settings icon
share icon
سوال

'جسے خدا نے جوڑا ہے اُسے آدمی جُدا نہ کرے ' کا کیا مطلب ہے ؟

جواب


یہ حکم کہ "جسے خُدا نے جوڑا ہے اُسے آدمی جُدا نہ کرے" شادی اور طلاق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ خُداوند یسوع کی شادی اور طلاق کے بارے میں تعلیم ہے جو مرقس 10باب1-12 آیات اور متی 19باب1-12 آیات میں پائی جاتی ہے۔ ایک موقع پر فریسیوں نے خُداوند یسوع سے پوچھا کہ کیا مَرد کے لیے اپنی بیوی کو طلاق دینا جائز ہے۔ خُداوند یسوع نے اِس کے جواب میں کہا کہ "کیا تُم نے نہیں پڑھا کہ جس نے اُنہیں بنایا اُس نے اِبتدا ہی سے اُنہیں مَرد اور عَورت بنا کر کہا کہ۔اِس سبب سے مَرد باپ سے اور ماں سے جُدا ہو کر اپنی بیوی کے ساتھ رہے گااور وہ دونوں ایک جسم ہوں گے؟" (متی 19باب4-6 آیات بالموازنہ پیدایش 1باب27 آیت؛ 2باب24 آیت)۔

یہاں پرخُداوند یسوع کی طرف سے پیش کردہ نکتہ یہ ہے کہ ایک شادی شُدہ جوڑا دو انسانوں کا ایک ایسا اکٹھ ہے "جس کو خُدا نے جوڑا ہے۔"شادی انسان کی تخلیق کردہ چیز نہیں ہے، اِسے خُدا نے تخلیق کیا ہے اور یہ اُس طریقے کا حصہ ہے جس طور پر نسلِ انسانی کو جینے کے لیے خُدا نے تخلیق کیا ہے۔ جب یسوع یہ کہتا ہے کہ "اُسے آدمی جُدا نہ کرے" تو اِس سے اُس نے ہمیں سکھایا ہے کہ طلاق خُدا کا منصوبہ نہیں ہے۔ ایک بار جب ایک جوڑا باہمی طور پر عہد کر کے شادی کے بندھن میں بندھ جاتا ہے تو اُس عہد میں خُدا کی بھی شمولیت ہو جاتی ہے اور پھر اُس جوڑے کا اتحاد زندگی بھر کے لیے ہوتا ہے۔ یہ اصول جوڑے کے اندر ایمان کے موجود ہونے (اور اُس کی کمی ) کے باوجود بھی درست ہے۔ جب دو دہریے آپس میں شادی کرتے ہیں تو اُنہیں بھی خُدا ہی نے جوڑا ہے چاہے وہ اِس بات کو مانتے ہیں یا نہیں۔ اگر خُدا نے اُنہیں جوڑا ہے تو پھر کسی بھی انسان کے پاس یہ حق اور اختیار نہیں ہے کہ وہ اُس اتحاد کو توڑے۔

جب خُداوند یسوع نے یہ کہا کہ "جسے خُدا نے جوڑا ہے اُسے آدمی جُدا نہ کرے۔" تو فریسیوں نے اِس بات کی طرف اشارہ کیا کہ موسیٰ نے تو طلاق دینے کی اجازت دی تھی۔ خُداوند یسوع نے اُن کی بات کے ساتھ اتفاق کیا اور پھر کہا کہ " مُوسیٰ نے تمہاری سخت دِلی کے سبب سے تم کو اپنی بیویوں کو چھوڑ دینے کی اِجازت دی مگر اِبتدا سے اَیسا نہ تھا " (متی 19باب8 آیت)، اور یوں اُس نے ایک بار پھر اِس بات کا اعادہ کیا کہ طلاق کبھی بھی خُدا کے اصل منصوبے کا حصہ نہیں تھی۔

'جس کو خُدا نے جوڑا ہے' اُس کو جُدا کرنے کے خلاف یسوع مسیح کے حکم کا مطلب یہ ہے کہ شادی کے اتحاد کو توڑنا اور طلاق کے ذریعے سے ایک جسم ہو جانے والوں کو الگ کرنا ممکن ہے۔ مسیحیوں میں اِس بارے میں بحث جاری ہے کہ کیا طلاق کو کبھی جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔ بہت سارے (شاید زیادہ تر لوگ) ایک شریکِ حیات کی طرف سے توبہ نہ کرنے اور بیوفائی کرنے کی صورت میں (متی 19باب 9 آیت کی بنیاد پر) یا ایک ایماندار شریکِ حیات کو ایک غیر ایماندار شریکِ حیات کی طرف سے چھوڑ دئیے جانے کی وجہ سے (کیونکہ وہ اب مزید ساتھ نہیں رہنا چاہتا ) طلاق کی اجازت دیں گے (دیکھیں 1 کرنتھیوں 7باب15 آیت)۔ اِ ن معاملات میں شادی کا بندھن بے ایمانی اور چھوڑ دئیے جانے کی وجہ سے ٹوٹ جاتا ہے ، یہ خُدا کے اُس حکم کی خلاف ورزی ہے کہ "جسے خُدا نے جوڑا ہے اُسے آدمی جُدا نہ کرے" – اور یہ ایک افسوسناک چیز ہے۔

حتیٰ کہ اگر مندرجہ بالا استثنیٰ کی اجازت ہے، ہمارا معاشرہ اور حتیٰ کہ ہماری کلیسیا بھی طلاق کو اِس سے بہت کم سنگین خیال کرتی ہے۔ اگر شادی محض کاروباری شراکت داری یا کلب کی رکنیت کی طرح انسانی کنوینش ہوتی تو لوگ اِس میں اپنی مرضی سے داخل ہونے اور باہر نکلنے کے لیے آزاد ہوتے۔ طلاق محض یہ نہیں ہے کہ دو لوگ ساتھ رہنے کو ترک کر رہے ہیں؛ یہ دراصل ایسا عمل ہے جس میں شریکِ حیات میں سے ایک یا دونوں یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ ایک ایسی چیز کو ختم کرنے جا رہے ہیں جسے خُدا کے ارادے کے مطابق مستقل طور پر چلنا چاہیے تھا۔ یہ ایک سنجیدہ بات ہے!

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

'جسے خدا نے جوڑا ہے اُسے آدمی جُدا نہ کرے ' کا کیا مطلب ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries