settings icon
share icon
سوال

حق/سچ کیا ہے ؟

جواب


قریباً دو ہزار سال پہلے حق کی اُن لوگوں کی طرف سے عدالت اور پوچھ گچھ کی گئی جو خود جھوٹ کے لیے وقف تھے ۔ درحقیقت حق نے کم و بیش ایک مکمل دن میں چھ عدالتی پیشیوں کا سامنا کیا گیا تھا جن میں سے تین مذہبی اور تین قانونی عدا لتیں تھی۔ ان واقعات میں شامل چند افراد کو آخر کار اس بات کا احسا س ہوا کہ " حق کیا ہے ؟"

گرفتاری کے بعد حق کو سب سے پہلے یہودیوں کے حناّنامی ایک بد عنوان سابق سر دار کاہن کے پاس لے جایا گیا ۔ حناّ نے پیشی کے دوران متعدد یہودی قوانین کو توڑا جن میں درج ذیل باتیں شامل تھیں : پیشی کو اپنے گھر پر منعقد کرنا ، مدعاعلیہ کے خلاف الزامات لگا نے کی کوشش کرنا ، مدعاعلیہ کو مارناجبکہ اُس وقت اس پر کسی طرح کا جرم ثابت نہیں ہوا تھا ۔ حناّ کے بعد حق کو اُس وقت کے سر دارکاہن کائفا کے پاس لے جایا گیا جو حنا ّ کا داماد تھا ۔ کائفا اور یہودی مذہبی مجلس سین ہیڈرن کے سامنے بہت سے جھوٹے گواہوں کو حق کے خلاف گواہی دینے کےلیے پیش کیا گیا تاہم اس کے باوجود نہ تو کچھ ثابت ہو سکا اور نہ ہی کسی طرح کے غلط عمل کا کوئی ثبوت مل سکا ۔ کائفا نے حق کو مجرم ٹھہرانے کی کوشش میں کم و بیش سات قوانین کو توڑا(1) پیشی خفیہ طور پر منعقد کی گئی (2) یہ رات کے وقت منعقد کئی گی ( 3)اس میں رشوت کا عنصر شامل تھا ( 4) مدعاعلیہ کے ساتھ اُس کے دفاع کے لیے کوئی موجود نہیں تھا (5) 2-3گواہوں کے تقاضے کو پورا نہ کیا گیا (6) انہیں نے مدعاعلیہ کے خلاف خود ساختہ گوا ہوں کا استعمال کیا (7) اُنہوں نے مدعاعلیہ کے خلاف اُسی دن سزائے موت سنائی ۔ یہودی قانون میں ان تمام کاروائیوں کو ممنوع قرار دیا گیا تھا ۔ اس سب کے باوجود کائفا نے حق کو مجرم قرار دیا کیونکہ حق نے مجسم خدا ہونے کا دعویٰ کیا تھا جو کائفا کے نزدیک کفر کا دعویٰ تھا ۔

جب صبح ہوئی تو حق کی تیسری پیشی ہوئی چونکہ یہودی مجلس نے اعلان کر دیا تھا کہ حق کو سزائے موت ہونی چاہیے ۔ تاہم یہودی مجلس کو سزائے موت پر عملدرآمد کرنے کا کوئی قانونی حق نہیں تھا اس وجہ سے وہ حق کو اُس وقت کے رومی حاکم پنطُس پیلاطُس کے سامنے پیش کرنے کے پابند تھے ۔ پیلاطُس کو تبریُس قیصر کی طرف سے یہودیہ کے پانچویں حاکم کے طور پر مقرر کیا گیا تھا جس نے اس عہدے پر 26-36بعد از مسیح تک حکمرانی کی تھی۔ حاکم کو زندگی اور موت کا اختیار حاصل تھا وہ یہودی مجلس کی طرف سے منظورکردہ سزائے موت کو بھی مسترد کر سکتا تھا ۔ جب حق کو پیلاطُس کے سامنے پیش کیا گیا تو اُس کے خلاف مزید جھوٹے گواہوں کو لایا گیا ۔ اُس کے دشمنوں نے الزام لگایا کہ " اِسے ہم نے اپنی قوم کو بہکاتے اور قیصر کو خراج دینے سے منع کرتے اور اپنے آپ کو مسیح بادشاہ کہتے پایا" ( لوقا 23باب 2آیت)۔ یہ ایک جھوٹا بیان تھا کیونکہ حق نے کسی شخص کو خراج دینے سے منع نہیں کیا تھا اور نہ ہی اُس نے قیصر کی کبھی مخالفت کی تھی ۔

اس کے بعد حق اور پیلاطُس کے درمیان ایک دلچسپ گفتگو ہوئی ۔"پس پیلاطس قلعہ میں پھر داخل ہوا اور یسوع کو بُلا کر اُس سے کہا کیا تُو یہودِیوں کا بادشاہ ہے؟ یسوع نے جواب دِیا کہ تُو یہ بات آپ ہی کہتا ہے یا اَوروں نے میرے حق میں تجھ سے کہی؟ پیلاطس نے جواب دِیا کیا مَیں یہودی ہوں؟ تیری ہی قوم اور سردار کاہنوں نے تجھ کو میرے حوالہ کِیا۔ تُو نے کیا کِیا ہے؟ یِسُوع نے جواب دِیا کہ میری بادشاہی اِس دُنیا کی نہیں۔ اگر میری بادشاہی دُنیا کی ہوتی تو میرے خادِم لڑتے تاکہ مَیں یہودِیوں کے حوالہ نہ کِیا جاتا۔ مگر اب میری بادشاہی یہاں کی نہیں۔ پیلاطس نے اُس سے کہا پس کیا تُو بادشاہ ہے؟ یسوع نے جواب دِیا تُو خُود کہتا ہے کہ مَیں بادشاہ ہُوں۔ مَیں اِس لئے پیدا ہوا اور اِس واسطے دُنیا میں آیا ہوں کہ حق پر گواہی دوں۔ جو کوئی حقّانی ہے میری آواز سُنتا ہے۔ پیلاطس نے اُس سے کہا حق کیا ہے؟ یہ کہہ کر وہ یہودِیوں کے پاس پھر باہر گیا اور اُن سے کہا کہ مَیں اُس کا کچھ جُرم نہیں پاتا" ( یوحنا 18باب 33-38آیات)۔

پیلاطُس کا یہ سوال کہ " حق کیا ہے ؟" تمام تاریخ میں گونجتا رہا ہے ۔ کیا یہ اُس بات کو جاننے کی شدید خواہش تھا جس کے بارے میں یسوع کے سوا کوئی اور اُسے نہیں بتا سکتا تھا، یہ ایک مذموم توہین تھی پھر شاید یسوع کے الفاظ کے ردّعمل میں ناگوار اور لا تعلق جواب تھا ۔

مابعد از جد ید دنیا کے اندر جو کہ اس بات کی تردید کرتی ہے کہ حق /سچائی کو جانا یا دریافت کیا جا سکتا ہے، جواب کی نسبت سوال کہیں زیادہ اہم ہے ۔ حق/سچائی کیا ہے ؟

حق/سچ کی مجوزہ تعریف

حق/سچ کی تعریف کے حوالے سے سب سے پہلے اس بات پر غور کرنا فائدہ مند ہوگا کہ حق کیا نہیں ہے :

• جس بات کا نتیجہ/انجام اچھا ہو محض وہ سچ نہیں ہے یہ عملیت پسندی کا فلسفہ ہے جو کہ اعمال بمقابلہ نتائج پر مبنی حکمتِ عملی ہے ۔در حقیقت جھوٹ کے اچھے نتائج ہو سکتے ہیں مگر پھر بھی یہ جھوٹ ہی ہے سچ نہیں ۔

• سچ محض وہ نہیں جو مربوط اور قابل سمجھ ہو ۔ کیونکہ لوگوں کا ایک گروہ متحد ہوسکتا اور جھوٹے نظریات پر مبنی سازش تشکیل دے سکتا ہے جہاں وہ سب ایک ہی جھوٹی کہانی سنانے پر رضامند ہو ں لیکن یہ بات اُن کے بیان کو سچ ثابت نہیں کرتی ۔

• سچ وہ نہیں ہے جس سے لوگوں کو اچھا محسوس ہو ۔ بدقسمتی سے ، بُری خبر بھی سچ ہوسکتی ہے۔

• سچ وہ نہیں ہے جسے اکثریت سچ کہتی ہے۔ کسی گروہ کا 51 فیصد حصہ بھی غلط نتیجہ اخذ کر سکتا ہے ۔

• جو بھی جامع اور قابلِ فہم ہے وہ سچ نہیں ۔ ایک لمبی اور تفصیلی وضاحت کے بعد بھی غلط نتیجہ اخذ ہو سکتا ہے۔

• سچ کی وضاحت نیت/ارادے کے تحت نہیں کی جا سکتی ۔ اچھی /پُر خلوص نیت بھی غلطی پر مبنی ہو سکتی ہے ۔

• سچ یہ نہیں ہے کہ ہم اسے کس طرح جانتے ہیں ؛ سچ وہ ہے جو ہم جانتے ہیں۔

• سچ محض وہ نہیں جس پر ایمان رکھا جاتا ہے ۔جھوٹ پر ایمان رکھنے سے جھوٹ جھوٹ ہی رہتا ہے ۔

• سچ وہ نہیں ہے جس کی کھلے عام تصدیق ہو ۔ کسی سچائی کو ذاتی طور پر بھی جانا جا سکتا ہے ( مثلاً کسی دفن شدہ خزانے کا مقام)

سچائی کےلیے یونانی لفظ ایلتھیّا (aletheia)ہے جس کا لفظی مطلب ہے " عیاں" یا " کچھ نہ چھپانا"۔ یہ اس خیال کو پیش کرتا ہے کہ سچا ئی ہمیشہ موجود ، ہمیشہ واضح اور سب کے دیکھنے کےلیے دستیاب ہوتی ہے جس میں کچھ بھی پوشیدہ یا مبہم نہیں ہوتا ۔ سچائی کےلیے عبرانی لفظ ایمتھ ہے جس کا مطلب " پائیداری ، استقامت اور مدت ہے ۔ ایسی تعریف ایک ابدی مادے اور ایک ایسی چیز کی جانب اشارہ کرتی ہے جس پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے ۔

فلسفیانہ نقطہ نظر سے سچ کی تعر یف کے عام طور تین آسان طریقے ہیں :

أ. سچ وہ ہے جو حقیقت سے ہم آہنگ او ر متفق ہو ۔

ب. سچ وہ ہے جو اپنے موضوع، مدعا اور مقصد سے متصل اور جُڑا ہو ۔

ج. سچائی جیسے ہے اُسے اُسی طرح بیان کرنا سچ ہے ۔

پہلی بات،سچائی حقیقت یا " جوکچھ ہے " اُس سے ہم آہنگ ہوتی ہے ۔ یہ حقیقی ہے ۔ سچ اپنی نوعیت کے لحاظ سے اپنے اندر ہم آہنگی رکھتا ہے ۔ دوسرے الفاظ میں یہ اپنے مقصد /موضوع ، مُدعا کے بھی مشابہ ہوتا ہے اور اپنے معنی و مفہوم کے وسیلہ سے جانا جاتا ہے ۔ مثال کے طور پر ایک جماعت کے سامنے کھڑا اُستاد کہہ سکتا ہے کہ " اس کمرے کا واحد خارجی دروازہ دائیں طرف ہے "۔ ہو سکتا ہے کہ اُستاد کے سامنے موجود طلباء کےلیے باہر جانے کا یہ دروازہ اُن کے بائیں طرف ہو لیکن یہ بات بالکل درست ہے کہ استاد کے نزدیک خارجی دروازہ دائیں طر ف ہے ۔

سچ اپنے مقصد سے بھی جُڑا ہوتا ہے۔ یہ بات بالکل درست ہو سکتی ہے کہ کسی مخصوص شخص کو ایک خاص دوائی کی ایک بڑی مقدار درکار ہو مگر کسی دوسرے شخص میں مطلوبہ نتائج کے حصول کےلیے اسی دوائی کی زیادہ یا کم مقدار کی ضرورت ہو ۔ یہ نسبتی سچائی نہیں ہے بلکہ محض اس بات کی مثال ہے کہ سچ کو اپنے مقصد کیساتھ منسک ہونا چاہیے ۔ کسی مریض کا یہ درخواست کرنا کہ اس کے ڈاکٹر کی طر ف سے اُسے کسی خاص دوائی کی غیر مناسب مقدار دی جائے یا یہ کہنا کہ اُس کی مخصوص بیماری کےلیے کوئی بھی دوا کا م کرے گی نہ صرف غلط بلکہ ممکنہ طور پر خطر ناک بھی ہو گا ۔

مختصر یہ کہ سچائی جیسے ہے اُسے اُسی طرح بیان کرنا سچ ہے؛ یہ چیزوں کواُن کی اصل حالت میں بیان کرنےکا طریقہ ہے اور اس کے برعکس کوئی بھی اور نقطہ نظر غلط ہو گا۔ صحیح اورغلط میں پرکھ کرنے کے قابل ہونا فلسفے کا بنیادی اصول ہے یا جیسا تھامس ایکوینس مانتا تھا کہ " فلسفی کا کام فرق کرنا ہے ۔"

حق/سچ کو درپیش چیلنج

آج کل ایکوینس کے الفاظ بہت زیادہ مشہور نہیں ہیں ۔ نسبتیت پسندی کے مابعد از جدید دور میں فرق، امتیاز یا پرکھ کرنا فیشن کے برخلاف سمجھا جاتا ہے۔ آج کل یہ کہنا کہ " یہ سچ ہے" محض اس حد تک قابلِ قبول ہے اگر اس کے بعد یہ نہ کہا جائے کہ " اورلہذا یہ غلط ہے " ۔ یہ ایمان اور مذہب کے معاملات میں خاص طور پر قابلِ مشاہد ہ بات ہے جہاں سچائی کے تعلق سے ہر نظریاتی نظام کو ہم مرتبہ خیال کیا جاتا ہے ۔

ایسے بہت سے فلسفے اور نظریہ حیات موجود ہیں جو سچ کے تصور کو چیلنج کرتے ہیں تاہم جب ہرفلسفے اور نظریہ حیات کا تنقید ی جائزہ لیا جاتا ہے تویہ فطرت کے لحاظ سے خود غارتی ثابت ہوتا ہے ۔

نسبتیت پسندی کا نظریہ کہتا ہے کہ تمام سچائی نسبتی ہے اور یہ بھی کہ حتمی عالمگیر سچائی جیسی کوئی چیز موجود نہیں ہے ۔ لیکن کسی شخص کو یہ پوچھنا چاہیے: کیا یہ دعویٰ کہ " تمام سچائی نسبتی ہے " ایک نسبتی سچائی ہے یا ایک حتمی عالمگیر سچائی ہے ؟ اگر یہ نسبتی سچائی ہے تو یہ واقعی بے معنی ہے ؛ ہم کیسے جان سکتے ہیں کہ اِس اُصول کا کب اور کہاں اطلاق ہوتا ہے ؟ اگر یہ ایک حتمی عالمگیر سچائی ہے تواِس سے ثابت ہوتا ہے کہ حتمی عالمگیر سچائی کا وجود ہے۔ مزید برآں جب کوئی نسبتیت پسند کہتا ہے کہ حتمی سچائی کا موقف رکھنے والا غلط ہے تو وہ اپنے ہی موقف کو جھوٹا قرار دیتا ہے – وہ لوگ جو حتمی سچائی کے موجود ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ بھی صحیح کیوں نہیں ہو سکتے؟۔ مختصر یہ کہ جب کوئی نسبتیت پسند کہتا ہے " کوئی سچائی نہیں ہے " تو وہ آپ سے کہہ رہا ہے کہ آپ اُس کی باپ پر یقین نہ کریں اور ایسی صورت میں اُس کی نصیحت پر عمل کرنا سب سے بہتر ہے ۔

تشکیک پرستی کے فلسفے پر عمل کرنے والے لوگ عام طور پر تمام سچائی پر شک کرتے ہیں ۔ لیکن کیا متشکک شخص تشکیک پرستی کے فلسفے پر شک کرتا ہے؛ کیا وہ اپنے ہی دعوے کی سچائی پر شک کرتا ہے ؟ اگر ایسا ہے تو پھر تشکیک پرستی پر توجہ کیوں دی جائے ؟ اگرایسا نہیں ہے تو پھر ہم کم از کم ایک چیز یعنی حتمی عالمگیر سچائی ( دوسرے الفاظ میں حتمی سچائی موجود ہے ) کے بارے میں پُر یقین ہو سکتے ہیں۔ لاادریت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ آپ سچائی کو جان نہیں سکتے ۔ تاہم ایسا رویہ اپنے آپ میں خود غارتی ہے کیونکہ یہ کم از کم ایک سچائی کے جاننے کا دعویٰ کرتا ہے :" کہ آپ سچائی کو نہیں جان سکتے ۔"

مابعد از جدیدیت کے پیروکار عام طور پر کسی خاص سچائی کی تصدیق نہیں کرتے ۔ مابعد از جدیدیت کے سرپرست فریڈرک نیچی نے سچائی کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے : " پس سچائی کیا ہے ؟ استعاروں ، مجازی الفاظ ،علامات کی متحرک فوج۔۔۔۔ سچائیاں فریب نظری ہیں ۔۔۔۔ یہ وہ سکےہیں جو اپنے صورت کھوچکے ہیں اور اب مزید سکوں کے طور پر نہیں بلکہ محض دھات کی حیثیت رکھتے ہیں "۔ حقیقت کے برعکس اگرچہ مابعد از جدیدیت کے حامی اُن سکوں کو اب بھی ہاتھوں میں تھامے ہوئے ہیں جو اب " محض دھات" ہیں ، وہ کم از کم ایک حتمی سچائی کی تصدیق کرتا ہے : وہ سچائی جواب سچائی نہیں ہے اُس کی تائید کی جانی چاہیے ۔ دیگر نظریات ِ حیات کی طرح ما بعد از جدیدیت کا نظریہ بھی خود غارتی ہے اور اپنے ہی دعوئے پر پورا نہیں اُتر سکتا ۔

تکثیریت ایک مشہور نظریہ ِ حیات ہے جس کا کہنا ہے کہ سچائی کے تمام دعوےیکساں طور پر درست ہیں ۔ یقیناً یہ ناممکن ہے۔ کیا یہ دو دعوے- جن میں سے ایک کہتا ہے کہ ایک عورت حاملہ ہے اور جبکہ دوسرا کہتا ہے کہ وہ عورت اس وقت حاملہ نہیں ہے – دونوں ایک ہی وقت پر سچے ہو سکتے ہیں ؟ نظریہ تکثیریت منطق کے قانونِ عدم تردید کو الجھا دیتا ہے جس کا کہنا ہے کہ"الف اگر الف ہے تو پھر غیر الف نہیں ہے۔" جیسا کہ ایک فلسفی نے طنزیہ انداز میں کہا ہے کہ کوئی بھی شخص جو منطق کے اُصول ِ عدم تردید کا نکار کرتا ہے ( اور مانتا ہے اس کے برعکس نظریہ تکثیریت درست ہے ) تو اُسےاُس وقت تک مارنا اور جلانا چاہیے جب تک وہ اس بات کی صداقت کا قائل نہ ہو جائے کہ مارکھانا – مارنہ کھانے سے مختلف ہے اور جلایا جانا – جلائے نہ جانے سے مختلف ہے ۔ نیز یہ بھی غور کریں کہ نظریہ تکثیریت کا کہنا ہے کہ وہ سچا ہے اور اس کی مخالفت کرنے والی ہر بات جھوٹی ہے ۔ یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جواِس نظریے کے اپنے ہی بنیادی اُصول کی تردید کرتا ہے ۔

سب کے ساتھ کھلے دل سے رواداری کا اظہار کرنا نظریہ تکثیریت کے پس پردہ کام کرنے والا جذبہ یا تحریک ہے ۔ تاہم نظریہ تکثیریت سچائی کے ہر دعوئے کے یکساں طور پر درست ہونے کے ساتھ ساتھ ہر شخص کی مساوی اہمیت ہونے کے تصور کو الجھن میں ڈال دیتا ہے ۔ مزید سادہ الفاظ میں کہیں تو سب لوگ برابر ہو سکتے ہیں مگر سچائی کے تمام دعوے برابر نہیں ہو سکتے ۔ نظریہ تکثیریت رائے اور سچائی کے درمیان فرق کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ مورٹیمر ایڈلر ایک فرق پر غور کرتا ہے : "نظریہ تکثیریت صرف اُن علاقوں میں پسندیدہ اور قابل برداشت ہے جو سچائی کی بجائے ذوق پر مبنی ہوتے ہیں۔"

سچ کی جارحانہ فطرت

بہت دفعہ سچ کے تصور کو بدنام کیا جاتا ہےاور ایسا عام طور پر درج ذیل وجوہات میں سے ایک یا دو کی بناء پر کیا جاتا ہے۔

ایمان اور مذہب کے معاملات میں حتمی سچائی کا دعویٰ کرنے والے کے خلاف ایک عام شکایت یہ ہے کہ اس طرح کا موقف " تنگ نظری "پر مشتمل ہوتا ہے ۔ تاہم ایک ناقد اس بات کو سمجھنے میں ناکام رہتا ہے کہ فطرت کے لحاظ سے سچائی تنگ نظر ہے ۔ کیا ریاضی کا ایک استاد اس تصور کو ماننے کے باعث تنگ نظر ہے کہ 2+2صرف اور صرف 4 ہوتا ہے ۔

سچ کے خلاف ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ ایسا دعویٰ کرنا متکبر ہونے کے مترادف ہے کہ ایک شخص صحیح جبکہ دوسرا غلط ہے ۔ تاہم ریاضی کے بارے میں مذکورہ بالا مثال کا دوبارہ ذکر کرتے ہوئے کیا ریاضی کے استاد کا علم ِ حساب کے مسئلے کے لیے ایک صحیح جواب پر اصرار کرنا متکبرانہ رویہ ہے ؟یا کسی تالا بنانے والے کا یہ بیان تکبر آمیز ہے کہ ایک بند دروازلے کو صرف ایک ہی چابی کھول سکتی ہے ؟

سچ کے خلاف ایک اور اعتراض یہ ہے کہ یہ کسی شخص کا صحیح ہونے کا دعویٰ تکبر آمیزہے ۔

ایمان اور مذہب کے معاملات میں حتمی سچائی کا دعویٰ کرنے والوں کے خلاف تیسرا الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ اس طرح کا موقف رکھنے والے لوگ دیگر لوگوں میں شامل ہونے کی بجائے اُنہیں خارج کر دیتے ہیں ۔ مگر ایسا الزام لگانے والا اس حقیقت کو سمجھنے میں ناکام رہتا ہے کہ فطرت کے اعتبار سے سچ اپنے مخالف کو خار ج کر دیا ہے ۔ 2 + 2 اصل میں کس کے برابر ہیں؟ 4 کے!اِس کے علاوہ باقی تمام جوابات اس حقیقت سے خارج ہو جاتے ہیں ۔

پھر سچ کے خلاف ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ کسی ایک شخص کے سچ کو جاننے کا دعویٰ کرنا ایک ناگوار اورتفرقہ انگیز ہے ۔ اس کی بجائے تنقید کرنے والا یہ دلیل دیتا ہے کہ تمام معاملات خُلوص نیت پر مبنی ہیں ۔ اس موقف کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ سچ خلوص ، عقیدے اور خواہش سے متاثر نہیں ہوتا۔ کوئی شخص کتنا ہی پُر خلوص اور مضبوط ایمان کیوں نہ رکھتا ہو کہ ایک غلط چابی دروازے کو لگ جائے گی ، چابی بالکل کام نہیں کر ے گی اور تالا نہیں کھلے گا۔سچائی خلوص نیت سے بھی متاثر نہیں ہوتی۔ کوئی بھی شخص جو زہر کی بوتل لیتا اور خلوص نیت سے مانتا ہے کہ یہ لیمُوں کا شربت ہے اس کے باوجود بھی اُسے زہر کے تباہ کُن اثر کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ آخر میں سچائی پر خواہش کا بھی اثر نہیں ہوتا ۔ کوئی شخص یہ شدید خواہش کر سکتا ہے کہ اُس کی گاڑی کا تیل ختم نہ ہو لیکن اگر تیل والی سوئی بتاتی ہے کہ ٹینکی خالی ہے تو گاڑی مزید آگے نہیں بڑھے گی لہذا دنیا کی کوئی بھی خواہش معجزانہ طور پر اس گاڑی کو چلانے کا سبب نہیں ہو گی ۔

کچھ لوگ تسلیم کریں گے کہ حتمی سچائی موجود ہے لیکن پھر یہ دعویٰ کریں گے کہ اس طرح کا موقف ایمان اور مذہب کے معاملات میں نہیں بلکہ صرف اور صرف سائنس کے شعبے میں درست ہے ۔ یہ منطقی مثبتیت پسندی کہلانے والا ایک فلسفہ ہے ۔ جسکی دیوڈہیوم اور اے جے ایئر جیسے فلسفیوں کی طرف سے تشہیر کی گئی تھی ۔ خلاصہ یہ ہے کہ ایسے لوگ بیان کرتے ہیں کہ سچائی کے دعوئے یا تو ( 1) تعریفی لحاظ سے سچے بیانات ( مثلاً تمام کنوارے غیر شادی شدہ مرد ہیں ) یا (2) تجرباتی طور پر قابل ِ تصدیق بیانات ( یعنی کہ سائنس کی طرف سے قابلِ پرکھ) ہونے چاہیے ۔ منطقی مثبتیت پسندی کے حامیوں کے نزدیک خدا کے بارے میں کی جانے والی تمام باتیں بکواس ہیں ۔

ایسے لوگ جو اس گمان کے قائل ہیں کہ صرف سائنس ہی سچے دعوے کر سکتی ہے وہ یہ پہچاننے میں ناکام رہتے ہیں کہ سچائی کے ایسے بہت سے شعبے ہیں جہاں سائنس کمزور ثابت ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر :

• سائنس ریاضی اور منطق کے شعبوں کو ثابت نہیں کرسکتی ہے کیونکہ یہ اِنہیں پہلے ہی سے فرض کر لیتی ہے ۔

• سائنس مابعد الطبیعاتی سچائیوں کو ثابت نہیں کرسکتی ہے جیسے کہ میرے اپنے فہم کے علاوہ بھی فہم موجود ہیں ۔

• سائنس اخلاقی قوانین اور اخلاقیات کے شعبوں میں سچائی فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ مثال کے طور پر آپ سائنس کو یہ ثابت کرنے کےلیے استعمال نہیں کرسکتے ہیں کہ نازی برے لوگ تھے۔

• سائنس طلوع آفتاب کی خوبصورتی جیسے جمالیاتی پہلوؤں کے بارے میں سچائی بیان کرنے کے قابل نہیں ہے۔

• آخر ی بات جب کوئی بھی شخص یہ بیان دیتا ہے کہ "صرف سائنس ہی ہمہ گیر سچائی کا واحد ذریعہ ہے" تو وہ محض ایک فلسفیانہ دعویٰ کرتا ہے — جسے سائنس کے ذریعے پرکھا نہیں جاسکتا۔

اور ایسے لوگ بھی ہیں جن کا کہنا ہے کہ حتمی سچائی کا اخلاقیات کے میدان میں اطلاق نہیں ہوتا ہے ۔ تاہم ایسے سوال " کہ کیا کسی معصوم بچے کو تشدد کا نشانہ بنانا اور قتل کرنا اخلاقی بات ہے؟ " کا جواب حتمی اورعالمگیر سطح پر "نہیں" ہے ۔ یا اگر اس بات کو اور زیادہ شخصی طور پر بیان کیا جائے تو وہ لوگ جو اخلاقیات سے متعلق نسبتی سچائی کی حمایت کرتے ہیں وہ ہمیشہ چاہتے ہیں کہ اُن کاشریکِ حیات ان کے ساتھ پوری طرح وفادار رہے ۔

سچ کیوں اہم ہے؟

زندگی کے تمام شعبوں ( بشمول ایمان اور مذہب ) میں حتمی/عالمگیر سچائی کے تصور کو سمجھنا اور اختیار کرنا کیوں ضروری ہے؟ محض اس لیے کہ زندگی میں غلط ہونے کے خاص نتائج موجود ہیں ۔ کسی کو دوائی کی غلط مقدار دینے سے وہ ہلاک ہو سکتا ہے ؛ سرمایہ کاری کے منیجر کا مالیات سے متعلق لیا گیا غلط فیصلہ کسی گھرانے کو گنگال کر سکتا ہے ؛کسی غلط جہاز پر سوار ہونا آپ کو وہاں لے جائے گا جہاں آپ جانا نہیں چاہتے؛اور بے وفا شریکِ حیات کے ساتھ رہنا کسی گھرانے کی تباہی اور ممکنہ طور پر بے چینی کا باعث ہو سکتا ہے ۔ زندگی کے نتائج جتنی زیادہ اہمیت ایمان ا ور مذہب کے شعبے میں رکھتے ہیں اتنی اہمیت اور کہیں نہیں رکھتے ۔ ایسی غلطی کرنا جس کے نتائج ابدی ہوں ایک بہت ہی خوفناک بات ہے ۔

خدا اور سچ

یسوع مسیح کی چھ پیشیوں کے دوران سچ/حق ( نیکی ) اور جھوٹ(بدی) کے درمیان بڑا واضح فرق تھا ۔ وہاں موجود یسوع راستباز کی اُن لوگوں کی طرف عدالت کی جا رہی تھی جن کا ہر عمل جھوٹ سے رنگا ہو ا تھا ۔ یہودی رہنماؤں نے ہر اُس قانون کو توڑ ڈالا تھا جو کسی مدعاعلیہ کو غلط سزا سے بچانے کے لیے بنایا گیا تھا ۔ بڑی سرگرمی سے کام کرتے ہوئے انہوں نے کسی ایسے گواہ کی تلاش کرنے کی کوشش کی جو یسوع کو قصور وار ٹھہرا سکتا تھا اور اپنی مایوسی میں وہ اُن غلط ثبوتوں کی طرف مائل ہو گئے جن کو جھوٹے لوگوں نے پیش کیا تھا۔ حتی ٰ کہ یہ بات بھی اُن کے مقصد کے حصول میں اُن کے لیے مدد گار ثابت نہ ہو سکی ۔ چنانچہ اُنہوں نے یسوع کو قسم دیتے ہوئے ایک اور قانون توڑا اور اُسے مجبور کیا کہ وہ خود اُس بات کا اعتراف کرے جسے اُنہوں نے اپنے طور پر کفر تصور کیا ( متی 26باب 23آیت)۔

پیلاطُس کے سامنے یہودی رہنماؤں نے پھر سے جھوٹ بولا۔ اُنہوں نے یسوع کو کفر کا مرتکب قرار دیا مگر چونکہ وہ جانتے تھے کہ یسوع کو قتل کرنے کےلیے پیلاطس کی خوشامد کرنا کافی نہیں ہو گا لہذا اُنہوں نے دعویٰ کیا یسوع قیصر کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور لوگ کو خراج نہ دینے کی ترغیب دینے کے باعث رومی قانون کو توڑ رہا ہے ۔ پیلاطس جلد ہی اُن کی مکاری کو جان گیا اور اُس نے اس الزام پر کچھ توجہ نہ دی۔

یسوع راستبازکی عدالت ناراست لوگوں کی طرف سے کی جا رہی تھا ۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ناراست ہمیشہ راستباز پر ظلم کرتا ہے ۔ اور یہی وجہ ہے کہ قائن نے اپنے بھائی ہابل کو قتل کر دیا تھا ۔ سچائی اور راستبازی کے درمیان اور جھوٹ اور ناراستی کے درمیان تعلق کو نئے عہد نامے کی متعدد

مثالوں سے ظاہر کیا جاتا ہے :

• "اِسی سبب سے خُدا اُن کے پاس گمراہ کرنے والی تاثیر بھیجے گا تاکہ وہ جھوٹ کو سچ جانیں۔ اورجتنے لوگ حق کایقین نہیں کرتے بلکہ ناراستی کو پسند کرتے ہیں وہ سب سزا پائیں " ( 2تھسلنیکیوں 2باب 11-12آیات)۔

• "کیونکہ خُدا کا غضب اُن آدمیوں کی تمام بے دِینی اور ناراستی پر آسمان سے ظاہر ہوتا ہے جو حق کو ناراستی سے دبائے رکھتے ہیں" (رومیوں 1باب 18آیت)۔

• "وہ ہر ایک کو اُس کے کاموں کے موافق بدلہ دے گا۔ جو نیکوکاری میں ثابت قدم رہ کر جلال اور عزت اور بقاء کے طالب ہوتے ہیں اُن کو ہمیشہ کی زِندگی دے گا۔ مگر جو تفرقہ اَنداز اور حق کے نہ ماننے والے بلکہ ناراستی کے ماننے والے ہیں اُن پر غضب اور قہر ہو گا" (رومیوں 2باب 6-8آیات)۔

• "محبت صابر ہے اور مہربان۔محبت حسد نہیں کرتی۔محبت شیخی نہیں مارتی اورپھولتی نہیں۔ نازیبا کام نہیں کرتی۔ اپنی بہتری نہیں چاہتی۔ جھنجھلاتی نہیں۔ بدگمانی نہیں کرتی " (1کرنتھیوں 13باب 5-6آیات)۔

سچ کیا ہے ؟ – خلاصہ

صدیوں پہلے پنطس پیلاطُس کی طرف سے پوچھے گئے سوال کی دوبارہ وضاحت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اسے پوری طرح صحیح بنایا جا سکے ۔ رومی حاکم کی یہ رائے " حق/سچ کیا ہے ؟" اس حقیقت کو نظر انداز کرتی ہے کہ بہت سی باتوں میں سچائی ہو سکتی ہے اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ صرف ایک ہی بات حتمی سچائی ہو سکتی ہے ۔ سچائی کا کہیں نہ کہیں سے آغاز ہونا ضروری ہے ۔

حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ قریباً دوہزار سال پہلے پیلاطُس اُس صبح سویرے سچائی کے منبع کو براہ راست دیکھ رہا تھا ۔ گرفتاری اور حاکم کے سامنے پیش کئے جانے کے کچھ ہی دیر قبل یسوع نے ایک سادہ بیان دیا تھا کہ " حق مَیں ہوں " ( یوحنا 14باب 6آیت)جو بہت ہی غیر معمولی بیان تھا ۔ محض ایک عام آدمی حق کیسے ہو سکتا تھا ۔ اگر وہ عام آدمی سے بڑھ کر نہ ہوتا تو وہ حق/سچ نہیں ہو سکتا تھا اور دراصل وہ ایسا ہی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جب یسوع مُردوں میں سے جی اُٹھا تو اُس کے دعوے کی تصدیق ہو گئی کہ وہ حق ہے ( رومیوں 1باب 4آیت)۔

ایک کہانی پیرس میں رہنے والے ایک شخص کے بارے میں بیان کرتی ہے جسے دیہات سے ملنے ایک اجبنی آتا ہے ۔ وہ اُس دیہاتی ساتھی کو پیرس کے عجائب دکھانے کےلیے پہلے louver نامی مقام پر لے جاتا ہے تاکہ وہ عظیم فنکاری دیکھ سکے اور پھر اُسے موسیقی سننے کے لیے ایک بہت ہی عظیم و الشان ہال میں لے کر جاتا ہے۔ دن کے اختتام پر وہ دیہاتی شخص بیان کرتا ہے کہ اُسے فن اور موسیقی میں سے خصوصی طور پر کچھ بھی پسند نہیں آیا ۔ جس پر اُس کا میزبان جواب دیتا ہے " یہاں اُن کی نہیں بلکہ تمہاری پرکھ ہو رہی ہے " ۔ پیلا طُس اور یہودی رہنماؤ ں کا خیال تھا کہ وہ مسیح کی عدالت کر رہے ہیں جبکہ حقیقت میں اُن کی عدالت کی جا رہی تھی ۔ مزیدیہ کہ جسے انہوں نے سزا سنائی تھی وہ اصل میں ایک دن اُن کے منصف کے فرائض سر انجام دے گا۔ اور ایسا وہ اُن سب کےلیے کرے گا جو ناراستی سے سچائی کو دبا دیتے ہیں ۔

پیلاطُس کو واضح طور پر سچائی کا علم کبھی نہیں ہوا تھا ۔ قیصریہ کے مورخ اور بشپ یوسبیئس اس حقیقت کو قلمبند کرتا ہے کہ شہنشاہ کیلیگولا کے دُور حکومت میں پیلاطُس نے بالآخر خود کشی کر لی تھی – یہ ایک افسوسناک انجام اور سب کےلیے یاد دہانی ہے کہ حق /سچ کو نظر انداز کرنا ہمیشہ ناپسندیدہ نتائج کی جانب رہنمائی کر تا ہے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

حق/سچ کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries