میں کس طرح خدا کی آواز کو پہچان سکتا ہوں؟



سوال: میں کس طرح خدا کی آواز کو پہچان سکتا ہوں؟

جواب:
یہ سوال ہر ایک زمانہ میں ان گنت لوگوں کے ذریعہ پوچھا جا رہا ہے۔ سموئیل نبی جب چھوٹا تھا اس نے خدا کی آواز کو سنا مگر اس نے نہ پہچانا کہ وہ خدا کی آواز تھی جب تک کہ اس کو ایلی کے ذریعہ رہنمائی نہ ہوئی (1 سموئیل10- 3:1) جدعون کو خدا کی طرف سے ایک جسمانی مکاشفہ ملا اس کے باوجود بھی اس کو شک ہؤا کہ جو کچھ اس نے سنا اس کے لئے اس نے نشانی مانگا ایک بار نہیں بلکہ تین بار (قضاۃ 40-36؛22- 6:17)۔ جب ہم خدا کی آواز سنیں تو ہم کیسے معلوم کرسکتے ہیں کہ خدا ہی بات کر رہا ہے؟ سب سے پہلے ہمارے پاس کوئی چیز ہے جو سموئیل اور جدعون کے پاس نہیں تھی۔ ہمارے پاس پوری بائیبل ہے جو الہام شدہ خدا کا کلام ہے تاکہ اس کو پڑھیں، مطالعہ کریں اور اس پر دھیان منن کریں۔ " ہر ایک صحیفہ جو خدا کے الہام سے ہے تعلیم اور الزام اور اصلاح اور راستبازی میں تربیت کرنے کے لئے فائدہ مند بھی ہے۔ تاکہ مرد خدا کامل بنے اور ہر ایک نیک کام کے لئے بالکل تیار ہوجائے"(2 تموتھیس17- 3:16)۔ جب ہمارے پاس کسی مضمون یا ہماری زندگیوں کے لئے فیصلہ کی با بت سوال ہوتا ہے تو ہمیں دیکھنا چاہئے کہ بائیبل اس کے بارے میں کیا کہتی ہے۔ جو کچھ خدا کے کلام میں سکھایا گیا ہے وہ اس کے برخلاف ہماری رہنمائی کبھی نہیں کریگا (ططس 1:2)۔

خدا گی آواز سننے کے لئے ہم کو خدا سے تعلق رکھنا ہوگا۔ یسوع نے کہا "میری بھیڑیں میری آواز پہچانتی ہیں اور وہ میرے پیچھے پیچھے چلتی ہیں" (یوحنا 27-10) جو لوگ خدا کی آواز کو سنتے ہیں وہ خدا سے تعلق رکھتے ہیں— وہی لوگ جو اس کے فضل کے ذریعہ خداوند یسوع پر ا یمان لانے کے وسیلہ سے بچائے گئے ہیں۔ یہ وہی بھیڑیں ہیں جو اس کی آواز کو سنتی اور پہچانتی ہیں کیونکہ وہ بھیڑیں اسے اپنا چرواہا بطور پہچانتی ہیں۔ اگر ہمیں خدا کی آواز کو پہچاننا ہے تو اس سے تعلق رکھنا ضروی ہے۔

ہم خدا کی آواز تب سنتے ہیں جب ہم خدا کے کلام کے مطالعہ میں اور خاموشی کے دھیان اور غوروفکر میں وقت گزارتے ہیں۔ جتنا زیادہ وقت ہم خدا اور اس کے کلام کی رفاقت میں گزارینگے اتنی ہی آسانی سے ہم اس کی آواز کو اور اپنی زندگیوں میں اس کی رہنمائی کو پہچان پائینگے۔ بینک کے ملازموں کو تربیت دی جاتی ہے کہ بناوٹی بعنی نقلی نوٹوں کی پہچان کریں تاکہ بہت قریب سے وہ اصلی نوٹوں کی جانچ کرسکیں جس سے کہ جعلی نوٹوں کو آسانی سے پیش کرسکیں۔ اسی طرح ہم کو خدا کے کلام سے متعارف ہونے چاہئے تاکہ کوئی شخص ہم کو غلط باتوں کی تعلیم دے تو ہمیں صاف معلوم ہوجائے کہ فلاں شخص کا کلام خدا کی طرف سے ہے یا نہیں۔

جبکہ خدا لوگوں سے اپنی آواز کے ساتھ گزرے زمانہ میں بات کرسکتا تھا تو آج وہ خاص طور سے اپنے تحریر شدہ کلام کے ساتھ بات کرتا ہے۔ کبھی کبھی خدا کی رہنمائی روح القدس کے وسیلہ سے، ہمارے ضمیر کے وسیلہ سے، حالات سے اور دیگر لوگوں کی نصیحت یا وعظ کے وسیلہ بھی آسکتی ہے۔ اس کاموازنہ کرتے ہوئے کہ ہم کلام کی سچائی کی بابت کیا سنتے ہیں۔ اس طرح ہم خدا کی آواز پہچان کو سیکھ سکتے ہیں۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



میں کس طرح خدا کی آواز کو پہچان سکتا ہوں؟