settings icon
share icon
سوال

کیا عالمگیریت/ عالمگیر نجات کا نظریہ بائبل مُقدس کے مطابق درست ہے؟

جواب


عالمگیریت اِس بات پرایمان رکھنا ہے کہ بالآخر ہر ایک انسان ہی نجات پا جائے گا۔ آجکل بہت سارے ایسے لوگ موجود ہیں جو عالمگیر نجات کے نظریے کو مانتے ہیں اور اُن کو یقین ہے کہ آخر میں ہر ایک انسان نجات پا کر آسمان پر چلا جائے گا۔ غالباً جب یہ لوگ اُن لوگوں کے بارے میں سوچتے ہیں جن کے حوالے سے بائبل بیان کرتی ہے کہ وہ نجات نہ پانے کی صورت میں جہنم میں ابدی سزا پائیں گے تو یہ بات اِس نظریے کے ماننے والوں کو تحریک دیتی ہے کہ وہ کلامِ مُقدس کی اِس تعلیم کو رَد کر دیں۔ دیگر کچھ ایسے لوگ ہیں جو خُدا کی محبت اور شفقت پر زیادہ زور دیتے ہیں اور اُس کی راستبازی اور عدل و انصاف کو رَد کرتے ہیں اور اِس رویے کے نتیجے کے طور پر وہ اِس بات پر ایمان رکھنا شروع کر دیتے ہیں کہ خُدا ہر ایک ذی رُوح پر رحم کرے گا۔ لیکن کلامِ مُقدس اِس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ کچھ لوگ اپنی ابدیت جہنم میں گزاریں گے۔

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ بائبل اِس حوالے سے بالکل واضح ہے کہ غیر نجات یافتہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہیں گے۔ خُداوند یسوع کے اپنے الفاظ اِس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ جس طرح نجات پانے والے ہمیشہ تک آسمان پر رہیں گے اُسی طرح غیر نجات یافتہ ہمیشہ تک جہنم میں رہیں گے۔ متی 25باب46 آیت بیان کرتی ہے کہ "اور یہ (غیر نجات یافتہ) ہمیشہ کی سزا پائیں گے مگر راستباز ہمیشہ کی زندگی۔"اِس آیت کے مطابق غیر نجات یافتہ کی سزا اُسی طرح ابدی ہے جیسے نجات پا جانے والے کی آسمان پر زندگی ابدی ہے۔ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو یہ مانتے ہیں کہ جو جہنم میں جائیں گے اُن کا وجود بالآخر ختم ہو جائے گا، لیکن خُداوند خود اِس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ جہنم میں اُن کا وجود ہمیشہ تک قائم رہے گا ۔ متی 25باب41 آیت؛ مرقس 9باب44 آیت جہنم کو ایک "ہمیشہ کی آگ اور وہ آگ جو بجھتی نہیں" کے طور پر بیان کرتی ہے۔

اِس کبھی نہ بجھنے والی آگ سے کوئی اپنے آپ کو کیسے بچا سکتا ہے؟ بہت سارے لوگ یہ ایمان رکھتے ہیں کہ سب راہیں/شاہرائیں – تمام مذاہب اور تمام عقیدے – آسمان پر ہی لے کر جاتے ہیں، یا پھر وہ اِس بات پر ایمان رکھنا شروع کر دیتے ہیں کہ خُدا بہت زیادہ پیار کرنے والا اور رحیم ہے وہ بالآخر لوگوں پر ترس کھاتے ہوئے سبھی کو آسمان میں داخل ہونے کی اجازت دے دے گا۔ خُدا ابدی طور پر محبت اور رحم سے بھرا ہوا ہے، اُس کی ذات کی اُنہی خصوصیات کی وجہ سے اُس نے اپنے بیٹے خُداوند یسوع مسیح کو اِس دُنیا میں بھیجا کہ وہ صلیب پر ہماری خاطر اپنی جان دے۔ یسو ع مسیح ہی ایک واحد راستہ ہے جو آسمان میں ابدی زندگی گزارنے کی طرف لے کر جاتا ہے۔ اعمال 4باب12 آیت بیان کرتی ہے کہ "اور کسی دوسرے کے وسیلہ سے نجات نہیں کیونکہ آسمان کے تلے آدمیوں کو کوئی دوسرا نام نہیں بخشا گیا جس کے وسیلہ سے ہم نجات پا سکیں۔" "کیونکہ خُدا ایک ہے اور خُدا اور انسان کے بیچ میں درمیان بھی ایک یعنی مسیح یسوع جو انسان ہے۔" (1 تیمتھیس 2باب5 آیت) یوحنا 14باب 6 آیت میں یسوع نے خود کہا ہے کہ "راہ اور حق اور زندگی مَیں ہوں کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا۔" یوحنا 3باب16 آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ " کیونکہ خُدا نے دُنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اُس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔"اگر ہم خُدا کے بیٹے کو رَد کرنے کا انتخاب کرتے ہیں تو ہم نجات کے اُن تقاضوں پر پورا نہیں اُترتے جو کلامِ مُقدس میں بیان کیے گئے ہیں (یوحنا 3باب 16، 18، 36 آیات)۔

اِن آیات اور اِن جیسی دیگر بہت ساری آیات کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عالمگیریت یا عالمگیر نجات کا نظریہ غیر بائبلی ہے۔ عالمگیر نجات کا نظریہ براہِ راست کلامِ مُقدس کی تردید کرتا ہے۔ اب جبکہ بہت سارے لوگ مسیحیوں پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ عدم برداشت کا شکار ہیں اور نجات کے تعلق سے مسیحی ایمانداروں کے علاوہ دیگر ہر کسی انسان کو خارج کر دیتے ہیں تو یہاں پر یہ بات یاد رکھنا بہت زیادہ اہم ہے کہ یہ سب باتیں خود خُداوند یسوع نے کہی ہیں۔ مسیحیوں نے اِن تصورات کو خود سے تخلیق نہیں کیا، بلکہ مسیحی تو بس سادگی کے ساتھ اُسی بات کو پیش کر رہے ہیں جو خُداوند یسوع نے خود کہی ہے۔ لوگ یسوع مسیح کے وسیلے نجات کے پیغام کو اِس لیے رد کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنے گناہوں کا سامنا نہیں کرنا چاہتے، وہ اُن کا اقرار کر کے توبہ نہیں کرنا چاہتے اور اِس بات کا بھی اعتراف نہیں کرنا چاہتے کہ اُنہیں اپنے گناہوں کی معافی کے لیے ایک نجات دہندہ کی ضرورت ہے۔ اب یہ کہنا کہ وہ لوگ جو خُدا کی طرف سےاُسکے بیٹے کے وسیلے سے مہیا کی گئی نجات کی دستیابی کو رَد کرتے ہیں وہ بالآخر بچ جائیں گے در اصل خُدا کی پاکیزگی اور اُس کے انصاف کو کمتر ظاہر کرنے کے مترادف ہے اور یہ بات خُداوند یسوع مسیح کی اُس قربانی کو بھی رَد یا نظر انداز کرنے کے مترادف ہے جو اُس نے ہماری خاطر صلیب پر دی تھی۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا عالمگیریت/ عالمگیر نجات کا نظریہ بائبل مُقدس کے مطابق درست ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries