settings icon
share icon
سوال

اگر زندگی صرف زمین پر ہی ہے تو پھر خُدا نے ایسی وسیع و عریض کائنات اور دیگر سیارے کیوں بنائے ؟

جواب


یہ سوال کہ کیا خُدا نے دیگر سیاروں پر بھی زندگی کو تخلیق کیا ہے یا نہیں بہت ہی زیادہ دلچسپی کا حامل ہے۔ 19 زبور 1 آیت بیان کرتی ہے کہ "آسمان خُدا کا جلال ظاہر کرتا ہے اور فضا اُس کی دست کاری دِکھاتی ہے۔ " ہر ایک چیز جسے خُدا نے بنایا ہے وہ چاہے مَیں ہوں، آپ ہیں، جنگلی حیات یا فرشتے یا ستارے یا دیگرے سیارے ہیں، ہر ایک چیز کو اُس نے اپنے جلال کے لیے تخلیق کیا ہے۔ جب ہم حیران و پریشان کر دینے والی اپنی کہکشاں Milky Way کا نظارہ کرتے ہیں یا دوربین کے ذریعے سے سیارہ زحل کو دیکھتے ہیں تو ہم خُدا کی طرف سے تخلیق کردہ عجائب کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔

داؤد نے 8 زبور 3 آیت میں لکھا ہے کہ "جب مَیں تیرے آسمان پر جو تیری دست کاری ہے اور چاند اور ستاروں پر جن کو تُو نے مقرّرکیا غور کرتا ہوں۔" جب ہم بے شمار ستاروں کو دیکھتے ہیں، اور پھرپڑھتے ہیں کہ سائنسدانوں نے ہزاروں نئی کہکشاؤں کو کھوج نکالا ہے جن میں سے ہر ایک کہکشاں کے اندر کئی بلین ستارے ہیں تو اُس صورت میں ہمیں خُدا کا خوف مانتے ہوئے اُس کی حضوری میں آنا چاہیے کہ یہ سارا حیرت انگیز اور پیچیدہ کام ہمارے اُس خُدا کے ہاتھوں کا ہے۔ مزید برآں 147 زبور 4آیت بیان کرتی ہے کہ "وہ ستاروں کو شمار کرتا ہے اور اُن سب کے نام رکھتا ہے۔ "ابھی انسان کے لیے تو یہ جاننا بھی ممکن نہیں ہے کہ پوری کائنات کے اندر کُل کتنے ستارے ہیں اُن کے نام رکھنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ "یقیناً میرے ہی ہاتھ نے زمین کی بنیاد ڈالی اورمیرے دہنے ہاتھ نے آسمان کو پھیلایا ۔ مَیں اُن کو پُکارتاہوں اور وہ حاضر ہو جاتے ہیں " (یسعیاہ 48باب 13 آیت) ۔

ساری خلاء اور سب سیارے خُدا کے جلال کے لیے تخلیق کئے گئے تھے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے نظامِ شمشی سے باہر بہت سارے ستارے اور سیارے موجود ہیں اور وہ سب بھی خُدا کے اپنے جلال کے لیے ہی تخلیق کئے گئے تھے۔ ابھی اِس کائنات کا مسلسل طور پر پھیلنا ایک اور قیاس ہے۔ سورج کا نزدیک ترین ستارہ اِس سے 4 نوری سال کے فاصلے پر ہے، اور اِس کائنات کے تعلق سے جسے ہم جانتے ہیں (چاہے یہ پھیل رہی ہے یا نہیں) یہ فاصلہ قابلِ پیمائش حصہ بھی نہیں ہے۔

کیا دوسرے سیاروں پر کسی طرح کی کوئی زندگی موجود ہے، ہم اِس کے بارے میں بالکل بھی نہیں جانتے۔ ابھی تک ہمارے نظامِ شمشی کے دیگر سیاروں پر تو زندگی کے کوئی آثار نہیں ملے۔ اخیر زمانے کے مسلسل طور پر نزدیک آنے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اِس بات کا امکان نہیں ہے کہ خُداوند کی آمدِ ثانی سے پہلے تک انسان اتنی ترقی کر لے گا کہ وہ دوسری کہکشاؤں کا دورہ کر سکے۔ اگر کہیں پر زندگی موجود ہے یا نہیں ہے ، ہر طرح کے حالات اور چیزوں پر خُدا مکمل طور پر قادر ہے اور تمام چیزیں اُس کے جلال کے لیے بنائی گئی ہیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

اگر زندگی صرف زمین پر ہی ہے تو پھر خُدا نے ایسی وسیع و عریض کائنات اور دیگر سیارے کیوں بنائے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries