"خُدا نے یسوع کو ایک خاص وقت میں ہی کیوں بھیجا ؟ پہلے کیوں نہیں بھیجا؟ بعد میں کیوں نہیں بھیجا؟



سوال: "خُدا نے یسوع کو ایک خاص وقت میں ہی کیوں بھیجا ؟ پہلے کیوں نہیں بھیجا؟ بعد میں کیوں نہیں بھیجا؟

جواب:
"لیکن جب وقت پُورا ہو گیا تو خُدا نے اپنے بیٹے کو بھیجا جو عورت سے پیدا ہوا اور شریعت کے ماتحت پیدا ہوا" (گلتیوں۴:۴)۔ یہ آیت اعلان کرتی ہے کہ خُدا باپ نے اپنے بیٹے کو تب بھیجا "جب وقت پورا ہو گیا"۔ پہلی صدی میں ایسے بہت سے کام ہو چکے تھےجو کم از کم انسانی نقطہ نظر سے یسوع کے آنے کے لئے فضلیت کے حامل لگتے ہیں۔

۱۔ اُس وقت کے یہودیوں کی بہت بڑی اُمید تھی کہ مسیح آئے گا ۔ اسرائیل پر رومی حکومت سے وجہ سے آنے والے مسیح کے لیے اُن کی بھوک میں اور بھی شدت آ گئی تھی۔

۲۔ رومیوں نے دُنیا بھرکو اتحاد کا درس دے کر اپنی حکومت کا حصہ بنا لیا تھا۔ کیونکہ اُن کی سلطنت کافی حد تک پُر امن تھی، اِس لئے ابتدائی مسیحیوں کے لئے انجیل کے پھیلاؤ کے لئے سفر کرنا بھی ممکن تھا۔ سفر کرنے کے لئے ایسی آزاد ی دوسرے ادوار میں ناممکن ہو تی۔

۳۔ اگرچہ روم نے عسکری طور پر فتح حاصل کر لی تھی۔ یونان نے ثقافتی طور پر فتح حاصل کر لی تھی۔ یونانی زُبان (کلاسیکل یونانی سے مختلف) کی ایک "عام" شکل تجارتی زُبان تھی جو سلطنت میں بولی جاتی تھی ۔ اِس عام زبان کے ذریعہ انجیل کی بشارت مختلف لوگوں تک پہچانا ممکن ہو چکا تھا۔

۴۔ یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جھوٹے دیوتا رومی فاتحین پر غالب آنے میں ناکام ہو چکے تھے، جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں نے اپنے دیوتاؤں کی پرستش کرنا چھوڑ دی تھی۔ اور جس طرح، زیادہ "ثقافتی" شہروں میں، یونانی فلسفہ اور سائنس نے دوسروں کو روحانی بطالت کے اندھیروں میں دھکیل دیا تھا، اِسی طرح آج کیمونسٹ (اشتراکی) حکومتوں کے بے دینوں نے روحانی بطالت میں دھکیل دیا ہے۔

۵۔ وقت کے پُر اسرار مذاہب ایک نجات دہندہ دیوتا کی ضرورت پر زور دیتے اور پرستش میں خونی قربانیوں کا مطالبہ کرتے تھے۔ لہذہ مسیح کی خوشخبری جس میں ایک حتمی قربانی شامل تھے اُن کے نزدیک قابلِ قبول بن گئی۔ یونانیوں نے بھی روحوں کی بقا پر یقین کر لیا تھا (لیکن جسم کی بقا کو نہیں مانتے تھے)۔

۶۔ رومی فوج نے صوبوں میں سے سپاہیوں کو بھرتی کیا، اُن کو روم کی ثقافت اور تصورات (جیسے انجیل) متعارف کرائی جو ابھی تک اُن کے بیرونی صوبوں میں نہیں پہنچی تھی۔ برطانیہ میں بھی انجیل کا ابتدائی تعارف مسیحی فوجیوں کی کوشش کا نتیجہ تھا۔

مندرجہ بالا بیانات اُن اشخاص پر مبنی ہیں جو وقت کو دیکھتے اور اِس بات پر غور کرتے ہیں کہ تاریخ میں کوئی خاص نقطہ مسیح کی پیدائش کے لئے اچھا کیوں ہے۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ خُدا کی راہیں ہماری راہیں نہیں ہیں (یعسیاہ ۸:۵۵)، یہ وجوہات ہو سکتی ہیں اور نہیں بھی ہو سکتی کہ خُدا نے یہ خاص وقت اپنے بیٹے کو بھیجنے کے لئے کیوں چُنا۔ گلتیوں ۳ اور ۴ کے سیاق و سباق سے اِس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ خُدا نے یہودی شریعت کے وسیلہ سے نیو رکھی جو مسیح کی آمد کی تیاری کرے گی۔ شریعت کا مطلب لوگوں کو اُن کے گناہوں(جس میں وہ شریعت کو پورا کرنے کے قابل نہیں تھے) کی گہرائی سمجھانا تھا، تاکہ وہ یسوع مسیح کے وسیلہ سے اُس گناہ کے علاج کوزیادہ خوشی سے قبول کرسکیں (گلتیوں۲۲:۳۔۲۳؛رومیوں۱۹:۳۔۲۰)۔ شریعت لوگوں کو یسوع کے پاس لانے کے لئے "اُستاد بھی بنی" (گلتیوں۲۴:۳)۔ یہ کام شریعت نے مسیح کے بارے میں اپنی بہت سی پیشن گوئیوں کے وسیلہ سے کیا جن کو یسوع نے پورا بھی کیا۔ اِس میں قربانیوں کے نظام کو بھی شامل کریں جس نے گناہوں کے لئے قربانی کی ضرورت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی کمزوری کی طرف بھی اشارہ کیا۔ (کیونکہ ہر قربانی بعد میں اور بھی تقاضا کرتی تھیں)۔ عہدِ عتیق کی تاریخ کے بہت سے واقعات اور مذہبی عیدوں (جیسے ابرہام نے اضحاق کو پیش کیا، یا مصر کی روانگی کے دوران فسح کی قربانی کی تفصیلات، وغیرہ) کے ذریعہ ایک شخص یعنی مسیح، اور اُس کے کاموں کی تصویر کشی کی ۔

آخر میں، جب اُس نے دانی ایل میں موجود مخصوص پیشن گوئی کو پورا کیا۔ دانی ایل۲۴:۹۔۲۷ "ستر ہفتوں " یا "ستر سات" کے بارے میں بیان کرتی ہے۔ سیاق و سباق سے یہ "ہفتے" یا "سیونز" سات سالوں کے گروہ کو ظاہر کرتے ہیں نہ کہ سات دنوں کو۔ ہم تاریخ کی جانچ پڑتال کر سکتے ہیں اور پہلے اُنہتر ہفتوں (سترواں ہفتہ مستقبل میں پورا ہو گا) کی جزئیات کو ترتیب دے سکتے ہیں۔ ستر ہفتوں کی اُلٹی گنتی آیت ۲۵ سے شروع ہوتی ہے " پس تُو معلوم کر اور سمجھ لے کہ یروشلیم کی بحالی اور تعمیر کا حکم صادر ہونے سے فرمانروا تک سات ہفتے اور باسٹھ ہفتے ہوں گے۔ تب پھر بازار تعمیر کئے جائیں گے اور فصیل بنائی جائے گی مگر مصیبت کے ایّام میں" (آیت۲۵)۔ یہ حکم شاہِ فارس ارتخششتا لینگیمینس نے ۴۴۵ق م میں جاری کیا (دیکھیں نحمیاہ۵:۲)۔سات "سیونز" جمع ۶۲ "سیونز"، یا ۶۹ ضرب ۷ ، یعنی نبوت کے مطابق چار سو تراسی ( اُنہتر ضرب سات ) سال کے بعد " وہ ممسوح قتل کیا جائے گا اور اُس کا کچھ نہ رہے گا اور ایک بادشاہ آئے گا جس کے لوگ شہر اور مقدس کو مِسمار کریں گے اور اُس کا انجام گویا طوفان کے ساتھ ہو گا اور آخر تک لڑائی رہے گی۔ بربادی مقرر ہو چُکی ہے" (مطلب بڑی بربادی) (آیت۲۶)۔ مسیح یسوع کی صلیب پر موت کے بارے میں یہاں ہمارے پاس غلطی سے پاک حوالہ موجود ہے۔ ایک صدی پہلے سر رابرٹ اینڈرسن نے اپنی کتاب "دا کمِنگ پرنس" میں "نبوتی سالوں" کو استعمال کرتے ہوئے ، سالِ کبیسہ (لِیپ اِئیر) کا حوالہ دیتے ہوئے، کلینڈر میں غلطیوں اور "بی سی"، "اے ڈی" کا ذکر کرتے ہوئے ۶۹ ہفتوں کا مفصل اعداو شمار پیش کیا ہے۔ اور نتیجہ نکالا ہے کہ ۶۹ ہفتے یسوع مسیح کے یروشلیم میں شاہانہ داخلہ کے دن ، اور اُس کی موت سے پانچ دن پہلے ختم ہو گئے تھے۔ چاہے کوئی اِس اوقات نامہ (ٹائم ٹیبل) کو استعمال کرے یا نہ کرے، نقطہِ نظر یہ ہے کہ یسوع مسیح کے مجسم ہونے کے وقت کو پانچ سو سال پہلے دانی ایل کی مفصل پیشن گوئی میں بیان کر دیا گیا تھا۔

یسوع مسیح کے تجسم کا وقت اِس طرح تھا کہ اُس وقت کے لوگ اُس کی آمد کے لئے تیار تھے۔ اُس کے بعد بھی ہر صدی کے لوگوں کے پاس کافی ثبوت ہیں کہ یسوع واقعی مسیحِ ماعود ہے، اور نوشتوں کی تکمیل ہے جن میں عظیم تفصیل کے ساتھ اُس کی آمد کے بارے میں پیشن گوئیاں ہوئیں۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



"خُدا نے یسوع کو ایک خاص وقت میں ہی کیوں بھیجا ؟ پہلے کیوں نہیں بھیجا؟ بعد میں کیوں نہیں بھیجا؟