جنگ کی بابت کلام پاک کیا کہتاہے؟



سوال: جنگ کی بابت کلام پاک کیا کہتاہے؟

جواب:
خروج 20:13 میں جیسا لکھا ہے کہ "تو خون نہ کرنا" اس آیت کو سمجھنے میں بہت سے لوگ غلطی کرتے ہیں۔ اور پھر اس کو جنگ کے حکم کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرتےہیں۔کسی طرح عبرانی زبان میں جو لفظ خون نہ کرنے کے لئے استعمال ہوا ہے اس کا مطلب ہے کہ کینہ یا عداوت کے ساتھ پہلے سے تجویز کرکے بالقصد دوسرے شخص کا قتل کرنا یہ خون کرنا ہوتا ہے۔ خدا نے اکثر بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ دیگر قوموں کے ساتھ جنگ کریں (1 سموئیل 15:3؛ یشوع 4:13) خدا نے کئی ایک جرم کے لئے موت کا خمیازہ دینے کا حکم دیا۔ (خروج 22:19؛ 15، 22:12؛ احبار 20:11)۔ سو آپ دیکھیں کہ خدا تمام حالات میں خون بہانے کے خلاف میں نہیں ہے۔ مگر صرف قتل کے خلاف ہے۔ جنگ کبھی بھی ایک اچھی بات نہیں ہے۔ مگر کبھی کبھی ضروری ثابت ہوتا ہے۔ ایک ایسی دنیا جو گنہ گار لوگوں سے بھری ہوئی ہے (رومیوں 18-10 :3)۔ جنگ نا گزیر ہے مطلب یہ کہ اس کا واقع ہونا یقینی ہے۔ کبھی کبھی گنہ گار لوگوں کو معصوم لوگوں کی جان کے نقصان سے بچانے کے لئے انہیں جنگ میں بھیج دیا جاتاہے۔

پرانے عہدنامے میں خدا نے موسی کو حکم دیا کہ "تو مدیانیوں سے بنی اسرائیل کا انتقام لے" (گنتی 31:2)۔ استثنا 17-16 :20 اعلان کرتاہے کہ خدا نے بنی اسرائیل سے کہا "ان قوموں کے شہروں میں جن کو خداوند تیرا خدا میراث کے طور پر تجھ کو دیتاہے کسی ذی نفس کو جیتا بچا نہ رکھنا بلکہ تو ان کویعنی حتی اموری اور کنعانی اور فرزی اور حوی اور یبوسی قوموں کو جیسا خداوند تیرے خدا نے تجھ کو حکم دیا ہے بالکل نیست و نابود کردینا" اور 1 سموئیل 15:18 میں خداوند سموئیل نبی کے ذریعہ ساؤل کو حکم دیتاہے کہ "جا اور گنہ گار عمالیقوں کو نیسٹ کر اور جب تک وہ فنا نہ ہو جائیں ان سے لڑتا رہ "۔ واضح طور سے دیکھا جائے تو خدا تمام جنگوں کے خلاف نہیں ہے۔ یسوع مسیح نے ہمیشہ خدا باپ کے ساتھ ایک کامل رضامندی کے ساتھ زندگی گزاری (یوحنا 10:30)۔ اس لئے ہم بحث نہیں کرسکتے کہ پرانے عہدنامے میں جنگ صرف خدا کی مرضی تھی۔ خدا بدلتا نہیں ہے (ملا کی 3:6؛ یعقوب 1:17)۔

یسوع کی دوبارہ آمد نہایت ہی سخت اور شدت کے ساتھ ہونے والی ہے۔ مکاشفہ 21-11:19 ایک آخری جنگ کی بابت بیان کرتاہے جس کو مسیح یسوع انجام دینے والا ہے۔ "جو سچا اور برحق کہلاتا ہے اور راستی کے ساتھ انصاف اور لڑائی کرتاہے (آیت 11)۔ اور وہ خون کی چھڑکی ہوئی پوشاک پہنے ہوئے ہے۔ اور خون آلود ہے (آیت 13)۔ اس کی مخالفت میں جتنے کھڑے ہوں گے وہ ان سب کو مارے گا اور آسمان میں کے سب اڑنے والے پرندے ان کا گوشت کھا ئیں گے (آیت 18-17)۔ وہ اپنے دشموں پر کوئی رحم نہیں کرے گا، وہ ان پر کامل طور سے فتح حاصل کرے گا۔ وہ حیوان (جھوٹا مسیح) اور جھوٹا نبی (شیطان) دونوں کو پکڑ کر آگ کی اس جھیل سے ڈالے گا جو گندھک سے جلتی ہے (آیت 20)۔

یہ کہنا غلط ہے کہ خدا کبھی بھی جنگ کی تائید نہیں کرتا۔ یسوع ایک امن پسند نہیں ہے۔ ایک ایسی دنیا جو برے لوگووں سے بھری ہے کبھی کبھی یہاں تک کہ بڑی سے بڑی برائی کوروکنے کے لئے جنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہٹلر دوسری جنگ عظیم میں ہارا نہ ہوتااور مارا نہ جاتاتو کتنے اور کڑوڑوں لوگ مارے جا سکتے تھے؟ اگر امریکی خانہ جنگ نہ لڑی جاتی تو افریقی- امریکی لوگوں کو اور کتنے سال تک غلامی سہنی پڑتی؟

جنگ نہایت ہی شدید اور ہولناک ہے۔ کچھ جنگیں دیگر جنگوں کی بہ نسبت "جائز" قرار دی جاتی ہیں۔ مگر جنگ ہمیشہ ہی گناہ کا نتیجہ ہے (رومیوں 18-10 :3) واعظ کی کتاب 3:8 بیان کرتاہے کہ "محبت کا ایک وقت اور عداوت کا ایک وقت ہے۔ جنگ کا ایک وقت اور صلح کا ایک وقت ہے"۔ یہ دنیا گناہ، نفرت اور عداوت سے بھری ہے (رومیوں 18-10 :3)۔ جنگ ناگزیر ہے یعنی جس کا واقع ہونا یقینی ہے ۔ مگر میسحیوں کو جنگ کی خواہش نہیں ہونی چاہئے نہ ہی مسیحیوں کوحکومت کے خلاف جانا چاہئے کیونکہ خدا نے ان کےہاتھوں میں اختیار دے رکھا ہے (رومیوں 4-1 : 13؛ 1 پطرس 2:17) ایک ضروری چیز جو ہم جنگ کے دوران کر سکتےہیں ہو یہ ہے کہ ہم اپنے ملک کے رہنماؤں کے لئے دعا کر سکتے ہیں۔ اپنے ملک کے فوجیوں کی حفاظت کے لئے دعا کر سکتے ہیں۔ لڑائی کی تحلیل (سمجھوتہ) کے لئے دعا کر سکتے ہیں کہ وہ جلد از جلد نپٹا یا جا سکے۔ اور ہم اس بات کے لئے بھی دعا کر سکتے ہیں کہ دونوں طرف سے شہریوں کے ناگہانی حادثے کم ہونے پائیں (فلپیوں 7-6 :4)۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



جنگ کی بابت کلام پاک کیا کہتاہے؟