کون نجات پا سکتا ہے؟



سوال: کون نجات پا سکتا ہے؟

جواب:
یسوع نے یوحنا ۱۶:۳میں واضح طور پر سکھایا تھا کہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے گا وہ نجات پائے گا: ’’کیونکہ خُدا نے دُنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے‘‘۔ لفظ ’’جو کوئی‘‘ میں آپ اور دُنیا کا ہر شخص شامل ہے۔

بائبل سکھاتی ہے کہ اگر نجات ہماری کاوش پر مبنی ہوتی تو کوئی شخص نجات نہ پا سکتا: ’’اِس لیے کہ سب نے گُناہ کیا اور خُدا کے جلال سے محروم ہیں‘‘ (رومیوں۲۳:۳)۔ زبور ۲:۱۴۳ میں مرقوم ہے ’’کیونکہ تیری نظر میں کوئی آدمی راستباز نہیں ٹھہر سکتا‘‘۔ رومیوں۱۰:۳میں مرقوم ہے کہ ’’کوئی راستباز نہیں۔ ایک بھی نہیں‘‘۔

ہم خود سے نجات حاصل نہیں کر سکتے۔ اِس کی بجائے، جب ہم یسوع مسیح پر ایمان لاتے ہیں تو ہم نجات پاتے ہیں۔ افسیوں۸:۲۔۹ سکھاتی ہے ’’کیونکہ تم کو ایمان کے وسیلہ سے فضل ہی سے نجات ملی ہے اور یہ تمہاری طرف سے نہیں۔ خُدا کی بخشش ہے ۔ اور نہ اعمال کے سبب سے ہے تاکہ کوئی فخر نہ کرے‘‘۔ ہمیں خُدا کے فضل ہی سے نجات ملتی ہے، اور فضل اپنی تعریف کے مطابق کمایا نہیں جا سکتا۔ ہم نجات کے حق دار نہیں ہیں،ہم صرف اِسے ایمان کے وسیلہ سے حاصل کرتے ہیں۔

خُدا کا فضل ہر گُناہ کو مٹانے کے لیے کافی ہے (رومیوں۲۰:۵)۔ بائبل ایسے لوگوں کی مثالوں سے بھری ہوئی ہے جن کو اُن کے گُناہ آلودہ پسِ منظر سے نجات ملی۔ پولوس رسول نے ایسے مسیحیوں کو لکھا جو پہلے سے مختلف گُناہ آلودہ حالات میں رہ رہے تھے، جن میں جنسی بد اخلاقی، بت پرستی، زنا کاری، جنس پرستی، چوری ، لالچ اور شراب نوشی شامل ہیں۔ لیکن پولوس اُن کو نجات کے بارے میں سکھاتے ہے "تم خُداوند یسوع کے نام سے اور ہمارے خُدا کے رُوح سے دُھل گئے اورپاک ہوئے اور راستباز بھی ٹھہرے" (۱۔کرنتھیوں۹:۶۔۱۱)۔

پولوس رسول خُود بھی مسیحیوں کو ستایا کرتا تھا۔اِن ایذہ رسانیوں میں ستفنس کی موت کی توثیق (اعمال۱:۸) اور مسیحیوں کی گرفتاریاں، اُن کو قید خانوں میں ڈالنا (اعمال۳:۸) شامل ہیں۔ بعد میں لکھتا ہے ’’اگرچہ میں پہلے کُفر بکنے والا اور ستانے والا اور بے عزت کرنے والا تھا تو بھی مُجھ پر رحم ہُوا اِس واسطے کہ میں نے بے ایمانی کی حالت میں نادانی سے یہ کام کئے تھے۔ اور ہمارے خُداوند کا فضل اُس ایمان اور محبت کے ساتھ جو مسیح یسوع میں ہے بہت زیادہ ہُوا۔ یہ بات سچ اور ہر طرح سے قبول کرنے کے لائق ہے کہ مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لئے دُنیا میں آیا جن میں سب سے بڑا میں ہوں‘‘۔ (۱۔تھمُتھُیس۱۳:۱۔۱۵)۔

خُدا اکثر خلافِ عقل اُمیدواروں کو اپنے مقاصد پورا کرنے کے لیے چُنتا ہے۔ اُس نے صلیب پر موجود چند منٹوں کی زندگی والے ایک ڈاکو کو (لوقا۴۲:۲۳۔۴۳)، کلیسیا کے ستانے والے (پولوس) کو، ایک ماہی گیر(پطرس) کو جس نے اُس کا انکار بھی کیا تھا، ایک رومی سپاہی اور اُس کے گھرانے کو(اعمال۱۰)، ایک مفرور غلام (فِلیمون میں مذکور اُینسمُس) کو، اور بہت سے لوگوں کونجات دی۔ خُدا کے نزدیک ایسا کوئی نہیں جسے وہ نجات نہ دے سکے۔ (دیکھیں یسعیاہ۲:۵۰)۔ فقط ہمیں ایمان کے ساتھ اپنا ردِعمل دکھانا ہے اور ابدی زندگی کی نعمت کو حاصل کرنا ہے۔

کون نجات پاسکتا ہے؟ ایک بات تو یقینی ہے کہ آپ پا سکتے ہیں، اگر آپ یسوع مسیح کو اپنا نجات دہندہ کے طور پر قبول کرتے ہیں! اگر آپ کو یقین نہیں کہ آپ نے یسوع کو اپنا نجات دہندہ کے طور پر قبول کر لیا ہے، تو آپ ابھی اِس طرح کی دُعا کے ساتھ اپنا ردِ عمل دے سکتے ہیں۔

’’خُدا، میں سمجھتا ہوں کہ میں گنہگار ہوں اور اپنے اعمال سے کبھی فردوس میں نہیں جا سکتا۔ ابھی اسی وقت میں یسوع مسیح پر ایمان لاتا ہوں کہ وہ خُدا کا بیٹا ہے جو میرے گُناہوں کے لیے مر گیا اور مُجھے ابدی زندگی دینے کے لیے مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ برائے کرم میرے گُناہوں کو معاف فرما اور توفیق دے کہ میں تیرے لیے زندگی گزار سکوں۔ آپ کا مشکور ہوں کہ آپ نے مُجھے قبول کیا اور مُجھے ابدی زندگی دی۔ (آمین)

جو بھی کچھ آپ نے یہاں پڑھا ہے اس کی بنیاد پر کیا آپ نے مسیح کے لئے فیصلہ لیا ہے؟ اگر آپکا جواب ہاں میں ہے تو برائے مہربانی اس جگہ پر کلک کریں جہاں لکھا ہے کہ آج میں نے مسیح کو قبول کر لیا ہے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



کون نجات پا سکتا ہے؟