بائبل کیا ہے؟


سوال: بائبل کیا ہے؟

جواب:
لفظ "بائبل" لاطینی اور یونانی الفاظ سے ماخوذ ہے جن کے معنی "کتاب" کے ہیں۔ چونکہ بائبل تمام زمانوں کے سب لوگوں کے لئے کتاب ہے اِس لحاظ سے یہ ایک بہت مناسب نام ہے ۔ بائبل ایک ایسی کتاب ہے جس کی مانند کوئی اور کتاب نہیں ہے ۔

بائبل مقدس 66 مختلف کتابوں کا مجموعہ ہے۔ جن میں شریعت کی کتابیں جیسا کہ احبار اور استثنا ؛تاریخی کتابیں جیسا کہ عزرا اور اعمال؛ شاعری کی کتابیں جیسا کہ زبور اور واعظ؛نبوتی کتابیں جیسا کہ یسعیاہ اور مکاشفہ؛ سوانح حیات جیسا کہ متی اور یوحنا کی اناجیل؛اور خطوط (رسمی خطوط) جیسا کہ طِطُس اور عبرانیوں کے نام خطوط شامل ہیں۔

بائبل کے مصنفین

بائبل مقدس کو مختلف پسِ منظر سے تعلق رکھنے والے تقریباً 40 مصنفین نے 1500سال سے زیادہ عرصہ میں لکھا ہے ۔ان مصنفین میں بادشاہ، ماہی گیر، کاہن، سرکاری عہدیدار، کسان، چرواہے اور طبیب شامل تھے۔ اِن مختلف طرح کے مصنفین کی تحریروں میں ایک حیران کُن اتحاد پایا جاتا ہے جن میں شروع سے آخر تک مشترکہ موضوعات بُنے ہوئے ہیں

بائبل کا اتحاد اِس حقیقت کی وجہ سے ہے کہ اِس کا اصل مصنف خود خُدا ہے۔ بائبل" خدا کے الہام سے ہے" (2تیمتھیس 3باب 16آیت )۔ انسانی مصنفین نے بالکل وہی کچھ لکھا جو خُدا اُن سے لکھوانا چاہتا تھا اور اِس حقیقت کے پیشِ نظر خدا کا کلام کامل اور مقدس ہے (12زبور6آیت؛ 2پطرس1باب 21آیت)۔

بائبل کی کُتب کی تقسیم

بائبل دو بڑے حصوں میں تقسیم کی گئی ہے:پرانا عہد نامہ اور نیا عہد نامہ۔ مختصر طور پر بیان کیا جائے تو پرانا عہد نامہ ایک قوم (اسرائیل)کی کہانی ہے جبکہ نیا عہد نامہ ایک شخص (یسوع)کی کہانی ہے۔ اِس خاص قوم کے وسیلہ سے خدا نے اُس عظیم ہستی – یسوع مسیح کو دنیا میں بھیجا تھا۔

پرانا عہد نامہ قوم بنی اسرائیل کی بنیاد اور بقا ءکو بیان کرتا ہے۔ خُدا نے اسرائیل کے وسیلہ سے پوری دُنیا کو برکت بخشنے کا وعدہ کیا تھا (پیدائش12باب2-3آیات)۔ جب اسرائیل کو ایک قوم کی حیثیت سے قائم کیا گیا تو خُدا نے اُس قوم میں سے ایک خاندان یعنی داؤد کے گھرانے کو سر فراز کیا جس کے وسیلہ سے خدا سب کو برکت دینے والاتھا (89زبور 3-4آیات)۔ پھر داؤد کے گھرانے سے وعدہ کیا گیا کہ اُس میں سے ایک شخص(مسیحا) نکلے گا جو وعدہ کی گئی برکات کا وسیلہ ہوگا (یسعیاہ11باب 1- 10آیات)۔

نیا عہد نامہ اُس آنے والے موعودہ شخص( مسیحا) کی تفصیل بیان کرتا ہے۔ اُس کا نام یسوع تھااُس نے ایک کامل زندگی گزاری ،وہ نسلِ انسانی کے نجات دہندہ کی حیثیت سے قربان ہوا اور پھر اُس نے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے ذریعے سے پرانے عہد نامےکی اُن پیشین گوئیوں کو پورا کیا جو اُس کی ذات کے بارے میں پہلے سے کی گئی تھیں۔

بائبل کا مرکزی کر دار

یسوع مسیح بائبل کا مرکزی کردار ہے۔ ساری بائبل حقیقتاًیسوع کے بارے میں ہے۔پرانا عہد نامہ اُس کے آنے کی پیشن گوئیاں کرتا اور دُنیا میں اُس کی آمد کی تیاری کرتا ہے۔ جبکہ نیا عہد نامہ اُس کی آمد اور ہمارےلیے نجات کے منصوبے کی تکمیل کو بیان کرتا ہے ۔

یسوع مسیح ایک تاریخی شخصیت سےکہیں بڑھ کر ہے؛ درحقیقت وہ انسان سے بھی بڑھ کر ہے۔ وہ مجسم خدا ہےاور اُس کی آمد دُنیا کی تاریخ میں سب سے اہم واقعہ تھی۔ خُدا خُود انسان بنا تاکہ وہ ہمیں اپنی ذات کی واضح اور قابلِ فہم تصویر دِکھا سکے ۔ خُدا کیسا ہے؟ وہ یسوع جیسا ہے۔ یسوع انسانی جسم میں خُدا ہے (یوحنا1باب 14 ؛14باب 9آیت)۔

بائبل کا خلاصہ

خُدا نے انسان کو پیدا کر کے ایک کامل ماحول میں رکھا تھا مگر انسان نے خُدا کے خلاف سرکشی کی اور اپنے گناہ کے باعث اُس حقیقی مقام کو کھو بیٹھا جو خدا نے اُسے بخشا تھا۔ خُدا نے انسان کے گناہ کی وجہ سے دُنیا کو لعنت کے ماتحت کر دیا اور بنی نو ع انسان اور ساری تخلیق کے حقیقی مقام کو بحال کرنے کا فوری منصوبہ بنایا۔

اپنے نجات کے منصوبے میں خدا نے ابرہام کو (تقریباً 2000قبل از مسیح میں )کسدیوں کے اُور سے کنعان کی سرزمین میں آنے کے لئے بُلایا ۔ خُدا نے ابرہام، اُس کے بیٹے اضحاق اور اُس کے پوتے یعقوب (جِسے اسرائیل بھی کہا جاتا ہے) سے وعدہ کیا کہ وہ اُن کی نسل کے وسیلہ سے دُنیا کو برکت دے گا۔ اسرائیل کے گھرانے نے کنعان سے مصر کی طرف ہجرت کی جہاں پر اسرائیل کے گھرانے نے ایک قوم کی شکل اختیار کی ۔

قریباً 1400قبل از مسیح میں خُدا نے مُوسیٰ کی قیادت میں بنی اسرائیل کو مصر سے نکالا اور اُنہیں وعدے کی سرزمین یعنی ملکِ کنعان میراث میں عطا کیا۔ مُوسیٰ کے وسیلہ سے خُدا نے بنی اسرائیل کو شریعت دی اور اُن کے ساتھ عہد باندھا کہ اگر وہ خُدا کے ساتھ وفادار رہیں گے اور اپنے ارد گرد کی قوموں کی طرح بُت پرستی نہیں کریں گے تو خُدا اُنہیں خوشحالی عطا کرے گا۔ اور اگر وہ خُدا کو چھوڑ کر بُتوں کی پیروی کریں گے تو خُدا اُن کو بربادی کے لیے چھوڑ دے گا۔

تقریباً 400سال بعد داؤد اور اُس کے بیٹے سلیمان کے دورِ حکومت میں خُدا نے اسرائیل کو ایک زبردست اور طاقتور بادشاہت بنایا ۔ خُدا نے داؤد اور سلیمان سے وعدہ کیا کہ اُس کی اولاد میں سے ایک شخص دائمی بادشاہ کی حیثیت سے بادشاہی کرے گا ۔

سلیمان کے دورِ حکومت کےبعد اسرائیل قوم تقسیم ہو گئی۔ شمال کے دس قبیلوں کی حکومت کو "اسرائیل" کہا گیا۔ اُنہیں نے خُدا کی عبادت کی بجائے بُت پرستی کی، اور اُنکےاِس گناہ کی وجہ سےخُدا نے اُنکی عدالت کی، لیکن اُس عدالت سے پہلے اُنکی بادشاہت قریباً 200 سال تک قائم رہی ۔ اسُوریوں نے 721قبل از مسیح میں اسرائیل(دس قبیلوں) کو اسیربنا لیا۔ جنوب کے دو قبیلے "یہوداہ" کہلائے اور اُن کی حکومت اسرائیل کی نسبت زیادہ دیر تک قائم رہی مگر اُنہوں نے بھی خدا کے خلاف بغاوت کی ،جس کے نتیجہ میں شاہِ بابل نے تقریباً 600قبل از مسیح میں اِنہیں بھی اسیر بنا لیا۔

تقریباً 70سال بعد خُدا اپنے فضل سے یہوداہ کے اسیروں کے بقیہ کو واپس اُن کی سرزمین میں لے آیا۔ دارالحکومت یروشلیم تقریباً 444قبل از مسیح میں تعمیر کیا گیا اور اسرائیل ایک بار پھر ایک قوم کی حیثیت سے سامنے آیا۔ اِس کے ساتھ ہی پرانا عہد نامہ بند ہوجاتا ہے۔

نیا عہد نامہ تقریباً 400 سال بعد بیت لحم میں یسوع کی پیدائش کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ یسوع ابرہام اور داؤد کی نسل سے خُدا کے وعدہ کے مطابق پیدا ہوا۔ وہ بنی نو ع انسان کو نجات دینےاور ساری مخلوق کو بحال کرنے کے لئے خُدا کے منصوبے کو پورا کرنے والا تھا۔ یسوع نے وفاداری کے ساتھ اپنے کام کو پورا کیا۔ وہ ہمارے گناہوں کی خاطر قربان ہوا اور تیسرے دن مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ مسیح کی موت دُنیا کے ساتھ کئے گئے نئے عہد کی بنیاد ہے۔ وہ سب جو یسوع پر ایمان لاتے ہیں گناہوں سے نجات پاتے اور ہمیشہ تک زندہ رہیں گے۔

مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد یسوع نے اپنے شاگردوں کو ہرجگہ اپنی زندگی اور قدرت منادی کرنے اور دُنیا کو نجات کی خوشخبری سُنانے کے لئے بھیجا۔ یسوع کے شاگرد یسوع کی خوشخبری اور نجات کو پھیلانے کےلیے ہر سمت میں گئے۔ اُنہوں نے وسطی ایشیا، یونان اور رومی سلطنت کا سفر کیا۔ نیا عہد نامہ یسوع کی آمدِ ثانی کی پیشن گوئی کے ساتھ بند ہو جاتا ہے، یہ وہ وقت ہوگاجب وہ بے ایمان دُنیا کی عدالت کرنے اور مخلوقات کوگناہ کی لعنت سے آزاد کرنے کو آئے گا۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
بائبل کیا ہے؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں