settings icon
share icon
سوال

ہمیشہ کی زندگی کیا ہے ؟

جواب


جب بائبل ہمیشہ کی زندگی کا ذکر کرتی ہے تو یہ خدا کی اُس بخشش کی نشاندہی کرتی ہے جو صرف اور صرف "خداوند مسیح یسوع "میں حاصل ہوتی ہے( رومیوں 6 باب 23آیت) ۔ یہ بخشش اُس "موت " کے برعکس ہے جو گناہ کا فطری نتیجہ ہے ۔ ہمیشہ کی زندگی اُن لوگوں کو ملتی ہے جو یسوع مسیح پر ایمان لاتے ہیں جوکہ بذاتِ خود " قیامت اور زندگی " ہے (یوحنا 11باب 25آیت)۔یہ زندگی "ہمیشہ رہنے والی ہے " یہ حقیقت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ دائمی ہے – یہ بِنا خاتمے کے مسلسل جاری رہنے والی ہے ۔

تاہم ہمیشہ کی زندگی کو محض سالوں تک، ایک نہ ختم ہونے تسلسل کے طور پر دیکھنا ایک غلطی ہے۔ آئیونی اوس (aiónios) لفظ " ہمیشہ " کے لیے استعمال ہونے والا نئے عہد نامے کا ایک عام لفظ ہے جو معیار کے ساتھ ساتھ مقدار کا بھی خیال رکھتا ہے۔ درحقیقت ہمیشہ کی زندگی کا اصل میں "سالوں" سے بالکل تعلق نہیں ہے کیونکہ یہ وقت کی قید سے آزاد ہے۔ ہمیشہ کی زندگی نہ صرف وقت کی حد کے اند ر اند ر بلکہ وقت سے باہر اور اس سے پرے بھی کام کر سکتی ہے۔

اس لحا ظ سے ہمیشہ کی زندگی کو کسی ایسی چیز کے طور پر خیال کیا جا سکتا ہے جس کا مسیحی اب بھی تجربہ کرتے ہیں۔ ایمانداروں کو ہمیشہ کی زندگی کے لیے "انتظار" کرنے کی ضرورت نہیں ہےکیونکہ یہ ایسی چیز نہیں ہے جو اُن کے مرنے کے بعد شروع ہو گی ۔ بلکہ ہمیشہ کی زندگی اُسی لمحے شروع ہو جاتی ہے جب کوئی شخص مسیح پر ایمان لاتا ہے۔ یہ ابھی سے ہمارے قبضہ میں ہے۔ یوحنا 3باب 36آیت فرماتی ہے کہ "جو بیٹے پر اِیمان لاتا ہے ہمیشہ کی زِندگی اُس کی ہے۔" یاد رکھیں کہ ایماندار کے پاس یہ زندگی ابھی سے "ہے" (زمانہ حال- یونانی میں بھی زمانہ حال پایا جاتا ہے)۔ یوحنا 5باب 24آیت اور یوحنا 6باب 47آیت میں ہمیں زمانہ ِ حال پر مبنی جملے ملتے ہیں۔ ہمیشہ کی زندگی کی توجہ ہمارے مستقبل پر نہیں بلکہ مسیح میں ہماری موجودہ حیثیت پر ہے۔

بائبل ہمیشہ کی زندگی کو ناگزیر طور پر یسوع مسیح کی ذات سے منسلک کرتی ہے۔ یوحنا 17باب 3آیت اس تعلق سے ایک اہم حوالہ ہے جیسا کہ خُداوند یسوع نے دعا کی ہے کہ " ہمیشہ کی زِندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خُدایِ واحِد اور برحق کو اور یسُوع مسیح کو جسے تُو نے بھیجا ہے جانیں۔یسوع یہاں "ہمیشہ کی زندگی" کو خداباپ اور خدا بیٹے کے بارے میں علم کے برابر قرار دیتا ہے۔ بیٹے کے بغیر خدا کا کوئی علم نہیں ہےکیونکہ بیٹے کے وسیلہ سے ہی باپ خود کو برگزیدوں پر عیاں کرتا ہے (یوحنا 17باب 6آیت ؛ 14باب 9آیت)۔

خدا باپ اور خدابیٹے کے بارے میں یہ زندگی بخشنے والاعلم ایک حقیقی، شخصی علم ہے نہ کہ محض علمی شعور ۔ قیامت کے دن کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جو مسیح کے پیروکار ہونے کا دعویٰ کریں گے لیکن حقیقتاً اُس کے ساتھ کبھی تعلق نہیں رکھتے ہوں گے ۔ خُداوند یسوع اِن جھوٹے دعویداروں سےکہے گاکہ " میری کبھی تُم سے واقفیت نہ تھی۔ اَے بدکارو میرے پاس سے چلے جاؤ"(متی 7باب 23آیت)۔ خُداوند کو جاننا پولُس رسول نے اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا تھا اور اُس نے اِس علم کو مُردوں میں سے جی اُٹھنے سے جوڑ دیا: "مَیں اُس کو اور اُس کے جی اُٹھنے کی قُدرت کو اور اُس کے ساتھ دُکھوں میں شرِیک ہونے کو معلُوم کرُوں اور اُس کی مَوت سے مُشابہت پَیدا کرُوں۔ تاکہ کسی طرح مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے دَرجہ تک پہنچوں۔" (فلپیوں3باب 10-11 آیات)۔

نئے یروشلیم میں یوحنا رسول ایک دریا کو دیکھتا ہے جو " خُدا اور برّہ کے تخت سے نِکل کر اُس شہر کی سڑک کے بِیچ میں بہتا تھا۔ اور دَریا کے وارپار زِندگی کا درخت تھا۔ ۔۔۔اُس درخت کے پتّوں سے قَوموں کو شِفا ہوتی تھی" (مکاشفہ 22باب 1-2آیات)۔ باغِ عدن میں جب ہم نے خُدا کے خلاف بغاوت کی تھی تو ہمیں زندگی کے درخت سے دُور کر دیا گیا (پیدایش 3باب 24آیت)۔ بالآخر اپنے فضل میں خُدا زندگی کے درخت تک ہماری رسائی کو بحال کرتا ہے۔ یہ رسائی یسوع مسیح ،خُدا کے بّرے جو دنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے (یوحنا 1باب 29آیت)کے وسیلہ سے میسر ہوتی ہے ۔

اب ہر گنہگار کو مسیح کو جاننے اور ہمیشہ کی زندگی پانے کی دعوت دی جاتی ہے: "جو پیاسا ہو وہ آئے اور جو کوئی چاہے آبِ حیات مُفت لے"(مکاشفہ 22باب 17آیت)۔

آپ کیسے جان سکتے ہیں کہ آپ کے پاس ہمیشہ کی زندگی ہے؟ سب سے پہلے ہمارے پاک خدا کے سامنے اپنے گناہ کا اقرار کریں۔ پھر خُدا کی طرف سے نجات دہندہ کی فراہمی کو اپنے لیے قبول کریں۔"کیونکہ جو کوئی خُداوند کا نام لے گا نجات پائے گا"(رومیوں 10باب 13آیت)۔ خدا کا بیٹا، یسوع مسیح آپ کے گناہوں کے لیے مواء اور تیسرے دن پھر جی اُٹھا ہے ۔ اِس خوشخبری پر ایمان لائیں اپنے نجات دہندہ کے طور پر خداوند یسوع پر بھروسہ کریں تو آپ نجات پائیں گے (اعمال 16باب 31آیت ؛ رومیوں 10باب 9-10آیات)۔

یوحنا رسول اِسے بڑے سادہ الفاظ میں بیان کرتا ہے: "خُدا نے ہمیں ہمیشہ کی زِندگی بخشی اور یہ زِندگی اُس کے بیٹے میں ہے۔ جس کے پاس بیٹا ہے اُس کے پاس زِندگی ہے اور جس کے پاس خُدا کا بیٹا نہیں اُس کے پاس زِندگی بھی نہیں "(1یوحنا 5باب 11-12آیات)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ہمیشہ کی زندگی کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries