settings icon
share icon
سوال

عستارات کون تھی ؟

جواب


عستارات یا اشٹورتھ ، قدیم شام ، فونیشیا اور کنعان میں پوجی جانے والی مرکزی دیوی کا نام تھا۔ فونیشیا کے لوگ اسے آسٹارٹی پکارتے تھے ، اسوری اُسے اِشتارکے طور پر پوجتے اور فلستیوں کے ہاں عستارات کا ایک مندر تھا ( 1سموئیل 31باب 10آیت)۔کنعان کی سرزمین پر بنی اسرائیل کی نامکمل فتح کے سبب سے عستارات کی عبادت مکمل طور پر ختم نہ ہوئی تھی اور یشوع کی موت کے فوراً بعداِس دیوی کی عبادت شروع ہوکر پورے اسرائیل میں پھیل گئی تھی ( قضاہ 2باب 13آیت)۔

عستارات کو شاخوں کے بغیر زمین میں گاڑے درخت کے ایک تنے کے ذریعے ظاہر کیا جاتا تھا ۔ تراشتے ہوئے درختوں سے وابستگی کی وجہ سے عستارات کی عبادت گاہوں کو عام طور پر "درختوں کا جھنڈ" کہا جاتا تھا اوراِس مناسبت سے عبرانی لفظ " عشرہ" ( جمع " عشریم") دیوی یا درختوں کے ایک جھنڈ کی جانب اشارہ کر سکتا ہے ۔ منّسی بادشاہ کے بُرے کاموں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ اُس نے " یسِیرت کی کھودی ہوئی مورت کو جسے اُس نے بنایا تھا اُس گھر میں نصب کِیا جس کی بابت خُداوند نے داؤد اور اُس کے بیٹے سُلیمان سے کہا تھا کہ اِسی گھر میں اور یروشلیم میں جسے مَیں نے بنی اِسرائیل کے سب قبیلوں میں سے چن لِیا ہے مَیں اپنا نام ابد تک رکھُّوں گا " ( 2سلاطین 21باب 7آیت)۔ "یسیرت کی کھودی ہوئی مورت" کا ایک اور ترجمہ "درختوں کے جھنڈکی کھودی ہوئی مورت" ہے (کنگ جیمز بائبل ورژن )۔

چاند کی دیوی خیال کئے جانے کے باعث عستارات کو اکثر بعل یعنی سورج دیوتا کی بیوی کے طور پر پیش کیا جاتا تھا (قضاہ 3باب 7آیت؛ 6باب 28 آیت؛ 1سموئیل 7باب 4آیت ؛ 12باب 10آیت)۔ عستارات کی محبت اور جنگ کی دیوی کے طور پر بھی پوجا کی جاتی تھی اور بعض اوقات اسےکنعانیوں کی ایک اور دیوی انیتھ سے جوڑا جاتا تھا۔ عستارات کی عبادت جنسی سرگرمیوں کے لیے مشہور تھی اور اس میں رسمی زنا کاری کا عمل شامل تھا ۔ عستارات کے کاہن اور کاہنائیں غیب دانی اور قسمت کا حال بتانے کی مشق بھی کرتے تھے ۔

خداوند خدا نے موسیٰ کے وسیلے عستارات کی عبادت سے منع کیا تھا ۔ شریعت میں واضح کیا گیا تھا کہ خداوند کی قربان گاہ کے نزدیک درختوں کا کوئی جھنڈ نہ ہو(استثنا 16باب 21آیت)۔ خدا کے واضح احکامات کے باوجود عستارات کی عبادت اسرائیل میں ایک بار بار رونما ہونے والا مسئلہ تھا۔ جب سلیمان بادشاہ بت پرستی میں ملوث ہوا تو غیر قوموں کے دیوتاؤں میں ایک "صیدانیوں کی دیوی " ( 1سلاطین 11باب 5، 33آیات) کہلانے والی عستارات کو اپنے ملک میں لایا تھا ۔ بعد میں ا یزبل نے عستارات کے 400 نبیوں کی شاہی خزانے سے مدد کے ساتھ عستارات کی عبادت کو اور بھی عام کردیا تھا ( 1سلاطین 18باب 19آیت)۔ مختلف اوقات میں اسرائیلیوں نے رُوحانی بیداری اور جدعون ( قضاۃ 6باب 25-30آیات)، آسا بادشاہ (1سلاطین 15باب 13آیت) اور یوسیاہ بادشاہ ( 2سلاطین 23باب 1-7آیت)کی قیادت میں عستارات کی پرستش کے خلاف قابل ذکر جنگوں کا تجربہ کیا۔



English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

عستارات کون تھی ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries