settings icon
share icon
سوال

یونیٹرین(وحدت پسند) یونیورسل ازم(عالمگیریت)کیا ہے ؟

جواب


Universalism ایک کافی چھوٹا مگر وسیع اثرو رسوخ رکھنے والامذہبی گروہ ہے۔اُن تقریباً 3 لاکھ درج شدہ اراکین کے ساتھ جن میں سے زیادہ تر ریاستہائے متحدہ میں موجود ہیں یہ گروہ زیادہ سے زیادہ مقبول ہوتا جارہا ہے ۔ نسبتیت ، رواداری اور متبادل طرز زندگی وحدت پسند عالمگیریت کی طرف سے استعمال کیے جانے والے مشہور نعرے ہیں۔

وحدت پسند عالمگیریت گروہ کا نام اُنکی طرف سے تثلیث کے عقیدے کے انکار اور اُن کے اس عقیدے سے ماخوذہے کہ بالآخر تمام انسان نجات پاتے ہیں۔ عالمگیریت کے حامیوں کے مطابق یہ خیال محبت کرنے والے خدا کے کردار سے مطابقت نہیں رکھتا کہ کوئی شخص جہنم میں جا سکتا ہے ۔ اس تصور کی جڑیں تاریخ میں پیچھے سولہویں صدی تک جاتی ہیں جب دورِاصلاح کاری کے دوران وحدت پسندانہ عقائد مقبول ہوئے۔ اٹھارہویں صدی کے اواخر میں امریکہ میں عہدِ عقلیت کے دوران وحدت پسندانہ فکر اور عالمگیر فکر کو ایک ساتھ یکجا کر دیا گیا۔ اُس وقت کی دانشور شخصیات نے مکمل بگاڑ اور ابدی ہلاکت جیسی بائبلی تعلیمات پر یقین کرنے سے انکار کرتے ہوئے ایک ایسے محبت کرنے والے خدا کے تصور کو قبول کیا جو کبھی کسی کو تکلیف نہ پہنچائے گا۔

وحدت پسند عالمگیریت کے پیروکار اپنے عقائد کی بنیاد اصل میں اپنے تجربات پر رکھتے ہیں اور کسی ایک مذہبی نظام کے پابند نہیں ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ افراد کو یہ فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے کہ وہ خود تعین کریں کہ انہیں کس بات پر یقین کرنا ہے اور دوسروں کو اس حق کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے۔ نتیجتاً کوئی ایماندار آزاد خیال مسیحیت کی طرف مائل ہو سکتا ہے جبکہ کوئی دوسرا ایماندار نیو ایج رُوحانیت کی طرف مائل ہو سکتا ہے۔ بائبلی مسیحیت کے لیے برداشت کے علاوہ باقی ہر بات کے لیے برداشت سے بڑھ کر اُن کا کوئی حقیقی عقیدہ نہیں ہے ۔ وحدت پسند عالمگیریت کے حامی بائبل کو شاعری، افسانے اور اخلاقی تعلیم کی کتاب کے طور پر دیکھتے ہیں جو اصل میں خدا کے کلام کی بجائے مکمل طور پر ایک انسانی کتاب ہے ۔ وہ خدا کے تصور کو ہر شخص کے ذہنی تصورات پر چھوڑتے ہوئے ایک ثالوث خدا کی بائبلی تصویر کشی کو مسترد کرتے ہیں۔

وحدت پسند عالمگیریت کے پیروکاروں کے نزدیک یسوع ایک اچھے اخلاقی استاد سے بڑھ کر کچھ نہیں تھا ۔ اُسے الٰہی ذات خیال نہیں جاتا اور اُس سے منسوب ہر معجزے کو انسانی عقل سے باہر ہونے کے ناطے رد کیا جاتا ہے۔ بائبل میں درج یسوع کے زیادہ تر الفاظ مصنفین کی مبالغہ آرائی سمجھے جاتے ہیں۔عالمگیر عقائد درج ذیل باتیں شامل ہیں : یسوع بنی نوع انسان کو گناہ سے نجات دینے کے لیے نہیں مواء کیونکہ انسان گناہ میں مبتلا نہیں ہے؛ انسان کی بھلائی کرنے کی صلاحت پر زور دیا جاتا ہے؛ گناہ مکمل طور پر نسبتی ہے اور یہ اصطلاح خود شاذ و نادر ہی استعمال ہوتی ہے؛ انسان خود کو شخصی بہتری کے وسیلے سے بچاتا ہے، نجات خالصتاً دنیاوی تجربہ ہونے کے ناطے اپنے اردگرد کی دنیا سے " آگاہ ہونا " ہے ۔ یہ بہت ضروری ہے کیونکہ موت حتمی ہے۔ زیادہ تر وحدت پسند عالمگیریت کے پیرو کار حیاتِ بعد الموت کے وجود سے انکار کرتے ہیں لہذا ہمارے پاس وہی کچھ ہوگا جو اب زمین پر ہمارے پاس ہے ۔

دوسری جانب بائبل اِن جھوٹے دعوؤں کی تردید کرتی ہے۔ یسوع باغِ عدن کے وقت سے زوال پذیر اور گناہ کے باعث خدا سے دُور بنی نوع انسان کو نجات دیتا ہے (یوحنا 10باب 15آیت ؛ رومیوں 3باب 24-25آیات؛ 5باب 8آیت ؛ 1 پطرس 2باب 24آیت)۔ انسان پاک نہیں ہے بلکہ گنہگار ہے اور نا امیدی میں تباہ حال ہے۔ یہ صرف خدا کے فضل اور صلیب پر مسیح کے بہائے گئے خون پر ایمان لانے کے وسیلہ سے ہی ممکن ہے کہ بنی نوع انسان کی ایک مقدس اور اعلیٰ ارفع خدا کے ساتھ صلح ہو سکتی ہے (پیدایش 2باب 16-17آیات؛ 3باب 1-19آیات)؛ یوحنا 3باب 36آیت ؛ رومیوں 3باب 23آیت ؛ 1 کرنتھیوں 2باب 14آیت ؛ افسیوں 2باب 1-3آیات؛ 1 تیمتھیس 2باب 13-14آیات؛ 1 یوحنا 1باب 8آیت)۔

وحدت پسند عالمگیریت اور بائبلی مسیحیت کے درمیان کوئی مماثلت نہیں ہے۔ یہ ایک جھوٹی انجیل ہے اِس کی تعلیمات بائبل کے برعکس ہیں اور اِس کے اراکین( کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک یا تعصب سے آزاد ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے ) روایتی اور بائبل کے مسیحی عقائد کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔ بائبل اپنی تعلیمات کے تمام اہم نکات کی بنیاد پر وحدت پسند عالمگیریت کو واضح طور پر رَد کرتی ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

یونیٹرین(وحدت پسند) یونیورسل ازم(عالمگیریت)کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries