settings icon
share icon
سوال

رُوح کے موافق چلنے سے کیا مُراد ہے؟

جواب


مسیح کا رُوح ایمانداروں کے اندر بستا ہے، وہ اُن کا مددگار ہے اور خُدا باپ سے صادر ہے (یوحنا 15 باب 26 آیت)۔ رُوح القدس ایمانداروں کی دُعا میں مدد کرتا ہے (یہوداہ 1باب20 آیت) اور "خُدا کی پاک مرضی کے مطابق اُسکے لوگوں کے لیے شفاعت کرتا ہے" (رومیوں 8باب27 آیت)۔ وہ ایمانداروں کو راستبازی میں چلنے کی ہدایت کرتا ہے (گلتیوں 5باب16- 18 آیات)اور جو ایماندار اپنے آپ کو رُوح القدس کے تابع کر دیتے ہیں اُن کی زندگیوں میں پھل عطا کرتا ہے (گلتیوں 5باب22-23 آیات)۔ ایمانداروں کو اپنے آپ کو خُدا کی مرضی کے تابع کرنے اور رُوح کے موافق چلنے کی ضرورت ہے۔

بائبل مُقدس کے اندر "چلنا" اکثر روز مرّہ کی زندگی گزارنے کو بیان کرنے کے لیے ایک استعارے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ مسیحی زندگی ایک سفر کی مانند ہے اور ہمیں اُس سفر کو کرنا ہے – ہمیں مسلسل طور پر آگے کی جانب بڑھنے یعنی ترقی کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام ایمانداروں کے لیے بائبل کی رُو سے ایک متوقع بات یہ ہے کہ وہ رُوح کے موافق چلیں۔ "اگر ہم رُوح میں زندگی گزارتے ہیں تو آئیے ہم رُوح کے موافق چلیں بھی۔" (گلتیوں 5باب25 آیت بالموازنہ رومیوں 8باب 14 آیت)۔ دوسرے الفاظ میں ہماری دوسری پیدایش کے موقع پر رُوح نے ہمیں زندگی بخشی (یوحنا 3باب6 آیت) اور ہمیں دن بدن رُوح میں زندگی گزارنے یعنی رُوح میں جینے کی ضرورت ہے۔

رُوح کے موافق چلنے سے مُراد یہ ہے کہ ہم خود کو اُس کے اختیار کے ماتحت کر دیتے ہیں، ہم اُس کی ہدایت کے مطابق چلتے ہیں اور اُسکو یہ اجازت دیتے ہیں کہ وہ ہمارے اوپر اپنے اثر کو قائم رکھے۔ رُوح کے موافق چلنا رُوح کے خلاف مزاحمت کرنے یا رُوح کو رنجیدہ کرنے کے متضاد بات ہے (افسیوں 4باب30آیت)۔

گلتیوں 5باب ایماندار کی زندگی میں رُوح القدس کے کام کا جائزہ لیتا ہے ۔ اِس کا سیاق و سباق موسوی شریعت سے رہائی ہے (گلتیوں 5باب 1 آیت)۔ وہ جو رُوح کے موافق چلتے ہیں "ایمان سے راستبازی کی اُمید بر آنے کے منتظر ہوتے ہیں" (آیت 5)، اور شریعت کے ماتحت نہیں ہیں (آیت 18)۔ مزید یہ کہ وہ جو رُوح کے موافق چلتے ہیں "جسم کی خواہشوں کو پورا نہیں کرتے" (آیت 16)۔ جسم – ہماری گناہ آلود فطرت گناہ کے اثر کی بدولت رُوح کے خلاف ہے (آیت 17)۔ جس وقت ہماری ذات پر جسم کی حکمرانی ہوتی ہے تو اِس کے نتائج بالکل واضح ہیں (19-21 آیات)۔ لیکن جب ہماری ذات پر رُوح القدس کا اختیار ہوتا ہے تو وہ ہمارے اندر ایسی خصوصیات کو پیدا کرتا ہے جو اگرچہ شریعت کی ساخت کا حصہ نہیں ہیں لیکن شریعت اُنکی مخالفت نہیں کرتی (22-23 آیات)۔ ایمانداروں نے "جسم کو اُس کی رغبتوں اور خواہشوں سمیت صلیب پر کھینچ دیا ہے" (آیت 24) اور اب ہم رُوح کے موافق چل رہے ہیں(آیت 25)۔

وہ جو رُوح کے موافق چلتے ہیں وہ رُوح کے ساتھ متحد ہوتے ہیں اور وہ رُوح کے پھل لاتے ہیں ۔ پس جو رُوح کے موافق چلتے ہیں وہ محبت میں چلتے ہیں – وہ خُد اکے لیے اور اپنے دوسرے ایماندار بھائیوں کے لیے محبت بھری زندگی گزارتے ہیں۔ وہ جو رُوح کے موافق چلتے ہیں وہ خوشی میں چلتے ہیں – وہ اُن سب کاموں میں خوشی کا اظہار کرتے ہیں جو خُدا نے کئے ہیں، ابھی کر رہا ہے اور مستقبل میں کرے گا۔ وہ جو رُوح کے موافق چلتے ہیں وہ امن اور سلامتی میں بھی چلتے ہیں – وہ پریشانیوں سے آزاد زندگی گزارتے ہیں فکروں کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیتے (فلپیوں 4باب6 آیت)۔ وہ جو رُوح کے موافق چلتے ہیں وہ صبراور اطمینان میں بھی چلتے ہیں – ایسے لوگ اپنے اندر بہت زیادہ قوتِ برداشت رکھنے کے لیے جانے جاتے ہیں اور آسانی کے ساتھ غصے میں نہیں آ جاتے۔ وہ جو رُوح کے موافق چلتے ہیں وہ مہربانی میں بھی چلتے ہیں – وہ دوسرے لوگوں کی ضروریات کے حوالے سے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ وہ جو رُوح کے موافق چلتے ہیں نیکی میں بھی چلتے ہیں– اُن کے کاموں سے بھلائی اور پاکیزگی جھلکتی ہے۔ وہ جو رُوح کے موافق چلتے ہیں وہ ایمانداری میں بھی چلتے ہیں – وہ خُدا پر اپنے ایمان میں ہمیشہ ہی ثابت قدم ہوتے ہیں۔ وہ جو رُوح کے موافق چلتے ہیں تحمل میں بھی چلتے ہیں – اُن کی زندگیوں میں حلیمی، فضل اور خُدا کی شکر گزاری واضح طور پر نظر آتی ہے۔ وہ جو رُوح کے موافق چلتے ہیں وہ پرہیز گاری میں بھی چلتے ہیں – وہ اعتدال کا مظاہرہ کرتے ہیں، بہت ساری چیزوں کے معاملے میں پرہیز کرتے ہیں، اور جسم کے کاموں کو "نہ " کہنے کی قابلیت رکھتے ہیں۔

وہ جو رُوح کے موافق چلتے ہیں وہ اپنے خیالات، اپنی گفتگواور اپنے کاموں کے حوالے سے مکمل طور پر رُوح القدس پر انحصار کرتے ہیں (رومیوں 6باب11- 14 آیات)۔ وہ اپنی زندگیوں سے روزانہ کی بنیاد پر تھوڑی تھوڑی پاکیزگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، بالکل اُسی طرح جیسے یسوع نے کیا تھا وہ "رُوح القدس سے بھرا ہوا یردن سے لوٹااور ۔۔۔رُوح کی ہدایت سے بیابان میں پھرتا رہا۔"تاکہ شیطان سے آزمایا جائے (لوقا 4باب1 آیت)۔

رُوح کے موافق چلنا در اصل رُوح القدس سے معمور ہونا ہے، اور رُوح سے معمور ہونے کےکچھ نتائج ہر ایک بات میں شکر گزاری ، مزامیر، گیت اور رُوحانی غزلیں گانا اور خوشی سے بھرے ہونا ہیں(افسیوں 5باب18- 20 آیات؛ کلسیوں 3باب16آیت)۔ وہ جو رُوح کے موافق چلتے ہیں وہ رُوح کی راہنمائی میں زندگی گزارتے ہیں۔ " مسیح کے کلام کو اپنے دِلوں میں کثرت سے بسنے دو ۔" (کلسیوں 3باب16 آیت) اور رُوح القدس تعلیم ، الزام ، اصلاح اور راستبازی میں تربیت کرنے کے لیے خُدا کے کلام کو استعمال کرتا ہے (2 تیمتھیس 3باب 16 آیت)۔جب رُوح القدس اُن ایمانداروں کو تابعداری کی طرف لے کر جاتا ہے تو اُن کی ساری زندگی انجیل میں بیان کردہ اصولوں کے مطابق گزرتی ہے ۔ جب ہم رُوح القدس کے موافق چلتے ہیں تو ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ جسم کی گناہ آلود خواہشات اور بھوک کا اب ہم پر کوئی اختیار نہیں ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

رُوح کے موافق چلنے سے کیا مُراد ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries