settings icon
share icon
سوال

دِ ل کیا ہے؟

جواب


سب سے پہلے ہم اِس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ: یہ مضمون انسانی جسم کے اندر ایک اہم عضو دِل کے بار ےمیں نہیں ہے جو پٹھوں سے ملکر بنا ہوا ہے اور پورے جسم میں خون پمپ کرتا ہے۔ نہ ہی اس مضمون کا تعلق دِل کی رومانوی، فلسفیانہ یا ادبی تعریفوں کیساتھ ہے۔

اس کے بجائے ہم اس بات پر توجہ مرکوز کریں گے کہ بائبل دل کے بارے میں کیا کہتی ہے۔ بائبل میں دل کا ذکر تقریبا 1000 بار کیا گیا ہے۔ اور بائبل میں دِل کا جو ذکر کیا گیا ہے یہ ہماری ذات کے اُس خاص حصے کی طرف ہماری توجہ مبذول کرواتا ہے جو ایک رُوحانی حصہ ہے جس میں ہمارے جذبات اور خواہشات بسی ہوئی ہیں۔

اس سے پہلے کہ ہم انسانی دل کو دیکھیں، ہم اس بات کا بھی ذکر کریں گے کہ چونکہ خدا کے جذبات اور خواہشات ہیں، اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ خُدا کا بھی دِل ہے۔ہمارے پاس بھی اِسی وجہ سے ایک دل ہے کیونکہ خُدا کے اپنے پاس بھی دِل ہے۔ داؤد "خُدا کے دِل کے موافق شخص تھا" (اعمال 13 باب 22آیت) اور خُدا اپنے لوگوں کو ایسے رہنما دیکر برکت دیتا ہے جو خُدا کے دِل کو جانتے اور اُس کی پیروی کرتے ہیں (1 سموئیل 2باب 35 آیت؛ یرمیاہ 3باب15آیت)۔

انسانی دل اپنی فطری حالت میں بدی ، دھوکہ بازی اور شرارت سے بھرپور ہے۔ یرمیاہ 17باب9آیت بیان کرتی ہے کہ "دل سب چیزوں سے زیادہ حیلہ باز اور لاعلاج ہے۔ اُسکو کون دریافت کرسکتا ہے؟ "دوسرے لفظوں میں گناہ میں گرنے کی وجہ سے ہم بہت بڑے پیمانے پر متاثر ہوئے ہیں۔ ہمارے ذہن، جذبات اور خواہشات کو گناہ نے داغدار کر دیا ہے اور ہم اس بات کے احساس کے تعلق سے اندھے ہیں کہ یہ مسئلہ کس قدر وسیع اور گھمبیر ہے۔

ہم اپنے دِلوں کو نہیں سمجھ سکتے لیکن خُدا اِنہیں بخوبی سمجھتا ہے۔ "وہ دِلوں کے بھید جانتا ہے"(44 زبور 21آیت؛ مزید دیکھئے 1 کرنتھیوں 14 باب25 آیت)۔ یسوع "سب کو جانتا تھا، اور اِس کی حاجت نہ رکھتا تھا کہ کوئی اِنسان اُس کے حق میں گواہی دے کیونکہ وہ آپ جانتا تھا کہ اِنسان کے دِل میں کیا کیا ہے" (یوحنا 2باب24-25آیات)۔ کیونکہ خُدا دِلوں کے بھید جانتا ہے اِس لیے وہ بالکل راستبازی کے ساتھ "انصاف " کر سکتا ہے۔ " مَیں خداوند دِل ودماغ کو جانچتا اور آزماتا ہوں تاکہ ہر ایک آدمی کو اُسکی چال کے موافق اور اُسکے کاموں کے پھل کے مطابق بدلہ دُوں"(یرمیاہ 17باب 10 آیت)۔

یسوع مرقس 7باب21-23آیات کے اندرانسان کی گناہ آلود فطرت کی طرف اشارہ کرتا ہے: "کیونکہ اندر سے یعنی آدمی کے دِل سے بُرے خیال نکلتے ہیں۔ حرامکارِیاں۔چورِیاں ۔ خونریزیاں۔ زِناکاریاں۔ لالچ۔ بدکارِیاں۔ مکر۔ شہوت پرستی۔ بدنظری۔ بدگوئی۔ شیخی۔ بیوقُوفی۔یہ سب بُری باتیں اَندر سے نکل کر آدمی کو ناپاک کرتی ہیں۔" ہمارا سب سے بڑا مسئلہ بیرونی نہیں بلکہ اندرونی ہے؛ ہمارا اصل مسئلہ دِل ہی کا مسئلہ ہے۔

کسی بھی انسان کےنجات پانے کے لیے ضروری ہے کہ اُس کا دِل مکمل طور پر تبدیل ہو۔ اور یہ ایمان کے جواب میں صرف اور صرف خُدا کی قدرت کی بدولت ہی ممکن ہے۔"راستبازی کے لیے ایمان لانا دِل سے ہوتا ہے" (رومیوں 10باب10آیت)۔ اپنے فضل سے وہ ہمارے اندر پاک دِل پیدا کر سکتا اور ہمارے باطن میں از سرِ نو مستقیم رُوح ڈال سکتا ہے۔(51 زبور 10 آیت؛ حزقی ایل 36باب26آیت)۔ وہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ "فروتن کی رُوح کو زندہ کرے گا اور شکستہ دِلوں کو حیات بخشے گا"(یسعیاہ 57باب15آیت)۔

ہمارے اندر خُدا کی طرف سے پاک دِل پیدا کرنے کے عمل کے لیے وہ ہمارے دِلوں کو جانچتا بھی ہے (17 زبور 3آیت؛ استثنا 8باب2آیت)، اور وہ ہمارے دِلوں میں نئے خیالات نئی حکمت اور نئی خواہشات ڈالتا ہے (نحمیاہ 7باب5آیت؛ 1 سلاطین 10باب24آیت؛ 2 کرنتھیوں 8باب 16 آیت)۔

دِل ہماری ذات کا مرکز ہے اور بائبل اِس بات کو بہت اہم خیال کرتی ہے کہ ہم اپنے دِلوں کی بھرپور حفاظت کریں: "اپنے دِل کی خوب حفاطت کر کیونکہ زندگی کا سر چشمہ وہی ہے"(امثال 4باب23آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

دِ ل کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries