settings icon
share icon
سوال

جہنم میں کون کون جائے گا ؟

جواب


حالیہ دَور میں جہنم حتیٰ کہ مسیحیوں کے درمیان بھی ایک متنازعہ موضوع بن چکی ہے ۔ تاہم یہ تنازعہ مکمل طور پر انسان کا پیدا کیا ہوا ہے۔ جہنم کی حقیقت سے انکار خدا کی محبت کو ابدی سزا کے سا تھ ہم آہنگ کرنے میں انسانی نا اہلی یا خدا کے کلام کی واضح تردید کی وجہ سے سامنے آتاہے۔ یہاں تک کہ کچھ دعویدار مسیحی بھی غیر بائبلی نتائج اخذ کر چکے ہیں۔ کچھ لوگوں نے تو جہنم کو نئے طور پر بیان کرنے ، ایک ایسے درمیانی مقام جو کلام پاک میں پایا نہیں جاتا کو تخلیق کرنے یا جہنم کے وجود سے یکسر انکار کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ایسا کرتے ہوئے وہ مکاشفہ 22باب 19آیت میں مذکورخُداوند یسوع کے انتباہ کو نظر انداز کر رہے ہیں" اگر کوئی اِس نبوّت کی کِتاب کی باتوں میں سے کچھ نِکال ڈالے تو خُدا اُس زِندگی کے درخت اور مُقدّس شہر میں سے جن کا اِس کِتاب میں ذِکر ہے اُس کا حصّہ نکال ڈالے گا۔"

بائبل میں جہنم کا 167 بار ذکر آیا ہے جسے بعض اوقات گیہینا، عالمِ ارواح ، نیستی کا گڑھا، پاتال، اتھاہ گڑھا، یا ابدی ہلاکت کہا جاتا ہے (امثال 7باب 27آیت ؛ لوقا 8باب 31آیت ؛ 10باب 15آیت ؛ 2تھسلنیکیوں 1باب 9آیت )۔خُداوند یسوع نے فردوس اور جہنم کو حقیقی جگہوں کے طور پر بیان کیا ہے (متی 13باب 41-42آیات؛ 23باب 33آیت؛ مرقس 9باب 43-47آیات؛ لوقا 12باب 5آیت)۔ خُداوند یسوع نے امیر آدمی اور لعزر کے بارے میں جو تمثیل سنائی تھی وہ ایک حقیقی واقعہ تھا جس نے دو ابدی منزلوں کی حقیقت کو عیاں کیا تھا (لوقا 16باب 19-31آیات) ۔ فردوس خدا کا وہ مقدس مکان ہے (2 تواریخ 30باب 27آیت ) جہاں خُداوند یسوع اپنے محبت کرنے والوں کے لیے "جگہ تیار " کرنے گیا ہے (یوحنا 14باب 2آیت)۔ جہنم "ابلیس اور اُس کے فرشتوں کے لیے تیار کی گئی ہے "(متی 25باب 41آیت)۔ لیکن چونکہ ہر انسان گنہگار ہے لہذا ہر شخص جو معصومیت کی عمر سے نکل کر جوابدہی کی عمر پا ر کرچکا ہے اُس پر جہنم کی سزا پہلے ہی سے لاگو ہو چکی ہے (رومیوں 3باب 10آیت ؛ 5باب 12آیت ؛ یوحنا 3باب 18آیت)۔ہم سب خُدا کے خلاف اپنی بغاوت کی واجب سزا کے طور پر جہنم کے مستحق ہیں (رومیوں 6باب 23آیت)۔

یسوع اس بارے میں واضح طور پر بیان تھا کہ" جب تک کوئی نئے سِرے سے پَیدا نہ ہو وہ خُدا کی بادشاہی کو دیکھ نہیں سکتا"(یوحنا 3باب 3آیت)۔ اُس نے یہ بھی واضح کر دیا تھا کہ جہنم اُن لوگوں کے لیے ابدی سزا ہے جو خدا کی فرمانبرداری نہیں کرتے (متی 25باب 46آیت)۔ 2تھسلنیکیوں 1باب 8-9آیات کہتی ہے کہ آخر میں خدا اُن لوگوں کو جو اُسے نہیں " پہچانتے اور ہمارے خُداوند یسُوع کی خُوشخبری کو نہیں مانتے اُن سے بدلہ لے گا۔ وہ خُداوند کے چہرہ اور اُس کی قُدرت کے جلال سے دُور ہو کر ابدی ہلاکت کی سزا پائیں گے۔ " یوحنا بپتسمہ دینے والے نے خُداوند یسوع کے بارے میں فرمایا کہ " اُس کا چھاج اُس کے ہاتھ میں ہے اور وہ اپنے کھلیہان کو خُوب صاف کرے گا اور اپنے گیہوں کو تو کھتّے میں جمع کرے گا مگر بُھوسی کو اُس آگ میں جلائے گا جو بجھنے کی نہیں"(متی 3باب 12آیت)۔

یوحنا 3باب 18آیت بڑے سادہ الفاظ میں بیان کرتی ہے کہ کون فردوس میں جائے گا اور کون جہنم میں جائے گا: "جو اُس پر اِیمان لاتا ہے اُس پر سزا کا حکم نہیں ہوتا۔ جو اُس پر ایمان نہیں لاتا اُس پر سزا کا حکم ہو چُکا۔ اِس لئے کہ وہ خُدا کے اِکلَوتے بیٹے کے نام پر اِیمان نہیں لایا۔" لہٰذاجہنم میں جانے والے لوگ بالخصوص وہ ہیں جو یسوع کے نام پر ایمان نہیں لاتے ۔ "ایمان" لاناسچائی کو عقلی طور پر تسلیم کرنے سے بڑھ کر ہے۔ نجات کے لیے مسیح پر ایمان لانا وفاداری کی منتقلی کا تقاضا کرتاہے۔ ہم خودپرستی کو چھوڑ دیتے ہیں ،ہم اپنے گناہ کو ترک کر دیتے ہیں اور ہم اپنے دل، جان، عقل اور طاقت سے خُدا کی عبادت کرنے لگتے ہیں (متی 22باب 36-37آیات؛ مرقس 12باب 30)۔

خُدا چاہتا ہے کہ ہر انسان ابدیت اُس کے ساتھ بسر کرے (متی 18باب 14آیت ؛ 2 پطرس 3باب 9آیت ) لیکن وہ ہماری آزاد مرضی کا بھی احترام کرتا ہے (یوحنا 4باب 14آیت )۔ کوئی بھی شخص جو فردوس میں جانا چاہتا ہے وہاں جا سکتا ہے (یوحنا 1باب 12آیت )۔ یسوع نے ہماری نجات کی قیمت پہلے ہی سے ادا کر دی ہے لیکن ہمیں اس تحفے کو قبول کرنے اور اپنی زندگیوں کی ملکیت اُس کے اختیار میں دینے کی ضرورت ہے (لوقا 9باب 23 آیت)۔ فردوس ایک پاک جگہ ہے اور خُدا ایسے کسی بھی شخص کو وہاں لے جا نہیں سکتا جو اپنے گناہ پر قائم رہنے پر اصرار کرتا /کرتی ہے ۔ ہمیں اُسے اجازت دینی چاہیے کہ وہ ہمیں ہمارے گناہوں سے پاک کرے اور ہمیں اپنے حضور راستباز بنائے (2 کرنتھیوں 5باب 21آیت )۔ یوحنا 1باب 10-12آیات مسئلے کو پیش کرتی اور ہمیں اُس کا حل مہیا کرتی ہیں "وہ دُنیا میں تھا اور دُنیا اُس کے وسیلہ سے پَیدا ہُوئی اور دُنیا نے اُسے نہ پہچانا۔ وہ اپنے گھر آیا اور اُس کے اپنوں نے اُسے قبُول نہ کِیا۔ لیکن جتنوں نے اُسے قبُول کِیا اُس نے اُنہیں خُدا کے فرزند بننے کا حق بخشا یعنی اُنہیں جو اُس کے نام پر اِیمان لاتے ہیں۔"

ہم یسوع کی طرف سےہمارے گناہوں کی قیمت کی ادائیگی پر بھروسہ کرنے کا انتخاب کر سکتے ہیں یا ہم اپنے گناہوں کی خود ادائیگی کرنے کا انتخاب کر سکتے ہیں – مگر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے گناہ کی ادائیگی ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا ہے۔ سی ایس لوئیس نے اِسے اس طرح بیان کیا ہے : "آخر میں صرف دو قسم کے لوگ ہوں گے : وہ جو خدا سے کہتے ہیں کہ 'تیری مرضی پوری ہو ' اور وہ جن سے خُدا آخر میں کہے گا کہ تمہاری مرضی پوری ہو ' ۔"

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

جہنم میں کون کون جائے گا ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries