تھیالوجی (علمِ الہٰیات) کی کیا تعریف ہے؟



سوال: تھیالوجی (علمِ الہٰیات) کی کیا تعریف ہے؟

جواب:
لفظ "تھیالوجی" دو یونانی الفاظ سے ماخوذ ہے۔ اِس مرکب الفاظ کے معنی "علمِ الہٰیات، یعنی ذاتِ خُدا کا مطالعہ ہے)۔ مسیحی علمِ الہٰیات خُدا کی ذات کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے جیسا کہ اُس نے اپنے آپ کو بائبل میں ظاہر کیا ہے۔ کوئی بھی تھیالوجی خُدا اور اُس کی راہوں کو مکمل طور پر بیان نہیں کر سکتی، کیونکہ خُدا لامحدود، اور ازلی ہے اور ہماری سوچ سے بالاتر ہے۔ اِس لئے اُس کو بیان کرنے کی ہر کوشش غیر کامل ہو گی (رومیوں 11:33-36)۔ تاہم، خُدا چاہتا ہے کہ ہم اُسے کم از کم اُتنا جانیں جِنتا جاننے کے قابل ہیں۔ اور تھیالوجی خُدا کو جاننے کے لئے ایک منظم اور قابلِ سمجھ انداز میں، ایک سائنس اور ہُنر ہے۔ کچھ لوگ تھیالوجی سے دُور بھاگتے ہیں، کیونکہ اُن کا ایمان ہے کہ باعثِ تنازع ہے۔ پراپر بِبلیکل تھیالوجی (درُست بائبلی علمِ الہٰیات) اچھی ہے، کیونکہ یہ خُدا کے کلام کی تعلیم ہے (2تھِمُتھیُس 3:16-17)۔

پھر علمِ الہٰیات کا مطالعہ اُس چیز کو دریافت کرنے کے لئے خُدا کے کلام کی کھُدائی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے جو کہ اُس نے اپنے بارے میں خود ظاہر کی ہے۔ جب ہم یہ کرتے ہیں، تو ہم اُس کو سب چیزوں کے خالق، سب چیزوں کو سنبھالنے والے، سب چیزوں کے منصف کے طور پر جانتے ہیں۔ وہ الفا اومیگا، اور سب چیزوں کا شروع اور آخر ہے۔ جب موسیٰ نے پوچھا کہ اُسے مصر بھیجنےوالا کون ہے، تو خُدا نے جواب دیا، "میں جو ہوں سو میں ہوں" (خروج 3:14)۔ "میں ہوں" نام شخصیت کا اشارہ کرتاہے۔ خُدا نام رکھتا ہے، یہاں تک کہ اُس نے دوسروں کو نام دیا ہے۔ میں ہوں نام ایک آزاد، بامقصد، اور خودمختار شخصیت کو ظاہر کرتا ہے۔ خُدا ایک سماوی قوت اور کائناتی توانانی نہیں ہے۔ وہ عقل اور مرضی رکھنے والا قادرِ مطلق، خود موجود، خود اِرادی شخص ہے جس نے اپنے آپ کو اپنے کلام، اور اپنے بیٹے یسوع مسیح کے وسیلہ سے انسان پر ظاہر کیا۔

علمِ الہٰیات کا مطالعہ کرنا خُدا کو اِس لئے جاننا ہے کہ ہم اپنی محبت اور فرمانبرداری کے وسیلہ سے اُسے جلال دے سکیں۔ تسلسل پر غور کریں: اِس سے پہلے کہ ہم اُس سے محبت کریں اُسے جاننا ضروری ہے، اور اُس کی فرمانبرداری کرنے سے پہلے اُس سے محبت کرنا ضروری ہے۔ ضمنی پیداوار کے طور پر، ہماری زندگیاں آرام اور اُمید سے بے حد مالا مال کی جاتی ہیں، اور خُدا اپنا آپ اُن پر ظاہر کرتا ہے جو اُسے جانتے، اُس سے محبت کرتے، اور اُس کی فرمانبرداری کرتے ہیں۔ خُداکے بارے میں کمزور تھیالوجی اور سطحی غلط سمجھ بوجھ آرام اوراُمید لانے کی بجائے جِس کی ہم خواہش کرتے ہیں صرف ہماری زندگیوں کو بدتر بنائے گی۔ خُدا کے بارے میں جاننا بے حد ضروری ہے۔ اگر ہم خُدا کو جانے بغیر اِس دُنیا میں زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں، تو اپنے ساتھ بہت بڑا ظلم کرتے ہیں۔ دُنیا ایک تکلیف دہ جگہ ہے، اور اِس میں زندگی مایوس کُن اور ناخوشگوار ہے۔ تھیالوجی کو ردّ کرنا بغیر عقل کے اپنی زندگی پر سزا کا حکم جاری کرنا ہے۔ تھیالوجی کے بغیر، ہم اپنی زندگیاں ضائع کرتے اور اپنی روحوں کو کھو دیتے ہیں۔

تمام مسیحیوں کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگیاں علمِ الہٰیات کے ساتھ گزاریں، اور خُدا کو جاننے کے لئے، اُس سے محبت کرنے، اور اُس کی فرمانبرداری کرنے کے لئے، جس کے ساتھ ہم خوشی سے ابدیت گزاریں گے، گہرائی کے ساتھ ذاتی مطالعہ کرتے رہیں۔

English



اردو ہوم پیج میں واپسی



تھیالوجی (علمِ الہٰیات) کی کیا تعریف ہے؟