہلے کلیسیا کو شدید اذیت پہنچاتا تھا اِس واقعے کے بعد کلیسیا کے انتہائی قابل اور بےغرض محافظوں میں سے ایک بنا گیا ۔ بہت سے ابتدائی مسیحیوں کی طرح پولس نے بھی جی اُٹھے یسوع کے ساتھ اپنی مستقل وابستگی کے اظہار میں ایذارسانی، مار، قید اور حتیٰ کہ موت کا سامنا کیا ۔

یعقوب اگرچہ پولس کی طرح کلیسیا کا بڑا دشمن نہ تھا مگر وہ بڑا تشکیک پرست /شک کرنے والا تھا ۔ جی اُٹھے یسوع کے ساتھ اِس کی ملاقات نے یعقوت کو تبدیل کر دیا اور وہ ناقابلِ تقلید ایماندار اور یروشلیم کی کلیسیاء کا رہنما بن گیا۔ہمار ے پاس اب بھی یعقو ب کا ایک خط موجود ہے جسے علماء یعقوب کی طرف سے کلیسیا کولکھے گئے خط کے طور پر قبول کرتے ہیں ۔ پولس کی طرح یعقوب نے بھی اپنی مرضی اور خوشی سے دُکھ سہا اور اپنی گواہی کی خاطر جان بھی دی اور یہ حقیقت اُس کےایمان کی سچائی کی تصدیق کرتی ہے ۔ (دیکھیں اعمال کی کتاب اور جو سیفس کی کتاب Antiquities of the Jews XX, ix, 1۔)

یسوع کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بارے میں شواہد کی تیسری اور چوتھی کڑی

اِس سلسلے میں شواہد کی تیسری اور چوتھی کڑی کا تعلق مخالف لوگوں کی طرف سے خالی قبر کی توثیق اور اِس حقیقت کیساتھ ہے کہ قیامت المسیح پر ایمان کا آغاز بھی یروشلیم میں ہوا تھا ۔ یسوع یروشلیم میں سر عام مصلوب اور دفن ہوا ۔ اگر یسوع کا بدن قبر میں ہی ہوتا تو یہودیوں کی اعلیٰ مذہبی مجلس قبر کو کھلوا سکتی اور اُس کے مردہ بدن کو عوامی طور پر سامنے لاتے ہوئے شاگردوں کی تمام دغا بازی کو بے نقاب کر سکتی تھی پس اُس صورت میں جی اُٹھے یسوع پر ایمان رکھنا ابتدائی طور پر ہی ختم ہو جاتا۔ ۔ اس کے برعکس بدن کی غیر موجود گی(اور اِن کے نتیجے میں خالی قبر) کی وضاحت کےلیے یہودی مجلس نے شاگردوں پر الزام لگادیا کہ اُنہو ں نے مسیح کے بدن کو چرایاہے ۔ ہم خالی قبر کی حقیقت کو کیسے بیان کر سکتے ہیں ؟ یہاں ذیل میں تین سب سے عام وضاحتیں پیش کی جاتی ہیں :

پہلی وضاحت کہ شاگردوں نے بدن کو چُرا لیا تھا ۔ اگر معاملہ ایسا تھا تو وہ اِس بات کو جانتے تھے کہ یسوع کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا صرف اور صرف ایک دھوکاتھا۔ پس اگر ایسا ہوتا تو وہ اپنی مرضی اور خوشی سے تکالیف کو برداشت کرنے ا ور مرنے کےلیے تیار نہ ہوتے۔( عینی شاہدین کی واضح اور سچی گواہی کے تعلق سے شواہد کی پہلی کڑی کو دیکھیں)۔ اگر ایسا ہوتا تو تمام دعویدار عینی شاہدین اِس بات کو جانتے ہوتے کہ اُنہوں نے حقیقی طور پر مسیح کو نہیں دیکھا اور اِس لیے جھوٹ بول رہے ہیں ۔ یقینی بات ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں سازش کرنے والوں میں سے کسی نہ کسی شخص نے اپنی تکلیف کی نسبت کم از کم اپنے دوستوں کو ہی بتا دیا ہوتا یا پھر گھرانے کی تکلیف کے خاتمے کےلیے اِس بات کا اقرار کر لیا ہوتا کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں ۔ پہلی صد ی کے مسیحیوں کے ساتھ خصوصی طور پر 64عیسوی میں روم میں بڑی آتش زدگی کے باعث مکمل طور پر وحشت ناک سلوک کیا گیا ۔ (شہر میں نیرو بادشاہ کے حکم سے آگ لگائی گئی تھی کیونکہ وہ اپنے محل کی توسیع کرنا چاہتا تھا، لیکن اِس کے حوالے سے بعد میں اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرنے کےلیے نیرو نے تمام الزام مسیحیوں پر لگا دیا)۔ جس کی وضاحت رومی تاریخ دان کر نیلیس ٹیسی ٹس نے اپنی تحریر روم کے شاہی واقعات (Annals of Imperial Rome) میں بیان کی ہے ( یہ تحریر آتش زدگی کے واقعے کے ایک پشت بعد شائع کی گئی تھی):

" نیرو جرم میں بڑھا اُس نے ایک طبقے پر اُس کے معیوب اعمال کے باعث شدید ظلم و ستم کیا اِس طبقے کے لوگ عام طور پر مسیحی کہلاتے تھے ۔ خرستُس (مسیح) کو جس کے نام سے اس طبقے کی ابتدا ہوئی تھی تبریس کی حکومت کے دوران ہمارے سربراہوں میں سے ایک پیطُس پیلاطُس کی طرف سے سنگین سزا دی گئی تھی اور اِس طر ح کچھ وقت کےلیے ایک مضر توہم پرست جماعت کو روکا گیا مگر یہ توہم پرست جماعت نہ صرف یہودیہ میں جو اِ س بُرائی کی جڑ ہے بلکہ روم میں بھی دوبارہ پھوٹ نکلی جہاں پر دنیا کے ہر حصہ کی مکرُوہ اور شرمناک چیزیں پر توجہ دی جاتی ہے اور وہ مشہور ہو جاتی ہیں ۔ چنانچہ سب سے پہلے اُن سب لوگوں کو گرفتار کیا گیا جنہوں نے جرم کا اقرار کیا تھا اور اس کےبعد اِن کی معلومات کی بناء پر محض شہر کو آگ لگانے کے جرم میں نہیں بلکہ انسانیت سے نفر ت کی وجہ سے لوگوں کی ایک بڑی جماعت کو سزا وار ٹھہرایا گیا ۔ اُن کی موت پر ہر طرح کا مذاق اور ٹھٹھا کیا گیا۔ جانوروں کی کھالوں میں بند لوگوں کو کتوں نے پھاڑ ااور ما ر ڈالا یا پھر اُنہیں کیلوں سے صلیبوں پر لٹکایا گیا یا آگ لگا کر مرنے کےلیے چھوڑ دیا جاتا تاکہ جب دن کی روشنی نہ رہتی تو وہ مشعلوں کی مانند جلیں (Annals, XV, 44)۔

نیرو اپنے باغیچوں کی ضیافتوں کی روشنی کےلیے مسیحیوں کو زندہ جلاتاتھا۔ یقیناً ایسی خوفناک تکلیف کے ڈر سے کسی نہ کسی شخص نے سچ کا اظہار کر دیا ہوتا ۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس تاریخ میں ایسا کوئی واقعہ نہیں ہے جس میں کوئی مسیحی اپنی تکلیف سے بچنے کےلیے اپنے ایمان سے منحر ف ہوا ہو۔ اِس کے برعکس ہمارے پاس جی اُٹھے یسوع کے ظہور کے بارے میں بے شمار بیانات اور اِس بات کےلیے اپنی مرضی سے دُکھ اُٹھانے اور مرنے والے سینکڑوں عینی شاہدین موجود ہیں ۔

اگر شاگردوں نے مسیح کے بدن کو قبر میں سے نہیں چُرایا تھا تو خالی قبر کے لیے ہم اور کیا وضاحت پیش کر سکتے ہیں ؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مسیح نے مرنے کا ناٹک کیا تھا اوربعد میں وہ قبر سے بھاگ نکلا تھا۔ یہ انتہائی بے بنیاد خیال ہے ۔ عینی شاہدین کے کہنے کے مطابق مسیح کو بُری طرح پیٹا ، زخمی کیا، چھیدا اورپھر اُسکی پسلی میں نیزہ مارا گیا تھا ۔ وہ اندرونی زخموں ، شدید خون کی کمی ،دم گھٹنے اور دل میں نیزہ لگنے جیسی تکالیف میں سے گزرا تھا۔ اِس بات کو ماننے کےلیے یہ کوئی اچھی دلیل نہیں ہے کہ یسوع مسیح ( یا اِس حالت میں کوئی اور انسان) ایسی کھٹن حالت سے بچ پاتا ، اپنی موت کا ناٹک کر سکتا، طبیّ دیکھ بھال، کھانے اور پانی کے بغیر تین رات دن تک قبر میں رہ پاتا، قبر کے منہ پر رکھے گئے بڑے پتھر کو ہٹا پاتا اوربغیر کسی کی نظر میں آئے وہاں سے فرار ہو پاتا۔ اور پھر (خون اور زخموں کے کسی طرح کے سراغ کے بغیر)،سینکڑوں عینی شاہدین کو قائل کر پاتا کہ وہ جی اُٹھا ہے اور اچھی صحت میں ہے اور پھر اچانک بغیر کسی سراغ کے غائب ہو جاتا ۔ ایساگمان بہت مضحکہ خیز ہے ۔

مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بارے میں شواہد کی پانچویں کڑی

آخری بات،شواہد کی پانچویں کڑی کا تعلق عینی شاہدین کی گواہی میں پائی جانے والے انوکھے پن سے ہے ۔ مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بارے میں تمام اہم ترین تفصیلات میں عورتوں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ پہلی اور مرکزی عینی شاہدین تھیں ۔ اِس صورت میں قیامت المسیح کی من گھڑت کہانی بہت منفرد تھی کیونکہ یہودیوں اور رومیوں کی قدیم ثقافتوں میں عورتوں کو کچھ خاص احترام حاصل نہیں تھا۔ اُس کی گواہی کو غیر ضروری اور نا قابلِ یقین سمجھا جاتا تھا ۔ اِس حقیقت کے پیشِ نظر اِس بات کا بہت کم امکان ہے کہ پہلی صد ی کے اندر یہودیہ میں کوئی دھوکا دہی کا مرتکب شخص اپنی گواہی کےلیے عورتوں کا مرکزی عینی شاہدین کے طور پر انتخاب کرتا۔ تمام مرد شاگرد جو جی اُٹھے مسیح کو دیکھنے کے دعویدار تھے اگر اُن میں سب ہی جھوٹ بول رہے تھے اور قیامت المسیح کی تمام کہانی من گھڑت تھی تو اُنہوں نے سب سے زیادہ کم اعتماد اورناقابلِ یقین عینی شاہدین کو کیوں چُنا؟

ڈاکٹر ولیم لین کریگ بیان کرتا ہے "جب آپ پہلی صدی عیسوی کے یہودی معاشرے میں عورتوں کے کردار سے بخو بی واقف ہیں تو جو بات یہاں پر حیرت انگیز اور غیر معمولی ہے وہ یہ ہے کہ اُس خالی قبر کی کہانی میں سب سے پہلے اُس کو دریافت کرنے والوں میں عورتیں سرِ فہرست تھیں۔ پہلی صدی کے فلسطین میں عورتیں معاشرتی لحاظ سے بہت ہی نچلے درجہ پر تھیں ۔ اِس لحاظ سے یہودی علماء کے کچھ خاص اقوال ہیں "شریعت کی باتوں کو عورتوں کو سُنانے کے بجائے جلا دیا جائے"اور "مبارک ہیں وہ جن کے گھر اولادِ نرینہ ہے مگر اُس پر افسوس جس کی بیٹیاں ہیں"۔عورتوں کی گواہی کو اس قدر بیکا ر سمجھا جاتا تھا کہ اُن کو یہودی عدالت میں قانونی گواہ کے طور پر حاضر ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ ان باتوں کی روشنی میں یہ انتہائی قابلِ ذکر بات ہے کہ خالی قبر کے واقعہ کی مرکزی عینی شاہدین یہ عورتوں ہیں ۔۔۔۔۔۔مگر بعد کے افسانوی بیانات میں یقیناً مرد شاگردوں مثلاً پطرس یا یوحنا کو خالی قبر کو دریافت کرنے والوں کے طور پر پیش کیا جانا تھا۔ یہ واقعہ کہ عورتیں خالی قبر کی پہلی عینی شاہدین ہیں حقیقت کے لحاظ سے سچائی کے ساتھ بیان کیا گیا ۔ اِس سے واضح ہو جاتاہے کہ اناجیل کے مصنفین نے ہر بات کو وفاداری سے قلمبند کیا تھا چاہے یہ نا گوار ہی کیوں نہ تھی ۔ یہ بات اِس روایت کی افسانوی حیثیت کی بجائے اِس کی تاریخی اہمیت کی علامت ہے "

( Dr. William Lane Craig, quoted by Lee Strobel, The Case for Christ, Grand Rapids: Zondervan, 1998, p. 293) ۔

خلاصہ

شواہد کی یہ کڑیاں: عینی شاہدین کی قابلِ یقین سچائی ( اور رسولوں کی زندگی میں آنے والی زبردست اور ناقابل بیان تبدیلی)، مرکزی مخالفین کی مسیحیت میں شمولیت اور قابلِ یقین سچائی ، تشکیک پرست شخصیات کا مسیحیت میں آنا اور شہید ہونا ، خالی قبر کی حقیقت ، مخالفین کی طرف سے خالی قبر کی تصدیق، یہ حقیقت کہ یہ تمام باتیں یروشلیم میں رونما ہوئیں جہاں جی اُٹھے یسوع پر ایمان کی ابتدا اور نشوونما ہوئی ، عورتوں کی گواہی ، تاریخی تناظر میں اِ یسی گواہیوں کی اہمیت؛ یہ تمام شواہد مسیح کے مردوں میں سے جی اُٹھنے کی تاریخی حقانیت کی پُر زور تصدیق کرتے ہیں ۔ ہم اپنے قارئین کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ ان شواہد پر غور کریں ۔ یہ شواہد آپ کو کیا تجویز کرتے ہیں ؟بذات خود اِن شواہد پر غور و فکر کے بعد ہم سر لیونل کے بیان کی مستقل مزاجی سے تصدیق کرتے ہیں :

" یسوع مسیح کے مردوں میں سے جی اُٹھنے کے شواہد ایسے زبردست ہیں کہ یہ اپنی حقانیت کے باعث قبولیت پر مجبور کر دیتے ہیں جس میں شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں۔ "

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مجھے یسوع کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے پر کیوں ایمان رکھنا چاہیے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries