settings icon
share icon
سوال

ویمپائرز کے بارے میں بائبل کیا کہتی ہے؟

جواب


Twilight /ٹوائیلایٹ سیریز کے عنوان سےشائع ہونے والے نوعمری کے رومانس کے متعلق ناولوں کی مقبولیت نے ویمپائرز میں لوگوں کی ایک نئی دلچسپی پیدا کر دی ہے۔ ویمپائر ایک دلومالائی یا افسانوی کردار ہے جو دوسرے لوگوں کا خون پی کر زندہ رہ پاتا ہے۔ وہ عام طور پر لوگوں کی گردن پر کاٹ کر خون چوستا ہے۔ اُس کے کاٹنے کی وجہ سے متاثر شخص بھی ویمپائر میں تبدیل ہو جاتا ہے اور وہ اپنی بقاء کے لیے مزید ایسے شکار کی تلاش کرتا ہےجس کا وہ خون پی سکے۔ ویمپائر جیسے افسانوی کردارکے آغاز کا سراغ قرون وسطی دور اور مشرقی یورپ کی لوک کہانیوں میں لگایا جاتا ہے۔ لیکن افریقہ، ایشیا اور امریکہ میں بھی ویمپائرز کے بارے میں مختلف کہانیاں کئی ایک رنگوں میں دیکھنے کو ملی ہیں۔

حالیہ دور میں ویمپائر کے بارے میں جنون کی جڑیں درحقیقت انیسویں صدی کے دو نیم رومانوی ناولوں میں پیوست ہیں جن میں سے پہلا ناول جان پولیڈوری (1819) کا" ویمپائر" ہے اور دوسرا ناول برام سٹوکر (1897)کا" ڈریکولا" ہے۔ دونوں تخیلاتی افسانے ویمپائر کے بارے میں اِس ادبی صنف یا دومالائی داستانوں کے پیشرو ہیں۔ بعد میں سحر انگیز" The Kiss of the Vampire/ویمپائر کا بوسہ "نے خاص طور پر نوجوان خواتین کے لیے اِس کردار میں دلکش جادوئی کشش پیدا کر دی۔ اور یہ جادو "ممنوع پھل" کی طرز پر Twilight /ٹوائیلایٹ سیرز کی مقبولیت کا سبب بنا۔ فلم ڈریکولا (1979) میں فرینک لینگیلا کی طرف سے پیش کردہ رومانوی اور جنسی کشش سے بھرپور ویمپائر کا نفیس اور شائستہ کردار لوگوں کو ایسا لبھایا کہ وہ ویمپائر میں خاص کشش محسوس کرنا شروع ہو گئے۔ اِس فلم کی ٹیگ لائن ہے کہ "پوری تاریخ میں اُس نے مَردوں کے دِلوں کو دہشت سے بھرا ہے اور عورتوں کے دِلوں کو خواہش سے۔"

اگرچہ Twilight /ٹوائیلائٹ جیسے تخیلاتی افسانے زیادہ نقصان دہ نہیں ہیں، لیکن جنون کی حد تک ویمپائرز– یا چڑیلوں ، بھوتوں اور پُراسرار کرداروں میں دلچسپی بڑے پیمانے پر غیر صحت مند ہو سکتی ہےاور اِس کے ساتھ ہی یہ بہت زیادہ خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔ جو شخص اِس طرح کی چیزوں میں دلچسپی لیتا ہے اُس پر اُن چیزوں کے اثرات کی نوعیت کا انحصار اُس شخص کی رُوحانی حالت پر ہے۔ مثال کے طور پر ایک کمزور، جذباتی لحاظ سے ناپائیدار نوجوان لڑکی جس کی زندگی خاندانی دباؤ، خود اعتمادی کے مسائل اور مضبوط اور مثالی کردار کی کمی کے ساتھ گزری ہو اُس کی طرف سے ایسی کسی چیز کے اندر غیر صحت مندانہ دلچسپی بہت بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ اِس طرح کی دلچسپی اُن کے ذہن اور رُوح کے ایسے دروازے کھول دیتی ہے جس کی مدد سے شیطان اور بداَرواح اُن کی زندگی میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں شیطان ہماری جانوں کا دشمن ہے اور وہ ہر وقت "گرجنے والے شیرِ بَبر کی طرح ڈُھونڈتا پھرتا ہے کہ کس کو پھاڑ کھائے " (1 پطرس 5باب8آیت)۔ یہی وجہ ہے کہ خُدا اپنی حکمت میں پُراسرار علوم اور مشقوں سےمنع کرتا ہے اور اُنہیں "مکروہ" اور "نفرت انگیز" کے طور پر بیان کرتا ہے (استثنا 18باب 9-12آیات)۔

ایک مسیحی کو ویمپائرز اور ویمپائر کے افسانوں کے بارے میں کس طرح سے سوچنا چاہیے۔ ہمیں فلپیوں 4باب8آیت میں یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ ہم اپنے دماغوں کو "جتنی باتیں سچ ہیں اور جتنی باتیں شرافت کی ہیں اور جتنی باتیں واجب ہیں اور جتنی باتیں پاک ہیں اور جتنی باتیں پسندیدہ ہیں اور جتنی باتیں دِلکش ہیں غرض جو نیکی اور تعریف کی باتیں ہیں " اُن سے بھر لیں اور اُن پر غور کیا کریں۔ اگرچہ Twilight/ٹوائیلایٹ ناولوں کے اندر اچھے کردار اور اچھے عناصر موجود ہیں، لیکن اِس کے ساتھ ساتھ اِس میں تاریکی اور پُراسرایت کے عناصر اور علامات بھی موجود ہیں۔ اِن میں اِس ناول کے ہیرو ایڈورڈ کی طرف بہت زیادہ کشش دکھائی دیتی ہے جو کہ ایک ویمپائر ہے۔ اُس کی شخصیت کو بہت زیادہ دلکش، پُر کشش اور کرشماتی دکھایا گیا ہے جو نو عمر لڑکیوں کے اُس کی طرف کھینچے چلے آنے کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ مصنف نے بڑی مہارت کے ساتھ ایک بہت ہی خوبصور ت اور رومانوی کردار کو ایک کامل کردار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے اگرچہ وہ خود ایک ایسے ناقص کردار کی تصویر کشی کر رہا ہے جس کی طرف زیادہ تر نو عمر لڑکیاں راغب ہوتی ہیں۔ اصل مسئلہ اِس طرح کے مثالی کردار کو بنانے اور پھر عام زندگی میں ایسے کسی کردار کو ڈھونڈنے کی کوشش کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ کوئی بھی انسانی مرد اِس طرح کے کردار کے تقاضوں پر پورا نہیں اُترتا۔ مسیحی لڑکیوں اور نوجوان عورتوں کو مسیح میں کاملیت اور خوبصورتی کی تلاش کرنی چاہیے۔ جب وہ کردار کی حقیقی خوبصورتی کو سمجھ لیتی ہیں تو پھر وہ اُس خوبصورتی کو ایسے نوجوانوں میں بھی پہچان پائیں گی جو خُدا اُن کی زندگی میں اُن کا خاوند بننے کے لیے لائے گا۔

تو کیا اِس کا یہ مطلب ہے کہ مسیحیوں کو ویمپائر ز کے بار ےمیں اِن افسانوں کو یکسر ترک کرتے ہوئے اِن سے گریز کرنا چاہیے؟ کچھ خاندانوں کے لیے جواب ہاں ہے۔ دیگر کے لیے جواب نہیں ہے۔ ایسے والدین جن کی نوجوان بیٹیاں ویمپائرز کے بارے میں اِس سیریز کو پڑھنا چاہتی ہیں اُن کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ پہلے خود اِن کا مطالعہ کریں، اپنی بیٹیوں کے ساتھ اِن کے بارے میں بات چیت کریں، اور غالباً ایسی تمام چیزوں کی نشاندہی کریں جو کلامِ مُقدس کی تردید کرتی ہے۔ اِس طرح کی تجزیاتی گفتگو لڑکیوں کے ذہنوں سے اِس جادو کو دور کرنے میں بہت زیادہ اہم کردار ادا کر سکتی ہےجو ویمپائرز کے بارےمیں اِس افسانے کو پڑھنے سے اُن کے ذہنوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔حتمی طور پر یہ مسیحی والدین کی اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ اُس پڑھنے کے مواد کی خود سے جانچ پڑتال کریں جو اُن کے بچّے/نواجوان پڑھیں گے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ویمپائرز کے بارے میں بائبل کیا کہتی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries