settings icon
share icon
سوال

"مُردوں کا زندہ کیا جانا کب وقوع پذیر ہوگا؟

جواب


بائبل اِس حوالے سے بالکل واضح ہے کہ مُردوں کا زندہ کیا جانا ایک اہم حقیقت ہےا ور سب کچھ یہی زندگی نہیں ہے۔ اور موت جبکہ طبعی زندگی کا اختتام ہے لیکن یہ انسان کے وجود کا اختتام نہیں ہے۔ بہت سارے لوگ غلط طور پر یہ ایمان رکھتے ہیں کہ اِس دُنیا کے اختتام پر سبھی مُردوں کو زندہ نہیں کیا جائے گا لیکن بائبل مُقدس سکھاتی ہے کہ مُردوں کا زندہ کیا جانا یعنی قیامت ایک نہیں ہوگی بلکہ اِس کا ایک سلسلہ ہوگا کچھ لوگ "حیاتِ ابدی " کے لیے اور کچھ "ذلتِ ابدی " کے لیے زندہ کئے جائیں گے، یعنی کچھ زندگی کی قیامت کے لیے اور کچھ سزا کی قیامت کے لیے (دانی ایل 12باب2آیت؛ یوحنا 5باب28-29آیات)۔

پہلی سب سے بڑی قیامت یسوع مسیح کی قیامت تھی۔ یہ چاروں اناجیل میں قلمبند ہے ( متی 28باب؛ مرقس 16باب؛ لوقا 24باب؛ یوحنا 20باب )، اعمال کی کتاب میں اس کا متعدد بار ذکر کیا گیا ہے ( اعمال 1باب 22آیت؛ 2باب 31آیت؛ 4باب 2، 33آیت؛ 26باب 23آیت) اور کلیسیاؤں کے نام خطوط میں اس کا بار بار حوالہ دیا گیا ہے ( رومیوں 1باب 4آیت؛ فلپیوں 3باب 10آیت ؛ 1پطرس 1باب 3آیت)۔1کرنتھیوں 15باب 12-34آیات میں مسیح کے جی اُٹھنے کی اہمیت کے بارے میں بہت کچھ بیان کیا جاتا ہے جس میں قلمبند ہے کہ پانچ سو سے زیادہ لوگوں نے اُسے جی اُٹھنے کے بعد دیکھا تھا ۔مسیح کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا " پہلا پھل" یا ہر مسیحی کےلیے اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ بھی جی اٹھے گا ۔ مسیح کاجی اُٹھنا مسیحیوں کے اس یقین کی بنیا د بھی ہے کہ وہ تمام لوگ جو مرچکے ہیں ایک دن یسوع مسیح کی طرف سے راست اور منصفانہ عدالت کا سامنا کرنےکےلیے جی اُٹھیں گے ( اعمال 17باب 30-31آیات)۔ ابدی زندگی کےلیے جی اُٹھنے کو " پہلی قیامت " کے طور پر بیان کیا جاتا ہے ( مکاشفہ20باب 5-6 آیات)؛جبکہ عدالت اور اذیت کے لیے جی اُٹھنے کو " دوسری قیامت" کے طور پر بیان کیا جاتا ہے (مکاشفہ 20باب 6، 13-15آیات)۔

کلیسیا کی پہلی عظیم قیامت کلیسیا کے اُٹھائے جانے کے وقت رونما ہوگی ۔ وہ تمام لوگ جوکلیسیائی دَور کے دوران مسیح پر ایمان لائے ہیں اور یسوع مسیح کی دوسری آمد سے پہلے مر چکے ہیں وہ کلیسیا کے اُٹھائے جانے کے موقع پر جی اُٹھیں گے ۔ کلیسیائی دَور کا آغاز عیدِ پنتیکُست سے ہوا تھا اور اس کا اختتام مسیح یسوع کی دوسری آمد کے موقع پر ہو گا جب وہ ایمانداروں کو اپنے ساتھ آسمان پر لے جانے کے لیے آئے گا ( یوحنا 14باب 1-3آیات؛ 1 تھسلنیکیوں 4باب 16-17آیات)۔ پولس رسول وضاحت کرتا ہے کہ تمام مسیحی نہیں مریں گے مگر تمام بدل جائیں گے یعنی کچھ مسیحی جو زندہ ہیں وہ موت کا سامنا کیے بغیر ! اور وہ جو مرچکے ہیں وہ بھی جلالی بدن ملنے پر ( 1کرنتھیوں 15باب 50-58آیات) ہوا میں خدا وند سے ملیں گے اور ہمیشہ اُس کے ساتھ رہیں گے !

ایک اور عظیم قیامت اُس وقت رونما ہوگی جب خُداوند یسوع مسیح آخری مصیبت کے دورکے اختتام پر زمین پر واپس آئے گا ( اُس کی دوسری آمد)۔ کلیسیائی دور کے مطابق آخری مصیبت کلیسیا کے اُٹھائے جانے کے بعد خدا کی طرف سے وقت کی ترتیب میں اگلا واقعہ ہے ۔ یہ دنیا پر خوفناک عدالت کا وقت ہوگا جسے مکاشفہ 6-8ابواب میں بڑی تفصیل کیساتھ بیان کیا گیا ہے ۔ اگرچہ کلیسیائی دور کے تمام ایماند ارآسمان پر جا چکے ہوں گے لیکن زمین پر پیچھے رہ جانے والے لاکھوں لوگ اُس وقت ہوش میں آئیں گے اور یسوع پر اپنے نجات دہندہ کے طور پر ایمان لائیں گے ۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اُن میں سے بیشتر اپنی جانوں کا نقصان اٹھانے کے وسیلہ سے یسوع پر اپنے ایمان کی قیمت ادا کریں گے (مکاشفہ 6باب 9-11آیات؛ 7باب 9-17آیات؛ 13باب 7، 15-17آیات؛ 17باب 6آیت؛ 19باب 1-2آیات)۔ مسیح میں موجود وہ ایماندار جو بڑی مصیبت کے دوران مریں گے وہ مسیح کی واپسی پر جی اُٹھیں گے اور ہزار سالہ بادشاہی کے دوران اُس کے ساتھ بادشاہی کریں گے ( مکاشفہ 20باب 4، 6آیات)۔ ایوب، نوح ، ابرہام ، داؤد جیسے پرانے عہد نامے کے ایماندار اور یہاں تک کہ یوحنا بپتسمہ دینے والا ( جسے کلیسیا کی ابتدا سے پہلے ہی قتل کردیا گیا تھا ) بھی اِس موقع پر جی اٹھیں گے ۔ پرانا عہد نامہ مختلف حوالہ جات میں اس واقعے کا ذکر کرتا ہے ( ایوب 19باب 25-27آیات؛ یسعیاہ 26باب 19آیت؛ دانی ایل 12باب 1-2 آیات؛ ہوسیع 13باب14آیت)۔ حزقی ایل 37باب1-14آیات مُردہ ہڈیوں کے زندہ ہو جانے کی علامت کو استعمال کرتے ہوئے بنی اسرائیل کو دوبارہ جمع کرنے کی وضاحت کرتی ہیں ۔ لیکن استعمال شدہ زبان وہ بیان کی بنیاد پرمُردہ اسرائیلیوں کے جسمانی طور پر جی اٹھنے کو حوالے میں سے خارج نہیں کیا جا سکتا ۔ نیز ( پرانے عہدنامے کے زمانے میں ) خدا پر ایمان رکھنے والے تمام لوگ اور ( نئے عہد نامے میں یسوع پر) ایمان رکھنے والے تمام لوگ پہلی قیامت یعنی زندگی کی قیامت میں شامل ہوتے ہیں ( مکاشفہ 20باب 4، 6آیات)۔

ہو سکتا کہ ہزار سالہ بادشاہی کے اختتام پر ایک اور قیامت ہو جس کا اشارہ ملتا ہے مگر جسے بائبل میں کبھی صاف طور پر بیان نہیں کیا گیا ۔ ممکن ہے کہ ہزار سالہ بادشاہی کے دوران کچھ ایماندار جسمانی موت مریں گے ۔ خدا یسعیاہ نبی کے وسیلہ سے فرماتا ہے "پھر کبھی وہاں کوئی اَیسا لڑکا نہ ہو گا جو کم عمر رہے اور نہ کوئی اَیسا بُوڑھا جو اپنی عُمر پُوری نہ کرے کیونکہ لڑکا سو برس کا ہو کر مَرے گا اور جوگنہگار سَو برس کا ہو جائے ملعُون ہو گا"(یسعیاہ 65باب 20 آیت)۔ دوسری جانب ایسا بھی ممکن ہے کہ ہزار سالہ بادشاہی کے دوران موت صرف نا فرمانوں پر ہی واقع ہو۔ ہر صورت میں کسی طرح کی کچھ خاص تبدیلی کی ضرورت ہو گی تاکہ تمام ابدیت میں حقیقی وجود کےلیے ایمانداروں کواُن کے قدرتی بدنوں میں ہزار سالہ بادشاہی کے قابل بنایا جا سکے ۔ ہر ایماندار کو ایک ایسے بدن کی ضرورت ہو گی جو " جلالی " جیسا ہو۔

کلام ِ مقدس اس بات کو واضح کرتا ہے کہ خدا زمین سمیت پوری کائنات کو آگ سے تباہ کر دے گا ( 2پطرس 3باب 7-12آیات)۔ یہ خدا کی مخلوق کو اُس کی بنیادی بدی اور انسان کے گناہ کےباعث اُس پر آنے والی تباہی سے پاک کرنے کےلیے ضروری ہو گا ۔ اس کی جگہ خدا ایک نیا آسمان اور نئی زمین بنائے گا ( 2پطرس 3باب 13آیت؛ مکاشفہ 21آیت1-4آیات)۔ لیکن آخری مصیبت میں بچ جانے والوں اور اپنے فطری بدن کے ساتھ ہزار سالہ بادشاہی میں داخل ہونے والے ایمانداروں کے ساتھ کیا ہوگا ؟ پو لس اس بات کو واضح کرتا ہے کہ گوشت اور خون جو فانی اور زوال پذیر ہونے والا ہے خدا کی بادشاہی کا وارث نہیں ہو سکتا ۔ یہ بھی کہ ابدی بادشاہی میں صرف وہ لوگ بسے ہوئے ہیں جو زندہ ہو چکے ہیں اور ایسے جلالی بدن رکھتے ہیں جو اب فانی اور زوال پذیر ہونے والے نہیں ہیں ( 1کرنتھیوں 15باب 35-49آیات)۔ غالباً اُن ایمانداروں کو موت کے بغیر جلالی بدن بخشے جائیں گے ۔ اس کے بارےمیں بیان نہیں کیاگیا کہ ایسا سب کچھ ہونے کا اصل وقت کونسا ہے، مگر علمِ الہیات کے مطابق ایسا پرانی زمین اور کائنات کی جگہ نئی زمین اور نئے آسمان کی منتقلی کے دوران کہیں ہونا چاہیے ( 2پطرس 3باب 13آیت؛ مکاشفہ 21باب 1-4آیات)۔

ایک آخری قیامت بھی ہےجو واضح طور پر تمام زمانوں کے سبھی غیر ایمانداروں کی قیامت ہے ۔ یسوع مسیح اُن کو اپنی ہزار سالہ بادشاہی (مکاشفہ 20باب 5آیت) اور موجودہ زمین اور کائنات کی تباہی ( 2پطرس 3باب 7-12آیات؛ مکاشفہ 20باب 11آیت) کے بعد مُردوں میں سے زندہ کرے گا ( یوحنا 5باب 25-29آیات)۔ دانی ایل کی طرف سے اُس قیامت کو کچھ یوں بیان کیا گیا ہے کہ " جو خاک میں سو رہے ہیں اُن میں سے بہتیرے جاگ اُٹھیں گے۔ بعض حیاتِ ابدی کے لئے اور بعض رُسوائی اور ذِلّتِ ابدی کے لئے" (دانی ایل 12باب 2آیت)۔ یسوع اسے "سزا کی قیامت " ( یوحنا 5باب 28-29آیات) کے طور پر بیان کرتا ہے ۔

یوحنا رسول نے رویا میں ایک ایسی بات دیکھی تھی جو مستقبل میں رونما ہو گی ۔ اُس نے ایک " بڑا سفید تخت" دیکھا تھا ( مکاشفہ 20باب 11آیت)۔ آسمان اور زمین اُس کے سامنے سے " بھاگ گئے " جو تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔یہ ساری کائنات اور خود زمین سمیت تمام چیزوں کے آگ سے جل جانے کے بارے میں ایک واضح بیان ہے ( 2پطرس 3باب 7-12آیات)۔ تمام ( غیر ایماندار) مُردے تخت کے سامنے حاضر ہوں گے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اُنہیں ہزار سالوں کے بعد زندہ کیا گیا ہے ( مکاشفہ 20باب 5آیت)۔ وہ ایسے بدن کے حامل ہوں گے جو درد تو محسوس کر سکتا ہے مگر وہ کبھی ختم نہ ہو گا ( مرقس 9باب 43-48آیات)۔ اُن کی عدالت ہو گی اور اُن کی سزا اُن کے کاموں کے موافق ہو گی ۔ اس کے بعد ایک اور کتاب -برّے کی کتابِ حیات کھولی جاتی ہے ( مکاشفہ 21باب 27آیت)۔ وہ لوگ جن کے نام برّے کی کتابِ حیات میں درج نہیں ملتے انہیں" آگ کی جھیل " میں ڈالا جاتا ہے جو " دوسری موت" کہلاتی ہے ( مکاشفہ 20باب 11-15آیات)۔ اس عدالت میں پیش ہونے والوں میں سے کسی کے بارےمیں کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ اُن کے نام زندگی کی کتاب میں موجود ہیں ۔ بلکہ جن کے نام زندگی کی کتاب میں درج ہیں اُن کا شمار مبارک لوگوں میں ہوتا ہے اس لیے کہ وہ معافی کے ساتھ پہلی قیامت یعنی زندگی کی قیامت میں شامل ہوئے تھے ( مکاشفہ 20باب 6آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

"مُردوں کا زندہ کیا جانا کب وقوع پذیر ہوگا؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries