settings icon
share icon
سوال

ہم کیسے جان سکتے ہیں کہ بائبل ہی خُدا کا حتمی کلام ہے اور کتبِ مشکوک/اپاکرفا، قرآن اور مورمن کی کتاب وغیرہ خُدا کا کلام نہیں ہیں؟

جواب


یہ سوال بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ(اگر کوئی کتاب حقیقت میں خُدا کا کلام ہے تو) وہ کونسی مذہبی کتاب ہے؟ایک ایسے استدلال سے بچنے کےلیے جو دائرہ نما شکل میں گھومتا رہتا ہے سب سے پہلے ہمیں یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ : ہم کیسے جان پائیں گے کہ اصل میں خدا ہی نے کلام کیا تھا؟ یقیناً خدا کو اس طرح سے کلام کرنا تھا کہ جسے لوگ سمجھ پاتے مگر اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ لوگ خود سے ایسے پیغامات بناتے ہوئے ایسا دعویٰ کر سکتے تھے کہ یہ خدا کی طرف سے ہے ۔ لہذا اس بارےمیں سوچنا نہایت منطقی معلوم ہوتا ہے کہ اگر خدا اپنے پیغام کی تصدیق کرنا چاہتا تھا تواُسے اپنے کلام کی تصدیق اس انداز میں کرنی تھی جس کی عام انسان نقل نہ کر پاتے ۔ دوسرے الفاظ میں اُسے معجزات کے وسیلہ سے اِس کی تصدیق کرنی تھی۔ یہ بات اس بحث کو سمیٹنے میں کافی مدد گار ثابت ہوتی ہے ۔

بائبل کی درستی/صحت و صداقت (قدیم نسخوں کے ثبوت ) اور اِس کی تاریخی حقانیت ( آثارِ قدیمہ کے ثبوت ) کے شواہد کے علاوہ سب سے اہم ثبوت اس کے الہام کا ہے ۔ بائبل کے مکمل طور الہامی لحاظ سے سچے ہونے کے دعوے کا حقیقی تعین اس کے مافوق الفطرت ثبوت بشمول نبوت کے ذریعےسے ہوتا ہے ۔ خدا نے اپنے کلام کو بیان اور قلمبند کرنے کے لیے نبیوں کو استعمال کیا تھا اور خدا نے اپنے نبیوں کی توثیق کےلیے نبوتوں کے پورے ہونے جیسے معجزات کو استعمال کیا تھا ۔ مثال کے طور پر پیدایش 12باب 7آیت میں خدا وعدہ کرتا ہے کہ اسرائیل کی سرزمین ابرہام اور اُس کی اولاد کےلیے ہو گی۔ 1948 میں اسرائیل کی سر زمین یہودی قو م نے تاریخ میں دوسری مرتبہ واپس حاصل کر لی تھی ۔ یہ بات آپ کو اُس وقت تک حیران کُن معلوم نہیں ہو سکتی جب تک آپ کو یہ احساس نہ ہو کہ دنیا کی تاریخ میں کوئی بھی قوم اپنے وطن سے منتشر ہونے کے بعد واپس نہیں لوٹی! مگر بنی اسرائیل نے ایسا دو بار کیا ہے ۔ دانی ایل کی کتاب چار بڑی سلطنتوں یعنی بابل ، مادی و فارسی، اس کے بعدیونان اور پھر روم میں سے کسی بھی ایک قوم کے ظاہر ہونے کے صدیوں پہلے اُن کے بارے میں ایسی تفصیل کے ساتھ درستگی سے نبوت کرتی ہے کہ وہ کیسے حکمرانی کریں کی اور اُن کا زوال کیسے ہو گا ۔ اس پیشن گوئی میں سکندرِ اعظم اور اینٹی اوکس ایپی فینیز کے ادوارِ حکومت بھی شامل ہیں ۔

حزقی ایل 26 باب میں ہم حیرت انگیز تفصیل دیکھ سکتے ہیں کہ صوؔر کا شہر کس طرح تباہ کیا جائے گا ، اور اِسے کیسے مسمار کر دیا جائے گا اور اس کے ملبے کو کیسے سمندر میں پھینک دیا جائے گا ۔ جب سکندرِ اعظم اس علاقے میں آیا تھا تو اسے ایک جزیرے کے کنارے بنے ایک بُرج میں موجود حملہ آور لوگوں کے ایک گروہ کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ وہ بُرج میں موجود لوگوں سے لڑنے کےلیے سمندر کو عبور نہیں کر سکتا تھا ۔ اُن کے باہر آنے کا انتظار کرنے کی بجائے مغرور فاتح نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ وہ سمندر میں ملبہ ڈالتے جائیں تاکہ ساحل سے لے کر بُرج تک زمین پُل بنایا جائے۔ یہ ترکیب کام کر گئی ۔ اُس کی فوج نے سمندر عبور کیا اوربُرج میں موجود لوگوں کو مار گرایا ۔ لیکن اُس کو اتنا ملبہ کہاں سے ملا تھا ؟ زمینی پُل بنانے کےلیے جو ملبہ استعمال کیا گیا وہ باہری ساحل پر موجود پرانے صور شہر کا بچا ہوا ملبہ تھا ۔۔۔ اس شہر کے ملبے کو سمندر میں ڈالا گیا تھا ۔

بائبل میں مسیح کے بارےمیں بہت سی ( 270 سے زیادہ !) پیشن گوئیاں پائی جاتی ہیں جن کی فہرست تیار کرنے کےلیے کئی صفحات درکار ہوں گے ۔ مزید یہ کہ یسوع کا اپنے متعلق ایسی بہت سی پیشن گوئیوں پر کوئی اختیار نہیں تھا جن کا تعلق اُس کی اپنی جائے پیدایش یا پیدایش کے وقت سے تھا ۔ دوسری بات، اگر کوئی شخص حادثاتی طور پر اِن میں سے 16 پیشن گوئیوں کو پورا کر دے تو اِ س کی نسبت 1045 میں سے 1 ہو گی ۔ یہ شمار میں کتنا زیادہ بنتا ہے؟ اِس کا موازنہ کرنے کے لیے اِس بات کو جان لیں کہ پوری کائنات میں 1082 سے کم ایٹم موجود ہیں ! اور یسوع جس نے بائبل کی خدا کے کلام کے طور پر تصدیق کی ہے اُس نے اپنی ذات کی حقانیت اور الوہیت کو مُردوں میں جی اُٹھنے ( ایک تاریخی سچائی جو آسانی سے نظر انداز نہیں کی جا سکتی) کے ذریعے ثابت کیا ہے۔

اب قرآن پر غور کیجیے- اس کے مصنف پیغمبرِ اسلام نے اپنے پیغام کی تصدیق کےلیے کوئی معجزہ نہیں کیا ( حتیٰ کہ اُس کے اپنے پیروکاروں نے اُس سے ایساکرنے کو کہا تھا – سورۃ الاسراء 91-95آیات؛ سورۃ العنکبوت 47-51آیات)۔ صرف کافی عرصہ بعد کی روایات ( حادیث ) نے چند ایک مشتبہ معجزات پیش کیے ہیں اور یہ سب پوری طرح خیالی ہیں ( جیسے کہ چاند کے دو ٹکڑے کرنا ) مگر ان کی پشت پناہی کے لیے قابلِ اعتماد شہادت کی تعداد ایک بھی نہیں ہے ۔ مزید برآں قرآن میں تاریخی اعتبار سے بھی واضح غلطیاں پائی جاتی ہیں ۔ مسلمانوں کا خیال ہے کہ بائبل الہامی ہے لیکن اس میں تحریف کی وجہ سےغلطیاں موجود ہیں ( سورۃ البقرہ136آیات اس کے ساتھ ساتھ سورۃ الرعد، سورۃ النحل، سورۃ الاسراء، سورۃ طہٰ، سورۃ الانبیاء، سورۃ المومنون، سورۃ الفرقان)۔ وہ اِس سوال کا درست طور پر جواب نہیں دے سکتے کہ بائبل میں کس وقت تحریف کی گئی تھی: اگر وہ کہتے ہیں کہ بائبل کو 660 بعد از مسیح میں بدلا گیا تھا تو پھر قرآن مسلمانوں کو اِسکو پڑھنے کی نصیحت کیسے کر سکتا ہے ؟ اگر وہ کہتے ہیں کہ 600 بعد از مسیح میں ایسا ہوا تھا تو پھر وہ پہلے سے بھی بڑی مصیبت میں پھنس جاتے ہیں کیونکہ ہمیں اُن بائبلی مسودات کی درستگی کے بارےمیں کوئی شک نہیں ہے جن کا تعلق کم از کم تیسری صدی بعد از مسیح سے ہے ۔ یہاں تک کہ اگر مسیحی غلطی پر بھی تھےتو بھی قرآن کو ایک زبردست مشکل کا سامنا ہے کیونکہ وہ مسیحیوں کے خلاف ایسی باتوں پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے جن پرحقیقت میں مسیحی ایمان نہیں رکھتے (اور جن کو نہ کبھی وہ مانتے تھے ) ۔ مثال کے طور پر قرآن سکھاتا ہے کہ مسیحی اِس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ تثلیث خدا باپ ، ماں ( مریم ) اور بیٹے پر مشتمل ہے ( سورۃ المائدۃ73-75، 116آیات) اور قرآن یہ بھی تعلیم دیتا ہے کہ مسیحی ایمان رکھتے ہیں کہ بیٹا یعنی یسوع مسیح خدا باپ اور مریم کے ملاپ سے پیدا ہوا تھا ( سورۃ البقرۃ 116آیت؛ سورۃ الانعام 100-101آیات ؛ سورۃ یونس 68آیت؛ سورۃ النحل 57آیت؛ سورۃ مریم 35آیت ؛ سورۃ المومنون 91آیت؛ سورۃ الصافات 149-151آیات؛ سورۃ الزخرف 16-19آیات)۔ اگر قرآن واقعتاً خدا کی طرف سے ہے تو اِسے کم از کم اس بات کی درست وضاحت پیش کرنے کے قابل ہونا چاہیے کہ مسیحی کیا ایمان رکھتے ہیں ۔

مورمن کی کتاب کےمصنف جوزف سمتھ نے کچھ معجزات کرنے کی کوشش کی جیسے کہ ( استثنا 18باب 21-22آیات میں درج سچے نبی کی پرکھ کا طریقہ ) بیان کرنے کی کوشش تھی مگروہ متعدد بار ناکام رہا تھا۔ اُس نے کلیسیائی تاریخ (History of the Church) 2 باب 382آیت میں یسوع کی دوسری آمد کے بارےمیں پیشن گوئی کی تھی ۔ جوزف سمتھ نے منادی کی تھی کہ خداوند کی آمد 56 سال بعد ( قریباً 1891 ) میں ہو گی۔ 1891 میں دوسری آمد رونما نہیں ہوئی تھی اور مورمن کلیسیا نے بھی ایسا کچھ رونما ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا ۔ اور نہ ہی اُس کے بعد ایسا کچھ ہوا ہے ۔ تعلیم اور عہد (Doctrine and Covenants) 84باب 114-115 آیات میں اُس نے متعدد شہر وں کے تباہ کئے جانے کی پیشن گوئی کی تھی ۔ جوزف سمتھ کے مطابق اگر نیو یارک ، البانی اور بوسٹن شہر خوشخبری(اُس دور کی مورمن تعلیم ) کو ترک کرتے تو اِن کو تباہ کر دیا جانا تھا ۔ جوزف نے خود نیویارک ، البانی اور بوسٹن شہر میں منادی کی تھی۔ ان شہروں نےاُسکی طرف سے دی جانے والی خوشخبری کے پیغام کو قبول نہیں کیا تھا مگر اس کے باوجود وہ تباہ نہیں ہوئے تھے ۔ ریاستوں کے مابین جنگ سے متعلق کیرولینا کی بغاوت کے بارے میں جوزف سمتھ کی ایک اور مشہور جھوٹی پیشن گوئی "تمام اقوام کا خاتمہ " (END OF ALL NATIONS) تعلیم اور عہد87باب میں درج ہے ۔ جنوبی کیرولینا کو امداد کےلیے برطانیہ سے مطالبہ کرنا تھاا ور اس کے نتیجے میں تمام ممالک کے درمیان جنگ برپا ہونی تھی، غلاموں نے بغاوت کرنی تھی، زمین کے رہنے والوں نے ماتم کرنا تھا، قحط، مری، زلزلہ گرج چمک ، آسمانی بجلی کے نتیجے میں تمام ممالک کا مکمل خاتمہ ہو جا نا تھا ۔ 1861 میں بالآخر جب جنوبی کیرولینا نے بغاوت کی تو غلاموں نے بغاوت نہیں کی تھی، نہ ہی تمام اقوام میں جنگ برپا ہو ئی تھی، دنیا بھر میں قحط ، مری ، زلزلہ وغیرہ نہیں آیا تھا اور نہ ہی ان کے نتیجے میں " تمام اقوام کا خاتمہ " ہوا تھا ۔

تحریروں کا وہ مجموعہ جسے پروٹسٹنٹ اپاکرفا ( پوشیدہ تحریریں ) کہتے ہیں رومن کیتھولک کلیسیا اُنہیں deuterocanonical ( مابعد یا ثانوی مسلمہ فہرست) کا نام دیتے ہیں۔ یہ کتب 300 قبل از مسیح سے 100 بعد از مسیح کے درمیانی عرصہ میں قلمبند ہوئی تھیں۔ یہ پرانے عہد نامے میں خدا کے انبیاء کی الہامی تحریروں اور نئے عہد نامے کے رسولوں اور اُن کے ہمعصروں کا درمیانی عرصہ ہے ۔ رومن کیتھولک کلیسیا کی طرف سے 1546 میں ٹرینٹ کی کونسل میں ان کتابوں کو بناء تفریق بائبل میں شامل کر لیا گیا تھا ۔ اگر اپاکرفا حقیقی طور پر الہامی تھیں توچاہیے تھا کہ یہ تحریریں بائبل کے الہام کے ثبوت پر پورا اُترتیں، مگر شواہد اس بات کی نشاندہی کر تے معلوم ہوتے ہیں کہ یہ کتب بائبل کے الہام کے ثبوت پر پورا نہیں اُترتیں۔ بائبل میں ہم خدا کے نبیوں کو دیکھتے ہیں کہ اُن کے پیغام کی معجزات کے وسیلہ سے تو ثیق کی گئی تھی یا اُن کی پیشن گوئیاں پوری ہوئی تھیں اور اُن کے پیغام کو لوگوں نے فوراً قبول کر لیا تھا ( استثنا 31باب 26آیت؛ یشوع 24باب 26آیت؛ 1سموئیل 10باب 25آیت؛ دانی ایل 9باب 2آیت؛ کلسیوں 4باب 16 آیت؛ 2پطرس 3باب 15-16آیات)۔ اپاکرفا کے حوالے سے حالات ہم اس کے بالکل اُلٹ پاتے ہیں – اپاکرفا کی کوئی بھی کتاب کسی نبی کی طرف سے قلمبند نہیں کی گئی تھی۔ اِن میں سے کوئی بھی کتاب عبرانی صحائف میں شامل نہیں تھی۔ اپاکر فا کی کسی بھی کتاب کے مصنف کی کوئی توثیق نہیں پائی جاتی ۔ بائبل کے بعد کے مصنفین کی طرف سے اپاکرفا کی کسی بھی کتاب کو مستند قرار نہیں دیا گیا ۔ اپاکرفا کی کسی بھی کتاب میں ایسی کوئی پیشن گوئی پائی نہیں جاتی ہے جس کی تکمیل ہوئی ہو ۔ آخر میں یسوع جس نے پرانے عہد نامے کے صحائف کے ہر حصے سے حوالہ دیا ہے اُس نے کبھی بھی اپاکرفا کا ذکر تک نہیں کیا اور نہ ہی اُس کے کسی شاگرد نے اپاکرفا کا کبھی ذکر کیا ہے ۔

بائبل اپنے مقابلے میں موجوداُن تمام کتب یا تحریروں سے زیادہ مستند ہے جو خُدا کا کلام اور الہام ہونے کی دعویدار ہیں۔ اور اگر بائبل خدا کا کلام نہیں تو باقی بچ جانے والی کتب میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا نا ممکن لگتا ہے ۔ اگر بائبل خدا کا کلام نہیں ہے تو پھر ہمارے پاس کوئی وا ضح معیار نہیں بچتا جس کے ذریعے سے یہ معلوم کیا جا سکے کہ کس کتاب کو خدا کا کلام ہونا چاہیے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ہم کیسے جان سکتے ہیں کہ بائبل ہی خُدا کا حتمی کلام ہے اور کتبِ مشکوک/اپاکرفا، قرآن اور مورمن کی کتاب وغیرہ خُدا کا کلام نہیں ہیں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries