settings icon
share icon
سوال

کلیسیا کی ابتدا/شروعات کب ہوئی ؟

جواب


کلیسیا کی ابتدا اُس فسح کے پچاس دن بعد پنتیکست کے روز ہوئی جب یسوع نے صلیب پر اپنی جان دی تھی اور پھر مُردوں میں سے جی اُٹھاتھا ۔ جس لفظ کا ترجمہ "کلیسیا" کیا گیا ہے وہ دو یونانی الفاظ سے ماخوذ ہے جن کا مجموعی مفہوم " دنیا میں سے خدا کے لیے بلُائے گئے "ہے ۔ تمام بائبل میں یہ لفظ اُن تمام لوگوں کی نشاندہی کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے جنہوں نے یسوع کی موت اور مُردوں میں سے جی اٹھنے پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے (رومیوں 10باب 9-10 آیات)نئی پیدایش کا تجربہ کیا ہے (یوحنا 3باب 3آیت) ۔لفظ کلیسیا کو جب ساری دنیا میں موجود تمام ایمانداروں کے ذکر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو یہ مسیح کے بدن کی اصطلاح کا ہم معنی بن جاتا ہے (افسیوں 1باب 22-23آیات؛ کلسیوں 1باب 18آیت)۔

کلیسیا کا لفظ سب سے پہلے متی 16باب میں ظاہر ہوتا ہے جب پطرس سے یسوع فرماتا ہے کہ " مَیں اِس پتّھر پر اپنی کلیسیا بناؤں گا اور عالمِ ارواح کے دروازے اُس پر غالِب نہ آئیں گے" (18آیت)۔ یہاں "پتھر"دراصل وہ بیان ہے جو پطرس نے دیا تھا کہ "تُو زِندہ خُدا کا بیٹا مسیح ہے"(16آیت)۔ یسوع کے بارے میں یہ سچائی اُس کلیسیا کی بنیاد ہے جو دو ہزار سالوں سے ترقی کرتی آ رہی ہے۔ ہر انسان جو اس سچائی کو اپنی زندگی کی بنیاد بناتا ہے وہ یسوع کی کلیسیا کا رکن بن جاتا ہے (اعمال 16باب 31آیت)۔

یسوع کے الفاظ کہ " مَیں اِس پتّھر پر اپنی کلیسیا بناؤں گا "اس بات کی پیشین گوئی تھے کہ جب وہ رُوح القدس کو ایمانداروں کی زندگی میں بسنے کے لیے بھیجے گا تو اُس کے بعد کیا ہونے والا تھا (یوحنا 15باب 26-27آیت؛ 16باب 13آیت)۔ یسوع کو ابھی صلیب کے دُکھ کو سہنا اور مُردوں میں سے جی اُٹھناتھا۔ یسوع جس کام کو کرنے آیا تھا اُس کی تکمیل ابھی تک پوری نہیں ہوئی تھی لہذا شاگرد اُسے جزوی طور پر سمجھتے تھے ۔ یسوع اپنے پیروکاروں کو تمام قوموں کو شاگرد بنانے کا حکم دیتا ہے لیکن وہ اُنہیں جی اُٹھنے کے بعد تب تک یہ کام کرنے کی اجازت نہیں دیتا (متی 28باب 19-20آیات) جب تک اُن پر رُوح القدس نازل نہیں ہو جاتا (اعمال 1باب 4-5 آیات)۔

اعمال کی کتاب کلیسیا کے آغاز اور رُوح القدس کی قوت سے اُس کے معجزانہ طور پر پھیلنے کی تفصیلات بیان کرتی ہے۔ یسوع کے آسمان پر واپس جانے کے دس دن بعد (اعمال 1باب 9آیت ) رُوح القدس اُس کے 120 پیروکاروں پر نازل ہوا جو دُعا میں مشغول تھے اور رُوح القدس کا انتظار کر رہے تھے(اعمال 1باب 15آیت؛ 2باب 1-4آیات)۔ یسوع کے ساتھیوں کے طور پر پہچانے جانے کے خوف سے کانپنے والے شاگردوں (مرقس 14 باب 30، 50آیت) نے جی اُٹھے مسیح کی انجیل کی دلیر ی سے منادی کرنے کے لیے اچانک قوت پائی اور اپنے پیغام کی معجزانہ نشانوں اور عجائب کے ساتھ تصدیق کی (اعمال 2باب 4، 38-41آیات؛ 3باب 6-7آیت ؛ 8باب 7آیت)۔ دنیا کے تمام علاقوں سے ہزاروں یہودی عیدِ پنتیکُست منانے کے لیے یروشلیم میں آئے تھے۔ انہوں نے اپنی اپنی زبانوں میں خوشخبری سنی (اعمال 2باب 5-8آیات) اور بہت سے لوگ ایمان لائے (اعمال 2 باب 41آیت؛ 4باب 4آیت)۔ ایمان لانے والے بپتسمہ پاتے اور ہر روز کلیسیا میں شامل ہو جاتے ۔ جب ایذار سانی شروع ہوئی تو ایماندار مختلف علاقوں میں منتشر ہو گئے اورانجیل کی خوشخبری کے پیغام کو اپنے ساتھ لیتے گئے اوریوں کلیسیا جنگل کی آگ کی طرح دنیا کے تمام نمایاں علاقوں تک پھیل گئی (اعمال8باب 4آیت؛ 11باب 19-21آیات)۔

اپنے آغاز میں کلیسیا یروشلیم میں موجود یہودیوں پر مشتمل تھی لیکن جلد ہی یہ لوگوں کے دیگر گروہوں تک پھیل گئی۔ فلپس کی طرف سے سامری لوگوں کو اعمال 8 باب میں خوشخبری کا پیغام سُنایا گیا ۔ اعمال 10باب میں خدا نے پطرس کو ایک رویا دکھائی جس نے اسے یہ سمجھنے میں مدد کی کہ نجات کا پیغام صرف یہودیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ہر اُس شخص کے لیے ہے جو ایمان لائے گا(اعمال 10باب 34-35، 45آیت) ۔ حبشی خوجہ (اعمال 8 باب 26-39آیات) اور پلٹن کے صوبے دارکرنیلیس (اعمال 10باب ) کی نجات کے عمل نے یہودیوں کو یقین دلایا کہ خدا کی کلیسیا اُن کے تصور سے کہیں زیادہ وسیع ہے ۔ دمشق کے راستے پر پولس کی معجزانہ بُلاہٹ (اعمال 9باب 1-19آیات) نے غیر قوموں تک خوشخبری کے پھیلاؤ کے لیے اور بھی زیادہ راستے کھول دئیے (رومیوں 15باب 16آیت؛ 1تیمتھیس 2باب 7آیت)۔

اپنی مصلوبیت سے پہلے پطرس سے کہے گئے یسوع کے نبوتی الفاظ سچ ثابت ہو چکے ہیں۔ اگرچہ ایذارسانی اور "عالم اَرواح کے دروازے" اِس کے خلاف مزاحمت کرتے رہے ہیں مگر کلیسیا فقط مضبوط ہی ہوئی ہے۔ مکاشفہ 7باب 9آیت کلیسیا کی ایک ایسی جھلک پیش کرتی ہے جیسا خدا اُسے بنانا چاہتا تھا : "اِن باتوں کے بعد جو مَیں نے نِگاہ کی تو کیا دیکھتا ہُوں کہ ہر ایک قوم اور قبیلہ اور اُمّت اور اہلِ زُبان کی ایک اَیسی بڑی بھیڑ جسے کوئی شُمار نہیں کر سکتا سفید جامے پہنے اور کھجور کی ڈالِیاں اپنے ہاتھوں میں لئے ہُوئے تخت اور برّہ کے آگے کھڑی ہے"۔کلیسیا جس کا آغاز یسوع نے کیا وہ اُس دن تک قائم رہے گی جب تک خُداوند یسوع ہمارے لیے واپس نہیں آتا (یوحنا 14باب 3آیت؛ 1تھسلنیکیوں 4باب 16-17 آیات) اور اُس کی دلہن کی حیثیت سے ہم ہمیشہ اس کے ساتھ متحد ہیں (افسیوں 5باب 27آیت؛2کرنتھیوں11باب 2آیت؛ مکاشفہ 19باب 7آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کلیسیا کی ابتدا/شروعات کب ہوئی ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries