خُدا نے ہمیں کیوں تخلیق کیا؟


سوال: خُدا نے ہمیں کیوں تخلیق کیا؟

جواب:
"خُدا نے ہمیں کیوں تخلیق کیا تھا ؟" اِس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ اُس نے ہمیں"اپنی خوشی کے لئے" تخلیق کیا ہے ۔ مکاشفہ 4باب 11آیت بیان کرتی ہے، "اے ہمارے خُداوند اور خُدا تُو ہی تمجید اور عزت اور قدرت کے لائق ہے کیونکہ تُو ہی نے سب چیزیں پیدا کیں اور وہ تیری ہی مرضی سے تھیں اور پیدا ہُوئیں"۔ کُلسیوں 1 باب 16آیت بھی اِسی نکتے کو بیان کرتی ہے"کیونکہ اُسی میں سب چیزیں پیدا کی گئیں۔ آسمان کی ہوں یا زمین کی۔ دیکھی ہوں یا اَن دیکھی۔ تخت ہوں یا ریاستیں یا حکومتیں یا اختیارات۔ سب چیزیں اُس کے وسیلہ سے اور اُسی کے واسطے پیدا ہوئی ہیں"۔ خُدا کی خوشی کے لئے پیدا کئے جانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بنی نو ع انسان کو محض خُدا کی تفریح یا اُس کو لطف اندوز کرنے کے لیے خلق کیا گیا ہے۔ خُدا خالق ہے اور تخلیق کے عمل سے اُسے خوشی ملتی ہے۔ خُدا ایک شخصیت کا حامل ہے اور ایسی مخلوقات کو پیدا کرنا اُس کی خوشی کا باعث ہے جس کے ساتھ وہ حقیقی رفاقت رکھ سکے۔

خُدا کی صورت و شبیہ پر پیدا ہونے کی بدولت (پیدائش1باب 27آیت ) انسان خدا کو جاننے کی قابلیت رکھتا ہے اور اِس کے نتیجے میں وہ خدا سے محبت رکھتا ہے، اُس کی پرستش اور خدمت کرتا ہے، اور اُس کے ساتھ رفاقت رکھتاہے۔ خُدا نے انسان کو اِس لئے پیدا نہیں کیا تھا کہ اُسے انسان کی ضرورت تھی ۔ قادرِ مطلق اور لامحدود ذات کی حیثیت سے اُسے کسی چیز کی ضرورت نہیں تھی ۔ چونکہ گذشتہ تمام ازلیت میں اُسے کبھی تنہائی محسوس نہیں ہوئی تھی اس لیےجب اُس نے انسان کو تخلیق کیا تو اُسے کسی "دوست" کی تلاش نہیں تھی ۔ وہ ہم سے پیار کرتا ہے لیکن پیار کرنے کا ہرگز مطلب نہیں کہ اُسے ہماری ضرورت ہے۔ اگر ہم نہ بھی ہوتے تو بھی خُدا لاتبدیل ہستی کے طور پر خُدا ہی ہوتا (ملاکی 3باب6آیت )۔ "مَیں ہوں "(یہواہ/خدا)(خروج 3باب 14آیت ) اپنے ابدی وجود سے کبھی غیر مطمئن نہیں تھا۔ جب خدا نے کائنات کو تخلیق کیا تو اُس نے اپنی خوشی کےلیے ایسا کیا تھا اور چونکہ خُدا کامل ہےاِس لئے اُس کاکام بھی کامل " بہت اچھا " تھا (پیدائش1باب 31آیت )۔

مزید یہ کہ خُدا نے "ہم رُتبہ" یا ایسی مخلوقات کو تخلیق نہیں کیا تھا جو اُس کے برابر ہو۔ منطقی طور پر وہ ایسانہیں کر سکتا تھا۔ اگر خُدا اپنی قدرت، ذہانت اور کاملیت کی ہم مرتبہ ایک اور ذات تخلیق کرتاتو پھر دو خدا ؤں کی موجودگی کی وجہ سے وہ حقیقی خدا نہ رہتا – اور یہ ناممکن بات تھی ۔ "خُداوند ہی خُدا ہے اور اُس کے سِوا اور کوئی ہے ہی نہیں" (اِستثنا 4باب 35آیت )۔ خدا جو کچھ تخلیق کرتا ہے وہ لازمی طور پر اُس کی ذات سے کم تر ہوتا ہے ۔ لہذا تخلیق کردہ چیز کبھی بھی اپنے خالق کے برابر یا اُس سے بڑی نہیں ہو سکتی۔

جب ہمیں خُدا کی کامل حاکمیت اور پاکیزگی کا انداز ہوتا ہے تو ہم بہت حیران ہوتے ہیں کہ وہ انسان کو "جلال اور شوکت سے" تاجدار کرے گا (8زبور 5آیت ) اور اِس بات سے بھی کہ ہمیں اپنا دوست کہنے کےلیے وہ راضی ہو گیا ہے (یوحنا15باب 14-15آیات )۔ خُدا نے ہمیں کیوں تخلیق کیا تھا ؟ خُدا نے ہمیں اپنی خوشی کے لئے تخلیق کیا ہے تاکہ ہم اُس کی تخلیق کی حیثیت سے اُسے جاننے کی خوشی حاصل کر یں ۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
خُدا نے ہمیں کیوں تخلیق کیا؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں