settings icon
share icon
سوال

یسوع مسیح کس سال پیدا ہوا تھا ؟

جواب


بائبل اُس اصل دن یا حتی ٰ کہ اُس اصل سال کا بھی ذکر نہیں کرتی جس میں خُداوند یسوع بیت لحم میں پیدا ہوا تھا۔ لیکن تاریخ کی سلسلہ وار تفصیلات کی گہر ی جانچ پڑتال امکانات کو ایک معقول دورانیے تک محدود کر تی ہے ۔

یسوع کی پیدایش کی بائبلی تفصیلات اناجیل میں پائی جاتی ہیں۔ متی 2باب 1آیت بیان کرتی ہے کہ یسوع ہیرودیس بادشاہ کے دنوں میں پیدا ہوا تھا۔ چونکہ ہیرودیس بادشاہ کی موت 4قبل از مسیح میں ہوئی تھی لہذا ہمارے پاس ایک مخصوص حد بندی موجود ہےجس کے اندر رہتے ہوئے ہم غورو خوص کر سکتے ہیں۔ مزیدبرآں یوسف کے مریم اور یسوع سمیت بیت لحم سے مصر بھاگ جانےکے بعد ہیرودیس نے بیت لحم کے گردو نواح میں 2 سال اور اس سے کم عمر کے تمام لڑکوں کو قتل کرنے کا حکم جاری کیا تھا ۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہیرودیس کی موت سے پہلے یسوع 2 سال کا ہو سکتا تھا ۔یہ بات یسوع کی تاریخِ پیدایش کو6 اور 4 قبل ازمسیح کے درمیان مقرر کرتی ہے۔

لوقا 2باب 1-2آیات غور و خوص کرنے کے لیے دیگر کئی اور حقائق بھی قلمبند کرتی ہیں :"اُن دِنوں میں اَیسا ہُوا کہ قیصر اَوگُوستُس کی طرف سے یہ حکم جاری ہُوا کہ ساری دُنیا کے لوگوں کے نام لکھے جائیں۔ یہ پہلی اِسم نوِیسی سُورؔیہ کے حاکِم کورنِیُس کے عہد میں ہُوئی"۔ ہم جانتے ہیں کہ قیصر اَوگُوستُس نے 27 قبل از مسیح سے 14بعد از مسیح تک حکومت کی تھی۔

کورنیس نے اِسی دور میں سوریہ پر حکمرانی کی تھی اور اُس کی حکمرانی کے دور میں کی گئی مردم شماری کا ریکارڈ بھی ملتا ہے جو کہ قریباً 6 قبل از مسیح میں ہوئی تھی۔ کچھ عالمین بحث کرتے ہیں کہ آیا یہ وہی مردم شماری تھی جس کا ذکر لوقا نے کیا ہے، مگر یہ حقیقت میں ایک ہی واقعہ معلوم ہوتا ہے۔ اِ ن تاریخی تفصیلات کی بنیاد پر بیت لحم میں مسیح کی پیدایش کا سب سے زیادہ ممکنہ وقت 6 تا 5قبل از مسیح ہے۔

ہمارےپاس موجود واقعات کے تسلسل کے حوالے سے لوقا ایک اور تفصیل کا ذکر کرتا ہے :" جب یسُوع خود تعلیم دینے لگا قریباً تیس برس کا تھا"(لوقا 3باب 23آیت)۔ یسوع نے اپنی خدمت کا آغاز اُس وقت کیا تھا جب یوحنا بپتسمہ دینے والا بیابان میں خدمت کر رہا تھا اور یوحنا نے " تِبرِیُس قیصر کی حکومت کے پندرھویں برس جب پنطُس پِیلاطُسؔ یہودیہ کا حاکم تھا اور ہیرودیس گلیل کا اور اُس کا بھائی فِلپُّس اِتُورؔیہِّ اور ترخونیتِس کا اور لِسانیاؔس اَبِلینے کا حاکِم تھا۔ اور حنّاہ اور کائِفا سردار کاہن تھے " اپنی خدمت کا آغاز کیا تھا(لوقا 3باب 1-2آیات)۔

27-29بعداز مسیح وہ واحد وقت ہے جو اِن تمام حقائق پر پورا اُترتا ہے ۔ اگر 27بعد از مسیح میں خُداوند یسوع"قریباً تیس برس کا تھا"تو 6اور 4قبل از مسیح کے درمیان کسی وقت ہونے والی پیدایش اس تاریخی تسلسل پر پوری اُترے گی ۔ اس سے بھی خاص بات یہ ہے کہ جس وقت خُداوند یسوع نے اپنی خدمت کا آغاز کیا تھا تو وہ قریباً 32سال کا ہوگا ، لوقا نے یہ نہیں کہا کہ وہ بالکل تیس برس کا تھا بلکہ قریباً تیس برس کا تھا۔

مسیح کی پیدایش کے دن کے بارے میں کیا خیال ہے؟ 25 دسمبر کی روایت نئے عہد نامہ کے دور کے بہت بعد پروان چڑھی تھی۔ یہ وہ دن ہے جس پر زیادہ تر مسیحی یسوع کی پیدایش کا جشن منانے پر متفق ہیں لیکن اُس کی پیدایش کا اصل دن نا معلوم ہے۔

جو کچھ ہم جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ بائبلی اور تاریخی تفصیلات خُداوند یسوع کی پیدایش کے قریب تر سالوں کا اشارہ دیتی ہیں۔ خُداوند یسوع تقریباً6 تا 4قبل از مسیح میں یہودیہ کے بیت لحم میں اپنی ماں مریم کے ہاں پیدا ہوا تھا ۔ اُس کی پیدایش نے تاریخ سمیت دنیا بھر کے لاتعداد لوگوں کی زندگیوں کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا ہے ۔



English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

یسوع مسیح کس سال پیدا ہوا تھا ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries