settings icon
share icon
سوال

یسوع نے کس سال صلیب پر اپنی جان دی تھی ؟

جواب


دُنیا کی تخلیق سے لیکر آج تک خُداوند یسوع کی موت اور اُس کا بعد مُردو ں میں سے جی اُٹھنا سب سے اہم ترین واقعات ہیں۔ خُداوند یسوع کی موت کے تعلق سے لکھا ہوا ہے کہ خُدا باپ نے" اب اُس کے جسمانی بدن میں مَوت کے وسیلہ سے تمہارا بھی میل کر لِیا۔جو پہلے خارِج اور بُرے کاموں کے سبب سے دِل سے دُشمن تھے تاکہ وہ تم کو مُقدّس بے عیب اور بے اِلزام بنا کر اپنے سامنے حاضِر کرے " (کلسیوں 1باب21-22 آیات)۔ اور مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے وسیلے سے خُدا باپ نے "اپنی بڑی رحمت سے ہمیں زندہ اُمید کے لیے نئے سرے سے پیدا کیا ہے۔"جس طرح بائبل کے اندر دیگر بہت سارے واقعات میں بھی دیکھا جا سکتا ہے، اُسی طرح خُداوند یسوع کی موت کے واقعے کے تعلق سے بھی بائبل ہمیں بالکل درست تاریخ سے آگاہ نہیں کرتی۔لیکن ہم کافی حد تک درستگی کے ساتھ اِس کے بارے میں جان سکتے ہیں۔

اگرچہ موجودہ طور پر دُنیا کی تاریخ قبل از مسیح اور بعد از مسیح میں تقسیم ہے، خُداوند یسوع مسیح کی پیدایش دراصل 6تا 4 قبل از مسیح کے درمیان میں ہوئی تھی۔ ہم اِس تاریخ کا تعین ہیرودیسِ اعظم کی وفات کی بناء پر کر پاتے ہیں، جو کہ 47 قبل از مسیح سے لیکر 4 قبل از مسیح تک یہودیہ کا حاکم تھا۔ ہیرودیسِ اعظم کی وفات کے بعد ہی یوسف کو بتایا گیا کہ وہ بچّے یسوع اور مریم کو مصر سے اسرائیل واپس لے آئے (متی 2باب19آیت)۔

‏بہت سے عوامل ہمیں یسوع کی موت کے سال کی نشاندہی کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ ہم حساب لگاتے ہیں کہ ‏‏یوحنا بپتسمہ دینے والے‏‏ نےلوقا 3 باب1آیت کے تاریخی بیان کی روشنی میں اپنی خدمت تبریس قیصر کی حکومت کے پندرھویں برس ، یعنی 26 بعد از مسیح میں شروع کی تھی۔ تبریس کو 14 بعد از مسیح میں قیصر کا خطاب ملا تھا لیکن اُس نے دراصل قیصر اوگوستس کے ساتھ نائبِ ریاست کے طور پر اپنی حکمرانی اُس سے دو سال پہلے 12 بعد از مسیح میں شروع کر دی تھی۔ پس اگر ہم اُس کی حکمرانی کی پہلی تاریخ کو ہی لیتے ہیں تو یوحنا کی خدمت غالباً 26 یا 27 بعد از مسیح میں شروع ہو گئی تھی۔ خُداوند یسوع نے یوحنا کی خدمت کے آغاز کے تھوری دیر بعد ہی اپنی خدمت کا آغاز بھی کر دیا تھا اور اُس نے اگلے ساڑھے تین سالوں تک اپنی زمینی خدمت کو جاری رکھا۔ پس اُس لحاظ سے خُداوند یسوع کی خدمت کا اختتام غالباً 29 یا 30 بعد از مسیح میں ہوا ہوگا۔

پنطس پیلاطس کے بارےمیں ہمیں معلوم ہے کہ وہ 26 بعد از مسیح سے 36 بعد از مسیح تک یہودیہ کا حاکم تھا۔ خُداوند یسو ع کی مصلوبیت عیدِ فسح کے دِنوں میں ہوئی تھی (مرقس 14باب12آیت)، پس اِس حقیقت کے ساتھ ساتھ (یہودیوں کے چاند کی تاریخ کے لحاظ سے ) فلکیاتی اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے ہم دو تاریخوں– 7 اپریل 30 بعد از مسیح یا پھر 3 اپریل 33 بعد از مسیح تک پہنچتے ہیں ۔ دونوں تاریخوں کی حمایت میں ہمیں علماء کی طرف سے پیش کردہ دلائل ملتے ہیں۔ اگر ہم 33 بعد از مسیح کی تاریخ کو مانیں تو اُس صورت میں یا تو یسوع کی زمینی خدمت کے دورانیے کو بڑھانا پڑے گا یا پھر اُس کی خدمت کے آغازکو اگلی تاریخوں میں لے کر آنا پڑے گا۔ اگر ہم لوقا 3باب1آیت کی روشنی میں چلتے ہوئے یوحنا اور یسوع کی خدمت کے آغاز کو مانیں تو پھر 30 بعد از مسیح خُداوند یسوع کی موت کا سال ہوگا۔

خُداوند یسوع مسیح کے دور سے لیکر اب تک دُنیا کی تاریخ میں بہت کچھ ہو چکا ہےلیکن کوئی بھی چیز 30 بعد از مسیح میں ہونے والے واقعے–دُنیا کے نجات دہندہ کی موت اور جی اُٹھنے – کی نہ تو اہمیت کو کم کر سکی ہے اور نہ ہی اُس پر گرہن بن کر اُسے چھپا سکی ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

یسوع نے کس سال صلیب پر اپنی جان دی تھی ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries