کیا خدا آج بھی لوگوں کورويائيں ديتا ھے؟



سوال: کیا خدا آج بھی لوگوں کورويائيں ديتا ھے؟ کیاایمانداروں کو تو قع کرنی چاھےء تاکہ وہ انکے مسيحی تجربہ کا ايک حصہ بن جاے؟

جواب:
کيا خدا آج بھی لوگوں کو رويائيں دے سکتا ھے؟ جی ہاں يہ ممکن ہے- کيا ھميں رویا کی بات کوايک واقعہ بطور لينی چاہےء؟ نہيں- جس طرح کلام پاک ميں لکھا گیا ہے،خدا نے کیء بار روياوں کے وسيلہ سے بات کی ہے- مثال کے طور پريوسف جو يعقوب کا بيٹا ہے، دوسرا یوسف جو مريم کا شوہر ہے، سليمان ، یسعياہ،حزقی ايل ،دانی ايل، پطرس اور پولس وغيرہ- يو ايل نبی اپنی تقرير و تحرير ميں اپنے درد دل کا اظہار رویا کے ذريعے کرتا ہے- اور یہ اعمال کی کتاب کے دوسرے باب میں تصديق کياگیا ہے-يہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ رویا اور خواب کے بيچ کسطرح فرق کيا جاتا ہے- يہ کہ ايک شخص کے بيدار حالت ديا جاتا ہے جبکہ ايک شخص نیند کی حالت ميں ہوتا ہے تب خواب ميں خدا يا فرشتہ اس پر ظاہر ہو کراس سے بات کرتا ہے-

دنيا کے کئ حصوں ميں وسيع طريقہ سے خدا اپنے لوگوں کے ساتھ باتيں کر نے کے لئے استعمال کرتا ہے-ان علاقوں ميں جہاں نہيں کے برابرانجيل کی منادی دستياب ہے،اور جہاں لوگوں کے پاس بائبل نہيں ہے خدا خود اپنے پيغام کو روياؤں اور خوابوں کے ذريعے براہ راست پہنچارہا ہے-يہ پوری طرح سے روياؤں کی بابت کلام پاک کی مثال ہے جو بار بار مسيحيت کی ابتدائ کليسيا کے خدا کےذريعے اس کی سچائ کو ظاہر کرنے کے لۓ استعمال کيا جاتا تھا – اگر خدا اپنے پیغام کو ايک شخص کےپاس پہنچانے کی خواہش رکھتا تو وہ کسی بہی ذرائع استعمال کر سکتا ہے---- چاہے وہ ايک مشنری ہو،يا فرشتہ ہو،ايک روياء يا ايک خواب ہو- جی ہاں خدا اس قابل ہے کہ وہ ان علاقوں ميں بہی رويائيں ان لوگوں کو دے سکتا ہے جہاں پہلے سے ہی انجيل کا پيغام تياری کے ساتھ دستياب ہے- حدا کيا کچھہ کر سکتا ہے اس کی کوئ حد نہيں ہے-

اسی دوران ہمکو روياؤں اور روياؤں کے ترجمہکی بابت ہوشيار رہنے کی ضرورت ہے- ہمکو يہ بات بہی اپنے دماغ ميں رکہنے کی صرورت ہے کہ بائبل کا الہام ختم ہو چکا ہے-اور اب خدا جو کچہ بہی کہنا چاہےگ وہ رويا کے ذريعے کہيگا جس کی ہميں ضرورت ہے-اہم سچائ يہ ہے کہ اگر خدا ايک رويا دينا چاہے تو وہ پوری طرح سے اپنے کلام ميں جو اس نے اپنے کلام میں ظاہر کر ديا ہے اسکو وہ منظوری ديگا-حدا کے کلام کے مساوی طور سے يا اس سے بڑے اختيار ميں ہوکر کبہی بہی رويا نہہيں ديا جائيگا-خدا کا کلام مسيحی ايمان اور عمل پيرا ہونے کے لۓ آخری اختيار ہے- اس بطور اگر آپ اعتقاد کرتے ہيں کہ آپ کو خدا نے رويا دی ہے، اور آپ کو پوری طرح احساس ہے کہ يہ خدا ہی کی طرف سے ہے تو دعا کے ساتھہ کلام ميں ہوکرجانج کريں اور يقين کريں کہ آپکےرؤيے کوکلام منظوری ديتا ہے کہ نہيں- اس کے بعد دعا کے ساتھہ جانچ پرکھہ کرکے اگلا قدم اٹھائيں کہ اس رويا کے آپکو کيا کرنا ہے(يعقوب 5 :1)- خدا اگرايک شخص کو رويا ديگا تو اس کے مطلب کو اس سے چھپاکر نہيں رکھيگا – کلام پاک ميں جب بہی کبہی کسی شحص نے خدا سےرويا کے مطلب کی بابت پوچھا ہے تو خدا نے اس کو پورے يقين کے ساتھہ سمجھايا ہے(دانی ايل (17-8:15)-



اردو ہوم پیج میں واپسی



کیا خدا آج بھی لوگوں کورويائيں ديتا ھے؟ کیاایمانداروں کو تو قع کرنی چاھےء تاکہ وہ انکے مسيحی تجربہ کا ايک حصہ بن جاے؟